بھائی حسن ابدال»جئے وردھن« سے ایک ملاقات

احمد اوَاہ     :  اسلام علیکم ورحمۃ اﷲو بر کاتہ
حسن ابدال  :  وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ و برکاتہ

  سوال  :   حسن بھائی ! آپ جماعت سے کب لوٹے اور آپ کا وقت کہا ں لگا؟
 جواب  :  احمدبھائی میں آج ہی جماعت میںسے واپس آیا ہوں اور ہماری جماعت متھرامیں وقت لگاکر لوٹی ہے۔

  سوال  :   جماعت میں کچھ پر یشانی تو نہیں ہوئی؟آپ کے ساتھ جماعت کہاں کی تھی؟
 جواب  :  الحمد ﷲ جماعت میں وقت بہت اچھا لگا اور ساتھیوں نے بہت ہی بہت ہماری خدمت کی اور ہماری جماعت متفرق تھی، کچھ لوگ سہارن پور کے تھے تین لوگ میوات کے تھے، دو چار بجنور کے، اﷲ کا شکر ہے اور امیر ہمارے سہارنپور ضلع کے ایک گاؤں کے عالم تھے اور باربار وقت لگا چکے تھے، الحمد ﷲ مجھے پوری نماز دعائے قنوت کے ساتھ یاد ہوگئی۔
Sunein Sunayen
aapki amanat aapki sewa men in voicehttps://youtu.be/ZOp2xxs-kMo

 
  سوال  :   حسن بھائی ہمارے یہاں پھلت سے  ایک اردو میگزین ہر مہینہ نکلتی ہے، اس میں ان لوگوں کے انٹر ویو شائع کیے جار ہے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ آج کے زمانے میں اپنے فضل سے راہِ ہدایت عطا فرماتے ہیں، ابی کا حکم ہے کہ آپ سے اس کے لیے کچھ باتیں کروں تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے رہنمائی ہو، خاص طور پر پرانے خاندانی مسلمانوں کو عبرت ہو،۔
 جواب  :  ہاں مولوی احمد صاحب میں نے متھر ا میں بہت سے لوگوں سے ارمغا ن کا نام سنا، ہم لوگ ایک مسجد میں گئے تو وہاں کے امام صاحب نے ممبئی کے ندیم صاحب انٹر و یو پڑھ کر سنا یا تو مجھے بہت اچھا لگا اور میرے دل میں آیا تھا کہ میں مولانا صاحب سے کہوں گا کہ میرا بھی انٹر ویوچھپوادیں، مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ میرے کہنے سے پہلے ہی خودہی حضرت کے دل میں میرا اﷲ یہ بات ڈال دے گا، اﷲ کی ذات کیسی کرم والی ہے کہ مجھ دو مہینہ بیس دن کے چھوٹے سے مسلمان کے دل میں جو بھی بات آئی ہے میرے اﷲ اسے پورا کر دیتے ہیں، امیر صاحب نے ایک روز تعلیم میں اﷲ کے نبی موسیٰ  ؑ کا قصہ سنایا تھا کہ وہ آگ لینے کے لئے پہاڑ پرگئے تھے اور ان کو پیغمبربنادیا گیا،(روتے ہو ئے) میرے  مالک نے (میری جان اس کے نام پر قربان کہ مجھ گند ے کو،، شرک اوربت پرستی کے راستے پر بلکہ منزل پر ہدایت دی اور میرے ساتھ کیسا کرم ہے کہ میرے دل چاہ رہا تھا کہ میں ارمغان میں انٹر ویو کے لئے کہوں گا مگر اندر سے شرم بھی آرہی تھی کہ ایک دو مہینے کے مسلمان کا حال اس قابل کہاں کہ اس کو ارمغان میں چھپوایا جائے۔

  سوال  :  ابی نے رات میں مجھے حکم کر دیا تھا حسن انٹر ویو ضرور لینا ہے، آپ اپنا خاندانی پریچے (تعارف) کر ائیے۔
 جواب  :  میں غازی آباد ضلع کے ایک گاؤں کے بر ہمن گھرانے 
1975میں 9ستمبر
کو پیدا ہوا، پتاجی (والد صاحب) نے میرا نام جے وردھن رکھا، آٹھویں کلاس تک گاؤں میں ایک اسکول میں پڑھا، اس کے بعد غازی آباد کے ایک کالج سے انٹر کیا، اس کے بعد ایک دوسرے کالج سے بی کام کیا، بی کام کر نے کے بعد ایک سال IAS کمپٹیشن کی تیاری کی، پر یلمس پہلا امتحان دو بار پاس کیا، مگر میں امتحان میں پاس کے قریب قریب رہ گیا جس سے دل بہت ٹوٹ گیا، میرے پتا جی (والد صاحب) ایک اسکول میں پرنسپل تھے، ان کی خواہش تھی کہ میں ایک بار اور کوشش کروں مگر دل دنیا سے بالکل اچاٹ ہوگیا تھا، مجھے دوسری بار بہت امید تھی کہ میں یہ امتحان ضرور پا س کرلوں گا، مگر بالکل قریب ہوکر محروم ہو جانے سے میرے دل و دماغ کو بہت صد مہ ہوا اور میں گھر سے بھاگ کر ہر ید وار چلا گیا کہ سنیاس لے لوں گا، میں ہری دوار، رشی کیش، اتر کا شی بنارس بہت آشرموں میںچار سال بھٹکتا رہا، کہیں شانتی نہیں ملی،دو چا ر مہینے کے بعد ہر آشرم میں کوئی ایسی بات نظر آ جاتی جس سے دل کھٹا ہو جاتا، ہر یدوار سے ایک روز میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کلیر گیا، وہاں پہنچ کر مجھے شانتی تو ملی،


❤️💚 5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends" 5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए  
-

مگر وہاں کا حال بھی مجھے بازاری آشرموں کی طرح لگا، وہاں سے ہم پھول چڑھا کر واپس آئے تو ایک مست نے مجھے پکڑلیا اور باربار مجھ سے کہتا دس روپیئے مجھے دے دے اﷲ نے تجھے ابدال بنایا ہے، میں نے کہا، میں تو ساد ھو ہوں، ہر یدوار سے آیا ہوں، وہ مست پا گل مجھے چھوڑ نے کو تیار نہ ہوا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پاگل یہاں کہاں رہتا ہے، لوگوں نے کہا کہ یہاں کا ملنگ ہے، یہ کسی سے کچھ نہیں مانگتا، کوئی دے دیتا ہے تو کھانا کھاتا ہے، ورنہ جنگلوں میں چلا جاتا ہے میں نے جان چھڑانے کے لیے اس کو دس روپیئے دئیے، میں نے لوگوں سے معلو م کیا کہ یہ ابدال کیا کہہ رہا تھا، ایک صاحب وہاں تھے انہوں نے بتایا کہ ابدال بڑے پہنچے ہوئے فقیر کو کہتے ہیں، اس کو میں نے دس روپیئے کیا دیئے، مانگنے والے میرے کپڑے پھاڑنے کو تیار ہو گئے، ہر ایک مجھ سے ضد کر تا کہ ہمیں بھی کچھ دو، میرے ماتھے پر تلک لگا ہوا تھا، مگر اس کے باوجود وہاں کے مانگنے والوں سے جان بچانا مشکل ہوگئی، وہاں کے ظاہری حال سے میں بہت بدظن ہوا، مگر وہاں اندر جاکر مجھے کچھ عجیب سی شانتی و سکون ملا، خاص طور پر وہاں ایک مسجد ہے اس میں اندر جا کر بیٹھا، تو میں دو گھنٹے بیٹھا رہا، وہاں سے آنے کو دل نہیں چاہتا تھا، مسجد میں کچھ لو گ سورہے تھے، کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، وہاں سے واپس ہر یدوار آیا، یہاں چین نہ ملا پھر ایک بار گھر چلا گیا گھر والوں نے مجھ پر زور دیا کہ میں آگے پڑھائی کروں، سی،اے کرلوں،یا کم از کم ایم بی کرلوں، میرا دل کچھ اس طرح کا کام کرنے کو نہیں  چاہتا تھا تین مہینے گھر رہنے کے بعد گھر سے دباؤ بڑھا تو پھر میں گھر سے ہر ید وار چلا آیا اور بس نہ جانے کیسی بے چینی میں در بدر مارامار ا پھر تا رہا، یہ میری پہلے جنم کی کہانی ہے۔

  سوال  :   پہلے جنم کا کیا مطلب؟
 جواب  :  بس میں اپنی نئی زندگی کو ۹۲ جولائی ۸۰۰۲ء سے مانتا ہوں اور اس کو میں اپنا نیا جنم سمجھتا ہوں، اس لئے کہ زندگی شرک میں گزرے وہ زندگی کیا زندگی ہے۔

Shandar itihas ek raat men islami desh bana




  سوال  :   اپنے اسلام قبول کرنے کا حال بیان کرئیے۔
 جواب  :  میں نے ابھی بتایا کہ میرا حال تو یہ ہوا کہ میرے اﷲ نے شرک کے راستہ پر اپنا دستِ رحمت میرے اوپر رکھ کے مجھے ہدایت نصیب فر مائی، دربدر مارامارا پھر تا، پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ جیسے مجھے کسی چیز کی تلاش ہے، دھرم کی کوئی بات جس پر قربانی دے کر مجھے لگتا کے میرا مالک راضی ہوجائے گا، میں اس کو کرنے کی کو شش کرتا، اس کے لیے میں نے کا وڑلے جانے کی نذرمانی،آپ جانتے ہیں کہ مہاشیوراتری پر سخت گرمی اور برسات کے زمانہ میں ہرکی پوڑی ہر یدوار سے گنگا جل کا وڑ میں لے کر پیدل جہاں کی کاوڑ سے پانی چڑھانے کی نذر مانی جاتی ہے وہاں لے کر جانا ہوتا ہے، سب سے 

زیادہ  پروا مہادیو شیخ پورا کے ایک مندر پر دسیوں لاکھ لوگ پانی چڑھانے جاتے ہیں ،یہ سفر مولانا احمد صاحب بہت مشکل تپسیا (مجاہدہ ) ہے میں بھی تین سال سے کاوڑ لے جاتا اور کسی طرح پانی چڑھا کر سخت بیمار ہو جاتا پچھلے سال تو میں اتنا بیمار ہو گیا کہ سوچتا تھا کہ شاید اس بار بچ نہیں سکوں گا مگر میرے مالک نے زندگی دے دی، پاؤں پر اتنا ورم آ جاتا ہے کہ پاؤں کی کھال پھٹ کر خون رسنے لگتا، چھالے زخم بن جاتے مےں بار بار آسمان کی طرف منھ کر کے مالک سے شکایت کرتا اور فریاد بھی کرتا کہ مالک آپ نے دھرم کتنا مشکل بنا دیا ہے، کبھی کہتا کیا میرے جل چڑھائے بغیر تو خوش نہیں ہو سکتا ؟اس سال میں کاوڑ لے کر چلا تو عجیب شش و پنج میں تھا، کبھی دل میں آتا یہ سب ڈھونگ ہے مگر اندر سے کوئی کہتا ہے کہ توتو سچا ہے تو تجھے اس راستے سے ہی مالک تک پہونچنا نصیب ہو جائے گا،مظفر نگر شہر میں نکلا تو ایک کاوڑکیمپ میں آرام کیا، میں نے سپنا (خواب ) دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں اور جماعت کھڑی ہے ایک صاحب آئے اور انہوںنے مجھے دروازے کے اندر جوتیوں میں کھڑا دیکھا تو بولے بیٹا !نماز ہو رہی ہے تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟میں نے کہا کہ لوگ مجھے پڑھنے نہیں دیں گے میں ہندو ہوں وہ بولے آ میں تجھے لے چلوں میرا ہاتھ پکڑ ا اور جماعت میں کھڑا کر دیا، میں نے دیکھا دیکھی نماز پڑھی، آنکھ کھلی تو احمد صاحب میں بیان نہیں کر سکتا کہ کتنا اچھا لگا،

Allach ka challenge

Maulana Kaleem Siddiqui Urdu / Hindi


-

 تھوڑی دیر آرام کر کے ہم چل دیئے میرے ساتھ ہریدوا رکے تین ساتھی اور تھے،راستے میں ایک مسجد سڑک پر تھی دو بجے دوپہر کا وقت تھامیں نے دیکھا لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں بس میں بے چین ہو گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ مسجد بھی تو اسی مالک کا گھر ہے جس کے لئے ہم جا رہے ہیں میں تھوڑا ساچڑھا وا وہاں چڑھا آؤں تیل کے لئے مجھے مسجد میں پیسے دینےہیں ، کاوڑ ساتھی کو دیکر میں مسجد گیا مگر ڈر بھی لگ رہا تھا کہ نامعلوم مسلمان کیا سمجھےں گے، مگر میں اندر سے مجبور تھا،میرا دل چاہا کہ میں جماعت میں کھڑا ہوجاؤںگا مگر ہمت نہ ہوئی،ایک بڑے میاں بولے، بھولے بیٹا کیا دیکھ رہا ہے تجھے کیا چاہئے ؟میں نے کہا ابا جی !ایک بار نماز پڑھنا چاہتا ہو ں،انہوںنے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ تو پھر سوچ کیا رہا ہے اور یہ کہہ کر میرا ہاتھ پکڑ کر جماعت میں کھڑا کردیا، میں نے نماز پڑھی سر جب زمین پر رکھ کر سجدے میں گیا تو مجھے ایسا لگا جیسے آج میں مالک کے پاس آیا ہوں،نماز پڑھ کر واپس آیا، میں نے ساتھیوں سے اپنے خواب کا ذکر کیا اور نماز میں جو مزہ آیا اس کا بھی، 
ساتھیوںمےں د و نے تو بہت برا بھلا کہا، میرا ایک ساتھی دنیش بولاتو مجھے کیوں 
نہیں لے گیا ؟مجھے بھی دکھاتا کہ نماز میں کیسا مزہ آتا ہے ہمارا سفر چلتا رہا ہم لوگ انتیس تاریخ کی دوپہر کو  نہر کی پٹری والی سڑک سے بھولے کی جھال پر پہنچے توظہر کی اذان مسجد میں ہوئی میں موقع لگا کر کاوڑ ایک کیمپ میں رکھ کر دنیش کو لے کر اندر گاؤں میں مسجد میں گیا، چار پانچ لوگوں کی جماعت ہو رہی تھی، میں جماعت میں شریک ہو گیا میں نے دنیش سے کہا کے شیش (سر) جب زمین پر رکھے گا تو دیکھنا ایسا لگے گا جیسے مالک کے چرنوں (قدموں ) میں ماتھا رکھا ہے، پھر دیکھنا کیسا آنند آئے گا، نماز پڑھ کر پھر ہم کیمپ آ گئے، دنیش نے کہا کہ واقعی تم سچ کہتے ہو، عصر کے بعد ہم لوگ پورا مہادیو پہنچے، ہم لوگ خوشی خوشی منزل تک پہنچنے کی خوشی میں بیٹھے ہوئے تھے،رات بارہ بجے کے بعدجل  چڑھانا تھا بھیڑ بہت تھی دورذرا بھیڑ سے دور، ندی کے کنارے ایک پیڑ کے نیچے ہم سو گئے آ د  ھے گھنٹے میں آنکھ کھلی تو کچھ نو جو ان پا س بیٹھے ہو ئے تھے ان کے ہا تھ میں کچھ کتا بیں تھیں وہ ہما رے پا س آ ئے اور ہما را پر یچے (تعا رف) پو چھا، پھر بو لے ہم سب ایک ما ں با پ کی سنتان ہیں ہم آپ کے حقیقی خونی رشتے کے بھا ئی ہیں، آپ لو گ ما لک کو راضی کر نے کے لئے کیسی کٹھن تپسیا (مجا ہدہ ) کر کے یہا ں پہنچے ہیں، ہما رے ایک دھر م گر و ہیں، انہو ں نے انسا نو ں سے ہما را کیا رشتہ ہے اور اس رشتہ کا سب سے بڑا حق کیا ہے، یہ سمجھانے اور اس حق کو کیسے پہنچاناجائے اس کی ٹریننگ کے لئے ایک کیمپ بڑوت میں لگا یا تھا مسجد میں اس کے آخری پروگرام میں ہم سبھی کو اپنی تقریرمیں بہت پھٹکار سنائی کہ یہ ہمارے خونی رشتہ کے بھائی جو کاوڑ لاتے ہیں کیسی مصیبت بھر کر سفر کرتے ہیں اور ان کا، سچائی کا راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے، ہر قدم نرک کی طرف شرک کی طرف جا رہا ہے،اور ہم اپنی کھال میں مست کھانے اور کمانے میں ہیں ، یہ کیسا بڑا ظلم ہے ہم سارے غیر مسلموں کو اپنا دشمن اور مخالف سمجھتے ہیں ، یہ لاکھوں لوگ صرف مالک کو راضی کرنے کے لئے اس قدر مشکل سفر کرتے ہیں ، 

میں نے کئی کاوڑ کیمپوں میں دیکھا کہ پاؤں پر ورم چھالے اور زخم ہو رہے ہیں ،لوگ ان کی مرہم پٹی کر رہے ہیں،  ہم کیسے رحمت بھرے نبی کو ماننے والے ہیں کہ ہم ان بھائیوں کو حق نہیں پہنچاتے، ذرا کوشش تو کرنی چاہئے اپنا سمجھ کر ہمارے ذمہ ان کو سچائی پہنچانا ہے، کم از کم ہمیں پہنچانا توچاہئے،چھ سات روز کے کیمپ میں ایک ساتھی بھی کاوڑ بھائیوں سے نہیں ملا، کل میدان محشر میں یہ ہمارا گلا دبائیں گے اور ہم چھڑا نہ سکیں گے ان کی درد بھری باتوں سے ہمارا دل بھر آیا اور ہم نے ارادہ کیا کہ ہم کچھ بھائیوں تک بات ضرور پہنچائیں گے، آج ہم صبح سے پچیس بھائیوں سے ڈرتے ڈرتے ملے ہیں آپ کو سوتے دیکھا تو خیال ہوا کہ آپ الگ جگہ پر ہیں ، آپ سے اطمینان سے بات ہو سکتی ہے، اگر آپ کو برا نہ لگے تو ہم آپ کے اور اپنے مالک کے بارے میں کچھ باتیں کریں،میرے ساتھی دنیش نے کہا ضرور بتایئے،وہ ہمیں ایک مالک اور اس کی پوجا کے بارے میں بتانے لگے اور اس کے علاوہ کسی کی پوجا کو پاپ بتا کر نرک کی آگ سے ڈرانے لگے اور قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں، وہ جب عربی میں قرآن پڑھتے تو ہم سبھی ساتھیوں کو بہت اچھا لگتا، آدھے گھنٹے تک باری باری وہ لوگ بات کرتے رہے اور جب ہم نے ان کی سب باتوں سے سہمتی (اتفاق) ظاہر کیا تو انہونے ہمیں کلمہ پڑھنے کو کہا ہم چاروں نے کلمہ پڑھا، انہوں نے ہمیں ایک ایک کتاب ’’آپ کی امانت، آپ کی سیوا میں‘‘ دی اور بتا یاکہ جن دھرم گرونے بڑوت میں کیمپ لگا کر ہمیں جھنجھوڑا تھا اور جن کی وجہ سے ہم آپ کے پاس آئے ہیں یہ انہیں کی کتاب ہے،ہم آپ کو بھینٹ کر رہے ہیں، اس کو غور سے تین تین بار پڑھئے، تو آپ کو حق کیا ہے اور اسلام لانا اور کلمہ پڑھنا کیوں ضروری ہے، معلوم ہو جائے گا اور پھر اس کتاب میں جو کرنے کو کہا ہے ضرور کرئیے میں یہ کتاب لے کر فوراً پڑھنے لگا


Do Goli maarne wale ko maaf kardiya

New Muslim Interview ✔️( Maulana kaleem siddiqui ) with google / micro Voice





 میرے دوسرے ساتھی بھی پڑھنے لگے،ہم لوگ اس پریم بھاؤ(محبت ) سے لکھی اس کتاب میں بالکل گم سے ہو گئے یہ کتاب پڑھ کر مجھے ایسا لگا، جیسے یہ کتاب صرف میرے لئے لکھی گئی ہو اور میں جس سچائی کی تلاش میں در بدر مارا پھرتارہا اور تپسیائیں کرتا رہا، وہ مجھے مل گئی، دن چھپنے کو تھا،وہ لوگ یہ کہہ کر جانے لگے اچھا ہم چلتے ہےں میں نے کہا آپ تو جاتے ہم کیا کریں،انہوںنے کہا کہ آپ جل چڑھایئے پھر گھر جا کر سوچئے اور فیصلہ کیجئے، میں نے کہا کے آپ کیسی بات کرتے ہیں ؟اس کتاب میں شرک کو سب سے بڑا پاپ کہا گیا ہے اور یہاں جل چڑھانا سب سے بڑا پاپ ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کاوڑ یہاں آپ چھوڑیں گے تو کچھ اور نہ ہو جائے،میں نے کہا ہوجائے تو کیا ہے،اور میں نے وہ کاوڑ ندی میں پھینک دی اور کہا کہ اب کسی نماز کا وقت ہے کہ نہیں ؟انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر بعد نماز کا وقت ہو جا ئے گا، میں نے کہا مجھے نماز پڑھنے لے چلو،میرے ساتھی دنیش نے بھی کاوڑ ڈال دی،اور ہم ان دونوں کے ساتھ ہولئے اور بڑوت پہنچے، میرے دو ساتھی کاوڑلے کر پانی چڑھانے کے لئے چلے گئے، مگر بعد میں انہوں نے بھی پانی چڑھانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

  سوال  :  اس کے بعد کیا ہوا ؟
 جواب  : بڑوت پہنچ کر انہوں نے میرے اور آپ کے والد مولانا کلیم صاحب سے فون پر بات کی، انہوں نے فون پر مجھے بہت بہت مبارک باد دی اور کہا کہ آپ سچے طالب تھے اس لئے مالک نے آپ کو راہ دکھائی،میں نے اسلام کو سمجھنے خاص طور پر نماز سیکھنے کاتقاضہ کیا، تو انہوں نے مجھے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ پہلے کچہری جاکر کسی وکیل سے مل کر قانونی کاروائی کرکے اور پھر دہلی آجائں میں آپ کو کسی اچھی جماعت میں بھیج دوںگا، اگلے روز میں نے سہارنپور جا کر اپنا بیان حلفی اور سرٹیفکیٹ وغیرہ بنوایا اور پھر اکتیس کی شام کو میں اور دنیش دہلی پہنچے حضرت سے ملاقات کی اور پوری داستان سنائی،انہوںنے میرا نام حسن اور دنیش کا نام حسین رکھا میں نے عرض کیا کہ ایک مست نے مجھے کلیر میں بتایا تھا کہ تجھے ابدال بناےا،اس لئے میرا نام ابدال رکھ دیں تا کہ میں نام کا ابدال بن جاؤں، کیا مشکل ہے کہ میرا اللہ مجھے پہنچا ہوا ابدال بنادے،مولانا نے کہا کہ اللہ کے ایک بہت پیارے بندے اور بزرگ حسن ابدال ہوئے ہیں میں آپ کا نام حسن ابدال رکھتا ہوں تاکہ آپ ابدال بھی اچھے والے بن جائے، جس اللہ نے آپ کو پروامہادیو میں شرک کی منزل پر ہدایت عطا فرمائی اور اپنی آغوش رحمت میں آپ کو اٹھا لیا اس اللہ کے لئے ابدال بنانا بہت آسان ہے، مولانا صاحب نے کہا مجھے امید ہے آپ ابدال ضرور بنےں گے، انشاء اللہ اور بلکہ ابدال سے بھی آگے اللہ آپ کو کچھ بنا ئیں گے، میں نے مولانا صاحب سے جب اپنی چار سالہ تپسیا کی بات بتائی کہ میں نے برت پر برت رکھا ہے، تین چلے ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر یگیہ کیا ہے، چھ مہینے بہت نہ کے برابر سو یا ہوں، کتنے آشر موں میں جیسے کوئی بتاتار ہا محنت کرتا رہا ہوں مولانا صاحب رونے لگے اور بولے اصل میں تمہاری ان تکلیفوں کے ہم مجرم ہیں کہ ہم نے آپ کو بتایا نہیں پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تو آپ کے پالنہار ہیں خود ہی اللہ نے آپ کے لئے راہ نکال دی، مولانا نے مجھے ایک مولانا صاحب کے صاحب کے ساتھ مرکز نظام الدین بھیج دیا پہلی اگست کو ہم جماعت میں متھرا چلے گئے، جماعت تین چلے کی تھی، آگرہ متھرا کے چلّے کے بعد میرا دل نہیں بھرا، میرا قاعدہ مکمل ہو ا، اردو بھی میں نے پڑھنا شروع کر دی تو امیر صاحب نے ہمیں دوسرے چلے میں جانے کا مشورہ دیا جماعت میں میرے ساتھ عجیب عجیب حالات آئے، ایک دودفعہ نہ جانے ساتھیوں سے کس طرح بچھڑ گیا، کچھ عجیب عجیب لوگوں سے میری ملاقاتیں ہو ئیں، 


Do Goli maarne wale ko maaf kardiya

New Muslim Interview ✔️( Maulana kaleem siddiqui ) with google / micro Voice





انہوں  نے مجھے کیسی کیسی عجیب چیزیں دکھا ئیں اور جب میں ذرا خیال کرتا کہ میری جماعت ! تو اچانک جیسے زمیں میرے پیروں کے نیچے بھاگ رہی ہو، جس طرح ریل میں یا گاڑی میں بیٹھ کر لگتی ہے ایسا لگتا اور میں اپنی جماعت کے ساتھ ہوتا ایسا میرے ساتھ ۸،۹ بار ہوا، مجھے خواب دکھائی دیتا جیسے میں پروں والا پرندہ ہوں، یہاں اڑا، وہاں اڑا، یہاں پہنچا، وہاں پہنچا سوتے میں میں اڑنے لگتا، ایک روز تعلیم میں فضائل اعمال میں ابدالوں کا ذکر آیا میں نے امیر صاحب سے معلوم کیا کہ ابدال کیا ہو تے ہےں ؟انہوںنے تفصیلات بتائیں کہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہےں، جن کے پیرو ں میں زمین سکڑ جاتی ہے، جس طرح فیلڈ افسروں کو گاڑی دی جاتی ہے اسی طرح ابدالوکو طرح طرح کے کمالات اور کرامات دی جاتی ہےں، مجھے دھن سی لگ گئی، میرے اللہ مجھے تو ابدال بنادے، پوری جماعت یہ دعا کرتا رہا اس کے بعد میرے ساتھ جماعت سے بچھڑ نے وغیرہ کے معاملے ہوئے۔

  سوال  : آپ نے ابی سے یہ حالات بتائے ؟
 جواب  : دو گھنٹے تک حضرت نے کارگزاری سنی، اصل میں حضرت نے مجھے سختی سے منع کر دیا تھا کہ جماعت میں کسی کو مت بتانا کہ میں کاوڑ لے جا رہا تھا اور وہیں مسلمان ہوا ہوں، بس میں نے ایک روز امیر صاحب سے آخر میں ذکر کیا،آج میں نے مولا نا صاحب سے کہا آپ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ مجھے ابدال بنادے، مولانا نے کہا کہ دال بننے سے کیا ہوگا، گوشت بنیئے ابدال تو تم ہو ہی انسان گوشت کا بنا رہے اس کے لئے یہ ہی بہتر ہے، جب میں نے ضد کی تو مولانا صاحب نے کہا کہ بس اللہ ایمان پر خاتمہ فرماویں اور اپنے نبی  ؐ کے طریقے پر چلا دیں اور سب سے زیادہ یہ کہ انسان بنا دیں، ا س کی دعاء کرنا چاہئے ابدال ہونا، کشف کرامت کی تمنا کرنا یہ بھی ایک طرح غیر ہی ہیں، جس طرح دیو دیوتا کی تمنا کرنا شرک ہے اسی طرح یہ بھی ایک طرح خاص لوگوں کے لئے شرک کی طرح ہے، بس اللہ کو راضی کرنے کی فکر کرنا چاہئے اس کے لئے دعوت کے کام کو مقصد بنایئے، جہاں تک ابدال اور غوث بننے کی بات ہے آدمی اپنے اللہ کی رضا میں سچا ہو تو ابدال اور غوث تو یوں ہی اللہ بنا دیتے ہیں آپ کے حالات بتا رہے ہیں کہ اللہ آپ کو ضرور ابدال ہی نہیں اس سے آگے بنائیں گے۔

  سوال  :  اب آپ کا کیا ارادہ ہے ؟
 جواب  :  مجھے حضرت نے چند روز کے لئے ایک اللہ والے کے یہاں جاکر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔





  سوال  :   آپ کے دو ساتھی جو کاوڑ میں ساتھ تھے ان کا کیا ہوا ؟
 جواب  : وہ گھر آکر ۵۱ روز کے بعد مولانا سے آکر ملے تھے، بعد میں وہ بھی جماعت میں چلہ لگا کر آئے اور گھر والوں پر کام کر رہے ہیں ۔

  سوال  :  آپ کے ساتھی دنیش کمار کا وقت کیسا گزرا ؟
 جواب  : الحمدللہ اس کا وقت بھی بہت اچھا گزرا وہ بہت سیدھا سادھا اور بھلا آدمی ہے، اس کے نیچر میں برائی پہلے ہی سے نہیں ہے بس کلمہ پڑھ کر بہت اچھا مومن انسان وہ بن گیا، ہماری پوری جماعت میں سب سے اچھا وقت دنیش کا لگا، سارے ساتھی اس کی خدمت میں بہت خوش تھے۔

  سوال  : آپ نے ساتھیوں کی خدمت نہیں کی ؟ 
 جواب  : میرے ساتھ ایک دو عجیب باتیں ہو گئی تھیں، اس لئے ساتھی مجھے نہ جانے کیا سمجھنے لگے اور سب میری خدمت کرتے تھے مجھے نہ جانے کیا کیا کہتے تھے دعا کو کہتے تھے، مجھے ڈر بھی لگتا تھا کہ میرے اندر کی خرابی ان کو معلوم ہو جائے گی تو سارا بھرم کھل جائے گا، میں اللہ سے دعابھی کرتا تھا۔


  سوال  :  ابی نے آپ کو دعوت کا کام کرنے کے لئے نہیں کہا؟
 جواب  :  آج بیٹھ کر خاکہ بنایا ہے، حضرت نے مجھے کہا ہے کہ پہلے اپنے کو بنانے کی فکر کیجئے، یہ ہمارا دیش محبت والوں اور روحانیت والوں کا دیش ہے، اگر اندر کوصاف کر کے اور بنا کے روحانیت کی ترقی ہو جائے، تو ان میں خصوصا ً مذہبی لوگوں میں کام زیادہ آسان ہو گا، اس لئے مجھے کچھ روز کے لئے ایک جگہ بھیج رہے ہےں وہاں ذکر وغیرہ بتا ئے ہیں دعا کیجئے اللہ تعالیٰ میرے اندر کا کھوٹ نکال دے اور حضرت کا میرے بارے میں جو ارادہ ہے وہ پورا ہو جائے۔

  سوال  : انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ ضرور پورا کریں گے، بہت بہت شکریہ، حسن بھائی کسی وقت حسین بھائی سے بھی ملوایئے، تاکہ ان سے بھی باتیں کی جا سکیں ؟
 جواب  : جب آپ کہیں گے میں ان کو انشاء اللہ بلادوں گا 

  سوال  : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘،بہت بہت شکریہ 
 جواب  : احمد بھائی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ نے میرے دل کی چاہت پوری کرادی ارمغان میں میری کارگزاری آئے گی اور آپ کا بھی شکریہ، دھنیہ واد۔
       و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ 

2008مستفاداز ماہنامہ ارمغان، اکتوبر
Location: Phulat, Uttar Pradesh 251201, India

0 comments:

Post a Comment