Pujari-to-sufi-urdu-armughan-monthly-july-2019

پجاری سے بہت جلد صوفی بن جانے والے
کا مولانا کلیم صدیقی کے لڑکے احمد اوّاہ کو ماہنامہ ارمغان جولائی ٢٠١٩ کے لئے دیا گیا انٹرویو
Image result for damroo wala
احمد اوّاہ : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
صوفی صاحب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
احمد اوّاہ : آپ تو ابھی شاید دو مہینے پہلے آئے تھے، گیروے رنگ کے کپڑے اور ڈمرو ہاتھ میں تھا، تین چار لوگ آپ کے ساتھ تھے، اور آپ گھر پر تشریف لائے تھے، میں نے آپ کو کسی کے ساتھ خانقاہ میں بھیجا تھا۔
صوفی صاحب: جی جی! آپ نے بالکل صحیح پہچانا۔

शानदार इतिहास : एक रात में इस्लामिक राष्ट्र बन गया 🌿
احمد اوّاہ : ماشاء اللہ آپ نے بڑی جلدی چھلانگ لگائی، واقعی آپ پیدائشی صوفی لگ رہے ہیں۔
صوفی صاحب: مولانا احمد صاحب ہمیں تو یہ سمجھ میں آیا ہے کہ ایک تو راستہ ہے اپنے مالک کو راضی کرنے کا، اس کو کھوجنے کا اس کو تلاش کرنے کا، اس کا بننے کا، جسے دین کا یا دھرم کا راستہ کہتے ہیں، اور ایک راستہ ہے دنیا کمانے کا مال کمانے کا، اور جانوروں کی طرح پیٹ بھرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا، دنیا کے راستے میں اگر کوئی انسان راستہ صحیح نہ معلوم ہونے کے وجہ سے بالکل الٹے راستہ پر پڑ جائے اور چلتا رہے اور اسے راستے میں دور جاکر معلوم ہوکہ یہ راستہ میری منزل سے بہت دور جارہاہے، تو اسے پہلے اسی راستہ پر واپس آنا پڑتا ہے، اور جتنا جلد لوٹ سکے، اتنی جلدی اپنی ابتدا پر آنا پڑتا ہے، اور پھر صحیح راستہ پر اپنا سفر شروع کرنا پڑتا ہے، مگر دین کے، دھرم کے، اپنے مالک کا بننے اور تلاش کرنے کے راستے میں یہ بات نہیں، اس راستہ پر اگر آدمی سچی نیت سے مالک کو تلاش کرنے نکل پڑا ہے، اور وہ مجاہدہ کرکے، یگیہ کرکے محنت کرکے بالکل مخالف رخ پر حتی کہ شرک میں جو دین اور دھرم کا بالکل الٹا یعنی دھرم کے نام پر سب سے بڑا دھرم ہے دور نکل جاتا ہے، اور وہاں جاکر مالک کی مہر ہوتی ہے، اگر آدمی سچی آتما سے اسے تلاش کرتا ہے تو مالک کی مہر ہوتی ہی ہے، اس لئے اسے غلط راستہ پر پورا سفر واپس نہیں طے کرنا پڑتا ہے، بلکہ مالک اس کو آغوش رحمت میں اٹھاکر سیدھے راستہ پر لاڈالتے ہیں،اور اس کی زندگی بھر کی محنت ضائع نہیں ہوتی، اس لئے مجھے پنڈت سے صوفی بننے میں کچھ دِقّت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ ظاہری حلیہ میں بھی کچھ نہیں کرنا پڑا، داڑھی بال سب کچھ بڑھے ہوئے تھے، بس بگڑے ہوئے بے حال تھے، حضرت سے سُنّت معلوم کرکے ایک حاجی صاحب کو نائی کے یہاں ساتھ لے کر گیا، تو میں صوفی جی کا حلیہ بن گیا، اگر میں دنیادار آدمی ہوتا تو اس حلیہ اور داڑھی وغیرہ کے لئے مجھے لمبا انتظار کرنا پڑتا، اس طرح مجھے اپنے اندر میں بھی باکل ظاہر کی طرح ذرا سا بدلاؤ اور کرنا پڑا، اور میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس حال کو، جس کو احسان کہتے ہیں کہ زندگی اس طرح گزارو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، پانے میں مجھ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ 

احمد اوّاہ : ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، اس لئے تو پیارے نبیؐ کا ارشاد ہے''خیار ہم فی الجاہلیۃ خیار ہم فی الاسلام"  
’’جو لوگ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے جتنے اچھے ہیں اسلام میں بھی اسی طرح بڑھے ہوتے ہیں، واقعی آپ کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کر پائے گا،کہ آپ صرف دو مہینے پہلے مسلمان ہوئے ہیں، اور اندر کا حال جو آپ بتا رہے ہیں وہ تو لاکھوں صوفیوں اور سالکو ں میں سے، مشکل سے کسی ایک کو حاصل ہوتا ہے، بہت بہت مبارک ہو، واقعی رشک آرہا ہے آپ پر۔
صوفی صاحب: رب کا کرم ہے جس نے اپنے گندے بندہ کی انتر آتما میں ستیہ کی جوتجلا دی، الحمد للہ، الحمد للہ (دیر تک روتے رہے)

احمد اوّاہ : ہمارے لئے بھی دعا کیجئے، کہ آپ کے اس حال کا کوئی حصہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے؟
صوفی صاحب: یہ تو آپ کی بڑائی ہے کہ آپ ایسا کہہ رہے ہیں، آپ تو آپ ہی ہو، آپ کے گھرانہ کو اللہ تعالیٰ نے اس بڑے مشن اور کام کے لئے چن لیا ہے، جو اللہ کے لاڈلے رسولؐ کا مشن تھا۔

احمد اوّاہ : مگر یہ احسان کی اور دوام حضور کی کیفیت تو جو آپ سے مل کر محسوس ہوئی اس کے لئے ترستے ہیں ہم سب،اچھا براہ کرم آپ اپنا خاندانی تعارف کرائےے؟
صوفی صاحب: میری پیدائش قلعہ پریکشت گڑھ ضلع میرٹھ میں١٩٦١  ء میں ہوئی، میرا تعلق ایک برہمن خاندان سے تھا، نرائن شرما میرے پتا جی نے نام رکھا، میرے والد نے دان دَکشِنا سے بچنے کے لئے خاندانی کام کُنڈلی بنانا، پھیرے کرانا اور جیتوتِش وغیرہ کو تیاگ کر اپنا کاروبار شروع کیا، شروع میں انہوں نے کئی کاروبار کئے، مگر ٹھیک نہیں چلے، آخر میں برتنوں کی ایک ایک دُکان کھول لی تھی، جو بہت اچھی نہیں چلتی تھی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا،میں ان کا بڑا بیٹا تھا، میں نے انٹرمیڈیٹ کیا، تو اس کے بعد میرے والد مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، میں کلاس میں پوزیشن لاتاتھا، پی ایم ٹی اگزام میں چار سال تک کوشش کرتا رہا مگرمیری سلیکشن نہیں ہوسکا،اسی دوران میں نے بی ایسی سی بھی میرٹھ کالج سے کرلیا، بہت کوشش کے بعد بھی کمپٹیشن کوالیفائی نہ کرپانے کی وجہ سے میرا دل دنیا سے اچاٹ ہوگیااور میں ۱۱ ستمبر ١٩٨١ ء کو گھر سے نکل گیا، اور سنیاس کی نیت سے رِشی کیش چلا گیا، وہاں پر بہت سے آشرموں اور اکھاڑوں میں ایک کے بعدایک پندرہ سال تک چکر چلاتا رہا، سوامی دکھی رام جی کا ہنومان اکھاڑہ بہت بڑا اکھاڑہ مانا جاتا ہے، ان کے ساتھ پانچ سال رہا، انہوں نے مجھے پہاڑوں میں ایک آشرم کا پرمکھ بناکر بھیج دیا، وہاں پر کچھ لوگوں سے اَن بَن ہوگئی، اور میں سب کچھ چھوڑ کر گھر واپس آگیا،اور قلعہ پریکشِت گڑھ میں ایک ہنومان مندر اپنی زمین میں بنوایا، جو آبادی کے پاس تھا، اس کے بعد ایک ٹرسٹ بنایا،ہنومان مانو سیوا ٹرسٹ، اس کے تحت دو مندر الگ الگ جگہ بنائے تھے، ایک مندر لال کرتی میں بنایا،اور اس سے لگتی ہوئی اپنے رہنے کے لئے ایک کٹیا بھی بنائی، میرے مالک کو مجھ پر دیا آئی، اورمیرے رب نے اسلام سے میرا دامن بھردیا اور اپنی یاد میں بھٹکتے ہوئے بندہ کو بغیر کسی دوسرے سبب کے، خود ہاتھ پکڑ کر اپنے راستہ پر لگا لیا۔ 

احمد اوّاہ : آپ اپنے اسلام قبول کرنے کاواقعہ سنایئے؟
صوفی صاحب: اصل میں دین اور دھرم کہتے ہیں اپنے مالک کو راضی کرنے،اور اس کو پانے کے لئے جیون گزارنے کو، میں نے ایم بی بی ایس میں داخلہ کے لئے اپنی بھرپور کوشش کی، اور مجھے ہربار پوری امید تھی کہ میرا سلیکشن ہوجائے گا، مگر ایک کے بعد ایک چاربار ناکامی سے میرا دل دنیا سے ٹوٹ گیا، اور پھر میں نے اپنے مالک کو پانے اور اس کا بننے کے لئے گھر سے نکل پڑا،اس روز جب ہم کلمہ پڑھنے آئے تھے، تو حضرت نے بتایا تھاکہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سنسار کو بنانے سے پہلے سارے انسانوں کی آتماؤں کوبنایا، اور سب کو جمع کرکے ایک سبق پڑھایا، اور ان سے سوال کیاکہ بتاؤ کیامیں تمہارا پالنہار ہوں؟ ایک آیت ہے نہ قرآن مجید میں، حضرت نے پڑھ کر سنائی تھی۔

cheen men Islam: Maulana Kaleem Siddiqui
 احمد اوّاہ : جی جی
الست بربکم‘‘    
کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟
صوفی صاحب: تو پہلے سارے سنسار کو بنانےوالے اور پیدا کرنے والے مالک کاپڑھایا ہوا سبق آتما کیسے بھول سکتی ہے، ہر انسان کی انترآتما میں یہ سبق یاد ہوتا ہے کہ ہمارا بنانے والا ہمارا مالک صرف اور صرف ایک اکیلا ہے، اس لئے مولانا احمد آخری درجہ کے شرک اور بت پرستی کی بھول بھلیوں میں پھنسے، کسی دیش اور قوم کے انسان بلکہ شِرک کی دلدل اور گندگی میں پھنسے کسے دھرم گرو سے اچانک آپ جاکر سوال کریں کہ گروجی یا پنڈت جی اس سنسار کواور برہمانڈ (کائنات) کو بنانے والااور چلانے والا کون ہے؟ تو وہ فوراً بے اختیار اوپر کوایک انگلی (ہاتھ اوپر کرکے، شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے)کااشارہ کرکے صرف اور صرف یہ کہے گاکہ وہ ایک اکیلا اوپر والا مالک ہے، میں اپنے ہندو بھائیوں اور رشتہ داروں کو دعوت دیتا ہوں تو یہ بات کہتا ہوں کہ کسی کے گھر موت ہوجائے، اکلوتا جوان بیٹا مرجائے یا کوئی اور مرجائے، تو اس کے یہاں جو بھی جاتاہے، اورسہان بھوتی وَیکت کرتا ہے( تعزیت کرتا ہے)تو صرف یہی کہتا ہے،اوپر ہاتھ اٹھاکر کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی،اب کر بھی کیا سکتے ہیں جس کی امانت تھی اس نے لے لی، آخری درجہ کا مُشرِک اور دیوی دیوتا کابھکت  ہی کیوں نہ ہو، یہ نہیں کہتا کہ ہنومان جی کی مایا تھی، انہوں نے لے لی، یا کالی کی مایا تھی کالی نے لے لی، جیسا کہ وہ لوگ جو پیرپرست اور مسلمان ہوکر قبروں اور درگاہوں پر عقیدت اور پوجا کرتے ہیں،وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ خواجہ جی کی مایا تھی خواجہ نے لے لی، بے اختیار ہر انسان کا یہ جواب کہ سنسار بنانے اور چلانے والا وہ اکیلا مالک ہے،اور ہر مرنے والے کے لئے بلاتفریق مذہب و ملت یہ جواب کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی، یہ جواب اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ہر انسان کی انترآتما کویہ سبق الست بربکم(کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں) کا یاد ہے۔اور اس سبق کی وجہ سے اپنے پیدا کرنے والے رب کو پانے اور اس کو راضی کرنے کی پیاس اس کی فطرت میں رکھی ہے، اور اس اکیلے اور صرف ایسے اکیلے مالک کی، جو اس کے فکر و خیال اور عقل و شعور سے اوپر ہو، عبادت و بندگی کرنے اور اس سے محبت کرنے اور اس کو راضی کرنے کا تقاضا، اس کے اندر کی فطرت کا تقاضا ہے، اس کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے اور بندگی کرنے کو اس کی فطرت پسند نہیں کرتی، میں بھی انسانوں میں سے ایک ہوں، جس کی روح کو میرے مالک نے الست بربکم کا سبق پڑھایا، اس لئے دنیا چھوڑ کر اور دنیا سے مایوس ہوکر جب میں نے اپنے مالک کو پانے کے لئے گھر چھوڑا، اور سنیاس اختیار کیا،تو اتنے دنوں تک شرک 
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends"

 -

کی بھول بھلیوں میں دھرم کے نام پر، ادھرم میں پھسنے ہونے کے باوجود کوئی اندر میں طاقت تھی جو مجھے کھینچے دیتی ہے، کہ جس سنسارکے بنانے والے اورچلانے والے مالک کی تلاش میں تو سب کچھ چھوڑ کرآیا ہے، اس کو اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بھگوانوں سے بھلاکیا واسطہ، میں جس آشرم میں گیا وہاں کے گروؤں سے اپنی یہ بات کہی،وہ مجھے یہ کہہ کر چپ تو کرادیتے تھے، کہ یہ مورتیاں تو اکاگرتا (کنٹریشن،دھیان،یکسوئی) کے لئے ہیں، اصلی تو وہی ایک اکیلا مالک ہے، مگر مجھے لگتا کہ اس سے کیسے ایکاگرتا(یکسوئی) ہوگی، شِرک سے تو انتشار ہی ہوسکتا ہے، یکسوئی ہرگز نہیں ہوسکتی، میں نے میرٹھ لال کُرتی میں مندر بنایا، تو ہمارے گھر میں ذرا صفائی کا ہماری ماں کو زیادہ فکر تھا، مجھے ماں سے بھی زیادہ صفائی کاذوق تھا، جب میں نے آشرم بنایا تو میں صفائی کا بہت زیادہ خیال کرتاتھا،ہنومان جی کی مورتی پر صبح سے شام تک لوگ پرشاد چڑھاتے، ہر طرح کے پرشاد اور مٹھائی وغیرہ سے خود مورتیوں اور فرش پر گندگی ہوجاتی، اور میٹھے پر مکھیاں بھی بہت آتیں، ا س کے لئے لاکھ دھونی دیتے مگر مورتیاں گندی ہوجاتیں، دن میں کئی کئی بار مجھے مورتیوں کی صفائی کرنا پڑتی تھی، ہر بار جب مورتی کی صفائی کرتا تو میری آتما میں اندر سے کوئی مجھے جھنجھوڑتا کہ یہ کوئی دھرم ہے، مورتی کو بھانڈتے رہو اور دھوتے رہو، کبھی کبھی اس خیال سے اتنا پریشان ہوجاتا کہ جی چاہتا گلے میں پھانسی لگاکر آتم ہتیا کرلوں،جب آتما جس کی مایا ہے اس کے پاس چلی جائے گی تو پھر اصل مالک سے مل جائے گی، چار پانچ سال سے یہ خیال بہت پریشان کرتا تھا، چار سال پہلے ہمارے مندر سے کچھ فاصلہ پر ایک مسجد ہے وہاں پر گیا، اس خیال سے کہ دیوی دیوتاؤں کے سارے بھگت اور پجاریوں کو دیکھ چکا ہوں، وہاں تو بس دھرم کے نام پر کاروبارکے علاوہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھاچلو ذرا دیکھیں کہ یہ کس کی پوجا کرتے ہیں، امام صاحب مسجد کے قریب اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے تھے، میں نے امام صاحب کی کنڈی کھٹکھٹائی، امام صاحب مجھے دیکھ کر ذرا ہکے بکے ہوگئے، میں نے اپنی پریشانی بتائی کہ میں اسلام کے بارے میں جاننے کی اچھا رکھتا ہوں، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مسجد کے امام ہوکر ان کاپریوارہے، میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ اس کو پانے کے لئے سارے سنسار کے اس جال کو تیاگ کر اس کو پاسکتا ہوں، سارے مسلمانوں کو نماز پڑھانے والا امام اپنے پریوار کے ساتھ رہتا ہے، امام صاحب نے کہااسلام یہ کہتا ہے کہ ساری کی ساری چیزیں اس مالک نے انسان کے لئے بنائی ہیں،اور اس کو ایک سماجی سسٹم سے جوڑا ہے، اس پورے سماج کا اس مالک کے لئے حق ادا کرنے کا نام ہی اسلام ہے، میں نے معلوم کیا کہ آپ نماز پڑھتے ہیں تو کس کی پوجا کرتے ہیں: کیا محمد صاحب کی، یا الگ الگ پیر پیغمبروں کی، وہ مجھے مسجد میں لے گئے اور بتایا کہ قبلہ کی طرف یعنی مکہ کی طرف منھ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے مالک کا حکم ہے، اور اس سے ایکتارہتی ہے، الگ الگ سمت کو منھ کریں گے تو ڈسپلن نہیں رہے گا، مگر اسلام میں پوجا تو صرف اکیلے مالک کی ہے، جو خیال میں نہ آسکے، جس کی مورتی نہ بنائی جاسکے، جو صرف اور صرف اکیلا سارے سنسار کو بنانے اور چلانے والا ہے، امام صاحب کے ساتھ میری ذراسی دیرکی ملاقات نے میرے اند رکو جھنجھوڑ دیا اور مجھے لگا کہ جس سچی راہ کو تو تلاش کر رہا ہے وہ اسلام ہے، میں نے امام صاحب کو بتایا کہ میں آپ کے پڑوس کے مندر کا پرمکھ ہوں، اور ان سے کہا اگرمیں اسلام اپنانا چاہوں تو مجھے کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ شرک سے توبہ کرکے ایک کلمہ ہے اسے سچے دل سے پڑھنا ہوگا، میں نے کہا آپ مسلمان کرتے ہےں؟ انہوں نے کہا نہیں، ہم تو نہیں کرتے، اور آپ کو تو بالکل بھی نہیں کرسکتے، یہاں تو میرٹھ میں آگ لگ جائے گی، پاس میں ایک گاؤں ہے پھلت، آپ چاہیں تو وہاں چلے جائیں، وہا ں یہ کام ہوتا ہے، کوئی اگر مسلمان ہونا چاہے تو وہ سب کام کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا آپ میرے ساتھ چل سکتے ہیں؟ انہوں نے صاف منع کردیا، او ریہ بھی کہ اگر واقعی آپ کا مسلمان ہونے کا ارادہ ہے تو براہ کرم آپ میرے پاس بالکل نہیں آیئےگاورنہ یہاں کے مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے نکال دیں گے، یہاں فساد ہوجائے گا، مجھے بہت عجیب سا لگا کہ میں جھوٹے بھگوان کا اپاسک تو اسلام قبول کرنے میں نہیں ڈر رہا، اور یہ سارے سنسار کے مالک کی عبادت کرنے والے، ڈر رہے ہیں۔

Dawat-e-islam, Dekhiye kaise 80 musalman ho gaye...
احمد اوّاہ : اس کے بعد کیا ہوا؟
صوفی صاحب: جی بتا رہا ہوں، ہمارے یہاں قلعہ پریکشت گڑھ کے ایک حاجی صاحب جو میرٹھ میں ٹائر کی دکان کرتے ہیں، وہ کبھی کبھی مجھ سے ملتے تھے میں ان کے یہاں گیا، اور ان سے کہا آپ مجھے پھلت لے کر چلو، ان کے ایک دوست جماعت کے امیر تھے، وہ ایک بار ان کی دوکان پر ملے، کہنے لگے میں آپ کو پھلت لے کر چلوں گا، ہم لوگ ٢٧ رمضان کو پھلت جاتے ہیں، مگر وہ مجھے ٹلاتے رہے، ایک روز میں خود ہی نکل گیا، ہماےر یہاں مندر میں آگ لگ گئی، فون آیا تو مجھے لوٹنا پڑا، باربار شیطان شاید مجھے ستیہ سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، تین سال مجھے اسی بے چینی میں گذر گئے، حاجی صاحب اور امیر صاحب کی میں خوشامد کرتا رہا مگر شاید وہ بھی ڈر رہے تھے، اس لئے مجھے ٹلاتے رہے، ٢١  اپریل کی صبح نو بجے میں حاجی صاحب کی دکان پر پہنچ گیا، اتفاق سے امیر صاحب بھی کسی کمپنی میں نوکری کرتے تھے، وہاں موجود تھے میں نے ان سے کہا، آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں، آج آپ کو مجھے پھلت لے کر چلنا ہی پڑے گا، حاجی صاحب نے عذر کیا، میری دکان پر کوئی نہیں ہے،میں نے کہا آپ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کتنے روپے کما لیتے ہو، وہ بولے دو تین ہزار بی کما لیتا ہوں، میں نے پرس میں سے تین ہزار روپے نکالے اور ان کی جیب میں ڈالے، وہ پہلے تو تکلف کرتے رہے بعدمیں لے لئے، اور دکان بند کردی، امیر صاحب کی جیب میں بھی میں نے دو ہزار روپے ڈالے، آپ کو زیادہ سے زیادہ ایک روز کی نوکری میں دو ہزار ملتے ہوں گے آپ بھی چلیں، سامنے ٹیکسی اسٹینڈ سے ٹیکسی کی اور ان دونوں کو بٹھا کر مندر سے ایک صفائی کرنے والے سندرداس کو فون کرکے بیگم برج  (پُل)پر بلایا، جو میرے ساتھ مسلمان ہونے کو کہتا تھا، اس طرح ہم پھلت پہنچے۔

احمد اوّاہ : آپ نے معلوم کرلیا تھا کہ ابی(مولانا کلیم صاحب) وہاں موجود ہیں؟
صوفی صاحب: نہیں، مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ کون مسلمان بناتا ہے، اور مولانا کلیم صاحب کون ہیں؟ ہم پہنچے تو اللہ کا کرم ہے کہ حضرت پھلت خانقاہ میں موجود تھے، امیر صاحب نے میرا تعارف کرایا، اور بتایا کہ یہ پنڈت جی چار سال سے ہم سے مسلمان ہونے کی ضد کر رہے ہیں، آج صبح صبح جاکر ہمیں زبردستی دبا لیا، اور میرا گریبان پکڑ کر ٹیکسی میں بٹھایا کہ آج آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔
احمد اوّاہ :  کیا واقعی آپ نے امیر صاحب کی گریبان پکڑ لیا تھا؟
صوفی صاحب: جی واقعی میں بہت تھک کر عاجز ہوکر ان کے پاس گیا تھا، او رمیں نے امیر صاحب کا گریبان پکڑ کر کہا کہ آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ مجھے مسلمان نہیں بنوائیں گے، حضرت صاحب نے سنا تو امیر صاحب اور حاجی صاحب کو بہت سمجھایا اور مسئلہ بتایاکہ دیوبند کے سب سے بڑے مفتی، شاید ان کا نام مفتی محمود صاحب بتایا تھا،وہ فرماتے تھے کہ مسجد کے باہر کوئی آدمی آیاکہ مجھے مسلمان ہونا ہے، اور آپ اس کو لے کر میرے پاس مسجد ک حجرہ میں آئے کہ مفتی صاحب ذرا اچھی طرح کلمہ پڑھائیں گے، تو جتنی دیرآپ نے کلمہ پڑھوانے میں تاخیر کی، اتنی دیر آپ کفر پر راضی رہے، اور کفر پر راضی رہنا عین کفر ہے، اگر اس حال میں آپ مرگئے تو کفر پر موت ہوگی، حضرت نے امیر صاحب اور حاجی صاحب سے کہا، آپ چار سال سے ان کو ٹلا رہے تھے تو آپ ان کے کفر پر راضی رہے، یعنی یہ زندگی آپ کی کفر پر گزری بہت بہت توبہ کرنی چاہئے۔حضرت نے کھڑے کھڑے ہم کو کلمہ پڑھوایا، اور پوچھا کوئی اسلام نام رکھنا چاہیں گے، میں نے کہا ضرور، تو حضرت نے میرا نام سلمان رکھا، سندرداس کا نام عثمان رکھا، اور بتایا کہ حضرت سلمان فارسی حق کو تلاش کرتے کرتے اسلام تک پہنچے تھے، اور دیر تک حضرت سلمان فارسی کے اسلام کی باتیں ہمیں بتاتے رہے، حضرت نے ہم سے پوچھا آپ نے اسلام کو کچھ پڑھا بھی ہے ،میں نے کہا نہیں، مجھے تو میرے جھوٹے بھگوانوں نے ہی پڑھایاتھا کہ ہماری پوجا دھرم نہیں بلکہ ادھرم ہے، سارا جیون اس حماقت میں گزر گیا کہ ہنومان جی کو بھانڈو اور دھوتے رہوبس اس کے لئے پڑوس کی مسجد گیا، امام صاحب سے معلوم کیا تو پتہ لگا کہ مسلمان صرف ایک اکیلے مالک کو پوجتے ہیں، تو دل میںآیا کہ یہ صلی دھرم ہے، مگر امام صاحب نے بھی صاف منع کردیاکہ اگر آپ کا رادہ ملسمان ہونے کا ہے تو آپ ہمارے پاس مت آیئے، ورنہ مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے الگ کردیں گے، فساد ہوجائے گا، حضرت کو بہت افسوس ہوا۔

احمد اوّاہ : پھر اس کے بعد کیا ہوا، آپ نے مندر چھوڑ دیا؟
صوفی صاحب: حضرت نے مشورہ دیا ایک دم مندر سے غائب ہونا ٹھیک نہیں ہے، آپ کسی شاگرد کو مندر کا ذمہ دار بنایئے،  اور دھرم میں آگے بڑھنے کا کہہ کر چلے آئےے، اور جماعت(تبلیغی جماعت)میں وقت لگائےے۔ میں نے حضرت کے مشورہ کے مطابق جماعت میں چالیس دن لگائے، بنگلور میں رمضان اور عیدکے بعد تک کا ہمارا وقت لگا، الحمد للہ ساتھی بہت پڑھے لکھے تھے، انہوں نے بہت خدمت کی اور بہت کچھ سکھایا، الحمد للہ جس شاگرد کو میں نے مندر کا ذمہ دار بنایا تھا،وہ میرا بہت وفادار شاگرد ہے، جماعت سے آکر میں نے اس کو بلاکر سب بتا دیا ہے اور پہلی ملاقات میں اس نے کلمہ بھی پڑھ لیا ہے، میں کافی دنوں کے بعد اپنے گھر بھی گیا ماں نے مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئی، اور بولی بیٹا میں نے کئی بار سپنے میں دیکھا، او ریہی دیکھا کہ تو مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔

احمد اوّاہ :آپ نے اپنی امی کو دعوت دی؟ 
صوفی صاحب: جی الحمد للہ انہوں نےکلمہ پڑھ لیا ہے، انہوں نے خوابوں کی وجہ سے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔

احمد اوّاہ :اب آپ کا کیا اردہ ہے۔ 
صوفی صاحب: حضرت کے یہاں آیا ہوں جیسا بھی حضرت کہیں گے کروں گا۔ میری اندر کی چاہت یہ ہے کہ میں ہریدوار یا رشی کیش یا کسی بڑے تیرتھ استھان پر جہاں پر میرے جیسے بہت سے لوگ سچ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، ان پر کام کروں، کرنا دعوت کا کام ہی ہے، ظہر(دوپہر کی نماز) کے بعد حضرت نے ملاقات کا وقت دیا ہے۔

احمد اوّاہ :  ماشاء اللہ، اللہ مبارک کرے، بہت شکریہ السلام علیکم
صوفی صاحب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

-
 -

-
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories

"islam enemies now friends"

 -
-



-

-

-

-

-
 -

 
 -
 -







0 comments:

Post a Comment