نو مسلم محمد شکیل (سنیل جوشی )سے ایک گفتگو




احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محمد شکیل : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


س :شکیل احمد صاحب! ابی نے چند روز پہلے ہم لوگوں کو بتایا تھاکہ آ پ نے ہمارے ایک ذمہ دار ساتھی کے ساتھ بہت غصہ کا معاملہ کیاتھااورگالیاں وغیرہ دی تھیں ،اور اب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازدیا،آپ کے اس غصہ اور ناراضگی کا پس منظر کیا تھا،حالانکہ آپ کے خاندان کے مسلمانوں سے تعلقات بھی رہے ہیں ؟ج:مولانااحمدصاحب ! اصل میں تو میرے مالک کو مجھ پر رحم آرہا تھا،پس اس نے ذریعہ بنادیا،ورنہ پچھلے دنوں مجھ پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو بھوت سوار تھا اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

 س:پھربھی ظاہری طو رپر اس غصہ کی وجہ کیا تھی؟
ج :اصل میں ہمارے یہاں شاہ آباد میں آندھرا کے چار بچے مسلمان ہوئے،چاروں بہن بھائی تھے،جس لڑکے کے ساتھ وہ آئے تھے اس نے ان کی بڑی بہن سے شادی کرلی تھی، ہمارے ضلع کی شیو سینا کے ذمہ داروں کو معلوم ہوگیاتو انھوں نے علاقہ میں بوال کھڑا کردیا، اس لڑکے کے خلاف بچوں کو بہکا کر مسلمان بنانے کا مقدمہ دائر کردیا، اور اس کو جیل بھیج دیا، عدالت میں ان بچوں نے صاف صاف کھل کر بیان دیا کہ ہم اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،لڑکی ابھی ١٨ سال کی نہیں ہوئی تھی، اصل میں اس کے والد جھانسی کے پاس کسی جگہ رہتے ہیں،شیو پوری کوئی ضلع ہے وہاں پر ان بچوں کی سگی ماں تو انتقال کرگئی، والد نے ایم پی میں ہی دوسری شادی کی، ماں کے رویہ سے پریشان ہوکر یہ بچے گھر سے بھاگ کرآگئے،اسٹیشن پر اس لڑکے کو یہ چاروں ملے،اس کو ترس آگیا،یہ ان کو شاہ آباد لے آیا ،گھروالوں نے مخالفت کی، مگر اس لڑکے نے اس لڑکی سے وعدہ کرلیا تھا اس لئے شادی کرلی، بعد میں عدالت اور پولیس نے ا ن بچوں کے والد سے رابطہ کیا تو ان کے والد نے یہ بیان دیا کہ یہ بچے میری مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،اور میری مرضی سے میری بیٹی نے شادی کی ہے، اس پر ہمارے یہاں کے شیو سینا والوں نے شیو پوری کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا اور بچوں کے والد کے خلاف بیان دینے پر زور دیا اور ان کو طرح طرح کی دھمکیاں بھی دیں، مگر وہ کسی طرح خلاف بیان دینے پر راضی نہ ہوئے، اور کہتے رہے کہ اس دیوتا صفت نوجوان نے ان بچوں پر ترس کھا کر اپنے پورے پریوار کے خلاف ایسی ہمدردی کی اور اس کو نبھایا، ہم اس کے خلاف بیان دیں یہ کیساگھور اَنیائے (سراسر نا انصافی )ہوگی،کیا میں بالکل حیوان بن جاؤں۔جب وہاں کے شیو سینکوں نے بہت زیادہ دباؤ دیا توان بچوں کے باپ نے اور ان بچوں کے ساتھ ان کی سوتیلی ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی، اس پر پورے علاقہ کی ہندو تنظیموں نے اپنی ہار سمجھ کر ایک جٹ ہوکر چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ علاقہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوتے جارہے ہیں، اس پر کھود کریدہوئی تو پتہ چلا کہ سنبھل اور اس کے پاس کے کچھ قصبوں میں کچھ لوگ یہ کام کررہے ہیں، میرے ایک ساتھی بجرنگ دل کے ضلع سنچالک ہیں،انل کوشک ،وہ میرے پاس سنبھل آئے اور انھوں نے سنبھل میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے لوگوں کی میٹنگ کی، اور اس میں دھرمانترن(تبدیلی مذہب )کو روکنے کے سلسلہ میں لوگوں کو گرمایا، میں بچپن سے بہت جذباتی آدمی ہوں مجھے بہت غصہ آیا، اور میں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اراردہ کرلیا، میرے ایک اور ساتھی نے جو اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا وعدہ کرچکے تھے، انھوں نے مجھے بتایا کہ اصل میں ایک کتاب ہندی میں’’ آپ کی امانت ،آپ کی سیوا میں‘‘ مولاناکلیم صدیقی صاحب نے لکھی ہے، وہ ایسی جادو بھری بھاشا(زبان)میں لکھی گئی ہے کہ جو اسے پڑھتا ہے مسلمان ہوجاتا ہے، اور وہ دہلی سے چھپی ہے اس پر چھپوانے والے کا فون نمبر ہے، میں نے کہا وہ کتاب ذرا مجھے لا کر دو، میں دیکھوں اس میں کیا بات لکھی ہے،اس نے کہا نہیں اس کا پڑھنا ٹھیک نہیں ہے، اس کتاب کا لیکھک (مصنف)کوئی تانترک ہے، اس نے اس کی بھاشا(زبان)میں جادو کردیا ہے،اگر تم پڑھوگے تو مسلمان ہوجاؤگے، مجھے بھی ڈر لگا، میں نے کتاب پر چھپے موبائیل نمبروں پر بات کی، پہلے نمبر پر ایک صاحب کو فون ملا وہ بڑے نرم سوا بھاؤ کے تھے،میں انھیں ماں بہن کی بڑی گالیاں دیتا رہا، اور پوری دھمکیاں دیتارہا،مگر وہ ہنستے رہے اور بولے آپ کی گالیاں کتنی میٹھی ہیں ان سے محبت کی خوشبو آرہی ہے، رات کو دوسرے نمبر پر میں نے بات کی اور بہت سخت سست آخری درجہ کی ماں بہن کی سڑی سڑی گالیاں دیتارہا،اور قتل کی اور پورے پریوار کو برباد کرنے کی دھمکیاں دیں، تو وہ صاحب پہلے تو بہت غصہ ہوئے پھر بولے ،میں نے پورا فون ٹیپ کرلیا ہے، اب آپ کے خلاف تھانہ میں رپورٹ کرانے جا رہا ہوں، ایک دفعہ تومیں ڈرسا گیا،پھر ہمت کی اور کہا کہ قتل کے بعد اکٹھے ہی کیس کردینا، میں نے ان سے کہا کہ ذرا اپنی پتنی(اہلیہ)سے بات کرادے، میں تجھے قتل کروں گا، تو وہ وِدھوا( بیوہ) ہوجائے گی،میں اس سے پہلے ہی شما(معافی اور
معذرت)تو کرلوں،پھر تو موقع ملے گانہیں۔

س :اچھا تو وہ آپ تھے، ابی تو بہت مزے لے کر یہ بات سناتے تھے، اور ان ساتھی کو سمجھایاتھاجب وہ بہت شکستہ دل ہوکر
 ان گالیوں کی شکایت کررہے تھے، ابی نے ان کو سمجھایا کہ تمھیں تو فخر کرنا چاہئے، کہ سید الاولین والآخرین نبی رحمت للعالمین کی سنت ادا کرنے کا شرف تمھیں ملا، دعوت کی راہ میں کسی خوش قسمت کو ہی گالیاں نصیب ہوتی ہیں، ابی ان سے کہنے لگے تم بتاؤ کوئی ایسا خوش قسمت آدمی جس کو دعوت کی راہ میں گالیاں ملی ہوں یہ پیارے آقا کی سنت ہے کہ جن کو دوزخ کی آگ سے نکالنے کے لئے آپ راتوں کو روتے اور دنوں کو خوشامد کرتے تھے، وہ لوگ گالیاں دیتے،پتھر برساتے، اور ہرطرح سے ستاتے تھے، پھر اس نے ان سے کہا کہ تم نے اس کی گالیوں پر تو غور کیا ،اس کی انسانیت اور رحم دلی اور اس کی محبت بھری فطرت کا احساس نہیں کیا کہ ابھی اس نے تمھیں قتل کیا بھی نہیں اور تمھاری اہلیہ سے معذرت اور تعزیت کرنے کو کہہ رہا ہے.... جی تو آگے سنائیے؟
ج:ان صاحب نے مجھ سے معلوم کیاکہ آپ یہ بتائیے کہ اس کتاب میں کون سی بات ایسی غلط ہے جس پر آپ کو اعتراض اور ایسا غصہ ہے، میں نے کہا ،میں نے تو وہ کتاب پڑھی نہیں، انھوں نے کہا پھر آپ کو غصہ کیوں ہے؟ میں نے کہا میرے کئی ساتھیوں نے کتاب پڑھنے سے منع کیا اور کہا جو بھی یہ کتاب پڑھتا ہے اس کتاب کی بھاشا(زبان)میں جادو کررکھا ہے، وہ مسلمان ہوجاتا ہے، اس ڈر کی وجہ سے میں نے کتاب نہیں پڑھی، انھوں نے کہا آپ کو کسی نے غلط کہا ہے؟ مجھ سے پوچھا آپ کچھ پڑھے لکھے ہیں؟ میں نے کہا میں ایم ایس سی ہوں، وہ بولے سائنس کے اسکالر ہو کر آپ کیسی اندھ وشواش کی بات کررہے ہیں، انسان کو مالک نے دیکھنے کے لئے عقل دی ہے، اور آپ اتنے پڑھے لکھے آدمی ہیں،انسان چاند تاروں پر جا رہا ہے، اور آپ جادو کی بات کر رہے ہیں، آپ ایسا کیجئے کہ آپ اس کتاب کو ضرور پڑھئے اور اس کے پڑھنے کے بعد جو بات آپ کو غلط لگے اپنے قلم سے کاٹ دیجئے، آئندہ آپ جس طرح کرکشن(اصلاح)کریں گے کتاب اسی طرح چھپے گی،انھوں نے کیا میں آپ کے پاس کتاب بھیج دوں؟ میں نے کہا اگر مجھے نہ ملی تو میں منگالوں گا، اور اگر مجھے اس کتاب میں کوئی بات
ہندو دھرم کے خلاف ملے گی تو میں تیرے پورے خاندان کو قتل کردوں گا۔ وہ بولے کوئی بات نہیں۔

س : ا س کے بعد آپ نے وہ کتاب پڑھی؟
ج : نہیں میں نے اس وقت وہ کتاب نہ تلاش کی نہ پڑھی، ساتھیوں سے بات ہوئی تومیری طبیعت میں بہت نرمی دیکھ کر وہ بہت برہم ہوئے، اور بولے کہ ایسے ہی تو لٹھ مار مار کر وہ دھرمانترن کررہے ہیں،دیکھا نہیں یہ عیسائی مشن والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں،میں جگہ جگہ جاکر چوراہوں پر اس کتاب اوراس کے بانٹنے والوں کو گالیاں دیتا، سنبھل کے نواب خاندان کے ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ سنبھل کے پاس ایک قصبہ میں ایک آدمی سنیل جوشی نام کا’’ آپ کی امانت‘‘ کے خلاف بہت غصہ ہے، وہ اس کے لیکھک(مصنف)کوبہت گالیاں بکتاہے،مولانا کلیم صاحب سے وہ مرید ہے، وہ تلاش کرتے کرتے میرے پاس پہنچے، مجھے دیکھا توچمٹ کر بہت رونے لگے، سنیل بھیا تم تو میرے ساتھ چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک پڑھے ہو،تمھارے ساتھ میں نے کبڈی بھی کھیلی ہے، میں نے بھی پہچان لیا،میں نے کہا کہ میرے پتاجی نے تو آپ کے ابا جان کی زمین بھی کاشت کی ہے، بولے ہاں ہاں وہ زمین تو والد صاحب نے بہت سستے داموں میں آپ کے پتاجی کو تعلقات کی وجہ سے فروخت کردی تھی،میں نے کہا ہاں تمھارے پتاجی تو ہماری شادی میں بہت بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے تھے، اور کئی دن تک کام کرایا تھا بلکہ ایک طرح سے شادی کی ذمہ داری نبھائی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے چمٹ گئے، بری بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ان کا رو روکر برا حال ہوگیا، روتے رہے اور کہتے رہے میرے لاڈلے دوست، ایمان کے بغیر تم مر گئے تو دوزخ میں جلو گے، میں ایسے اچھے دوست کو کیسے دوزخ میں جاتا دیکھوں گا،میرے بھائی سنیل میں نے اس بار حج میں بار بار تمھاری ہدایت کے لئے دعا کی ہے، میرے بھائی ایمان کے بغیر بڑا خطرہ ہے اور بہت خطرناک آگ ہے، میرے بھائی سنیل نرک کی آگ سے بچ جاؤ، جلدی سے کلمہ پڑھ لو، دیکھو میں دل کا مریض ہوں تڑپ تڑپ کر میرا ہارٹ فیل ہوجائے گا،میں ایسے اچھے دوست کو ہر گز کفر پر مرنے نہیں دوں گا، میرے بھائی کلمہ پڑھ لو،پھوٹ پھوٹ کر آواز سے روتے روتے ان کا برا حال ہو گیا، میں نے کہا میں کلمہ پڑھ لوں گا،تم چپ ہوجاؤ، میرے یار چائے تو پی لو، وہ بولے:میں کس دل سے چائے پی لوں جب میرا دلی پیارا دوست ،جس کا اتنا پیارا باپ ہو،جو میرے حقیقی بھائی کی طرح ہونے کے باوجود ایمان کے بغیر مرگیا،سنیل بھیا چچا بلرام جی پر نرک میں کیا کیا گذر رہی ہوگی، میرے ابا نے انھیں مرنے دیا مگر میں تمھیں ہرگز ا ب نرک میں نہیں جانے دوں گا، بار بارمیں ان کو پانی پلانے کی کوشش کرتا،مگر وہ کہتے تمھیں پانی کی پڑی ہے، میرا بھائی میرا دوست سنیل بغیر ایمان کے مرجائے گا۔میرے ہوش خراب ہوگئے، میں نے کہا: چپ ہوجاؤ،پانی پی لو،جو تم کہو گے،میں کرنے کو تیار ہوں،وہ بولے کلمہ پڑھ لو، میں نے کہا کہ تم پانی پی لو،میں کلمہ نہیں پورا قرآن پڑھ لوں گا، وہ بولے اگر پانی پیتے پیتے تم مرگئے تو نرک میں جاؤگے،میں نے کہا میرے بھائی، اچھا تم پڑھاؤکیا پڑھاتے ہو، میں نے ان کی حالت بری دیکھی تو اس کے علاوہ اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا، انھوں نے روتے روتے مجھے کلمہ پڑھایا،پھر ہندی میں اس کا انواد (ترجمہ)کرایا، میں نے ان کو پانی پلایا، میں نے کہا :اچھا اب تم خوش ہو اب چائے پی لو،انھوں نے چائے پی،اور جیب میں سے’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا میں‘‘نکال کر دی،کہ سنیل بھیا اس کتاب کو اب تم دوبار بہت غور سے پڑھنا،’ آپ کی امانت‘میں نے دیکھی تو میرا موڈ خراب ہوگیا،اچھا یہ کتاب تو میں کسی طرح بھی نہیں پڑھوں گا،اس کتاب کے لیکھک(مصنف)کو میں نے قتل کرنے کا پرن(عہد)کیا ہے ، وہ چائے چھوڑ کر پھر مجھے چمٹ گئے اور رونے لگے، میں نے کہا تم کچھ ہی کرو،میں کتاب نہیں پڑھ سکتا، وہ بولے کیوں اس کتاب سے تمھیں ایسی چڑ ہے، میں نے کہا،کیا تم ہی لوگ یہ کتاب بانٹ رہے ہو، انھوں نے کہا کہ تمھارا یہ گیا گذرا بھائی ہی یہ محبت کی خوشبو بانٹ رہا ہے، میں نے کہا محبت کی نہیں نفرت کی، اس کتاب کے نام سے مجھے غصہ آتاہے،وہ بولے کہ بھائی سنیل، اس کتاب میں کیا بات غلط ہے؟ تم نے یہ کتاب پڑھی ہے؟ میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا،اس کتاب کا لیکھک تانترک ہے، اس نے اس کے شبدوں میں جادو کررکھا ہے، وہ دلوں کو باندھ دیتے ہیں،وہ پھر پہلے کی طرح رونے لگے، سنیل بھیا،اس کتاب کا لیکھک ایک تانترک نہیں،ایک سچا انسان اور محبت کا فرشتہ ہے، اس نے اس کتاب میں محبت کی مٹھاس گھول رکھی ہے، اور اس کتاب میں سچ ہے ،سچی ہمدردی ہے،وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کی آتما سچی ہوتی ہے، وہ اپنے مالک کی طرف سے سچی بات پر قربان ہوتی ہے، میرے دوست تمھیں وہ کتاب ضرور پڑھنی پڑے گی۔میں نے کہاکہ سب کہتے ہیں جو اس کتاب کو پڑھتاہے وہ مسلمان ہوجاتاہے،مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے سچ مچ مسلمان ہونا پڑے گا۔ یہ کہنا تھاکہ وہ مجھے چمٹ گئے، اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے، میرے بھائی سنیل ، تم نے سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھا، جھوٹے دل سے پڑھا کلمہ کسی کام کا نہیں،میرے بھائی تمھیں یہ کتاب پڑھنی پڑے گی، میں ہر گز ہرگز تمھیں نرک میں نہیں جانے دوں گا، میرے بھیا میں مرجاؤں گا،مجھے ڈر لگا کہ یہ واقعی روروکے مرجائے گا، میں نے اس کو پانی پلانا چاہا، وہ پانی پینے کو تیار نہ ہوئے، میں نے کہا میرے باپ میں اس کتاب کو دس دفعہ پڑھوں گا تم چپ ہوجاؤ، اچھا یہ پانی پی لو، میں تمھارے سامنے ابھی پڑھتا ہوں اس نے اس شرط پر پانی پیا، ابھی اس کتاب کو پوری میرے سامنے پڑھوگے، میں نے ان کے سامنے کتاب پڑھنا شروع کی، اور خیال تھا کہ تھوڑی دیر میں یہ چپ ہوجائے گا تو یہ کتاب بند کردوں گا، مگر جیسے ہی دو شبد (مقدمہ کتاب)پڑھا،کتاب کے مصنف سے میری دوری کم ہوگئی ،اور پھر میں کتاب پڑھتا گیا،  آدھے گھنٹے میں اس کتاب کا پیش لفظ ہی   میرے اوپر جادو کرچکا تھا، میں نے اپنے دوست سے ایک بار سچے دل سے کلمہ شہاد ت پڑھانے کی خود رکویسٹ (درخواست)کی، انھوں نے مجھے کلمہ پڑھایا ،میں نے گلے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا،اوراپنا نام ان کے مشورہ سے شکیل احمد رکھا۔

س:اس کے بعد آپ نے اپنے اسلام کااعلان کیا؟
ج :رات کو میں نے اپنی بیوی سے بتانے کا ارادہ کیا،بازار سے اس کے لئے جوڑا لیا،اور ایک چاندی کی انگوٹھی خریدی، ایک مٹھائی کا ڈبہ , یہ میری شادی کا دن تھا، اور یہ دن میری بیوی کا برتھ ڈے بھی تھا، رات کومیں نے اس کو مبارک باد دی اور حد درجہ محبت کا اظہار کیا جو میرے معمول کے بالکل خلاف تھا، وہ حیرت سے معلوم کرنے لگی کہ یہ کیا بات ہے، میں نے کہا کہ ایک آدمی سنیل جو تمھارے ساتھ بھارتیہ سماج کے مطابق پاؤں کی جو تی سمجھ کر ویوہار(سلوک)کرتا تھا،آج اس نے نیا جنم لیا ہے،اس پر اس کے مالک نے مہر کردی ہے، اسے دھارمک بنادیاہے،ایک پریم کا دیوتا میرے پاس آکر میرے جیون کے اندھکار کو پرکاشت (اندھیرے کو منور)کرگیا ہے،میں تم سے آج تک کے سارے اتیاچار(ظلم)کے لئے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتا ہوں،اور آئندہ کے لئے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم میری جیون ساتھی،میرے سر کا تاج ہو، وہ بولی میں سمجھ نہیں سکی،میں نے کہا اس کو سمجھنے کے لئے اگر تمھارے پاس وقت ہے تو آدھا گھنٹہ چاہئے، مگر جب تم خوشی سے تیار ہو ،میں تم پر زبردستی بہت کر چکا، اب مجھے نیائے دوس(آخرت)میں حساب دینے کاڈر ہوگیا ہے، تمھارے پاس جب خوشی سے وقت ہو میں ایک پاٹھ تمھیں سنانا چاہتا ہوں، وہ بولی،ایسی ادبھت (حیرت ناک) تبدیلی کے لئے میں سننے کو تیار ہوں، وہ کون سا پاٹھ ہے جس نے آپ کو ایسا بدل کر رکھ دیا، میں نے جیب سے آپ کی امانت نکالی اور پڑھنا شروع کی، وہ بڑے غور سے سنتی رہی،میں نے کتاب ختم کی تو وہ بولی یہ کتاب میں خود بھی پڑھ سکتی ہوں کیا؟ میں نے کہا میرا دل چاہتا ہے میں خود ہی سناؤں،اصل میں میرے دل میں یہ بات آگئی کہ 17 سال میں نے تمھاے ساتھ اتنی سختی اور ظلم کیا، ایک ایسا احسان کردوں جو 17 سال کا انیائے (نا انصافی) دھل جائے، کہ ہمیشہ کے عذاب سے تم بچ جاؤ، وہ بولی اچھا اب ایک بار اس کو ذرا سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں،میں نے کہا ضرور پڑھو، وہ کتاب اس نے لی،پوری کتاب ایک بیٹھک میں پڑھی، پھر میرے پاس آئی اور بولی اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سناتن دھرم اور سچا مذہب صرف اسلام ہے، میں نے کہا مالک نے تمھیں بالکل سچ سمجھایا ،میری اچانک تبدیلی سے وہ بہت متأثر  17 سال سے پہلی بار میں نے ا س کو گلے لگایا تھا، اس کو پیار کیا تھا محبت سے کچھ خرید کر اس کو پیش کیا تھا اس کے جنم دن اور شادی کے دن پر مبارک باد دی تھی، اب ا س کے لئے میری بات ماننا بالکل سوبھاوک (فطری)تھا،میں نے اس کو کلمہ پڑھنے کے لئے کہا وہ فوراً تیار ہو گئی ، میں نے آپ کی امانت میں دیکھ کر اس کو کلمہ پڑھوایا، اس کا نام آمنہ خاتون رکھا، اپنے دونوں بچوں کو بھی کلمہ پڑھوایا ،ان کا نام فاطمہ اور حسن رکھا۔


س:ا س کے بعد آ پ نے عام اعلان کیا؟
ج:ابھی تک عام اعلان نہیں کیا، البتہ میں چار پانچ روز کے بعد تمھارے یہاں ایک مولانا صاحب جن کے بارے میں مجھے معلوم ہوا تھا، آپ کی امانت بانٹتے ہیں،ان کو میں نے ایک دن کھری کھری گالیاں سنائی تھیں، ان کے پاس گیااور ان سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا،اور ان سے اپنی ختنہ کے سلسلہ میں مشورہ کیا، مگر ان کو یقین نہیں آیا، اور ذرا ٹالتے رہے، میں ان کے ڈر کو سمجھ گیا،اور میں مرادآباد ایک مسلمان ڈاکٹر کے پاس گیا، اور جاکر ختنہ کرائی، اس کے بعد میں نے تین بار
صرف تین تین دن گجرولہ جماعت میں لگائے۔

س:گجرولہ کے ساتھیوں کو معلوم تھاکہ آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟
ج:میں نے بتایا کہ اصل میں میں پیدائشی مسلمان تھا بعد میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے چکر میں ہندو بن گیا تھا اور یہ بات سچی تھی، ہر پیدا ہونے والا اسلام پر پیدا ہو تا ہے، اب میرا ارادہ پہلے چار ماہ جماعت میں لگانے کا ہے، اس کے بعد کھل کر اعلان کروں گا، اور انشاء اللہ دین سیکھ لوں گا تو دوسروں کو دعوت دینا آسان ہوگا۔

س:ماشاء اللہ ،اللہ تعالی ٰ مبارک فرمائے،واقعی آپ کا ایمان اللہ کی خاص ہدایت کی کار فرمائی ہے، اچھا آپ قارئین ارمغان کو کچھ پیغام دیں گے؟
ج:دو روز پہلے بدایوں میں حضرت تقریر فرمارہے تھے،کہ تمام مسلمانوں کو اللہ نے داعی بنایا ہے، داعی کی حیثیت طبیب کی اور جس کو دعوت دی جائے اس کی حیثیت مریض کی اور بیمار کی ہے اگر حکیم اور ڈاکٹر مریض کے علاج میں کوتاہی کریں اور مریض مرنے لگیں تو مریض کا غصہ ہونا بالکل نیچرل (فطری)ہے، مگر ڈاکٹر اور حکیم کو اپنے مریض سے نگاہ نہیں پھیرنی چاہئے، دعوت اصل میں محبت بھرا عمل ہے،یہ ڈبیٹ اور مناظرہ نہیں،کہ ہار جیت کی بات بنالے،یہ تو نبوی درد کے ساتھ اپنے مدعو کے خطرہ کو سمجھ کر کڑھنے اور تڑپنے کا عمل ہے، اگر سچے درد اور تڑپ کے ساتھ کوئی رونے والا ہو، مجھ جیسے جلالی اور غصہ ور، قتل اور گالیوں پر آمادہ درندہ کو جس کو کبھی اپنی بیوی بچوں پر پیار نہ آیا ہو،اس کو پگھلاکر اللہ کا بندہ اور غلام بنایا جا سکتا ہے، ایمان قبول کرنے کے بعدجیسے سنیل جوشی غصیارہ درندہ مرگیا اور محمد شکیل ایک کومل دل والے انسان نے جنم لے لیا، میرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ اصل میں درد اور خیر خواہی کی ضرورت ہے۔

س:واقعی بہت گہری بات آپ نے کہی ؟بہت بہت شکریہ جزاک اللہ آپ خوب سمجھے، السلام علیکم
ج: میں نہیں سمجھا،ایک رونے والے نے سمجھا دیا، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ وعلیکم السلام


0 comments:

Post a Comment