new muslim Noorul islam interview


۲ دسمبر ۱۹۵۸ میں مغربی بنگال کے ایک نہایت متشدد مذہبی ہندو ویشنو خاندان میں پیدا ہوا،ہمارا خاندان ایک پڑھا لکھا خاندان ہے،اس خاندان مین مسلمانوں کے تعلق سے چھوت چھات کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان گھر میں داخل ہو جائے تو گوبر کے پانی سے گھر کو پاک کیا جاتا ہے،باپ دادا نے میرا نام پریم انگسوشیکھرادھیکاری Premangshu Shehkar Adhikaryرکھا تھا ،بچپن سے میرا عجیب حال تھا ،خاندانی ماحول کے اثر سے مسلمانوں سے بہت زیادہ نفرت تھی،کوئی مسلمان بچہ اگر ہمارے گھر کے پاس ہو تا یا کھیلتا ہوا ملتا تو ڈانٹ کر بھگا دیتا ان سے نفرت کرنا اور ان کو پاپی سمجھنا(بطور خاص میرے ذہن میں مسلمانوں کی گائے کشی کی نفرت بیٹھی ہوئی تھی)یہ چیزیں میرے دل میں بسی ہو ئی تھیں۔
جہاں پر ہندوؤں کا محلہ ختم ہو تا ہے وہیں ہمارا گھر تھا،اور وہیں ایک پرائمری اسکول اور ایک مسجد تھی ،اور پھر مسلمانوں کا محلہ شروع ہو جاتا تھا،یوں تو ہمارے گھر ہی میں مندر تھا اس میں روزانہ پوجا وغیرہ ہو تی تھی،لیکن کسی خاص تہوار کے موقع پر باقاعدہ منڈپ باندھا جاتا تھا،اور دھوم دھام سے پوجا ہوتی تھی، چونکہ مسلمانوں کا محلہ بالکل ہمارے مکان سے قریب تھا،ان کے چھوٹے چھوٹے بچے منڈپ میں مورتی دیکھنے آتے تھے،اس وقت میں ان کو جھڑک دیتا اور یہ کہہ کر بھگا دیتا تھا کہ تم لوگ گندے ہو،خراب اور اچھوت ہو،اس وقت میری عمر سات آٹھ سال کی تھی،جب میں چوتھی کلاس میں پڑھتا تھا اس وقت میری عمر نو سال کی تھی ایک دن ہمارے پڑوس میں رہنے والا ایک مسلمان لڑکا جس کی عمر تقریباً ١٤ سال تھی  اور جس کاپورا گھرانا پڑھا لکھا تھا ،اس خاندان کے لوگ اونچے اونچے سرکاری عہدوں پر فائز تھے،ایک دن شام کے وقت اسکول کے صحن میں بیٹھ کر اسلام کی تعریفیں کرنے لگا اس نے کہا کہ تمہاری ٣٦٠ مورتیاں ہمارے کعبے میں رکھی ہوئیں تھیں ، میں سوچ میں پڑ گیا کے ہمارے دیوی دیوتا تمہارے کعبہ میں ، پھر اس نے حضرت ابراہیمؑ کاقصہ سنایا کہ حضرت ابراہیمؑنے سورج کو چاند کو اور ستاروں کو خدا تسلیم کیا ،پھر ان کے طلوع و غروب کو دیکھ کر ان کی خدائی کا انکار کردیا ،کہ یہ خود مختار نہیں ہیں ،ان کا بھی کوئی مالک ہے،اور والد کے ساتھ میلے میں جانے سے آپ کے انکار ،پھر بتوں کو توڑ کر کلہاڑی بڑ ے بت کے گلے میں ڈالنے ،پھر نمرود بادشاہ نے حضرت کے ساتھ جو کچھ کیا ،پورا واقعہ تفصیل سے سنایا ،اس واقعہ سے میرے دل پر بہت زیادہ اثر ہوا،جس کو میں بیان نہیں کرسکتا،اور دل اندر سے کہنے لگاکہ بات تو صحیح لگ رہی ہے کہ یہ کیسا بھگوان ہے جو دوسروں کوتو بچانا بہت دور کی بات ہے اپنے آپ کو نہیں بچا سکا ، اور ایک عجیب سا ڈر لگنے لگا۔
مغرب کے بعد جب ہوم ورک کرنے بیٹھا تو دل ہی نہیں لگ رہا تھا، فلم کی طرح دماغ میں یہ باتیں گردش کر رہی تھیں،اب مجھے احساس ہو نے لگا کہ مسجد میں جو اذان ہو تی ہے اور اس میں اللہ کانام لیا جاتا ہے ،اللہ اکبر کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کوئی ہستی ہے،جو بہت طاقت والی ہے،دوسرے دن شام کو پھر ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے عاجزی سے کہا کہ نذر الاسلام بھائی آج بھی کچھ سناؤ نا ۔انہوں نے پھر حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہ اوربیٹے حضرت اسماعیل ؑ کا پورا واقعہ سنایا،یہ سن کر دل میں آیا کہ اللہ میاں اپنے بندے کا امتحان لیتے ہیں اور بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں ،انہوں نے پھر بتایا کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو مرنے کے بعد جنت (سورگ)دے گا،اور جو بے ایمان ہوں گے ان کو دوزخ(نرک)میں ڈالا جائے گا،دوزخ میں آگ اور سڑا ہوا خون اور پیپ ہوگا،سانپ ہو ں گے ،بچھو ہوں گے ،جو ڈستے رہیں گے،اتنی تکلیف ہو گی کہ بیان نہیں کرسکتے،وہاں کوئی بچانے نہیں آئے گا’’تو تو ہندو ہے ، اگر ایمان نہیں لایا تو تجھے بھی دوزخ میں ڈالدیں گے،اورتم لوگوں کے بھگوان تم کو کیا بچائیں گے،بھگوان کو بھی تمہارے ساتھ دوزخ میں ڈالدیں گے،اور پھر ایمان کا مطلب بھی بتایا کہ اللہ کو دل سے ایک مان لینا اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لینا ،ایما ن کہلاتا ہے ،اور جو ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ (ﷺ) کایہ کلمہ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان کہلاتا ہے،لیکن تیرا مسلمان ہو نا بہت ہی مشکل ہے ، تیرے خاندان والے تجھے مار ڈالیں گے،اور یہ بھی بتایاکہ مرنے کے بعد قبر میں تین سوال ہوں گے،(۱)من ربّک(۲)ما دینک (۳)ما تقول فی ھذا الرجل،جو ایمان والا ہو گا وہ توآسانی سے جواب دے سکے گا اور جو ایمان والا نہیں ہو گا وہ جواب نہیں دے سکے گا،ہر سوال کے جواب میں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ہی کہتا جائے گا،پھر ان کو مار پڑے گی اور پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ، مجھے ڈر لگنے لگا ،اور فکر ہو گئی کہ کیا کروں ،پھر میں نے دل دل میں ٹھان لیا کہ کچھ بھی کرنا پڑے ،ان تینوں سوالوں کے جواب خوب یاد کرلوں گااور جب مرنے کے بعد مجھ سے پو چھا جائے گا تو اس وقت میں بتا دوں گا،پھر میں جوابوں کو خوب یا د کرنے لگا۔
میں نے نذر الاسلام سے کہا بھائی مجھے وہ کلمہ یاد کرادو مجھے کلمہ یاد کرا دیا،میں اس کو روزانہ پڑھا کرتا ،اس سال پرائمری کا کورس پورا ہو اتوگھرسے ایک کلو میٹر دور ہائی اسکول میں پانچویں کلاس میں ایڈمیشن لیا ،اس میں نذر الاسلام بھائی پہلے سے پڑھتے تھے،اب تو ان کے ساتھ ہی آنا جانا شروع ہو گیا ،اور وہ راستہ بھر کلمے اور درود شریف وغیرہ یاد کراتے جاتے اور بتاتے جاتے کہ کوئی مصیبت آئے تو درود شریف پڑھنا،مصیبت دور ہو جائے گی میری کلاس میں اور بھی کئی ساتھی مسلمان تھے ،وہ بھی دین کی باتیں بتاتے رہتے تھے،مجھے بہت اچھا لگتا تھا ،افسوس یہ کہ نذر الاسلام بھائی پہلے سے اس اسکول میں پڑھتے تھے ،اور میرا پہلا سال تھا،انہوں نے آٹھویں تک اسکول پڑھ کر اسکول چھوڑ دیا،تصویر سازی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کلکتہ چلے گئے،ہم آٹھویں تک پہنچے کہ والد صاحب نے اس اسکول سے اٹھا کر ایک خالص ہندو اسکول میں ایڈمیشن کرادیا،اب کیا تھا جو مسلمان ساتھی تھے ان سے دوری ہو گئی،اور اسلام سے جو لگاؤ تھا وہ بھی آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔ایک دن گھر کے پاس دھوم دھام سے سرسوتی کی پوجا ہو رہی تھی،میں مورتی کے سامنے کھڑا ہو کر درشن کررہا تھا،اچانک میرے بازو میں نذر الاسلام بھائی کے چچازاد بھائی آکر کھڑے ہو گئے اور آہستہ سے کان میں کہنے لگے کہ جس کو تم پوج رہے ہو اس کو تو تمہیں لوگوں نے بنایا ہے،دیکھو آنکھ بنائی ہے جس سے وہ دیکھ نہیں سکتی،ہاتھ بنایا ہے مگر کچھ کر نہیں سکتا،یہاں تک کہ مکّھی بھی بدن نہیں اڑا سکتی ،اور اوپر سے قیمتی کپڑا پہنا کر سجادیا ہے،اندر سے پول ہی پول ہے،ایسے مٹی کے ڈھیر کے سامنے اپنی اس قیمتی پیشانی کو جھکا دیتے ہو ،او ر گائے کا پیشاب جو کہ ناپاک(اپوتر)چیز ہے ،اس سے پوجا کرتے ہو اور پھر پیتے ہو ،کتنی بیوقوفی ہے ،سوچو تو سہی کہ تم یہ کیا کررہے ہو ؟پہلے تو ان کی یہ باتیں مجھے بری لگیں ،اس لئے کہ اسکول کے ساتھی سبھی چھوٹ گئے تھے،ایمان کے اوپر پردہ پڑگیا تھا،جاتے جاتے کہا کہ اس پر غور کرنااورسوچنا۔
بعدمیں اللہ نے سوچنے کی توفیق عطا فرمائی کہ جو بات یہ کہہ رہے ہیں ہے، توبالکل صحیح پھر ہم کیوں جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کریں؟اوراپنے آپ کو نرک(دوزخ)میں جھونک دیں،اس وقت میری عمر
 16؍سال کی تھی،اب فکر ہو گئی کہ ہندو دھرم کو کس طرح چھوڑوں ؟اور اسلام کو کیسے اپناؤں؟اور پھر کہاں جاؤں؟
میرے تمام رشتہ دار مجھے بہت چاہتے تھے،یہاں تک کہ مسلمان محلہ والے بھی بہت چاہتے تھے،اب تومسلمانوں کے گھروں میں میرا آنا جانا شروع ہو گیا ،ان لوگوں سے جتنی نفرت تھی اتنی ہی محبت ہو گئی،مسلمانوں میں سے کئی دوست بن گئے، ان کی مائیں مجھے اسلام کے بارے میں بہت کچھ بتا تی تھیں،اور مجھے بہت ہی اچھا لگتا تھا ،مسجدسے اذان کی آواز آتی تھی تو بہت اچھا لگتا تھا،اور میں دھیمی آواز سے اذان کو دہرا تا تھا،ایک دن اذان کا ترجمہ بھی سیکھ لیا ،اب مجھے ایسامحسوس ہو نے لگا کہ اللہ تعالیٰ سامنے موجود ہیں ،میں ان کو دیکھ رہا ہوں ،اور وہ مجھے دیکھ رہے ہیں ،دل میں اتنا سکون ملتا تھا کہ میں بتا نہیں سکتا،لیکن ایک مستقل الجھن رہتی تھی کہ میں اپنے خاندان کو،اپنے چچا، پھوپھی، دادا ،نانا، ماموں اور کئی رشتہ دار جو بہت چاہتے تھے،پیار کرتے تھے ،ان کو کس طرح چھوڑوں ،مجھے بہت ہی مشکل معلوم ہو نے لگااور مایوس ہو نے لگا،اور دل میں سوچنے لگا کہ اب تو نرک (دوزخ)میں جانا یقینی ہو گیاہے،مرتے ہی اللہ میاں مجھے نرگ میں ڈالیں گے۔
ہمارے گھر کے پیچھے سے ریل کی لائن بچھائی جارہی تھی، اس وقت پورے دن میں ایک دو گاڑی چلتی تھی،اسکول جانے کا یہ بھی ایک راستہ تھا،گرمی کا موسم تھا،ریل کی پٹری بے حد گرم ہوجاتی تھی،میں نے سوچا کہ مجھے ننگے پاؤں اس پٹری پر چل کر اسکول جانا چاہیے تاکہ گرمی سہنے کی عادت پڑ جائے،جس سے نرک کی آگ کو برداشت کرنے کی کچھ تو ہمت ہو،چنانچہ میں ننگے پاؤں گھر سے نکلتا تھا ،کئی مسلمان ساتھی بھی ساتھ میں جاتے تھے، جو دوسرے اسکول میں پڑھتے تھے،کہتے کہ جوتے پہن کر کیوں نہیں آتا؟اور پھر ننگے پاؤں گرم گرم پٹری پر چل رہا ہے،کیا تمہارا پاؤں جلتا نہیں ؟میں صرف اتنا کہہ دیتا کہ مجھے اچھا لگتا ہے،اب تو روزانہ ننگے پاؤں پٹری پر چل کر اسکول جانے لگا، مسلمان ساتھیوں نے کہا تجھے کیا ہو گیا ہے؟ایک تو ننگے پاؤں اور پھر پٹری گرم ؟کیوں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال رہا ہے؟میں نے دکھ بھری آواز میں کہا، بھائی تم لوگ مرنے کے بعد سورگ میں چلے جاؤگے،مجھے تو نرک میں جانا پڑے گا،تو ابھی سے پریکٹس Practiceکررہا ہوں ،تکلیف میں کچھ کمی محسوس ہو،(یہ تو بندہ کی ایک سوچ تھی ورنہ جہنم کی آگ کی شدت کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا)۔
پھر مجھے اسلام سے لگاؤ ہو نے لگا ،اسکول میں خاموش رہنے لگا گھر کے پاس اسکول کے میدان میں مسلمانوں کا کبھی کبھی پروگرام ہوتا تھا ،پروگرام میں بڑے بڑے مولانا آتے تھے،کھیلنے کے بہانے سے میں جاکر کام میں کچھ مدد کردیتا،اس سے میرے دل میں ایک سکون سا محسوس ہو تا،چچا وغیرہ ان حضرات کا بہت مذاق اڑاتے تھے،مجھے اچھا نہیں لگتا تھا،اور چپکے چپکے ان حضرات کا بیان سنتا تھا۔
Secondry Educationکے امتحان میں اب صرف دو ڈھائی ماہ باقی تھے،نصاب اتنا ہارڈ(مشکل) تھاکہ میں تو درود شریف ہی پڑھنے لگتا ،اسکول میں سرسوتی پوجا ہو رہی تھی، ہمارے سر (Sir)نے ہماری پوری جماعت سے کہا کہ ’’پشپا نجلی‘‘ کے بعد سب پاس ہو نے کی پراتھنا کرنا کہ علم کی دیوی ہم سب کو اچھے نمبرات سے پاس کرادے،سب ہاتھ جو ڑ کر کامیابی کی پراتھنا کررہے تھے ،میں نے بھی ظاہراً ہاتھ جوڑ کرپراتھنا کی ، تاکہ کسی کو میرے حال پر شک نہ ہو،میں نے کہا :اے مورتی اگر تیرے اندر شکتی (طاقت)ہے اور تو سچی ہے تو مجھے فیل کردے اور بھی بہت کچھ بولتا رہا جو سب مجھے یاد نہیں ،ادھر اُدھر آکر تنہائی میں دعا مانگتا’’اے!میرے اللہ تجھے میں نے اپنا معبود مان لیا اور تجھے سچا جاناہے ،تو مجھے پاس کرادے،ورنہ وہ بت کہیں سچ نہ ہوجائے اور میرا ایمان نہ ڈگمگاجائے،دیکھتے دیکھتے بورڈ کا امتحان آکر ختم بھی ہو گیا،رزلٹ آنے میں دو تین ماہ باقی تھے، اس موقع پر میں نے مسلمان غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا تھا تاکہ اپنے اخراجات کا انتظام ہو جائے۔
والد صاحب زیورات بناتے تھے ،ان کی ایک دوکان تھی، اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے مغنی بھی تھے،انہوں نے ہم بھائی بہنوں کو گانا سکھانے کیلئے ایک ماسٹر مقررکردیااور کہاکہ تم لوگ بھی گانا بجانا سیکھو،اور فلم وغیرہ دیکھنے کیلئے والد صاحب خود پیسے دیتے تھے۔
میں جن لوگوں کے گھر ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا ان لوگوں سے میرا اتنا تعلق ہو گیا تھا کہ وہ لوگ مجھ سے بے تکلف ہو گئے، اور اسلام کے بارے میں روزانہ کچھ نہ کچھ باتیں ضرور ہو تی تھیں، کیا بتاؤں مجھے تو اب اسلام کے سچا ہو نے میں اور صحیح دھرم ہونے میں رتی بھر بھی شک نہیں رہا،اور ہندو دھرم سوفیصد من گڑھت، خیالی اور بے بنیاد دھرم معلوم ہو نے لگا،سراسر اندھے عقائدمیں جکڑا ہوا محسوس ہو نے لگا،گھر میں فلمی کتابیں تھیں، اس کے اندر دینی کتابوں کو چھپا کر پڑھتا تھا،تاکہ کوئی اچانک دیکھے تو یہ سمجھے کہ یہ تو فلمی کتاب پڑھ رہا ہے،اور فلم دیکھنے کا بہانہ کرکے دینی پروگراموں میں چھپ چھپ کر چلا جاتا ،اسی طرح کسی مدرسہ میں چلاجاتا،ایک دن منصور بھائی نام کے ایک ساتھی کہنے لگے کہ میں تمہارے گھر کے پاس سے جب گذرتا ہوں توسنگیت اور گانے کی آواز آتی ہے ،ایسالگتا ہے کوئی گانا بجانا سیکھ رہا ہے،میں نے کہا کہ ہاں !ہم بھائی بہن سیکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ تم تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو مانتے ہو اور اسلام میں گانا بجانا حرام (سخت منع ) ہے،میں نے کہا اچھا بھائی مجھے معلوم نہیں تھا،ٹھیک ہے آج سے گانا بجانا بند۔دوسرے دن ماسٹر صاحب آکر بلا نے لگے،تو میں نے صاف انکار کردیاکہ میرا دل نہیں چاہتا،اب سے میں گانا سیکھنے نہیں آؤں گا،اسی ساتھی نے مجھے ایک دن آتے دیکھا تو پوچھاکہاں گئے تھے،میں نے کہا’’ سنیما‘‘ دیکھنے گیا تھا،انہوں نے کہا کہ میرے بھائی اسلام میں سنیما دیکھنا بہت بڑا گناہ ہے، میں نے کہا آج سے وہ بھی بند،اس طریقہ سے بہت سے گناہوں سے میرے اللہ نے مجھے بچایا،چونکہ ابھی تو ہماری چھٹی چل رہی تھی،تو میں مولانا صاحب سے ملنے کیلئے اکثر گھر کے پاس مسجد میں چلا جاتا تھا،اور دین کی باتیں سنتا تھا،اور معلوم بھی کرتا تھا۔
جیسے جیسے وقت گذرتا گیا گھر میں گھٹن محسوس ہو نے لگی، چاروں طرف ناپاکی کی وجہ سے پریشان رہنے لگا،سب سے زیادہ مصیبت یہ تھی کہ گھر میں آئے دن پوجا ہوتی رہتی تھی،مورتیوں کو سجدہ کرنا پڑتا تھا،پروہت اور گھر کے ہر بڑے کو بھی،پھر پرساد کھانا اور ایک گندی چیز جس کو پنچمرِت کہتے ہیں اس کو تو وہیں پینا پڑتاتھا،اور اس وقت چھپ بھی نہیں سکتا تھا،حاضر رہنا پڑتا تھا ورنہ شور مچ جاتا تھا،جہاں تک ہو سکتا تھا اس کوشش میں رہتا تھا کہ نظر بچا کر پھینک دوں،مورتیوں کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات دل میں پیدا ہوتے توکبھی دادا سے پوچھتا ،چاچی سے پوچھتا اور گھر میں اکثر پنڈت جی آتے تھے ان سے بھی طرح طرح کے سوالات کرتا تھا،امّی ہم کو ڈانٹتی تھیں،یہ کیا بڑوں سے اس طرح کا سوال ؟لیکن ان پنڈتوں کا جواب گلے سے نہیں اترتا تھا،چچی توجھنجھلا کر کہہ دیتی کہ ابھی تو چھوٹا ہے ،یہ سب باتیں تیری سمجھ میں نہیں آئیں گی،اور رشتہ داروں کے گھر اس وجہ سے جانا چھوڑ دیا تھا کہ عمر میں جو بڑے ہیں ان سب کو سجدہ کرنا پڑتا تھا، اس تبدیلی کی وجہ سے گھر والوں کا دھیان میری طرف مرکوز ہوگیا ،مجھے شک کی نظر سے دیکھنے لگے،ایک دن رات کو جب سب بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے،چھوٹی پھوپھی بھی آئی ہوئی تھیں ،نہ جانے گھرمیں میرے بارے میں کیا بات ہوئی، یکایک غصہ ہوگئیں اور کہنے لگیں اس کو سب مل کر مارو،اور ڈانٹنے لگیں،میں چپ چاپ سر جھکا کر کھانا کھا کر اٹھ گیا۔
ایک دن دوپہر کو گھر کی دوسری منزل پر برآمدہ میں سوگیا، ایک خواب دیکھا کہ میں مرگیا ہوں ،مجھے جلانے کیلئے شمشان لے گئے،چتا سجائی گئی،مجھے اس پر لٹا دیا اور پھر اوپر سے میرے اوپر لکڑیا ں رکھ دی گئیں،جو مجھے چبھنے لگیں،چھ سات آدمی بہت ہی ڈراونے،بدصورت کالے کلوٹے آنکھیں سفید لگ رہی تھیں، سر پر سفید کپڑاپگڑی کی طرح لپٹا ہوا تھا،سفید دھوتی جو گھٹنوں تک پہن رکھی تھی پورا بدن ایکدم کالا ،اتنا کالا کہ آج تک میں نے ایسا کالا نہیں دیکھا،کالے رنگ کی وجہ سے سفید آنکھ بھی ڈراؤنی لگ رہی تھی،سب کے ہاتھ میں ایک ایک لاٹھی تھی، انہوں نے چیتا کے اوپر اور چاروں طرف ’’کیروسین ‘‘ڈال دیا، ایک آدمی نے آکر اس میں آگ لگا دی ،کیروسین کی وجہ سے چتامیںیکایک آگ لگ گئی،میں چتا میں لیٹے لیٹے دیکھ رہا تھا کہ آسمان بالکل صاف ہے ،سورج آسمان پر آب وتاب سے کرنیں بکھیر رہا تھا، تھوڑے فاصلے پر ہمارے دوست منصور اور عبد الخالق ایک چھوٹے سے کھجور کے درخت کی آڑ میں بیٹھ کر افسوس کررہے ہیں،کہ ہائے اس کو جلا رہے ہیں،حالانکہ وہ تو مسلمان ہو گیا ہے،اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سورج غائب ہو گیا،اور آن کی آن میں آسمان میں کالے بادل چھا گئے،فوراً ہی تیز آندھی اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی،وہ جو کالے کالے چھ سات لوگ تھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھا گ گئے،ان کا بھاگنا تھا کہ طوفانی ہوا اوربارش ایک دم سے رک گئی،اسی وقت سورج بھی آسمان پر نمودار ہو گیا،یہ دونوں ساتھی دوڑتے ہوئے چتا کے پاس آئے اور لکڑی ہٹا کر مجھے باہر نکالا،اور منہ پر پانی کا چھڑ کاؤ کیا،میں نے آنکھ کھول دی ،میں نے دیکھا کہ میرا پورا بدن گورا ہو گیا،اور کہیں کہیں آگ لگنے کی وجہ سے کالے کالے داغ پڑ گئے،وہ ساتھی مجھے اپنے گھر لے گئے،اور مجھے کھانا پیش کیا،کھانے کا لقمہ منہ میں رکھا ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی اور میں ڈر کے مارے دوڑتے ہوئے نیچے آگیا،میرا برا حال تھا لیکن کسی کو کچھ نہیں کہہ سکا،اب تو میں اللہ کو یاد کرکے تنہائی میں روتا تھا کمرہ بند کرکے نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ،لیکن سوائے اٹھک بیٹھک کے کچھ نہیں کرسکتا تھا،ایک دن میری بہن نے کسی طرح دیکھ لیا کہ میں بند کمرے میں قبلہ کی طرف منہ کرکے ہاتھ باندھ کر نماز میں مشغول ہوں ،دروازہ کھٹکھٹایا،میں نے فورًا دروازہ کھول دیا ،بہن کہنے لگی کیا نماز پڑھی جارہی تھی؟میں نے کہا ورزش کررہاہوں،اس لئے کہ وہ میرا ورزش کا وقت بھی تھا،اس نے جاکر والدصاحب سے شکایت کردی،میں نے کہامیں ورزش کررہا تھا،اس کو ایسا لگا کہ میں نماز پڑھ رہاہوں ،والد صاحب کو میری ورزش کے بارے میں معلوم تھا ،اس لئے مجھے کچھ نہیں کہا،رمضان کا مہینہ چل رہا تھا،روزہ رکھنے کو جی بہت چا ہتا تھا ، بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا چاہا لیکن امّی ناشتہ کے لئے کہتی تھیں،میں نے کہا میرا ناشتہ ڈھک کر رکھ دیجئے بعد میں کھالوں گا ، کوئی سائل آتا تو ان کو چپکے سے ناشتہ دیدیتا تاکہ یہ سمجھیں کہ میں نے ناشتہ کرلیا،لیکن دوپہر تک ہی روزہ کی حالت میں رہ سکتا تھا،اس لئے کہ دوپہر کو سب کے ساتھ کھانا پڑتا تھا،مجھے اسلام کے بارے میں کافی معلومات ہو چکی تھیں،گھر کے لوگ ،والد صاحب اور دادا سے شک کا اظہار کرتے تو محبت کی وجہ سے میری کسی بات پر کان نہیں دھرتے تھے،ایک دن مصطفی نام کے اسکول کے ایک ساتھی (جس کے گھر میرے ایک چچا ٹیوشن پڑھانے جاتے تھے)کہنے لگے تو کیا چاہتا ہے،تجھے مرنا ہے یا جینا؟میں نے تعجب سے پوچھا کیوں کیا بات ہے؟اس نے کہا کہ تیرے بارے میں تیرے چچا کا ارادہ خطرناک ہے،جو کرنا ہے بہت ہی جلدی فیصلہ کر ڈال،یہ سن کر فکر ہوئی ،کیا کروں؟اللہ نے ایک بہترین ترکیب دماغ میں ڈالی،ایک ڈرامائی انداز اختیار کیا رات کو گھر کے سبھی لوگ ایک ساتھ بیٹھے تھے ،چھوٹے دادا کے پاس گیا جو ہندو مذہب کے بہت ہی پابند تھے،میں نے کہا کہ دادا چلئے مایا پور چلیں(ایک بہت مشہور جگہ جہاں پر ’’شری چیتنےَ ‘‘کا بہت بڑا مندر ہے)بھگوان’’ شری چیتنے‘‘جی کا درشن کرکے آتے ہیں،یہ کہہ کر بھگوان کی کئی کتابیں گھر میں رکھی تھیں،زور زور سے پڑھنے لگا،اور ساتھ ہی ساتھ یہ کہتا جاتا اہا بھگوان کی وانی تو دیکھئے کتنی اچھی بات کہی ہے وغیرہ وغیرہ،ایک ہفتہ تو ایسا ہی ڈراما کرتا رہا، اور گھر والوں کو اب یقین ہو گیا کہ اب اس نے پرانی باتیں چھوڑ دی ہے ،اور اب ہندو مذہب کو ماننے لگا ہے،نگرانی بھی کم ہوگئی،ایک مسلم ساتھی نے کہا کہ اگر تمہارا ایفی ڈیوٹ بن جائے تو قانونی اعتبار سے تم محفوظ ہو جاؤ گے،یہ کہہ کر وہ خود ہی ڈسٹرکٹ قاضی کے پاس گیا سارے حالات بیان کئے قاضی صاحب نے کہاابھی عمر اٹھارہ سال ہے،بائیس سال کی عمر ہو گی تو ہم ایفی ڈیوٹ دے سکتے ہیں ،ہم کو بہت مایوسی چھا گئی ،پھر ایک مدرسہ کے مہتمم صاحب جو بڑے بااثر تھے،ان کو بھی یہ تمام باتیں بتا کر مشورہ لیناچاہا،انہوں نے خاندان کا نام سنتے ہی فرمایا کہ وہ خاندان بہت ہی کٹر ہے،وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا،جاؤ ابھی تم چلے جاؤ،جب بائیس سال کی عمر ہو جائے تب ایفی ڈیوٹ بنا لینا،اور آج سے تمہارا نام نورا لاسلام رکھتا ہوں،وہاں سے بھی مایوس واپس ہونا پڑا،اب تو گھر والوں نے نگرانی کم کردی تھی،پھر بھی سنیما کا بہانا کرنا پڑتا ،میرا مسلمان ہو نے کا پکا ارادہ دیکھ کر ایک ایک ساتھی نے مجھ سے ملنا جلنا چھوڑدیا،یہ کہہ کر تمہارے خاندان کے لوگ ہم لوگوں کو چھوڑیں گے نہیں ،ایک دن دکھے دل کے ساتھ گاؤں کی مسجد کے امام صاحب کے پاس جاکر کہا کہ امام صاحب کیا کروں،اب تو کفر اور ناپاکی سے نکلنا چاہتا ہوں ،کچھ تو مشورہ دیجئے،چار سال تک تو گھر میں اس طرح رہ نہیں سکتا ،کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان میرے اس ایمان پر حملہ کردے،اور مجھے پھر کفر میں زندگی گذارنی پڑے،اور میں پھر ہندو ہو جاؤں۔
انہوں نے کہا کہ دیکھو تم فلاں بازار میں چلے جاؤ،اور وہاں تیسری منزل پر ایک مسلمان کی دکان ہے ،وہاں پر عبد الرزاق رتھ نام کے ایک نومسلم آتے ہیں جاؤانہیں سے مشورہ کرلو،وہ تم کو صحیح راستہ دکھائیں گے۔
مقررہ وقت پر اس دکان پر پہنچ گیا،اس دکان پر ایک نوجوان مسلمان کام کرتا تھا،جو مجھے پہچانتا تھا،پوچھا کیا کام ہے؟ میں نے پوچھا عبد الرزاق رتھ یہیں پر آتے ہیں ، لیکن کیا کام ہے؟ میں نے کہا مجھے ملنا ہے،اس جوان نے اندر جاکر سیٹھ کے کان میں کچھ کہا ،سیٹھ نے اندر بلا لیا ،ماشاء اللہ نورانی چہرا ، سفید داڑھی ،سنتی لباس،پوچھابھائی عبد الرزاق سے آپ کو کیا کام ہے؟ میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا،پھر آہستہ سے کہا مجھے مسلمان ہو نا ہے، سیٹھ صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر اندر آفس میں لے گئے،اور پھر رونے لگے ،میرے بھائی تو نے اسلام میں ایسا کیا دیکھ لیا،اس کچی عمر میں گھر بار رشۃ داروں کو چھوڑنے کا بھی فیصلہ کرلیا،پھر روتے روتے مجھے سینے سے لگا لیا،پھر اس جوان سے کہا تو دکان کے گیٹ پر کھڑا ہو جا تاکہ ادھر کوئی گاہک یا کوئی دوسرا شخص نہ آسکے،اور اپنے داماد اور ایک دو رشتہ داروں کو بلا لیا ،پھر عبدالرزاق رتھ صاحب بھی آگئے،جن کا پہلا نام مدن موہن رتھ تھا،سب کچھ سننے کے بعد کہا کہ تم گھر چلے جاؤ،تمہارا کام نہیں ابھی تم چھوٹے ہو،تم ایک تھپڑ کے بھی نہیں ہو،یہ کہہ کر اپنا ہاتھ دکھایا ، جس کو تھانے میں داروغہ نے بلیڈ سے چیر ڈالا تھا،پاؤں دکھایا جہاں پر کیل ٹھوکی تھی،پھر کہا پیٹھ پر بھی بڑے بڑے داغ پڑے ہیں ،لیکن اللہ کے فضل سے یہ سب دیکھ کر بھی مجھے ذرا بھی ڈر نہیں لگا،نہ اپنے ارادے سے ہٹا،سب نے مل کر مشورہ کیا کہ ان کا کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ یہ ان کے خاندان والوں کے ہاتھ نہ لگے، آخر یہ بات طے ہوئی کہ ابھی عمر کم  ہے سال کچھ بھی کرکے ان کو ایسی جگہ چھپا کر رکھو جہاں ان کے خاندان والے نہ پہنچ سکیں ، عبد الرزاق صاحب نے سب کے سامنے وعدہ کر لیا کہ ہم ان کو کلکتہ مٹیا برج میں ایک با اثر آدمی کے وہاں چھوڑ آتے ہیں،اور وہیں اسلامی تعلیم بھی حاصل کرتے رہیں گے،دن ،تاریخ اور جگہ مقرر ہو گئی کہ وہاں سے آپ کو لے کر چلا جاؤنگا،جب مشورہ کرکے ہم نیچے اترے اس وقت بازار میں کافی بھیڑ تھی،معلوم نہیں کس طرح میرے چچا نے مجھے عبد الرزاق کے ساتھ دیکھ لیا، گھر سے جب ہجرت کرکے چلا گیا اور میرے خط سے جب معلوم ہو گیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو اس وقت چچا کو یاد آیا کہ ہم نے عبد الرزاق کے ساتھ بازار میں اس کو دیکھا تھا،تو پھر والد صاحب نے ان کے نام وارنٹ جاری کرا دیا ،بیچارہ بھاگابھاگا اِدھر اُدھر پھرتا رہا،کسی نے اخبار میں ان کے قتل کی خبر چھاپ دی تھی،جس سے والد صاحب ڈر گئے،اور وارنٹ واپس لے لیا،پھر چند دن کے بعد عبد الرزاق صاحب بھی سامنے آگئے،جو روپوش ہو گئے تھے،میں نے بھی اِدھر اپنے اسکول کے ساتھی مدن کے ساتھ تفریح کا پروگرام پہلے ہی سے بنا رکھا تھا،مدن کے پاس جاکر کہا کہ کیا پروگرام پکا ہے؟اس نے بتایا دو تین دن بعد چلیں گے،میں نے کہا کہ میں تو جارہا ہوں تم لوگ بعد میں آجانا،ان کو یہ بھی سمجھا دیا کہ میرے پتا جی کچھ بھی پوچھیں گے تو کہہ دینا کہ ہم لوگوں کا پروگرام تھا لیکن وہ پہلے چلے گئے،اصل مقصد یہ تھا کہ تلاشی شروع ہو نے سے پہلے ہی ہم خطرے کی حد سے دور چلیں جائیں،اس پروگرام کے مطابق میں مدن کا بہانہ کرکے گھر سے نکل گیا۔
عبد الرزاق صاحب پروگرام کے مطابق مقررہ جگہ پر نہیں پہنچ سکے ،مایوس ہو کر میں اسی دکان پہنچ گیا،ان لوگوں کو بہت ہی افسوس ہوا کہ اگر گھر والوں کو ذرا بھی ہوا لگ گئی تو پھر سارا معاملہ دھرا رہ جائے گا،بوڑ ھے سیٹھ جی جن کو ہم دادا کہہ چکے تھے ،بہت ہی افسوس کرتے رہے،پھر ہم کو تسلی دی کہ آٹھ دن کسی طرح سنبھل کر گذار لو،ان شاء اللہ تم کو اپنے بھانجے کے ساتھ سہارنپور بھیج دوں گا،ان شاء اللہ وہاں تم کو کوئی تلاش نہیں کر سکے گا،آٹھ دن بعد ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۷ ؁ ء کو پھر مدن کا بہانہ بنا کر صبح صبح گھر سے نکل گیا،اس وقت عجیب لگ رہا تھا ، ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر چیز مجھے الوداع کہہ رہی ہو،ریلوے اسٹیشن تک پہنچے اللہ نے دو جگہ خوب خوب حفاظت فرمائی،ایک تو جب بس سے جارہا تھا تو بالکل قریب ہمارے وہ استاذ بیٹھے ہو ئے تھے جو ہمیں گانا سکھاتے تھے، لیکن خدا کی قدرت کہ وہ مجھے نہ پہچان سکے،ورنہ وہ پوچھتے ضرور کہ اس طرف کہاں؟اس کے بعد بس اڈہ سے دادا جی (سیٹھ جی شمس الدین خاں صاحب)ساتھ ہو گئے، ان کے ساتھ چل رہا تھا ،کہ دور کے رشتہ کے ایک مامو ں کے روڈ پر کام چل رہا تھا ،وہ ایک دم بیچ روڈ پر تھے،مسلمان کے ساتھ اگر دیکھ لیتے تو بڑی مصیبت کھڑی ہو جاتی ،لیکن اللہ نے میری طرف سراٹھا کر دیکھنے کی نوبت ہی نہیں دی ،اللہ کا شکر ادا کرتے کرتے ہم وہاں سے نکل گئے،پھر ہم دادا جی (سیٹھ شمس الدین خان ) کے بھانجے کے ساتھ سہارن پورپہنچے،انہوں نے ان کے علاقے کے ایک مولاناصاحب جو اس سال مظاہر علوم میں بخاری شریف پڑھ رہے تھے،ان کے پاس چھوڑ دیا ،اور کہا کہ ان کو پڑھانا ،انہوں نے مجھے بھائی کی طرح رکھا ،گھر اور عزیز واقارب سے اچانک جدائی کی وجہ سے ان لوگوں کا پیار ، محبت بہت ستاتا تھا ،او ر میں روتا رہتا تھا،کسی کسی وقت تنہائی میں مسجد کے ستون کو پکڑ پکڑ کر روتا تھا اس وقت مولانا صاحب بہت تسلی دیتے تھے اور سمجھاتے تھے کہ اللہ نے تم کو اسلام کی دولت دی ،اور تم کو جہنم کی آگ سے بچالیا، چند دن گذرنے کے بعد دادا جی (سیٹھ شمس الدین خان) کا خط آیا جس مین تاکید تھی کہ بہت سنبھل کر رہنا،مسجد سے باہر مت نکلنا ،یہاں پر تمہارے پتا جی نے طوفان برپا کر رکھا ہے ، ان کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو ، اور تم کو یہاں کے مسلمانوں نے کہیں چھپایا ہے ، یہاں پر لوگ چاروں طرف تلاش کرتے پھر رہے ہیں جن کے اوپر شک جاتاہے ان کو دھمکی دے رہے ہیں۔
میں نے دادا جی کے پتے پر ایک خط لکھا اور اس لفافے کے اندر پتا جی کے نام ایک خط لکھ کر دوسرے لفافے میں ڈال کر بھیج دیا ،دادا جی کو یہ بھی لکھ دیا کہ دوسرا لفافہ ہاوڑہ اسٹیشن یادور جہاں آپ کو سہولت ہو پوسٹ کر دیجئے گا، تاکہ اسی جگہ کی ہی مہر لگے ،تو پتا جی کو سہارن پور کا پتہ نہیں چل سکے گا،اور پتا جی کو میں نے خط میں لکھا تھا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں میں بہت آرام کے ساتھ ہوں اچھا ہوں اور دھارمک جگہ پر ہوں ،اتفاق سے خط پرمہر کسی آشرم کے قریب کی جگہ کی تھی، پتا جی نے وہاں کے آشرم کو چھان مارا، لیکن کوئی اطلاع نہ مل سکی،پھر چند دن بعد اسی طرح ایک خط کے ذریعہ اپنے اسلام قبول کرنے کی اطلاع بھی ان کو کردی،پھر کیا تھا ایک دم آگ بگولا ہو گئے،اور مسلمانوں کو پریشان کرنے لگے، جہاں ان کو شک ہو تا وہاں پولیس کو ساتھ لے کر چھاپے مارتے، کچھ لوگوں کو پکڑ کر سخت باز پرس کی گئی،چاروں طرف جاسوس لگا دیئے گئے،اور کئی گاڑیاں صبح ڈھونڈھنے نکلتیں اور رات کو واپس آتیں، پھر پتا جی نے ریڈیو ،اخبار اور ٹی وی میں گمشدگی کا اعلان کروادیا،اور انعام بھی مقرر کردیا۔
کئی بڑے بااثر لوگوں کے ذریعہ چیف منسٹر (C.M)جوتی باسو تک پہنچے،اور اغواکابہانہ کر کے پولیس کی مدد کیلئے سفارش نامہ اور دو جاسوس بھی حاصل کرلئے،اور پتا جی نے الگ سے ایک پرایؤیٹ جاسوس بھی لگا دیا،پھر کیا تھا جہاں شک پڑتا وہاں فورس کے ذریعہ چھاپے مارتے ،چنانچہ بعض مدرسوں میں بھی چھاپے مارے،پھر داداجی کا خط آیا کہ بھیا اگر پکڑے گئے تو پھر تمھاری خیر نہیں ہے اور اگرہم لوگوں کا نام نے بتادیا تو پھر ہم لوگ مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے۔
جاسوسوں کوجو فوٹو دیا گیا تھا وہ میرے چھٹی کلاس میں پڑھنے کے زمانہ کا تھا،جاسوسوں نے والد صاحب سے کہا کہ اس فوٹو سے پہچاننا بہت ہی مشکل ہے،آپ ہمارے ساتھ رہیں تاکہ دیکھ کر آپ شناخت کرلیں ،والد صاحب ان کے ساتھ میرٹھ آئے اور وہیں سے واپس ہو گئے ،اللہ تعالی نے کسی کے دل میں سہارن پور کی بات آنے ہی نہیں دی، واپس پہنچنے کے بعد ان کو سہارن پور کا خیال آیا تو والد صاحب حاجی صاحب کو لے کر جن کا لڑکا سہارن پور پڑھتاتھا،سہارن پور جانے کے لئے تیار ہوگئے،یہ بات دادا جی کو معلوم ہوگئی ،انہوں نے فوراً حاجی صاحب سے ملاقات کی اور ان کو ساری بات بتادی کہ ہم لوگوں نے ہی اس کو سہارن پور بھیجاہے،تم ہر گز نہ جانا،اس لئے حاجی صاحب نے بہانہ کر کے سہارن پور جانے سے انکار کردیا،اس پر والد صاحب نے ان کو جیل بھجوادیا،یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب میں حاجی صاحب کو دیکھتاہوں توبہت دکھ ہوتا ہے کہ بیچارے میری وجہ سے جیل گئے۔
اس سلسلہ میں مدن کوجو میرے کلاس کے ساتھی تھے،باندھ کر اور لٹکاکر بے حد مارا کہ بتاؤ کہاں ہے تمہارا ساتھی؟اس نے فون پر بتایا کہ بھائی تم تو چلے گئے،مجھ پر اغواکا شک کر کے مجھے بہت ماراگیا،پھر جیل بھیج دیا گیا،جب تمہارا خط آیاکہ تم مسلمان ہو گئے ہو تب مجھے جیل سے چھوڑاگیا۔
چارسال سہارن پورکے مختلف مقامات اورگاؤں میں چھپ چھپ کر گزارنا پڑے،ایک دو جگہ سے سی۔آئی ۔ڈی (C.I.D) کی وجہ سے بھاگنا بھی پڑا،چار سال کے بعد کلکتہ جا کر Affidavite بنوالیا،اس کے بعد مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ بھی ہوگیا،اس دوران ہمارے علاقہ کے بعض ساتھیوں کے ذریعہ معلوم ہوتا رہتا تھا کہ امی پاگل جیسی ہو گئی ہیں ،یہ سن کر والدین بہت زیادہ یاد آنے لگے،گھر چھوڑے ہوئے تقریباً ساڑھے پانچ سال ہو چکے تھے۔
ان دنوں کلکتہ سے ایک جماعت سہارن پور آئی،جماعت کے امیرہمارے کمرہ کے ایک ساتھی کے والد محترم تھے اور ڈاکٹر بھی تھے،اس نے میری ملاقات اپنے والد سے کرائی،ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تمہارے علاقہ کے ایک ساتھی جو جماعت میں ہیں ، فوڈ کارپوریشن آفسر ہیں ،تم ان سے ملاقات کرلو میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ فلاں جگہ کے فلاں خاندان کا جو بچہ غائب ہو گیا تھا اس کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا :غائب ہوگیاہے یہ تو معلوم ہے،لیکن کہاں گیا ہے یہ نہیں معلوم ،اس کے گھر والے اس کو تلاش کرتے رہتے ہیں، لیکن آج تک تلاش نہیں کر پائے،میں نے کہا وہ لڑکا یہیں پر ہے ، میں اسے آپ سے ملا سکتا ہوں،لیکن ایک شرط ہے ،وہ لڑکا اپنے ماں باپ سے ملنے کے لئے بیتاب ہے،اگر آپ اپنی ذمہ داری میں ملاقات کرادیں تو بتادوں ،افسر نے کہا:ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گا ،تو میں نے کہا وہ لڑکا میں ہی ہوں،افسرنے مجھے سینے سے لگالیا اور کہا :ان شاء اللہ میں پوری کو شش کروں گا،لیکن جب میں بلاؤں سیدھے میرے گھر پرہی آنا،اچانک اپنے گھر ہرگز نہ جانا،میں ماحول دیکھ کر خط لکھوں گا۔
شعبان کی چھٹی ہونے والی تھی،اس دن بہت سے ساتھی گھر جا رہے تھے،دو پہر کو کھانے بیٹھے ہی تھے کہ ڈاکیہ نے خط دیا ، لفافہ کھول کرجب خط نکالا تو میری چیخ نکل گئی کہ میرے ابا نے مجھے خط لکھا ،سب ساتھی کھانا چھوڑ کر میرے گرد جمع ہوگئے،تاکہ خط سنیں،میری آنکھوں میں آنسو آگئے،زبان لڑکھڑارہی تھی، کوشش کے با وجود نہیں پڑھ سکا،ایک دوسرے ساتھی پڑھ کر سنایا،لکھاتھا:
’’پیارے بیٹے!معلوم نہیں تم کہاں ہو،تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے دادا،نانا،پھوپھی وغیرہ دنیا سے چلے گئے، بلکہ تمہارے دادا تو مرنے سے پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ میرے دادو بھائی تم کہاں ہو؟میرے دادو بھائی تم کہاں چلے گئے ہو؟ اور اس وقت تمہاری اماں موت سے لڑرہی ہیں ،ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ماں کو بہت زیادہ صدمہ ہے،لڑکے کو ان سے ملادو تو و ہ ٹھیک ہو سکتی ہیں ،تم سے درخواست کرتاہوں کہ تم ایک بار اپنی ماں کو اپنا منہ دکھاکر چلے جاؤمیں وعدہ کر تاہوں کہ تمہارے بدن پر ایک کانٹا بھی چبھنے نہیں دوں گا،دیکھو بیٹا! اولاد کی محبت کیا چیز ہے تمہیں اس وقت معلوم ہوگی جب تمہاری اولاد ہوگی۔
خط سن کر کمرہ کے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،اس کے بعد اسی لفافہ سے دوسرا خط نکالا جوافسر صاحب نے لکھا تھا اس میں لکھاتھا:’’میں تمہارے گھر گیا تھا،تمہارے والد صاحب ٹوٹ چکے ہیں ،میرے ہا تھ پکڑ کر خوب روئے،پھر بھی تم میرے گھر آؤ ملاقات پر سب بتاؤں گا،سیدھے میرے گھر آنا ،اپنے گھر ہرگز نہ جانا ،تمہارے والد کو میں نے تمہاراپتہ نہیں دیا،میرے آفس پر آکر یہ خط دے کر گئے جو میں نے لفافہ میں ڈال دیا۔
جب افسر کے گھر ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں تمہاری دکان پر تمہارے ابا سے ملا اور کہا کہ آپ سے آپ کے بیٹے کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے تو ابا ایک دم غصہ ہوگئے، اور کہا آپ ذرا رکئے ،لیکن جب گاہک چلے گئے تو ابانے افسر سے کہا کہ آپ اندر آجائیں ، افسر نے بتایا کہ تمہارے ابا مجھے اندر گھر میں لے گئے اور گھرکے دروازے بند کرنے لگے تو میں ڈرنے لگا کہ نہ جانے کیا ہوگا؟پھر تمھارے ابا میرے ہاتھ پکڑ کر خوب روئے اور کہنے لگے کہ کیا تم نے میرے بیٹے کو اپنی آنکھوں سے دیکھاہے؟اور پھر کہنے لگے کہ میں نے جو غصہ کیا وہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے کیاتھاتاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل جائے کہ میں اپنے بیٹے کو اب بھی چاہتاہوں،انہوں نے مزید بتایاکہ تمہاری ماں دروازے کے پاس کھڑی زاروقطار روئے جارہی تھیں،میں نے ان کو سمجھایاکہ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ میرے گھر آئے گا،چنانچہ میں افسر کے گھر پہنچاتوآفسرنے ابا کو اطلاع بھیجی ، رات کو بارہ بجے ابا ۴۔۵ آدمیوں کے ساتھ ملنے کے لئے افسر کے گھر آئے، افسر کے گھر والوں کو یہ دیکھ کر کچھ شک ہوا،تو وہ لوگ خاموشی سے چھپ کرلاٹھی لے کر کھڑے ہوگئے ،کہ اگر میرے ساتھ ان لوگوں نے کچھ کیا تو ایک کو بھی یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔
دوسرے دن صبح صبح ابا مٹھائی لے کر افسر کے گھر آگئے اور مجھے سمجھانے لگے ،طرح طرح کے سوالات بھی کر تے تھے کہ اللہ کون ہے؟ ہم تو اس کو دیکھتے نہیں تو ہم اس کو کیونکر مانیں اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔یہ اللہ کا خاص فضل تھا کہ اس نے تمام سوالوں کے جوابات دلوائے،اس لئے پہلے سے میرے ذہن میں کوئی جواب موجود نہیں تھا،اس دوران ابانے اصرار کیا اور کہنے لگے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر پھر سے ہندو بن جاؤ،تب میں نے کہا کہ ابا سنئے :پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے میں چاند لاکر دیں تو بھی میں اسلام کو نہیں چھوڑ سکتا، دوسری بات یہ ہے کہ آپ ۳۳کروڑ بھگوانوں کو مانتے ہیں اور میں صرف ایک اللہ کی عبادت کر تاہوں ،ایک اللہ کو راضی رکھنے کے لئے رات دن لگا رہتا ہوں ،جب ایک معبود راضی کرنا اتنا مشکل معلوم ہوتاہے تو پھر
میں٣٣ کروڑ کو کیسے راضی کر سکوں گا؟یہ تو ناممکن ہے،ایک راضی ہوگا تو دوسراناراض ،ابا یہ میرے بس کی بات نہیں ،یہ جواب سن کر اباایک دم خاموش ہو گئے- پھر ابا جی نے مندرکے پجاریوں سے ملنے کے لئے مجھ سے بہت ضد کی ،میں نے کہا :مندر تو نہیں جا سکتا ،البتہ گروجی یہاں آئیں گے تو بات کر لوں گا ،کہنے لگے :وہ بہت بڑے آدمی ہیں،یہاں نہیں آئیں گے ،پھر ایک شخص سے ملنے کے بہانے ایک پرانے مندر میں مجھے لے گئے،دیکھا کہ مندر کے آفس میں وکیل، ڈاکٹر وغیرہ سب میرے انتظار میں بیٹھے ہیں ،میرے اللہ نے وہاں بھی میری خوب خوب مدد کی ،سب باری باری مجھ سے طرح طرح کے سوالات کرتے رہے اور میں ان کے جواب دینے کے بعد خود انہیں لوگوں سے ہندو دھرم کے بارے میں جو سوال کر تاتھا اس کا جواب کسی سے نہیں بن پڑتاتھا،ایک گھنٹہ کی بحث کے بعد ڈاکٹر صاحب جو ہمارے رشتہ دار بھی تھے بول اٹھے کہ بھائی جانے دو،ان کو واپس ہندو بنانا اب ممکن نہیں ہے،یہ تو بالکل پختہ ہو چکاہے ،واقعی مجھے معلوم نہیں کہ کیسے کیسے میں نے ان کے سوالوں کا جواب دیا،جیسے لگتاتھا میرے اندر سے کوئی بول رہاتھا ،اللہ تعالی کی مدد میں نے دیکھ لی ،میرے اللہ نے میرا ایمان بچالیااور کسی قسم کی کوئی تکلیف بھی کسی نے نہیں پہنچائی۔
سہارن پور سے جب دوسری مرتبہ افسر کے گھر گئے تو ابانے کہا کہ اب تو گھر چلو ،بہت دن سے سب لوگ تم کو دیکھنا چاہتے ہیں ،میں نے کہا :گھر تو نہیں جا سکتا ،ابانے کہا :میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کچھ ہونے نہیں دوں گا،چنانچہ ہم رات کو گھر پہنچے تو گھر میں ایک بھیڑ لگ گئی ،ابا کے چچا کے خاندان کے لوگ ہمارے بازومیں رہتے تھے تو ابا کے چچا نے کہلوایا کہ اس کو ہمارے گھر بھیج دو ،ابانے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے بھیج دیا ،پہلے تو دادا وغیرہ نے خیر خیریت پوچھی ،پھراچانک کہیں سے ان کے لڑکے جو میرے چچا لگتے تھے ،آگئے اور مجھے دیکھ کر غصہ سے چیخنے لگے کہ تو یہاں کیوں آیا؟تونے ہمارے خاندان کا سرنیچاکردیا،تو ہمارے خاندان پر کلنک ہے،تو مرجاتا تو اچھاہوتا،اور نہ جانے کیاکیا بولے جارہے تھے،قریب تھا کہ پاس پڑی لکڑی میرے سر پر دے ماریں،چیخ سن کر ابا جلدی آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے اپنے گھر لے آئے،اور صبح اندھیرے میں گھر کے نوکر کے ساتھ مجھے افسر کے گھر پہنچوا دیا،پھر میں سہارنپور واپس چلاگیا۔
پالن پور کے ایک ساتھی سید مولاناابراہیم صاحب جو سہارن پور مظاہر علوم میں پڑھتے تھے مجھے بہت چاہتے تھے ، گجرات آنے کا ذریعہ بنے ، پھر پالن پور میں جناب فتح محمد صاحب ٹیلر ماسٹر نام کے ایک شخص تھے جو اصلاً راجستھان کے رہنے والے تھے معلوم نہیں انہوں نے میرے اندر کیا دیکھا کہ ایک دن مسجد میں مجھے دیکھ کر خوشی کے مارے ہنس بھی رہے تھے اور آنکھیں بھی تر تھیں، کہنے لگے میرے تین بیٹے ہیں لیکن تم میرے چوتھے بیٹے ہو اور ان تینوں کے بڑے بھائی ہو ، پھر انہی کے ذریعہ حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب ؒ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی اپنا بنالیا اور اپنے ایک خاص دوست حضرت مولانا محمدیونس صدیقی صاحب ؒ جو حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب ؒ جونپوری کے خلیفہ تھے ،جنہوں نے احمدآباد کے قریب’’ کڈی‘‘ نام کے ایک قریہ میں ایک مدرسہ قائم کیا اور وہیں اخیر عمر تک خدمت انجام دی،ان کی صاحب زادی (جوحافظہ اور صالحہ ہیں ) سے نکاح کروادیا جن سے اللہ رب العزت نے چار لڑکیاں اور چار لڑکے دئیے،الحمدللہ ایک لڑکی اور تین بچوں نے حفظ مکمل کرلیا ایک بچہ درجۂ عربی پنجم میں تعلیم حاصل کررہاہے ،اللہ رب العزت تمام ہی بچوں کو دین کا داعی بنائیں ، آمین 
کافی سال بعد حضرت مولانا محمد کلیم صاحب صدیقی دامت برکاتہم سے ملاقات ہوئی ، حضرت نے فکر دلائی کہ گھروالوں کے اسلام کے بارے میں فکر کریں،خدا کے فضل وکرم سے تقریبا ۸؍مارچ ۲۰۱۰ ؁ء کوکچھ عزیزوں نے کلمہ پڑھ لیا ،اور پھر بہن کو بھی خوب سمجھا یا تو بہن نے بھی کلمہ پڑھ لیا،باقی خاندان والوں پر کام جاری ہے، مجھے بہت افسوس ہے کہ پہلے سے فکر کرتا تو بہت سے لوگ جو خاندان کے انتقال کرگئے ہیں وہ دوزخ سے بچ جاتے، حضرت واقعی سچ کہتے ہیں کہ نمک کی کان میں جو جاتا ہے نمک بن جا تا ہے۔مہاجر مسلمان بھی خاندانی مسلمانوں میں آکر ،خاندانی مسلمانوں کی طرح اپنے خاندان والوں سے بے فکر بس اپنی اپنی فکر کے ہوجا تے ہیں، اس لئے ملت میں دعوتی شعور پیداکرنا بہت ضروری ہے۔
حضرت مولانا کے حکم سے خونی رشتہ کے بھائیوں میں کام شروع کردیا ہے ان کے پاس جانا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جس مذہب کو مانتے ہیں اس سے وہ کچھ بھی واقف نہیں ایسے خالی الذہن لوگوں کو صحیح مذہب سمجھانا بہت آسان ہے اگر اس پر ہر مسلمان عمل کرکے ان کو دعوت دے تو دن دور نہیں کہ قوموں کی قومیں اسلام میں داخل ہوسکتی ہیں،مگر ہم سنجیدگی سے کوشش نہیں کرتے، کبھی کبھی دل بہت تڑپتا ہے کہ کیسے ان لوگوں تک دین پہنچایا جائے،ان تک دین نہ پہنچنے کی وجہ سے کتنے لوگ روز دوزخ کا ایندھن بن جاتے ہیں،کبھی کبھی اس خیال سے دعوت دیتے ہوئے بے اختیارہوجاتا ہوں،اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگتا ہوں،ماحول بالکل سازگار ہے گجرات جیسے علاقے میں ہم لوگ دعوت کاکام کرتے ہیں مگر ایک بار بھی کسی نے ناگواری کا اظہار نہیں کیا،بکہ بہت احسان مانتے ہیں اور قدر سے دین کی بات سنتے ہیں،ایسے ماحول میں ہم فائدہ نہ اٹھائیں تو بہت ظلم کی بات ہے۔

0 comments:

Post a Comment