indian top class businessman family نو مسلم اسعد عمر صاحب interview

 armughan.net احمد اوّاہ: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
اسعد عمر: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
احمد اوّاہ َ: اسعد عمر صاحب ابی (والدکلیم صاحب) نے بتایاکہ آپ دہلی آئے ہوئے ہیں، اتفاق کی بات ہے کہ میں بھی ایک دن کے لئے پھلت، ضلع مظفر نگر سے آیا تھا، شاید آپ سے بھی ابی نے بتایا ہوگاکہ ہمارے یہاں پھُلت(مدرسہ) سے ایک دعوتی میگزین ”ارمغان“ کے نام سے نکلتی ہے، اس کے لئے آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔
اسعد عمر:جی ہاں، حضرت نے مجھے بتایا تھا، پہلے تو میرا خیال تھاکہ میرے مسائل کچھ حل ہوجائیں تو ہی میں کچھ باتیں کروں، مگر حضرت نے فرمایاکہ رمضان کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں ہر نیکی کا اجر و ثواب ستر گنا ہوجاتا ہے، او ر میرے رب نے مجھے ہدایت دی ہے، حضرت نے کہاکہ انٹرویو شائع کرنے کامقصد لوگوں میں دینی خصوصاً دعوتی اِسپرِٹ پیدا کرنا ہوتا ہے، تو اس مہینہ میں میری باتیں اور کارگزاری پڑھ کر کچھ بندوں کو نیکی خصوصاً دعوت(اسلام سے واقف کرانا) جو سب سے بڑے نیکی ہے، کرنے کی توفیق ہوگی تو دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں ستر گنااجر و ثواب ملے گا، پھر یہ بھی ہے کہ موت کاایک لمحہ اطمینان نہیں، نہ معلوم آئندہ مجھے یہ باتیں سنانے کی مہلت بھی ملے گی یا نہیں؟ آپ شوق سے جو چاہیں مجھ سے سوال کریں۔



احمد اوّاہ:ڈاکٹر راحت آپ کے ساتھ ممبئی سے آئے ہوئے ہیں آپ کا ان سے کتنے دنوں سے تعلق ہے،او ریہ دوستی اور تعلق کس طرح ہوا، مجھے محسوس ہورہاہے بالکل حقیقی بھائیوں کی طرح آپ ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے ہیں؟
اسعد عمر:ڈاکٹر صاحب سے میرا تعلق تقریباً سات سال پرانا ہے۔اصل میں ڈاکٹر صاحب ایک سید گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور شاید حضرت نے بتایا بھی ہوگاکہ سہارن پور کے رہنے والے ہیں اور شاید حضرت سے ان کی دور کی کئی رشتہ داریاں ہیں، ڈاکٹر صاحب نے سہارن پور سے ایک میڈیکل ڈپلوما کورس کیا تھاان کو اپنی خاندانی کتابوں سے بانجھ پن اور امراض پوشیدہ(گُپت روگ) کے بہت کامیاب نسخے ہاتھ لگ گئے ہیں اور وہ ان دونوں بیماریوں کا علاج کرتے ہیں، علاج کے دوران انہوں نے یہ بھی محسوس کیاکہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات اور باربار حمل کے گرنے میں جادو اور جنّات کا بھی اثر ہوتاہے، کہ آدمی تندرست ہے اور بیوی کے پاس پہنچا تو گویا بالکل بیمار ہے، اور کسی کام کا نہیں، ایسا ہوجاتا ہے، تو اس کے لئے انہوں نے بہت سے عاملوں سے عملیات سیکھے، ان کو ٹرین میں ایک فقیر ملااور اس نے ان کو جادو اور سحر کے علاج کے لئے عملیات کی اجازت دی اور ڈاکٹر صاحب نے علاج شروع کردیا، ہماری شادی کو بھی ۱۵/ سال ہوگئے تھے، ہمارے یہاں مالک نے کوئی خوشی نہیں دی،اور میرے ساتھ کچھ جادو کا بھی معاملہ تھا، مجھے اور میری بیوی کو شک تھاکہ میری ایک بھابھی جو اپنی ایک بھتیجی سے میری شادی کرانا چاہتی تھی اس نے ہم پر جادو کیا تھا، میرے ایک بیوپاری دوست نے جس کا ڈاکٹر راحت صاحب نے علاج کیاتھا، ان کے ہاں الحمد للہ ڈاکٹر صاحب کے علاج سے تین اولاد ہوئی تھیں، مجھے ڈاکٹر صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا، ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر میرا ذرا دل کھٹکاکہ چلو بیماری کا علاج تو یہ کرسکتے ہیں مگر پینٹ بو شرٹ بغیر داڑھی کے انگریز دکھنے والے یہ صاحب جھاڑ پھونک کا علاج کیسے کریں گے، کوئی صوفی سنت ہی اس کا علاج کرسکتا ہے، مگر چونکہ میرے دوست کا علاج انہوں نے کیا تھااور فائدہ ہوا تھااس لئے میں نے ان سے علاج کرایا، مالک کا کرنا ہواکہ اب سے پانچ سال پہلے میرے یہاں ایک بیٹی اور دو سال بعد ایک بیٹا ہوا، اور ہماری ڈاکٹر صاحب کی دوستی ہوگئی، اور میں اور میری بیوی ہی نہیں میری سسرال اور گھروالے ڈاکٹر صاحب کے ایک طرح سے غلام ہوگئے، اور ہمارے گھرمیں ہر کام ڈاکٹر صاحب کے مشورہ سے ہونے لگا، رفتہ رفتہ یہ تعلق دوستی میں بدل گیا، مالک نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، میں نے ڈاکٹر صاحب کو ایک فلیٹ گفٹ کرنے کوکہاتو ڈاکٹر صاحب نے صاف منع کردیاور بولے میری اپنی کمائی کی جھونپڑی میرے لئے کسی رئیس کی احسان مندی میں حاصل کئے گئے محل سے بڑا محل ہے، اور شاید ڈاکٹر صاحب سے ہماری دوستی سے زیادہ مضبوط یہی بے لوث تعلق تھا، یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب علاج کے لئے جو دوا دیتے تھے، انہوں نے اس کے بھی پیسے طلب نہیں کئے اور نہ طے کئے اور جب میں نے دینے چاہے تو بھی معمولی رقم جو بہت ہی کم ہوتی تھی سو دو سو لے کر واپس کردیئے۔


Aapki Amanat Aapki Sewa Mein Hindi - Urdu 
(good sound,  micro Lady voice )
https://youtu.be/ZOp2xxs-kMo




احمد اوّاہ:آپ ذرا اپنا تعارف تو کرائیے؟
اسعد عمر:ابھی اپنا پورا تعارف کرانے کے حال میں نہیں ہوں بس اتنا کافی ہے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے تاجر خاندان، جس کا آج کل ملک پر راج چل رہاہے اسی تاجر خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، مالک کا کرم یہ ہے کہ اس نے دھندہ کے لحاظ سے خوب سے بھی زیادہ نوازا ہے، اصلاً ہم گجراتی ہیں اور ملک کے بہت سے صوبوں میں ہمارے خاندان کا کاروبار ہے۔
احمد اوّاہ:کیا ابھی آپ کے قبول اسلام کا لوگوں کو علم نہیں ہوا، یعنی خاندان والوں کو؟
اسعد عمر:ابھی میں نے عام اعلان نہیں کیا ہے، انشاء اللہ خاندان کے کچھ لوگوں پر کام چل رہا ہے، اب تو حضرت کے مشورہ سے جب کہیں گے اعلان وغیرہ سب کریں گے۔

احمد اوّاہ:اپنے قبول اسلام کے بارے میں ذرا بتائیے؟
اسعد عمر:شادی کے دس سال اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ہم دونوں میاں بوی بہت پریشان تھے، اور مجھ سے زیادہ میری بیوی پریشان تھی، خاندان والے سب اُس کو طعنہ دیتے تھے، اولاد کی ہوس میں، دربدر مارے مارے پھرتے تھے، اور جو کوئی بتاتا، دان پُنے سب کچھ کرتے تھے، مندروں، آشرموں، گردوواروں اور درگاہوں میں جاکر ماتھا ٹیکتے اور آشیرواد لینے کی کوشش کرتے، ممبئی میں حاجی علی کی درگاہ بہت مشہور ہے، اس کے بارے میں سنا تھا۔ حاجی علی کی درگاہ بہت مشہور ہے، اس کے بارے میں سنا تھا حاجی علی کے یہاں سے بے اولادوں کو اولاد مل جاتی ہے، وہاں بھی باربار جاتے، وہاں بھی کچھ ہوانہیں، ایک بار ہم حاجی علی کی درگاہ گئے تو ایک بابا نے کہا حاجی علی کے نام پر تین روزے(برت) ہر مہینے رکھو، اولاد مل جائے گی،ا س کے بعد ڈاکٹر صاحب ہماری ملاقات ہوگئی، ہم نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میں اورمیری بیوی نے حاجی علی کے نام کے تین برت مان رکھے ہیں، ہم کیا کریں، ڈاکٹر راحت نے کہا کہ حاجی علی کی درگاہ پر اگرمکھی  پرساد اٹھاکر لے جاتی ہے تو وہ اسے چھین نہیں سکتے، یہ سب بندے ہیں اولاد دینا نہ دینا صرف ایک مالک کے قبضہ میں ہے، جو حاجی علی کا بھی خدا ہے اور ہمارا اور آپ کا بھی، اگر آپ کو رکھنا ہی ہے تو آپ اس مالک کے لئے اور اسی کے نام کا برت رکھو، اور اچھا ہے کہ اگلا مہینہ رمضان کا ہے آپ برت کے بجائے تین تین روزے دونوں رکھ کر اس سے اولاد دینے کی دعا کرو، ہمیں چونکہ بیوپاری دوست نے بتایا تھاکہ ڈاکٹر صاحب کے علاج کے بعد ہمارے گھر میں خوشی آئی ہے، ہم نے ڈاکٹر صاحب کے مشورہ سے رمضان کے تین روزے رکھے، روزہ رکھنے کا طریقہ ڈاکٹر صاحب سے معلوم کیااور خوب رو رو کر اوپر والے مالک سے گود بھرنے کی دعا کی، دواؤں کا علاج اور ڈاکٹر صاحب سے جھاڑ پھونک کابھی چل رہا تھا، عید کے بعد لیڈی ڈاکٹر سے چیک کرایاتو انہوں نے خوشی کی امید دلائی اور اگلے مہینہ اور بات پکی ہوگئی، مالک کا  کرم ہے کہ اس نے ایک بیٹی دے دی، اور اس کے دو سال بعد ایک بیٹا بھی دے دیا، دوسری بات یہ ہوئی کہ جب میں نے اور میری بیوی نے روزہ رکھاتو ہم دونوں کو بھوک اور پیاس لگی، توہم دونوں اے سی چلاکر بھوک پیاس کم کرنے کے لئے دوپہر بعد سوگئے، اتفاق کی بات میں نے اور میری بیوی دونوں نے خواب دیکھاکہ ہم دونوں مکہ میں ہیں،اور دونوں سفید چادروں میں کعبہ کا چکر لگا رہے ہیں اور ہمیں وہاں چکر لگانے میں عجیب شانتی اور مزا آرہا ہے، اس کے بعد میں نے انٹرنیٹ پر حرم کے چینل پر مکہ اور مدینہ کو باربار دیکھا، اور مجھے کعبہ دیکھنے کا بے حد شوق ہوگیا، ڈاکٹر راحت سے ہماری دوستی ہوگئی تھی، اور گھر اور کاروبار کا ہرکام میں ڈاکٹر صاحب کے مشورہ سے کرتا تھا، اس لئے میں ان سے باربار کہتا تھاکہ مجھے مکہ جانے کا بہت شوق ہورہاہے، آپ مجھے مالک کاوہ گھرایک بار دکھا دیں، ڈاکٹر صاحب مجھے امید دلاتے رہے اور کہتے رہے کہ میں ضرور آپ کو خود وہاں لے کر جاؤں گا، ڈاکٹر صاحب کئی دیشوں میں علاج کے لئے جاتے تھے اور مجھ پتہ لگاکہ کئی ملکوں کاگرین کارڈ ان کے پاس ہے، اور وہاں انہوں نے گھر بھی بنا رکھاہے، طائف سعودی عرب میں بھی ڈاکٹر صاحب کا ایک اپنا مکان ہے جو کسی شیخ کے نام ڈاکٹر صاحب نے اپنے پیسے سے خرید رکھا ہے۔
ایک سال پہلے ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہاکہ رمضان آنے والے ہیں، رمضان میں مکہ مدینہ جانے کاالگ ہی مزا ہے، وہاں بڑی رونق ہوتی ہے، آپ کو رمضان میں لے کر چلوں گا، رمضان میں جانا ذرا مہنگا ہوتاہے، میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا سستا مہنگا آپ کیوں دیکھتے ہیں، مالک نے ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں رکھی ہے، آپ کا اور میرا دونوں کا خرچ میرے ذمہ ہوگا، مجھے بتا دیجئے آپ کا بزنس کلاس میں ٹکٹ بنوالیتا ہوں، ڈاکٹر صاحب نے کہا آپ کے ٹکٹ سے بزنس کلاس میں جانے کے مقابلہ میں میرے لئے پیدل وہاں جانا زیادہ خوشی کی بات ہوگی، آپ اپنا ٹکٹ بنوائیں، میں خود اپنا ٹکٹ بنوالوں گا۔





احمد اوّاہ:ڈاکٹر صاحب کی بڑی بات؟
اسعد عمر:اصل میں ڈاکٹر صاحب واقعی بہت اونچے درجہ کے انسان ہیں، ان کے معاملات سے مجھے لگاکہ وہ بڑے اعلیٰ درجہ کے سیّد ہیں، لالچ اور لُبھاؤ ان کے پاس کوبھی نہیں پھٹکتا، شاید ان کی اس صفت نے ہی مجھے مسلمانوں اور ا سلام کا غلام بنا دیا۔

احمد اوّاہ:جی تو پھر کیا ہوا؟
اسعد عمر:ڈاکٹر صاحب نے کسی ایجنٹ سے میرا عمرہ کا ویزہ لگوادیا۔
احمد اوّاہ: آپ کا پاسپورٹ تو ہندو نام سے ہوگا، عمرہ(کعبہ دیکھنے کاسفر) کا ویزہ کیسے لگا، کیا قبول اسلام کا کوئی سرٹیفیکیٹ بنوایا تھا؟

احمد اوّاہ:ڈاکٹر صاحب نے نہ مجھ سے کہاکہ وہاں جانے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے، اور نہ کوئی سرٹیفیکٹ بنوایا، ڈاکٹر صاحب نے بتایاکہ جاننے والے ایجنٹ تھے، اور سفارت خانہ میں اچھا رسوخ تھا بس ان سے ہی کہہ دیا کہ نام ایسا ہے، اصل میں یہ مسلمان ہیں، جھوٹ ہی ڈاکٹر صاحب نے کہہ دیا، گزشتہ سال چوتھے روزہ کو ہم لوگ ممئی سے جدہ پہنچے، ایئرپورٹ سے اترکر ڈاکٹر صاحب نے کہا آپ کو کعبہ میں خود اپنی گاڑی سے لے کر چلوں گا، ان کی گاڑی جدہ میں کھڑی تھی، جو کسی دوست کو فون کرکے انہوں نے منگوالی تھی، انہوں نے کہاکہ آپ کو ایک ناٹک کرنا پڑے گا۔ میں نے پوچھا کیا، بولے نہاکر آپ کو احرام ایک چادر سفید اوپر اور سفید لنگی پہننی پڑے گی، میں نے نہاکر جیسے ڈاکٹر صاحب نے کہا احرام باندھ لیا، دوپہر ایک بجے کے آس پاس ہم نے اپنی گاڑی کسی پارکنگ میں مکہ سے باہر لگاکر روکی اور بسوں سے حرم پہنچے، جیسے ہی میں حرم میں داخل ہوا، میرے ہوش خراب ہوگئے، مجھے ایسا لگاکہ میں کسی اندھیر نگری سے روشن دنیا میں آگیا ہوں، میں وہ کیفیت نہ کبھی بھول سکتا ہوں اور نہ لفظوں میں بتا سکتا ہوں، میں نے کعبہ کو دیکھاتو نہ جانے  مجھے کیا مل گیا، میں نے ڈاکٹر راحت صاحب سے کہاکیا میں مالک کے اس گھرکو چھو سکتا ہوں؟ دوپہر میں روزہ کی وجہ سے ذرا بھیڑ کم تھی ڈاکٹر صاحب نے کہا سب لوگ پردہ پکڑ کر دعا مانگ رہے ہیں آپ کو کون روک رہا ہے، شوق سے جائیے، میں نے کعبہ کو جیسے ہی ہاتھ لگایا، نہ جانے میں نے کیا پالیا، مجھے رونا شروع ہوگیااور پھوٹ پھوٹ کر بچہ کی طرح رونے کو دل ہواور دیر تک روتا رہا، ڈاکٹر صاحب مجھے دیکھا تو زمزم لے کر آئے، اصل میں کچھ روز سے مجھے دل کی تکلیف بھی شروع ہوگئی تھی، وہ ڈر گئے کہ کچھ نہ ہوجائے، ڈاکٹر صاحب نے مجھے زمزم پلایا، میں نے ان سے روتے ہوئے کہا، میں نے بہت غلط کیا، مجھے اس پاک گھر میں آنا نہیں چاہئے تھا، میں تو اَپوتر (ناپاک) ہوں، ڈاکٹر صاحب نے کہا اپوتر کہاں ہو تم، تم نے یہاں آکر پاک احرام باندھا ہے، میں نے کہا یہ آتما (روح) تو ناپاک ہے، مجھے وہ کلمہ پڑھواؤ جو آتما کو پوتر (پاک) کرتا ہے، ڈاکٹر صاحب نے مجھے جلدی جلدی بتایا کہ یہ کلمہ ہے: اشہدُ اَن لا اِلٰہ الاللہ، اشہد اَن محمد اًعبدہُ و رسولہٰ۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب ایسے دل سے نیں، مجھے انتر آتما (اندر دل) سے پڑھواؤ، انہوں نے مجھے کلمہ پڑھوایا، ڈاکٹر صاحب سے کہہ کر ہم لوگوں نے دارالتوحید جو حرم کے برابر ایک فائیو اسٹار بڑا ہوٹل ہے، اس کے کعبہ ویو سویٹ (جہاں سے کعبہ دکھائی دیتا ہے) دو روز کے لئے بک کرائے، اور گھر فون کردیاکہ مجھے کافی دنوں سے دل کی تکلیف ہورہی تھی، یہاں پر ایک دل کا ڈاکٹر مل گیاہے، میں علاج کراکے آؤں گا۔

احمد اوّاہ:ماشاء اللہ اس کے بعد آپ دو روز تک وہیں رہے؟
اسعد عمر:جی، یہ دو روز کیسے گزر گئے میں بیان نہیں کرسکتا، رمضان المبارک کی رونق اور حرم کی نورانیت اور سکون شانتی، بس میں نماز پڑھنے حرم جاتا(جیسی بھی پڑھ پاتا)، ایک طواف(کعبہ کا چکر) روزانہ کرتا، اور اوپر روم میں جاکر بیٹھ جاتا، سارا سارا دن اور رات کااکثرحصہ حرم کودیکھتا رہتا، حرم کی الگ شان، میں بیان نہیں کرسکتا کہ وہ شب و روز میرے کیسے گزرے۔

احمد اوّاہ:اس کے بعد ہندوستان آکر آپ نے کیا محسوس کیا؟
اسعد عمر:وہاں رہ کر ڈاکٹر صاحب نے مجھے میں ایک نوجوان مولانا صاحب کا نظم کردیاتھا، انہوں نے مجھے دین کی بنیادی باتیں بتائیں اور نماز یاد کرائی، اور پڑھنا سکھائی، الحمد للہ میں پابندی سے پانچ وقت کی نماز، اور تہجد کی آٹھ رکعت پڑھ رہا ہوں۔

احمد اوّاہ:آپ کے گھر والوں کو نماز پڑھنے پر اعتراض نہیں ہے؟
اسعد عمر:میری بیوی جو ڈاکٹر صاحب کی بہت فین ہے، اس کو میں نے ابھی تک نہیں بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں، اس مہینہ حضرت نے مجھے ایک مولانا کا نمبر دیا ہے، ان کو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ لے کر اپنی بیوی کو کلمہ پڑھوانے کا ارادہ ہے، مجھے امید ہے کہ وہ میرے ساتھ نماز پڑھیں گی اور انہیں بھی شانتی محسوس ہوگی۔ انشاء اللہ وہ کلمہ پڑھنے میں دیر نہیں کریں گی۔

احمد اوّاہ:ابی(کلیم صاحب) بتا رہے تھے کہ پہلے ڈاکٹر صاحب خود بھی نماز روزہ کے پابند نہیں تھے؟
اسعد عمر:ڈاکٹر صاحب واقعی نماز روزہ سے دور تھے، اور دین سے ان کی دوری کی اس سے زیادہ اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ انہوں نے مجھے حرم لے جانے کے لئے ایک باربھی نہیں کہا، کہ وہاں جانے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے، چلو اوپر سے ہی کلمہ تو پڑھ لو(اور وہاں رمضان میں پانی پلادیا)، ڈاکٹر صاحب کا خاندانی تعلق سید گھرانہ سے ہے، وہ کیرکٹر کے لحاظ سے بہت اونچی سطح کے انسان ہیں، جب میں نماز پڑھنے لگااور نماز میں مجھے جو مزا آتا ہے اس کو ڈاکٹر صاحب سے میں نے شیئر کیا، تو اللہ کاشکر ہے کہ وہ بھی پانچ وقت کی نماز اور تہد کی پابندی کرنے لگے۔

احمد اوّاہ: ابی (کلیم صاحب) بتا رہے تھے کہ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب بھی دعوت(اسلام سے تعارف،واقف کرانے) سے لگ گئے؟
اسعد عمر:مجھے کلمہ پڑھوایا تو انہیں خیال ہواکہ اس طرح تو بہت سے لوگ مسلمان ہوسکتے ہیں، اس کے بعد جو مریض ان کے پاس آتا اس کو کلمہ پڑھواتے تھے، میرے بعد ڈاکٹر صاحب نے کئی لوگوں کو کلمہ پڑھوایا، ان میں سے کئی لوگ ایسے مسلمان بنے کہ ان کے حالات دیکھ کر صحابہ(رسول کے ساتھی) کی یاد تازہ ہوتی ہے، پھر ڈاکٹر صاحب کو خیال ہواکہ جب یہی کام کرنا ہے تو سیکھ کر کام کروں، ان کے ایک سالے کھتولی، ضلع مظفرنگر کے رہنے والے ہیں،انہوں نے حضرت کا تعارف کرایا، حضرت سے وہ مدینہ میں ملے، پھر ممبئی میں گھر آنے کو کہا، اور الحمد للہ اب ڈاکٹر صاحب جسمانی، بانجھ پن اور پوشیدہ اِمراض کے ڈاکٹر ہونے سے زیادہ روح کے ڈاکٹر یعنی فل ٹائم داعی(اسلام سے تعارف،واقف کرانے والے)   بن گئے ہیں۔ انہوں نے حضرت سے ۳۲/ ایسے لوگوں کو بیعت کرایا جو سب تاجر(کاروباری)ہیں، اورایک سال کے اندر اللہ نے ان کو ڈاکٹر صاحب کے ذریعہ ہدایت عطا فرمائی ہے۔



احمد اوّاہ:اب آپ کا آئندہ کیا پروگرام ہے؟
اسعد عمر:رمضان المبارک میں اس سال اپنی بیوی کے ساتھ اگر انہوں نے کلمہ پڑھ لیاتو حرم میں رمضان گزارنے کا ارادہ ہے، اللہ سے پوری امید ہے وہ ضرور انہیں ہدایت دے گا۔ حرم کے رمضان کی بات ہی کچھ اور ہے، ایسا لگتا ہے کہ جنت اس زمین پر اتر آئی ہے، حضرت نے بتایاکہ رمضان ہدایت کے نصاب قرآن مجید کے نزول کا سیزن ہے، اور ہدایت کے جشن کا مہینہ ہے،اور کعبہ کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ وہ عالموں کے لئے ہدایت ہے، (ہدی للعالمین) مولانا احمد میں اپنی بات بتاؤں مکہ آکر رمضان کا مہینہ کسی ایسی جگہ آئے کہ جہاں پر کسی کو پتہ نہ چلے کہ رمضان آئے کہ نہیں، تو میں بہت تو توبہ کرکے کہہ رہاہوں کہ میں گارنٹی سے رمضان کی نورانیت اور ہدایت کو انتر آتما یعنی اپنی اندرونی روح سے محسوس کرکے بتادوں گاکہ رمضان کی نورانیت اور ہدایت کا مہینہ شروع ہوگیاہے، اور اگر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے گھومتے گھماتے بغیر بتائے حرم شریف میں لے جایا جائے تو میں ایک ہزار پرسینٹ گارنٹی کے ساتھ سوبارتوبہ توبہ کرکے کہتا ہوں کہ میں اپنے اندر کی آنکھوں سے رب کا نور، حرم کا نور وہاں کے عالمی ہدایت کے ماحول کو محسوس کرکے شرط لگا کر بتا دوں گا کہ مجھے حرم میں داخل کردیا گیا ہے۔
میں حضرت سے بھی کہہ رہا تھاکہ رمضان اور حرم میں جتنا دعوت اور ہدایت کے لئے ماحول سازگار ہوتا ہے اتنا دوسرے دنوں اور مقام پر اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہوتا،اس لئے ماہ مبارک میں دعوت کے اسپیشل پلان بنانے چاہئے اور حرم کی تقاضوں کو بھی دعوت کے لئے خصوصی طورپر استعمال کرنا چاہئے۔

احمد اوّاہ: واقعی آپ نے بہت اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی،شہر رمضان الدی انزل فیہ القرآن ہدی للناس و بینات من الہدی والفرقان۔ قرآن مجید کا ایک اچھوتا پہلو ہے، اس پر عام طور پر داعی حضرات بھی توجہ نہیں کرتے اور ہم سبھی لوگ رمضان المبارک کے ہدایت اور دعوت کے سیزن میں زیادہ اسلام کی دعوت کی مارکیٹنگ کرنے کے بجائے، روزہ میں کیسے یہ کام ہوگا وہ کام ہوگا سوچتے ہیں۔ دوسری عبادات میں لگ جاتے ہیں، ایسے ہی حرم کے ہدی للعالمین کے پہلو سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ جزا کم اللہ آپ نے اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی؟

اسعد عمر:آپ کی محبت ہے جو ایسا سمجھتے ہیں ورنہ میں کیا ہوں۔
احمد اوّاہ:قارئین ارمغان(ماہنامہ) کے لئے آپ کوئی پیغام دیں گے؟

اسعد عمر:بس میں تو یہی کہوں گا کہ میں ایک خاندانی تاجر ہوں، ہم لوگ ہر چیز کو بیوپاری ذہنیت سے دیکھتے ہیں، اس مبارک ہدایت اور دعوت کے سیزن میں اسلام کی مارکیٹنگ اور دعوت کو بڑے پیمانہ پر کرنا چاہئے کہ ہدایت کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے شیاطین بھی قید کرلئے جاتے ہیں، اور ہدایت دعوت کی منڈی اور بازار حرم(کعبہ) ہے۔ جس کے بارے میں خود ہدایت دینے والے مالک نے ہدی للعالمین کی خبر دی ہے، اس بازار میں تھوک میں ہدایت لینے اور وہاں سے آنے والے رٹیل بیوپاریوں کو ڈسٹری بیوٹر بنانے کے لئے ایک مضبوط پروگرام بنانا چاہئے۔
احمد اوّاہ:ماشاء اللہ بہت خوب، جزاکم اللہ بہت بہت شکریہ۔

اسعد عمر:شکریہ تو آپ کا کہ ماہ مبارک میں مجھے اس کارخیر میں شریک کیا، آپ سے اور ارمغان کے تمام قارئین سے میرے سارے پریوار اور پوری انسانیت کے لئے خصوصاً اس ماہ مبارک میں دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔

0 comments:

Post a Comment