جناب عبد الرحمن سے ایک گفتگو


احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عبد الرحمٰن : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

س:عبدالرحمٰن بھائی آپ دہلی کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟
ج: جی میں دہلی میں روہنی میں رہتاہو ں، وہیں سے آیا ہوں ۔
س: آپ پچھلے ہفتے بھی تشریف لائے تھے ؟
ج: جی ہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ پچھلے اتوار کو آیا تھا آج میں اپنے دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی کو حضرت سے ملانے لایا ہوں ، اصل میں کل میری بیٹی سسرال سے آئی تھی ، ہم نے بتایا کہ حضرت سے ہماری ملاقات ہو گئی ہے تو بیٹی نے بہت ضد کی کہ ہمیں بھی ملائیے، اصل میں، اس نے نسیم ہدایت کے جھونکے کتاب پڑھی ہے اس لئے وہ بہت زیادہ حضرت سے ملنا چاہتی تھی ۔
س: آپ پہلے سے کہاں کے رہنے والے ہیں، روہنی تو اب رہتے ہوں گے ؟
ج: جی ہم لوگ پہلے سے روہتک ضلع کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں ، ۲۶ سال ہوئے دہلی شفٹ ہو گئے ہیں ۔ہمارا خاندان مذہبی ہندو گھرانہ ہے، ذات سے ہم لوگ خاندانی برہمن ہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ برہمن آرین قو میں ہیں، شاید یہ لوگ براہیمی لوگ ہوں گے، اس لئے کہ مکہ کے مشرک جو اپنے کو براہیمی دین پر کہتے تھے، ان کا کلچر ہم سے بہت ملتا جلتا ہے ،ہو سکتا ہے کہ ہم لوگ حضرت ابراہیم کے خاندان میں بھی رہے ہوں ۔
س: آپ نے خوب سوچا، ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو ، آپ کو اسلام قبول کئے کتنا زمانہ ہو گیا ؟
ج: یوں تو اسلام قبول کئے مجھے آٹھ سال ہو گئے، مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اصلی مسلمان تو پچھلے اتوار کو ہواہوں، اصل میں ہندو پنڈتوں کے چکر سے تو آٹھ سال پہلے نکل گیا تھا، مگر مثال مشہور ہے آسمان سے گر ا کھجور میں اٹکا، مسلمان بن کے، پیر نماایک پیشہ ور بہروپئے مسلمان پنڈت کے چنگل میں پھنس گیاتھا اور اس ظالم نے ہندو پنڈتوں کو اچھا کہلوادیا ۔
س: ابی بتا رہے تھے کہ ایک جاہل پیر آپ کو ایک زمانہ تک ٹھگتا رہا، کیا انہوں نے ہی آپ کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟
ج:نہیں وہ اسلام کی دعوت کیا دیتے، مجھے تو ایک بندر نے دعوت دے کر مسلمان بنایا حضرت کہہ رہے تھے کہ آپ کا اسلام ہمارے لئے ایک بڑی وارننگ ہے کہ اگر مسلمان اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے اور دعوت کے اپنے فریضے کو ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ بندروں سے دعوت کا کام لے کر برہمنوں کو مسلمان بنائیں گے ۔
س: ذرا تفصیل سے سنائیے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح ہدایت دی ؟
ج: اصل میں خاندانی طور پر برہمن ہونے کی وجہ سے میں بہت مذہبی قسم کا ہندو تھا ، اور سب سے زیادہ میری عقیدت ویشنو دیوی سے تھی ، اس کے علاوہ کالی اور انباجی کا بھی اپاسک تھا، اس لئے سال میں دوبارویشنو دیوی کی یاترا(سفر)کرتا تھا ، شاید آپ جانتے ہوں گے، ویشنو دیوی کا خاص مندر کشمیر میں ہے ، وہاں جانا ایسا ہے جیسے حج وغیرہ کرنا، یوں سمجھو کہ میں بھی سال میں دو بار عمرہ کو جاتا تھا ، عمرہ توآدمی سو فیصد اپنے ایک اللہ کے ساتھ اپنے ایمان او رایک اللہ کی محبت کو بڑھانے کے لئے جاتا ہے ، ویشنو دیوی پر تو آدمی،حق کو چھوڑ کر شرک میں بھٹکنے کے لئے جاتا ہے ، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جتنا وقت اور پیسہ عمرہ میں لگتا ہے، اتنا ہی تقریباً ویشنو دیوی کی یاترا میں لگتا ہے ، ہاں مشقت اور محنت ویشنو دیوی کی یاترا میں اورزیادہ ہے، یہ کہ وہاں پیدل پہاڑ کی بڑی چڑھائی میں آدمی کاحال خراب ہو جاتاہے،اس کے علاوہ بھی الگ الگ مندروں میں جاتا تھا ، میری کمائی اور وقت کا ایک خاصاحصہ ان پوجاؤں میں لگتا تھا، بہت برت(ہندو مذہبی روزے )رکھتا تھا ، میرے گھر میں ایک خاص کمرہ جس کے تین حصے کرکے الگ الگ دیویوں کے مندر بنائے ہوئے تھے، آٹھ سال پہلے نورتے(خاص ہندوروزے)چل رہے تھے، ایک شام کو میں برت میں پوجا میں مگن تھا ، بڑی عقیدت سے نمبروار ایک کے بعد ایک دیوی کی پوجا کی پرشاد چڑھاتا اور عقیدت سے دیپ جلاتا ، اچانک پیچھے کے راستہ سے ایک بندر گھرمیں گھس گیا اس نے کمرہ میں گھس کر پرشاد پرجھپٹے لگائے تو دیپ گرگئے اور پورے کمرہ میں آگ لگ گئی ، اور آگ اس قدر لگی کہ تینوں دیویاں اور پورا کمرہ آگ میں جھلس گیا، میرے دل میں آیا کہ جو دیویاں خود اپنی حفاظت نہیں کرسکیں اور جل کر جھلس گئیں ، وہ پوجا کے لائق کیسے ہو سکتی ہیں ، میں اس آستھا او ر عقیدت سے بہت بددل ہوکر گھر سے نکلا ،گھرسے کچھ دور ایک پیر پر ایک میواتی بابا ہزار تسبیح لئے بیٹھے تھے، میں نے ان سے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں، وہ پیر بابا بولے ،مسلمان ہوکرتمھیں میرا مرید بھی ہونا پڑے گا ، میں نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لئے مرید ہونا بھی ضروری ہے ، وہ بولے کہ پکا مسلمان تو تب ہی ہوگا جب مرید ہو جائے گا ، میں نے کہاکہ میں مرید بھی ہو جاؤ ں گا ، وہ بولے میں دو طرح کے مرید کرتا ہوں ، ایک مرید تو ایسا ہوتاہے کہ مرید ہو کر نماز او ر روزہ اور ساری عبادتیں تمھیں ہی کرنا ہوں گی ، ایک مرید ایسے ہوتے ہیں کہ مرید تو مرید ہی ہوتا ہے، وہ عبادات ٹھیک طریقے پر کہاں کرسکتا ہے ، میں ہی تمہاری طرف سے نماز روزے ادا کروں گا، اس کے لئے تمہیں ماہانہ خرچ دینا پڑے گا ،میں نے معلوم کیا کہ ماہانہ خرچ کیا پڑے گا؟ وہ بولے تمہاری آمدنی کتنی ہے ،تم بتاؤ اس مالک کے نام پر تم کتنے خرچ کر سکتے ہو، میں نے کہا میں ہاتھ سے بنی دیویوں کے نام پر اتنا خرچ کرتا تھا،تو اس مالک کے نام پرمیں جان بھی دے سکتاہوں،وہ بولے تو پھر اچھا مرید اور اچھی نماز روزہ پیر صاحب سے کروانے کے لئے دس ہزار روپئے ماہانہ خرچ کرنے پڑیں گے ، میں نے کہا مالک کا دیا بہت ہے اس کے نام پر دس ہزار روپئے کوئی بڑی بات نہیں ۔ پیر بابا نے مجھے کلمہ پڑھایا اور ایک چادر میرے سر پر ڈال کر مجھے مرید کر لیا ، مرید کرنے کے لئے دیر تک ناٹک کرتے رہے ۔

س: آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے ؟
ج: کھلی آنکھوں دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے۔
س: جب آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے، پھر بھی آپ سب کرتے رہے ؟
ج: اصل بات یہ تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں ذرا بھی معلوم نہیں تھا ،اب یہ جاننے والے تھے توپھر مجھے ان کی بات ماننی تھی، اس ڈر سے کہ کہیں میرے اسلام میں کوئی کمی نہ رہ جائے، مذہب کے معاملے میں انسان اپنی عقل نہیں لڑاتا بلکہ وہ اپنی عقل کو مذہب کے سپرد کرتا ہے ۔ میں آپ کو ایک لطیفہ بتاؤں :پچھلی اتوار کو جب ہم حضرت سے ملنے آئے تھے، تو مرادآباد کے ایک انگریزی کے پروفیسر صاحب کلمہ پڑھنے آئے ہوئے تھے ، بہت محبت اور عقیدت سے انہوں نے حضرت سے کلمہ پڑھانے کو کہا، حضرت نے انہیں کلمہ پڑھوایا،حضرت نے کلمہ پڑھوانے سے پہلے کہا اپنے مالک کو راضی کرنے کے لئے اور اس ارادے سے کہ میں اپنی زندگی اللہ کے آخری قانون قرآن مجیدکو مان کر، او راللہ کے آخری رسول ﷺ نے زندگی گذارنے کاجو طریقہ بتایا ہے اس کے مطابق گذارنے کے عہد کی نیت سے کلمہ پڑھ رہا ہوں، پہلے ہم کلمہ عربی میں پڑھیں گے اورپھر ہندی انوواد (ترجمہ )کہلوادوں گا،حضرت نے کہا جس طرح میں کہوں کہیے،حضرت نے کلمہ کہلوانا شروع کیا ’’اشھد ان لا الہ الااللہ ‘‘یہ کہتے ہوئے حضرت کے کان میں کھجلی آرہی تھی،حضرت نے داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا، تو پروفیسر صاحب نے بھی داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا ، حضرت نے کہلوایا ’’واشھدان محمد عبدہ ورسولہ ﷺ ‘‘ حضرت کی ناک کے اوپر ایک دانہ سا ہورہا تھا، حضرت نے بائیں ہاتھ سے ناک پر ہاتھ پھیرا، پروفیسر صاحب نے بھی ناک کو پکڑا ، ہم سبھی کو ہنسی آگئی ، حضرت کو بھی ہنسی آگئی ، پروفیسر صاحب عجیب سے ہوگئے ،حضرت نے بتایا کہ اصل میں میرے کان اور ناک پر کھجلی آرہی تھی ، کلمہ پڑھتے ہوئے کسی ایکشن کی ضرورت نہیں،بلکہ اندرسے یقین اوروشواس کی ضرورت ہے،پروفیسرصاحب بولے کہ مذہب کا معاملہ ہے،دھرم میں آدمی اپنی عقل کو مالک کے حکم کے سپرد کرنے آتا ہے ،میں یہ سمجھا کہ کان ناک پکڑ کر عہد کرنا ہے، اس لئے میں نے ایسا کیا۔حضرت صاحب نے سمجھایا کہ اسلام علم اورعقل کومطمئن کرنے والا مذہب ہے۔ احمد صاحب اس لئے میں نے باوجود یہ کہ میری عقل کہہ ر ہی تھی کہ یہ پیر بابا کا ناٹک ہے، مگر وہ جیسا کہتے گئے ویسا میں نے کیا ،مرید ہو کر پہلے ہفتے کی نماز ، روزہ ، عبادات کی فیس دس ہزار روپئے ،اورمٹھائی کے لئے دو سو روپے میں نے ایڈ وانس میں پیر صاحب کو جمع کرا دئے۔
س: ماشاء اللہ ایسے مرید کھری فیس ادا کرنے والے کہاں کسی کو ملتے ہوں گے اس کے بعد آپ ماہانہ جمع کرتے رہے ؟
ج: مولانا احمد! دس ہزار تو وہ جمع کرتا ہی تھا، اس کے علاوہ پیر صاحب آنکھیں لال پیلی کرکے مٹھی بھی کھولتے تھے کہ آج تمہارے لئے خوش خبری ہے ،تمہارے درجے آسمان کی طرف چڑھ رہے ہیں، اس کی خوشی میں فرشتوں کو منانے کے لئے اب اس چیز کی ضرورت ہے۔ آٹھ سا ل ہو گئے مجھے اسلام قبول کئے ، اوسطاًبیس ہزار روپئے ماہانہ میں نے پیر بابا کو ضرور دئیے ہوں گے
س: اتنے پیسے آپ پیر بابا کو دیتے تھے۔ آپ کا کارو بار کیا ہے ؟
ج: میرا ایک مشہور بیوٹی پارلرہے،میں اور میری بیوی دونوں اس میں کام کرتے ہیں۔
س: اس میں اتنی آمدنی ہوجاتی ہے،آپ کی کیا فیس ہے؟
ج: مالک کا کرم ہے،کام بہت اچھا ہے، میری بیوی دلہن بنانے کی فیس پچا س ہزار تک بھی لے لیتی ہیں۔
س: تو پیرکی کیا خطا ہے۔ آپ بھی روپ بھرنے کے لئے لیتے ہیں پیر بابا بھی روپ بھرنے کے لئے ہی لیتے ہیں۔
ج: بات آپ کی ٹھیک ہے،جب میں حضرت سے پچھلے مہینے بیعت ہواتھاتوحضرت نے معلوم کیاتھا کہ آپ کا کاروبارکیا ہے؟ میں نے کہا کہ بیوٹی پارلر ہے، تو حضرت نے فرمایا کہ روز گار پاک اور حلال ہونا چاہیے،میں نے حضرت سے کہا کہ میں آج سے بیوٹی پار لر بند کردوں ،حضرت نے فرمایا کہ کوئی اچھا حلال طیب روزگار تلاش کریں، بالکل حرام تو نہیں ہاں اچھانہیں،جب دوسرا روزگار مل جائے تواس کو چھوڑدینا،ہاں البتہ تب تک مفتی صاحب کا نام بتایا کہ ان سے معلوم کر یں کہ بیوٹی پارلر میں کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں،اس کا خیال کریں ،میں نے کہا کہ حضرت میں نے دیویوں کو راضی کرنے کے لئے اتنی قربانیاں دی ہیں،میں اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے آپ سے بیعت ہوا ہوں ، اگر میرے اللہ کی رضا جان دینے میں ہے تو میں جان دینے کے لئے تیار ہوکر آیا ہوں، آپ مجھے بس حکم کریں ۔
س: ابی سے آپ مرید ہو گئے، آپ توپہلے پیر بابا سے مرید تھے، اب دوبارہ مرید کیسے ہو گئے ؟
ج: اصل میں میں تین سال سے حضرت سے ملنا چاہ رہا تھا حضرت کو فون کرتا تھا، پہلے تو فون ملتا ہی نہ تھا اور ملتا تو حضرت سفر پرہوتے ، دس روز پہلے میں نے فون کیا تو فوراً کہا کہ میں آٹھ سال پہلے مسلمان ہوا ہوں،مجھے جن مولانا صاحب نے حضرت کا پتہ دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ اپنانام بتانے سے پہلے یہ بتا دینا ، پھر حضرت کہیں نہ کہیں ملنے کی شکل بتا دیں گے ۔ میں نے جب کہا کہ میں تین سال سے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ حضرت نے بہت معذرت کی اور فرمایا کہ اتوار کے روز شاہین باغ آپ آجائیں ، بہت لوگوں کو میں نے بلالیا ہے ، مگر پھر بھی آپ کی زیارت ہو جائے گی ۔
س: ابی کا پتہ آپ کو کس نے دیا تھا ؟
ج: مجھے ایک مولانا صاحب نے حضرت کی کتاب’’ آپ کی امانت آپ کی سیو امیں‘‘ ،’ ’مجھے ہدایت کیسے ملی؟‘‘ اور’’ نسیم ہدایت کے جھونکے‘‘ خرید کر لا کر دی تھی ، میں نے وہ پڑھی ، اصل میں،میں اپنے پیر بابا کی مسلسل ٹھگی اورظلم سے پریشان تھا ، اور میں آٹھ سال تک اس مریدی سے یہ بات سمجھا کہ مذہب کے نام پر شرک،دھرم کے نام پر سب سے بڑا اَدھرم دھارمک پنڈتوں (مذہبی پیشواؤں)نے کیسے چلایا ، شرک کے نام پر لوگوں کو غلام بناکر ان کو ٹھگنے کانام شرک ہے ۔ مذہب انسان کی اندرونی پیاس ہے، اس کی آتما (روح)یہ مانگتی ہے کہ وہ اپنے خدا کو راضی کرے اس کے لئے اس سے جو قربانی مانگی جائے انسان دیتا ہے ، تقریبا بیس ہزار روپئے کی میری ماہانہ فیس کے علاوہ پیر بابانے مجھ پر نہ جانے کیاکیاظلم کئے۔ میری لڑکی بہت خوبصورت تھی،انٹرمیں پڑھ رہی تھی اچانک ایک جمعرات میں میں پیر بابا کے پاس گیا ، ہر جمعرات کوکچھ ہدیہ لے کر جانا پڑتا تھا ، میں پہنچا تو پیر بابا بہت خوش تھے،بولے عبدالرحمٰن تیرے لئے جو میں عبادت کررہا ہوں وہ مالک کے یہاں بہت قبول ہو رہی ہے ، پیر اور مرید کا رشتہ تو آقا اور غلام کا ہوتا ہے ، مگر شاید تجھے اپنے پیر کے برابر درجہ ملنے والا ہے،آج اوپر سے مجھے اشارہ ہوا ہے، عبدالرحمٰن پہلے ہی تمہارا غلام ہے ، مگر اس کی عقیدت ہمیں بہت قبول ہے، اپنے بیٹے سے اس کی بیٹی اور پھر اپنی بیٹی سے اس کے بیٹے کی شادی کردو،یہ اعزازبیٹا تمہیں مبارک ہو ، تمہاری اولاد نے کیسا نصیب پایا ہے ، پیر کے بیٹے و بیٹی سے آسمان سے رشتہ جڑوالیا ہے ، میں نے کہا اگر میرے مالک کا یہ حکم ہے تو میں حاضر ہوں ، میں گھر آیا اپنی بیوی سے بتایا ،بچوں سے مشورہ کیا،گھر والے تیار نہیں تھے ، گھر میں میں نے ان کو مالک کے غصے سے ڈرایا، وہاں سے حکم ہوا ہے تو ماننا چاہیے،مالک نے اولاد دی ہے تو اس کے حکم کو ماننا چاہیے۔
س: آپ کو یہ بات ڈھونگ نہیں لگ رہی تھی ؟
ج: دل میں بات آئی تھی کہ شاید یہ بھی ناٹک اور ڈھونگ ہے، مگر یہ بھی ڈر لگتا تھاکہ اگر سچ مچ مالک کا حکم ہوگا اورنہ مانا تو برباد ہوجائیں گے ،کبھی کبھی دل کرتا، پھر دل کو سمجھاتا ،اگر میرے مالک کے نام پر دھوکہ ہے تو اس کی محبت میں دھوکہ کھانا بھی اچھا ہے ، بس اس لئے سب کچھ کرتے رہے ۔
س: آگے کیا ہوا آپ نے شادیاں کردیں ؟
ج:میری لڑکی چھوٹی تھی اور پیر بابا کی لڑکی چھ سال بڑی تھی، مگر انہوں نے کہا کہ اشارہ ہے کہ پہلے تمہاری لڑکی کی شادی ہو،بیوی کو خدمت کرنی پڑتی ہے ،پہلے پیر کی لڑکی سے خدمت کرانا بے ادبی ہے، پہلے اپنی بیٹی کو خدمت کے لئے پیش کرو ، شادی سے پہلے ہم سے پیر بابانے کہا تم مرید ہو اور میں پیر ہوں ، اللہ کی محبت میں یہ رشتہ ہے، اس میں جو بھی آپ پیر بابا کو اپنی لڑکی کے جہیزمیں دوگے وہ جنت میں ملے گا، میں نے کہا اللہ کی محبت میں ہر چیز میری جانب سے ہے ، آپ حکم کرو ۔ پیر بابا نے کہا تمہاری بیٹی میوات آیا جایا کرے گی ، اس کے علاوہ ہمارے پاس بھی سواری کا سادھن نہیں ہے، ایک اے سی گاڑی دو، میرامکان تمہاری لڑکی کے لائق نہیں ہے ،میوات میں مکان دوبارہ بنوانا پڑے گا، اس کے علاوہ اور گھر میں ضرورت کا جو سامان تمہاری بچی چاہے ، ہم توفقیرآدمی ہیں،ہمارے پاس تو بورئیے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، بہرحال تقریباً ۲۸؍۲۹ لاکھ روپے شادی میں خرچ کئے ، ایک سال بعد پھر میری لڑکے کی شادی کا حکم اوپر سے آنے کی خبر دی ، وہ بولے تم مرید ہو میں پیر ہوں ہم تمہیں جنت اور ولایت کے درجات جیسی قیمتی چیز دلاتے ہیں ، اگر مرید اپنے پیر سے جہیز وغیرہ کا مطالبہ کرے تو مریدی ٹوٹ جائے گی،ان کی لڑکی جو کپڑے پہن کر آئی سارے میں نے ہی بنائے، ایک سوئی بھی ، وہ جہیز میں نہ لائی ۔
س: آپ یہ سب کچھ کرتے رہے آج کل عقل کا زمانہ ہے ، اور آپ شہر کے رہنے والے پڑھے لکھے گریجویٹ ہیں، بچے پڑھے لکھے ہیں، آپ کی بیوی پڑھی لکھی ہیں ؟
ج: اصل میں دل ٹو ٹتا رہا، مگر بس وہی بات کہ مالک کے نام پر دھوکہ کھانابھی ایک مزہ دیتا ہے ۔ ہم سب یہ کرتے رہے ۔
س: ان پیر صاحب سے اب بھی تعلق ہے ؟
ج: اصل میں’ نسیم ہدایت کے جھونکے ‘نے دل تو ہٹا دیا تھا ، مگر اب رشتوں کی وجہ سے ظاہری طور پر نبھاتے رہے ۔مگر اب ظالم نے میری بچی کو ستانا شروع کر دیاہے، پیر بابا کی بیوی ایسی ظالم عورت ہے کہ بس اللہ پناہ میں رکھے ، اب اس کے ظلم سے خود اس کا بیٹا بھی عاجز آگیاہے ، اور اس نے خود ہم سے کہا کہ ان دھوکہ بازوں کے چکر میں نہ آئیں ۔اصل میں اللہ تعالیٰ کو ہم پر ترس آیا، اس کے نام پر دھوکہ ہم نے چونکہ اس کی محبت میں کھایا تھا، اس لئے خود پیر باباکا بیٹا ہمارے لئے پیر بابا کے بندھن سے چھڑانے کا ذریعہ بنا۔ پیر بابا کا بیٹا جو ہمارا داماد ہے جاوید و ہ ایک ساتھی کے ساتھ دہلی حضرت سے ملا، دوکان نہ چلنے کی شکایت کی ، حضرت نے اس کو کسی ایک نماز کے بعد ایک تسبیح استغفار اور ہرماہ میں، تین ماہ تک تین دن جماعت میں لگانے کا مشورہ دیا ، اور فرمایا کہ امید ہے کہ انشاء اللہ کاروبار چل جائے گا ،وہ نمازیں پڑھتاتھا اس نے استغفا ر نماز کے بعد پڑھنے کے لئے عشاء کی نماز پڑھنا شروع کی اور جماعت میں تین روز تین ماہ تک لگائے ، تیسرے ماہ امیر صاحب نے چا ر ماہ کی تشکیل کر لی، اللہ کا شکر ہے وہ جماعت سے جڑ گیا اور وہ آج حضرت سے بیعت بھی ہوا ،اس نے زیادہ زور دیا کہ ہم سب گھر والے حضرت سے بیعت ہو جائیں، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے اور میری بیوی کو ایک ہفتے پہلے ہی توفیق دے دی ، میری بیوی اور بچے سب یہ کہہ رہے تھے کہ ڈیڈی اصل میں آج ایسا لگا جیسے ہم آزاد ہو گئے ،ہمارے گھر میں نسیم ہدایت کے جھونکے بہت دنوں سے بچے پڑھتے ہیں،میرے دونوں بیٹے اس کے بعد سے جمعرات کو مرکز بھی جانے لگے، اب میرا بھی جماعت میں وقت لگا نے کا ارادہ ہے ، حضرت نے بھی مشورہ دیا ہے کہ چا رمہینے لگا دوں۔
س: ماشاء اللہ واقعی آپ کی بات بھی خوب ہے کہ آپ کو بندر نے مسلمان بنادیا ہے ۔ اچھا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کا یہ انٹر ویو ہمارے یہاں میگزین ارمغان میں شائع کرنے کے لئے ہے آپ اس کے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام (سندیش )دیں گے ؟
ج: میں سندیش یا پیغام کیا دے سکتا ہوں،سچی بات یہ ہے کہ میں صرف ایک ہفتے کا مسلمان ہوں میں اپنی زندگی کے تجربے سے دو باتیں کہتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شرک کے واسطے سے مذہبی غلامی میں جکڑی انسانیت کو ایک اللہ کے سامنے کھڑا کرکے اور اس سچے مالک سے جوڑ کر آزاد کرانے کی کوشش کریں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نہ مظلوم اور سسکتی انسانیت کے گلے سے شرک کے پھندے اور بیڑیاں کاٹنے کے لئے بندروں کو بھیج کر یہ کام کرالیں گے ، دوسری بات یہ بھی دل میں آئی ہے کہ اللہ کی محبت میں اس کو راضی کرنے کی نیت سے اتنا دھوکہ کھانے اور قربانی دینے کے بدلے میں اللہ تعالی ٰ نے ہم پر ترس کھایا اور خود پیر بابا کے بیٹے کو اس چنگل سے نکالا اور ہمیں نکلوایا۔ تو اگر اس کے نام پر اسلامی او رشرعی قاعدوں کو جان کر قربانی دی جائے گی تو وہ اللہ کتنا نوازیں گے اس کا اندازہ مشکل ہے ۔
س: آپ نے اپنے خاندان پر کام کا کچھ ارادہ کیا،آپ نے ابی سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا ؟
ج: ایسا نہیں ہوسکتا ، پہلی ملاقات میں سب سے پہلے حضرت نے یہ کہا کہ یہ ایمان آپ کا جب ہی ایمان ہے،جب یہ یقین ہو کہ ایمان کے بغیر نجات نہیں،اور جب یہ یقین ہے تو آپ کیسے انسان ہیں کہ آپ کے سامنے آپ کے بھائی بہن رشتہ دار جائے جائیں۔اور یہ ایمان اور بڑھے گا، جب آپ ساری انسانیت کی فکر کریں گے اور خاص طور پر رشتہ داروں اور خاندان والوں کا اور بھی زیادہ حق ہے ۔ الحمد للہ میں نے ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ بات کرنا شروع کردی ہے ، آپ سے دعا کی درخواست ہے ، اللہ تعالیٰ ہمارے سب رشتہ دار اسلام میں آجائیں ۔
س:آمین بہت بہت شکریہ، جزاکم اللہ خیرالجزاء ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ج: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

0 comments:

Post a Comment