جناب عبد الرحمن سے ایک گفتگو


احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عبد الرحمٰن : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

س:عبدالرحمٰن بھائی آپ دہلی کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟
ج: جی میں دہلی میں روہنی میں رہتاہو ں، وہیں سے آیا ہوں ۔
س: آپ پچھلے ہفتے بھی تشریف لائے تھے ؟
ج: جی ہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ پچھلے اتوار کو آیا تھا آج میں اپنے دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی کو حضرت سے ملانے لایا ہوں ، اصل میں کل میری بیٹی سسرال سے آئی تھی ، ہم نے بتایا کہ حضرت سے ہماری ملاقات ہو گئی ہے تو بیٹی نے بہت ضد کی کہ ہمیں بھی ملائیے، اصل میں، اس نے نسیم ہدایت کے جھونکے کتاب پڑھی ہے اس لئے وہ بہت زیادہ حضرت سے ملنا چاہتی تھی ۔
س: آپ پہلے سے کہاں کے رہنے والے ہیں، روہنی تو اب رہتے ہوں گے ؟
ج: جی ہم لوگ پہلے سے روہتک ضلع کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں ، ۲۶ سال ہوئے دہلی شفٹ ہو گئے ہیں ۔ہمارا خاندان مذہبی ہندو گھرانہ ہے، ذات سے ہم لوگ خاندانی برہمن ہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ برہمن آرین قو میں ہیں، شاید یہ لوگ براہیمی لوگ ہوں گے، اس لئے کہ مکہ کے مشرک جو اپنے کو براہیمی دین پر کہتے تھے، ان کا کلچر ہم سے بہت ملتا جلتا ہے ،ہو سکتا ہے کہ ہم لوگ حضرت ابراہیم کے خاندان میں بھی رہے ہوں ۔
س: آپ نے خوب سوچا، ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو ، آپ کو اسلام قبول کئے کتنا زمانہ ہو گیا ؟
ج: یوں تو اسلام قبول کئے مجھے آٹھ سال ہو گئے، مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اصلی مسلمان تو پچھلے اتوار کو ہواہوں، اصل میں ہندو پنڈتوں کے چکر سے تو آٹھ سال پہلے نکل گیا تھا، مگر مثال مشہور ہے آسمان سے گر ا کھجور میں اٹکا، مسلمان بن کے، پیر نماایک پیشہ ور بہروپئے مسلمان پنڈت کے چنگل میں پھنس گیاتھا اور اس ظالم نے ہندو پنڈتوں کو اچھا کہلوادیا ۔
س: ابی بتا رہے تھے کہ ایک جاہل پیر آپ کو ایک زمانہ تک ٹھگتا رہا، کیا انہوں نے ہی آپ کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟
ج:نہیں وہ اسلام کی دعوت کیا دیتے، مجھے تو ایک بندر نے دعوت دے کر مسلمان بنایا حضرت کہہ رہے تھے کہ آپ کا اسلام ہمارے لئے ایک بڑی وارننگ ہے کہ اگر مسلمان اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے اور دعوت کے اپنے فریضے کو ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ بندروں سے دعوت کا کام لے کر برہمنوں کو مسلمان بنائیں گے ۔
س: ذرا تفصیل سے سنائیے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح ہدایت دی ؟
ج: اصل میں خاندانی طور پر برہمن ہونے کی وجہ سے میں بہت مذہبی قسم کا ہندو تھا ، اور سب سے زیادہ میری عقیدت ویشنو دیوی سے تھی ، اس کے علاوہ کالی اور انباجی کا بھی اپاسک تھا، اس لئے سال میں دوبارویشنو دیوی کی یاترا(سفر)کرتا تھا ، شاید آپ جانتے ہوں گے، ویشنو دیوی کا خاص مندر کشمیر میں ہے ، وہاں جانا ایسا ہے جیسے حج وغیرہ کرنا، یوں سمجھو کہ میں بھی سال میں دو بار عمرہ کو جاتا تھا ، عمرہ توآدمی سو فیصد اپنے ایک اللہ کے ساتھ اپنے ایمان او رایک اللہ کی محبت کو بڑھانے کے لئے جاتا ہے ، ویشنو دیوی پر تو آدمی،حق کو چھوڑ کر شرک میں بھٹکنے کے لئے جاتا ہے ، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جتنا وقت اور پیسہ عمرہ میں لگتا ہے، اتنا ہی تقریباً ویشنو دیوی کی یاترا میں لگتا ہے ، ہاں مشقت اور محنت ویشنو دیوی کی یاترا میں اورزیادہ ہے، یہ کہ وہاں پیدل پہاڑ کی بڑی چڑھائی میں آدمی کاحال خراب ہو جاتاہے،اس کے علاوہ بھی الگ الگ مندروں میں جاتا تھا ، میری کمائی اور وقت کا ایک خاصاحصہ ان پوجاؤں میں لگتا تھا، بہت برت(ہندو مذہبی روزے )رکھتا تھا ، میرے گھر میں ایک خاص کمرہ جس کے تین حصے کرکے الگ الگ دیویوں کے مندر بنائے ہوئے تھے، آٹھ سال پہلے نورتے(خاص ہندوروزے)چل رہے تھے، ایک شام کو میں برت میں پوجا میں مگن تھا ، بڑی عقیدت سے نمبروار ایک کے بعد ایک دیوی کی پوجا کی پرشاد چڑھاتا اور عقیدت سے دیپ جلاتا ، اچانک پیچھے کے راستہ سے ایک بندر گھرمیں گھس گیا اس نے کمرہ میں گھس کر پرشاد پرجھپٹے لگائے تو دیپ گرگئے اور پورے کمرہ میں آگ لگ گئی ، اور آگ اس قدر لگی کہ تینوں دیویاں اور پورا کمرہ آگ میں جھلس گیا، میرے دل میں آیا کہ جو دیویاں خود اپنی حفاظت نہیں کرسکیں اور جل کر جھلس گئیں ، وہ پوجا کے لائق کیسے ہو سکتی ہیں ، میں اس آستھا او ر عقیدت سے بہت بددل ہوکر گھر سے نکلا ،گھرسے کچھ دور ایک پیر پر ایک میواتی بابا ہزار تسبیح لئے بیٹھے تھے، میں نے ان سے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں، وہ پیر بابا بولے ،مسلمان ہوکرتمھیں میرا مرید بھی ہونا پڑے گا ، میں نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لئے مرید ہونا بھی ضروری ہے ، وہ بولے کہ پکا مسلمان تو تب ہی ہوگا جب مرید ہو جائے گا ، میں نے کہاکہ میں مرید بھی ہو جاؤ ں گا ، وہ بولے میں دو طرح کے مرید کرتا ہوں ، ایک مرید تو ایسا ہوتاہے کہ مرید ہو کر نماز او ر روزہ اور ساری عبادتیں تمھیں ہی کرنا ہوں گی ، ایک مرید ایسے ہوتے ہیں کہ مرید تو مرید ہی ہوتا ہے، وہ عبادات ٹھیک طریقے پر کہاں کرسکتا ہے ، میں ہی تمہاری طرف سے نماز روزے ادا کروں گا، اس کے لئے تمہیں ماہانہ خرچ دینا پڑے گا ،میں نے معلوم کیا کہ ماہانہ خرچ کیا پڑے گا؟ وہ بولے تمہاری آمدنی کتنی ہے ،تم بتاؤ اس مالک کے نام پر تم کتنے خرچ کر سکتے ہو، میں نے کہا میں ہاتھ سے بنی دیویوں کے نام پر اتنا خرچ کرتا تھا،تو اس مالک کے نام پرمیں جان بھی دے سکتاہوں،وہ بولے تو پھر اچھا مرید اور اچھی نماز روزہ پیر صاحب سے کروانے کے لئے دس ہزار روپئے ماہانہ خرچ کرنے پڑیں گے ، میں نے کہا مالک کا دیا بہت ہے اس کے نام پر دس ہزار روپئے کوئی بڑی بات نہیں ۔ پیر بابا نے مجھے کلمہ پڑھایا اور ایک چادر میرے سر پر ڈال کر مجھے مرید کر لیا ، مرید کرنے کے لئے دیر تک ناٹک کرتے رہے ۔

س: آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے ؟
ج: کھلی آنکھوں دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے۔
س: جب آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے، پھر بھی آپ سب کرتے رہے ؟
ج: اصل بات یہ تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں ذرا بھی معلوم نہیں تھا ،اب یہ جاننے والے تھے توپھر مجھے ان کی بات ماننی تھی، اس ڈر سے کہ کہیں میرے اسلام میں کوئی کمی نہ رہ جائے، مذہب کے معاملے میں انسان اپنی عقل نہیں لڑاتا بلکہ وہ اپنی عقل کو مذہب کے سپرد کرتا ہے ۔ میں آپ کو ایک لطیفہ بتاؤں :پچھلی اتوار کو جب ہم حضرت سے ملنے آئے تھے، تو مرادآباد کے ایک انگریزی کے پروفیسر صاحب کلمہ پڑھنے آئے ہوئے تھے ، بہت محبت اور عقیدت سے انہوں نے حضرت سے کلمہ پڑھانے کو کہا، حضرت نے انہیں کلمہ پڑھوایا،حضرت نے کلمہ پڑھوانے سے پہلے کہا اپنے مالک کو راضی کرنے کے لئے اور اس ارادے سے کہ میں اپنی زندگی اللہ کے آخری قانون قرآن مجیدکو مان کر، او راللہ کے آخری رسول ﷺ نے زندگی گذارنے کاجو طریقہ بتایا ہے اس کے مطابق گذارنے کے عہد کی نیت سے کلمہ پڑھ رہا ہوں، پہلے ہم کلمہ عربی میں پڑھیں گے اورپھر ہندی انوواد (ترجمہ )کہلوادوں گا،حضرت نے کہا جس طرح میں کہوں کہیے،حضرت نے کلمہ کہلوانا شروع کیا ’’اشھد ان لا الہ الااللہ ‘‘یہ کہتے ہوئے حضرت کے کان میں کھجلی آرہی تھی،حضرت نے داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا، تو پروفیسر صاحب نے بھی داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا ، حضرت نے کہلوایا ’’واشھدان محمد عبدہ ورسولہ ﷺ ‘‘ حضرت کی ناک کے اوپر ایک دانہ سا ہورہا تھا، حضرت نے بائیں ہاتھ سے ناک پر ہاتھ پھیرا، پروفیسر صاحب نے بھی ناک کو پکڑا ، ہم سبھی کو ہنسی آگئی ، حضرت کو بھی ہنسی آگئی ، پروفیسر صاحب عجیب سے ہوگئے ،حضرت نے بتایا کہ اصل میں میرے کان اور ناک پر کھجلی آرہی تھی ، کلمہ پڑھتے ہوئے کسی ایکشن کی ضرورت نہیں،بلکہ اندرسے یقین اوروشواس کی ضرورت ہے،پروفیسرصاحب بولے کہ مذہب کا معاملہ ہے،دھرم میں آدمی اپنی عقل کو مالک کے حکم کے سپرد کرنے آتا ہے ،میں یہ سمجھا کہ کان ناک پکڑ کر عہد کرنا ہے، اس لئے میں نے ایسا کیا۔حضرت صاحب نے سمجھایا کہ اسلام علم اورعقل کومطمئن کرنے والا مذہب ہے۔ احمد صاحب اس لئے میں نے باوجود یہ کہ میری عقل کہہ ر ہی تھی کہ یہ پیر بابا کا ناٹک ہے، مگر وہ جیسا کہتے گئے ویسا میں نے کیا ،مرید ہو کر پہلے ہفتے کی نماز ، روزہ ، عبادات کی فیس دس ہزار روپئے ،اورمٹھائی کے لئے دو سو روپے میں نے ایڈ وانس میں پیر صاحب کو جمع کرا دئے۔
س: ماشاء اللہ ایسے مرید کھری فیس ادا کرنے والے کہاں کسی کو ملتے ہوں گے اس کے بعد آپ ماہانہ جمع کرتے رہے ؟
ج: مولانا احمد! دس ہزار تو وہ جمع کرتا ہی تھا، اس کے علاوہ پیر صاحب آنکھیں لال پیلی کرکے مٹھی بھی کھولتے تھے کہ آج تمہارے لئے خوش خبری ہے ،تمہارے درجے آسمان کی طرف چڑھ رہے ہیں، اس کی خوشی میں فرشتوں کو منانے کے لئے اب اس چیز کی ضرورت ہے۔ آٹھ سا ل ہو گئے مجھے اسلام قبول کئے ، اوسطاًبیس ہزار روپئے ماہانہ میں نے پیر بابا کو ضرور دئیے ہوں گے
س: اتنے پیسے آپ پیر بابا کو دیتے تھے۔ آپ کا کارو بار کیا ہے ؟
ج: میرا ایک مشہور بیوٹی پارلرہے،میں اور میری بیوی دونوں اس میں کام کرتے ہیں۔
س: اس میں اتنی آمدنی ہوجاتی ہے،آپ کی کیا فیس ہے؟
ج: مالک کا کرم ہے،کام بہت اچھا ہے، میری بیوی دلہن بنانے کی فیس پچا س ہزار تک بھی لے لیتی ہیں۔
س: تو پیرکی کیا خطا ہے۔ آپ بھی روپ بھرنے کے لئے لیتے ہیں پیر بابا بھی روپ بھرنے کے لئے ہی لیتے ہیں۔
ج: بات آپ کی ٹھیک ہے،جب میں حضرت سے پچھلے مہینے بیعت ہواتھاتوحضرت نے معلوم کیاتھا کہ آپ کا کاروبارکیا ہے؟ میں نے کہا کہ بیوٹی پارلر ہے، تو حضرت نے فرمایا کہ روز گار پاک اور حلال ہونا چاہیے،میں نے حضرت سے کہا کہ میں آج سے بیوٹی پار لر بند کردوں ،حضرت نے فرمایا کہ کوئی اچھا حلال طیب روزگار تلاش کریں، بالکل حرام تو نہیں ہاں اچھانہیں،جب دوسرا روزگار مل جائے تواس کو چھوڑدینا،ہاں البتہ تب تک مفتی صاحب کا نام بتایا کہ ان سے معلوم کر یں کہ بیوٹی پارلر میں کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں،اس کا خیال کریں ،میں نے کہا کہ حضرت میں نے دیویوں کو راضی کرنے کے لئے اتنی قربانیاں دی ہیں،میں اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے آپ سے بیعت ہوا ہوں ، اگر میرے اللہ کی رضا جان دینے میں ہے تو میں جان دینے کے لئے تیار ہوکر آیا ہوں، آپ مجھے بس حکم کریں ۔
س: ابی سے آپ مرید ہو گئے، آپ توپہلے پیر بابا سے مرید تھے، اب دوبارہ مرید کیسے ہو گئے ؟
ج: اصل میں میں تین سال سے حضرت سے ملنا چاہ رہا تھا حضرت کو فون کرتا تھا، پہلے تو فون ملتا ہی نہ تھا اور ملتا تو حضرت سفر پرہوتے ، دس روز پہلے میں نے فون کیا تو فوراً کہا کہ میں آٹھ سال پہلے مسلمان ہوا ہوں،مجھے جن مولانا صاحب نے حضرت کا پتہ دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ اپنانام بتانے سے پہلے یہ بتا دینا ، پھر حضرت کہیں نہ کہیں ملنے کی شکل بتا دیں گے ۔ میں نے جب کہا کہ میں تین سال سے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ حضرت نے بہت معذرت کی اور فرمایا کہ اتوار کے روز شاہین باغ آپ آجائیں ، بہت لوگوں کو میں نے بلالیا ہے ، مگر پھر بھی آپ کی زیارت ہو جائے گی ۔
س: ابی کا پتہ آپ کو کس نے دیا تھا ؟
ج: مجھے ایک مولانا صاحب نے حضرت کی کتاب’’ آپ کی امانت آپ کی سیو امیں‘‘ ،’ ’مجھے ہدایت کیسے ملی؟‘‘ اور’’ نسیم ہدایت کے جھونکے‘‘ خرید کر لا کر دی تھی ، میں نے وہ پڑھی ، اصل میں،میں اپنے پیر بابا کی مسلسل ٹھگی اورظلم سے پریشان تھا ، اور میں آٹھ سال تک اس مریدی سے یہ بات سمجھا کہ مذہب کے نام پر شرک،دھرم کے نام پر سب سے بڑا اَدھرم دھارمک پنڈتوں (مذہبی پیشواؤں)نے کیسے چلایا ، شرک کے نام پر لوگوں کو غلام بناکر ان کو ٹھگنے کانام شرک ہے ۔ مذہب انسان کی اندرونی پیاس ہے، اس کی آتما (روح)یہ مانگتی ہے کہ وہ اپنے خدا کو راضی کرے اس کے لئے اس سے جو قربانی مانگی جائے انسان دیتا ہے ، تقریبا بیس ہزار روپئے کی میری ماہانہ فیس کے علاوہ پیر بابانے مجھ پر نہ جانے کیاکیاظلم کئے۔ میری لڑکی بہت خوبصورت تھی،انٹرمیں پڑھ رہی تھی اچانک ایک جمعرات میں میں پیر بابا کے پاس گیا ، ہر جمعرات کوکچھ ہدیہ لے کر جانا پڑتا تھا ، میں پہنچا تو پیر بابا بہت خوش تھے،بولے عبدالرحمٰن تیرے لئے جو میں عبادت کررہا ہوں وہ مالک کے یہاں بہت قبول ہو رہی ہے ، پیر اور مرید کا رشتہ تو آقا اور غلام کا ہوتا ہے ، مگر شاید تجھے اپنے پیر کے برابر درجہ ملنے والا ہے،آج اوپر سے مجھے اشارہ ہوا ہے، عبدالرحمٰن پہلے ہی تمہارا غلام ہے ، مگر اس کی عقیدت ہمیں بہت قبول ہے، اپنے بیٹے سے اس کی بیٹی اور پھر اپنی بیٹی سے اس کے بیٹے کی شادی کردو،یہ اعزازبیٹا تمہیں مبارک ہو ، تمہاری اولاد نے کیسا نصیب پایا ہے ، پیر کے بیٹے و بیٹی سے آسمان سے رشتہ جڑوالیا ہے ، میں نے کہا اگر میرے مالک کا یہ حکم ہے تو میں حاضر ہوں ، میں گھر آیا اپنی بیوی سے بتایا ،بچوں سے مشورہ کیا،گھر والے تیار نہیں تھے ، گھر میں میں نے ان کو مالک کے غصے سے ڈرایا، وہاں سے حکم ہوا ہے تو ماننا چاہیے،مالک نے اولاد دی ہے تو اس کے حکم کو ماننا چاہیے۔
س: آپ کو یہ بات ڈھونگ نہیں لگ رہی تھی ؟
ج: دل میں بات آئی تھی کہ شاید یہ بھی ناٹک اور ڈھونگ ہے، مگر یہ بھی ڈر لگتا تھاکہ اگر سچ مچ مالک کا حکم ہوگا اورنہ مانا تو برباد ہوجائیں گے ،کبھی کبھی دل کرتا، پھر دل کو سمجھاتا ،اگر میرے مالک کے نام پر دھوکہ ہے تو اس کی محبت میں دھوکہ کھانا بھی اچھا ہے ، بس اس لئے سب کچھ کرتے رہے ۔
س: آگے کیا ہوا آپ نے شادیاں کردیں ؟
ج:میری لڑکی چھوٹی تھی اور پیر بابا کی لڑکی چھ سال بڑی تھی، مگر انہوں نے کہا کہ اشارہ ہے کہ پہلے تمہاری لڑکی کی شادی ہو،بیوی کو خدمت کرنی پڑتی ہے ،پہلے پیر کی لڑکی سے خدمت کرانا بے ادبی ہے، پہلے اپنی بیٹی کو خدمت کے لئے پیش کرو ، شادی سے پہلے ہم سے پیر بابانے کہا تم مرید ہو اور میں پیر ہوں ، اللہ کی محبت میں یہ رشتہ ہے، اس میں جو بھی آپ پیر بابا کو اپنی لڑکی کے جہیزمیں دوگے وہ جنت میں ملے گا، میں نے کہا اللہ کی محبت میں ہر چیز میری جانب سے ہے ، آپ حکم کرو ۔ پیر بابا نے کہا تمہاری بیٹی میوات آیا جایا کرے گی ، اس کے علاوہ ہمارے پاس بھی سواری کا سادھن نہیں ہے، ایک اے سی گاڑی دو، میرامکان تمہاری لڑکی کے لائق نہیں ہے ،میوات میں مکان دوبارہ بنوانا پڑے گا، اس کے علاوہ اور گھر میں ضرورت کا جو سامان تمہاری بچی چاہے ، ہم توفقیرآدمی ہیں،ہمارے پاس تو بورئیے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، بہرحال تقریباً ۲۸؍۲۹ لاکھ روپے شادی میں خرچ کئے ، ایک سال بعد پھر میری لڑکے کی شادی کا حکم اوپر سے آنے کی خبر دی ، وہ بولے تم مرید ہو میں پیر ہوں ہم تمہیں جنت اور ولایت کے درجات جیسی قیمتی چیز دلاتے ہیں ، اگر مرید اپنے پیر سے جہیز وغیرہ کا مطالبہ کرے تو مریدی ٹوٹ جائے گی،ان کی لڑکی جو کپڑے پہن کر آئی سارے میں نے ہی بنائے، ایک سوئی بھی ، وہ جہیز میں نہ لائی ۔
س: آپ یہ سب کچھ کرتے رہے آج کل عقل کا زمانہ ہے ، اور آپ شہر کے رہنے والے پڑھے لکھے گریجویٹ ہیں، بچے پڑھے لکھے ہیں، آپ کی بیوی پڑھی لکھی ہیں ؟
ج: اصل میں دل ٹو ٹتا رہا، مگر بس وہی بات کہ مالک کے نام پر دھوکہ کھانابھی ایک مزہ دیتا ہے ۔ ہم سب یہ کرتے رہے ۔
س: ان پیر صاحب سے اب بھی تعلق ہے ؟
ج: اصل میں’ نسیم ہدایت کے جھونکے ‘نے دل تو ہٹا دیا تھا ، مگر اب رشتوں کی وجہ سے ظاہری طور پر نبھاتے رہے ۔مگر اب ظالم نے میری بچی کو ستانا شروع کر دیاہے، پیر بابا کی بیوی ایسی ظالم عورت ہے کہ بس اللہ پناہ میں رکھے ، اب اس کے ظلم سے خود اس کا بیٹا بھی عاجز آگیاہے ، اور اس نے خود ہم سے کہا کہ ان دھوکہ بازوں کے چکر میں نہ آئیں ۔اصل میں اللہ تعالیٰ کو ہم پر ترس آیا، اس کے نام پر دھوکہ ہم نے چونکہ اس کی محبت میں کھایا تھا، اس لئے خود پیر باباکا بیٹا ہمارے لئے پیر بابا کے بندھن سے چھڑانے کا ذریعہ بنا۔ پیر بابا کا بیٹا جو ہمارا داماد ہے جاوید و ہ ایک ساتھی کے ساتھ دہلی حضرت سے ملا، دوکان نہ چلنے کی شکایت کی ، حضرت نے اس کو کسی ایک نماز کے بعد ایک تسبیح استغفار اور ہرماہ میں، تین ماہ تک تین دن جماعت میں لگانے کا مشورہ دیا ، اور فرمایا کہ امید ہے کہ انشاء اللہ کاروبار چل جائے گا ،وہ نمازیں پڑھتاتھا اس نے استغفا ر نماز کے بعد پڑھنے کے لئے عشاء کی نماز پڑھنا شروع کی اور جماعت میں تین روز تین ماہ تک لگائے ، تیسرے ماہ امیر صاحب نے چا ر ماہ کی تشکیل کر لی، اللہ کا شکر ہے وہ جماعت سے جڑ گیا اور وہ آج حضرت سے بیعت بھی ہوا ،اس نے زیادہ زور دیا کہ ہم سب گھر والے حضرت سے بیعت ہو جائیں، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے اور میری بیوی کو ایک ہفتے پہلے ہی توفیق دے دی ، میری بیوی اور بچے سب یہ کہہ رہے تھے کہ ڈیڈی اصل میں آج ایسا لگا جیسے ہم آزاد ہو گئے ،ہمارے گھر میں نسیم ہدایت کے جھونکے بہت دنوں سے بچے پڑھتے ہیں،میرے دونوں بیٹے اس کے بعد سے جمعرات کو مرکز بھی جانے لگے، اب میرا بھی جماعت میں وقت لگا نے کا ارادہ ہے ، حضرت نے بھی مشورہ دیا ہے کہ چا رمہینے لگا دوں۔
س: ماشاء اللہ واقعی آپ کی بات بھی خوب ہے کہ آپ کو بندر نے مسلمان بنادیا ہے ۔ اچھا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کا یہ انٹر ویو ہمارے یہاں میگزین ارمغان میں شائع کرنے کے لئے ہے آپ اس کے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام (سندیش )دیں گے ؟
ج: میں سندیش یا پیغام کیا دے سکتا ہوں،سچی بات یہ ہے کہ میں صرف ایک ہفتے کا مسلمان ہوں میں اپنی زندگی کے تجربے سے دو باتیں کہتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شرک کے واسطے سے مذہبی غلامی میں جکڑی انسانیت کو ایک اللہ کے سامنے کھڑا کرکے اور اس سچے مالک سے جوڑ کر آزاد کرانے کی کوشش کریں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نہ مظلوم اور سسکتی انسانیت کے گلے سے شرک کے پھندے اور بیڑیاں کاٹنے کے لئے بندروں کو بھیج کر یہ کام کرالیں گے ، دوسری بات یہ بھی دل میں آئی ہے کہ اللہ کی محبت میں اس کو راضی کرنے کی نیت سے اتنا دھوکہ کھانے اور قربانی دینے کے بدلے میں اللہ تعالی ٰ نے ہم پر ترس کھایا اور خود پیر بابا کے بیٹے کو اس چنگل سے نکالا اور ہمیں نکلوایا۔ تو اگر اس کے نام پر اسلامی او رشرعی قاعدوں کو جان کر قربانی دی جائے گی تو وہ اللہ کتنا نوازیں گے اس کا اندازہ مشکل ہے ۔
س: آپ نے اپنے خاندان پر کام کا کچھ ارادہ کیا،آپ نے ابی سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا ؟
ج: ایسا نہیں ہوسکتا ، پہلی ملاقات میں سب سے پہلے حضرت نے یہ کہا کہ یہ ایمان آپ کا جب ہی ایمان ہے،جب یہ یقین ہو کہ ایمان کے بغیر نجات نہیں،اور جب یہ یقین ہے تو آپ کیسے انسان ہیں کہ آپ کے سامنے آپ کے بھائی بہن رشتہ دار جائے جائیں۔اور یہ ایمان اور بڑھے گا، جب آپ ساری انسانیت کی فکر کریں گے اور خاص طور پر رشتہ داروں اور خاندان والوں کا اور بھی زیادہ حق ہے ۔ الحمد للہ میں نے ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ بات کرنا شروع کردی ہے ، آپ سے دعا کی درخواست ہے ، اللہ تعالیٰ ہمارے سب رشتہ دار اسلام میں آجائیں ۔
س:آمین بہت بہت شکریہ، جزاکم اللہ خیرالجزاء ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ج: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



نو مسلم محمد شکیل (سنیل جوشی )سے ایک گفتگو




احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محمد شکیل : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


س :شکیل احمد صاحب! ابی نے چند روز پہلے ہم لوگوں کو بتایا تھاکہ آ پ نے ہمارے ایک ذمہ دار ساتھی کے ساتھ بہت غصہ کا معاملہ کیاتھااورگالیاں وغیرہ دی تھیں ،اور اب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازدیا،آپ کے اس غصہ اور ناراضگی کا پس منظر کیا تھا،حالانکہ آپ کے خاندان کے مسلمانوں سے تعلقات بھی رہے ہیں ؟ج:مولانااحمدصاحب ! اصل میں تو میرے مالک کو مجھ پر رحم آرہا تھا،پس اس نے ذریعہ بنادیا،ورنہ پچھلے دنوں مجھ پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو بھوت سوار تھا اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

 س:پھربھی ظاہری طو رپر اس غصہ کی وجہ کیا تھی؟
ج :اصل میں ہمارے یہاں شاہ آباد میں آندھرا کے چار بچے مسلمان ہوئے،چاروں بہن بھائی تھے،جس لڑکے کے ساتھ وہ آئے تھے اس نے ان کی بڑی بہن سے شادی کرلی تھی، ہمارے ضلع کی شیو سینا کے ذمہ داروں کو معلوم ہوگیاتو انھوں نے علاقہ میں بوال کھڑا کردیا، اس لڑکے کے خلاف بچوں کو بہکا کر مسلمان بنانے کا مقدمہ دائر کردیا، اور اس کو جیل بھیج دیا، عدالت میں ان بچوں نے صاف صاف کھل کر بیان دیا کہ ہم اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،لڑکی ابھی ١٨ سال کی نہیں ہوئی تھی، اصل میں اس کے والد جھانسی کے پاس کسی جگہ رہتے ہیں،شیو پوری کوئی ضلع ہے وہاں پر ان بچوں کی سگی ماں تو انتقال کرگئی، والد نے ایم پی میں ہی دوسری شادی کی، ماں کے رویہ سے پریشان ہوکر یہ بچے گھر سے بھاگ کرآگئے،اسٹیشن پر اس لڑکے کو یہ چاروں ملے،اس کو ترس آگیا،یہ ان کو شاہ آباد لے آیا ،گھروالوں نے مخالفت کی، مگر اس لڑکے نے اس لڑکی سے وعدہ کرلیا تھا اس لئے شادی کرلی، بعد میں عدالت اور پولیس نے ا ن بچوں کے والد سے رابطہ کیا تو ان کے والد نے یہ بیان دیا کہ یہ بچے میری مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،اور میری مرضی سے میری بیٹی نے شادی کی ہے، اس پر ہمارے یہاں کے شیو سینا والوں نے شیو پوری کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا اور بچوں کے والد کے خلاف بیان دینے پر زور دیا اور ان کو طرح طرح کی دھمکیاں بھی دیں، مگر وہ کسی طرح خلاف بیان دینے پر راضی نہ ہوئے، اور کہتے رہے کہ اس دیوتا صفت نوجوان نے ان بچوں پر ترس کھا کر اپنے پورے پریوار کے خلاف ایسی ہمدردی کی اور اس کو نبھایا، ہم اس کے خلاف بیان دیں یہ کیساگھور اَنیائے (سراسر نا انصافی )ہوگی،کیا میں بالکل حیوان بن جاؤں۔جب وہاں کے شیو سینکوں نے بہت زیادہ دباؤ دیا توان بچوں کے باپ نے اور ان بچوں کے ساتھ ان کی سوتیلی ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی، اس پر پورے علاقہ کی ہندو تنظیموں نے اپنی ہار سمجھ کر ایک جٹ ہوکر چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ علاقہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوتے جارہے ہیں، اس پر کھود کریدہوئی تو پتہ چلا کہ سنبھل اور اس کے پاس کے کچھ قصبوں میں کچھ لوگ یہ کام کررہے ہیں، میرے ایک ساتھی بجرنگ دل کے ضلع سنچالک ہیں،انل کوشک ،وہ میرے پاس سنبھل آئے اور انھوں نے سنبھل میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے لوگوں کی میٹنگ کی، اور اس میں دھرمانترن(تبدیلی مذہب )کو روکنے کے سلسلہ میں لوگوں کو گرمایا، میں بچپن سے بہت جذباتی آدمی ہوں مجھے بہت غصہ آیا، اور میں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اراردہ کرلیا، میرے ایک اور ساتھی نے جو اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا وعدہ کرچکے تھے، انھوں نے مجھے بتایا کہ اصل میں ایک کتاب ہندی میں’’ آپ کی امانت ،آپ کی سیوا میں‘‘ مولاناکلیم صدیقی صاحب نے لکھی ہے، وہ ایسی جادو بھری بھاشا(زبان)میں لکھی گئی ہے کہ جو اسے پڑھتا ہے مسلمان ہوجاتا ہے، اور وہ دہلی سے چھپی ہے اس پر چھپوانے والے کا فون نمبر ہے، میں نے کہا وہ کتاب ذرا مجھے لا کر دو، میں دیکھوں اس میں کیا بات لکھی ہے،اس نے کہا نہیں اس کا پڑھنا ٹھیک نہیں ہے، اس کتاب کا لیکھک (مصنف)کوئی تانترک ہے، اس نے اس کی بھاشا(زبان)میں جادو کردیا ہے،اگر تم پڑھوگے تو مسلمان ہوجاؤگے، مجھے بھی ڈر لگا، میں نے کتاب پر چھپے موبائیل نمبروں پر بات کی، پہلے نمبر پر ایک صاحب کو فون ملا وہ بڑے نرم سوا بھاؤ کے تھے،میں انھیں ماں بہن کی بڑی گالیاں دیتا رہا، اور پوری دھمکیاں دیتارہا،مگر وہ ہنستے رہے اور بولے آپ کی گالیاں کتنی میٹھی ہیں ان سے محبت کی خوشبو آرہی ہے، رات کو دوسرے نمبر پر میں نے بات کی اور بہت سخت سست آخری درجہ کی ماں بہن کی سڑی سڑی گالیاں دیتارہا،اور قتل کی اور پورے پریوار کو برباد کرنے کی دھمکیاں دیں، تو وہ صاحب پہلے تو بہت غصہ ہوئے پھر بولے ،میں نے پورا فون ٹیپ کرلیا ہے، اب آپ کے خلاف تھانہ میں رپورٹ کرانے جا رہا ہوں، ایک دفعہ تومیں ڈرسا گیا،پھر ہمت کی اور کہا کہ قتل کے بعد اکٹھے ہی کیس کردینا، میں نے ان سے کہا کہ ذرا اپنی پتنی(اہلیہ)سے بات کرادے، میں تجھے قتل کروں گا، تو وہ وِدھوا( بیوہ) ہوجائے گی،میں اس سے پہلے ہی شما(معافی اور
معذرت)تو کرلوں،پھر تو موقع ملے گانہیں۔

س :اچھا تو وہ آپ تھے، ابی تو بہت مزے لے کر یہ بات سناتے تھے، اور ان ساتھی کو سمجھایاتھاجب وہ بہت شکستہ دل ہوکر
 ان گالیوں کی شکایت کررہے تھے، ابی نے ان کو سمجھایا کہ تمھیں تو فخر کرنا چاہئے، کہ سید الاولین والآخرین نبی رحمت للعالمین کی سنت ادا کرنے کا شرف تمھیں ملا، دعوت کی راہ میں کسی خوش قسمت کو ہی گالیاں نصیب ہوتی ہیں، ابی ان سے کہنے لگے تم بتاؤ کوئی ایسا خوش قسمت آدمی جس کو دعوت کی راہ میں گالیاں ملی ہوں یہ پیارے آقا کی سنت ہے کہ جن کو دوزخ کی آگ سے نکالنے کے لئے آپ راتوں کو روتے اور دنوں کو خوشامد کرتے تھے، وہ لوگ گالیاں دیتے،پتھر برساتے، اور ہرطرح سے ستاتے تھے، پھر اس نے ان سے کہا کہ تم نے اس کی گالیوں پر تو غور کیا ،اس کی انسانیت اور رحم دلی اور اس کی محبت بھری فطرت کا احساس نہیں کیا کہ ابھی اس نے تمھیں قتل کیا بھی نہیں اور تمھاری اہلیہ سے معذرت اور تعزیت کرنے کو کہہ رہا ہے.... جی تو آگے سنائیے؟
ج:ان صاحب نے مجھ سے معلوم کیاکہ آپ یہ بتائیے کہ اس کتاب میں کون سی بات ایسی غلط ہے جس پر آپ کو اعتراض اور ایسا غصہ ہے، میں نے کہا ،میں نے تو وہ کتاب پڑھی نہیں، انھوں نے کہا پھر آپ کو غصہ کیوں ہے؟ میں نے کہا میرے کئی ساتھیوں نے کتاب پڑھنے سے منع کیا اور کہا جو بھی یہ کتاب پڑھتا ہے اس کتاب کی بھاشا(زبان)میں جادو کررکھا ہے، وہ مسلمان ہوجاتا ہے، اس ڈر کی وجہ سے میں نے کتاب نہیں پڑھی، انھوں نے کہا آپ کو کسی نے غلط کہا ہے؟ مجھ سے پوچھا آپ کچھ پڑھے لکھے ہیں؟ میں نے کہا میں ایم ایس سی ہوں، وہ بولے سائنس کے اسکالر ہو کر آپ کیسی اندھ وشواش کی بات کررہے ہیں، انسان کو مالک نے دیکھنے کے لئے عقل دی ہے، اور آپ اتنے پڑھے لکھے آدمی ہیں،انسان چاند تاروں پر جا رہا ہے، اور آپ جادو کی بات کر رہے ہیں، آپ ایسا کیجئے کہ آپ اس کتاب کو ضرور پڑھئے اور اس کے پڑھنے کے بعد جو بات آپ کو غلط لگے اپنے قلم سے کاٹ دیجئے، آئندہ آپ جس طرح کرکشن(اصلاح)کریں گے کتاب اسی طرح چھپے گی،انھوں نے کیا میں آپ کے پاس کتاب بھیج دوں؟ میں نے کہا اگر مجھے نہ ملی تو میں منگالوں گا، اور اگر مجھے اس کتاب میں کوئی بات
ہندو دھرم کے خلاف ملے گی تو میں تیرے پورے خاندان کو قتل کردوں گا۔ وہ بولے کوئی بات نہیں۔

س : ا س کے بعد آپ نے وہ کتاب پڑھی؟
ج : نہیں میں نے اس وقت وہ کتاب نہ تلاش کی نہ پڑھی، ساتھیوں سے بات ہوئی تومیری طبیعت میں بہت نرمی دیکھ کر وہ بہت برہم ہوئے، اور بولے کہ ایسے ہی تو لٹھ مار مار کر وہ دھرمانترن کررہے ہیں،دیکھا نہیں یہ عیسائی مشن والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں،میں جگہ جگہ جاکر چوراہوں پر اس کتاب اوراس کے بانٹنے والوں کو گالیاں دیتا، سنبھل کے نواب خاندان کے ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ سنبھل کے پاس ایک قصبہ میں ایک آدمی سنیل جوشی نام کا’’ آپ کی امانت‘‘ کے خلاف بہت غصہ ہے، وہ اس کے لیکھک(مصنف)کوبہت گالیاں بکتاہے،مولانا کلیم صاحب سے وہ مرید ہے، وہ تلاش کرتے کرتے میرے پاس پہنچے، مجھے دیکھا توچمٹ کر بہت رونے لگے، سنیل بھیا تم تو میرے ساتھ چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک پڑھے ہو،تمھارے ساتھ میں نے کبڈی بھی کھیلی ہے، میں نے بھی پہچان لیا،میں نے کہا کہ میرے پتاجی نے تو آپ کے ابا جان کی زمین بھی کاشت کی ہے، بولے ہاں ہاں وہ زمین تو والد صاحب نے بہت سستے داموں میں آپ کے پتاجی کو تعلقات کی وجہ سے فروخت کردی تھی،میں نے کہا ہاں تمھارے پتاجی تو ہماری شادی میں بہت بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے تھے، اور کئی دن تک کام کرایا تھا بلکہ ایک طرح سے شادی کی ذمہ داری نبھائی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے چمٹ گئے، بری بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ان کا رو روکر برا حال ہوگیا، روتے رہے اور کہتے رہے میرے لاڈلے دوست، ایمان کے بغیر تم مر گئے تو دوزخ میں جلو گے، میں ایسے اچھے دوست کو کیسے دوزخ میں جاتا دیکھوں گا،میرے بھائی سنیل میں نے اس بار حج میں بار بار تمھاری ہدایت کے لئے دعا کی ہے، میرے بھائی ایمان کے بغیر بڑا خطرہ ہے اور بہت خطرناک آگ ہے، میرے بھائی سنیل نرک کی آگ سے بچ جاؤ، جلدی سے کلمہ پڑھ لو، دیکھو میں دل کا مریض ہوں تڑپ تڑپ کر میرا ہارٹ فیل ہوجائے گا،میں ایسے اچھے دوست کو ہر گز کفر پر مرنے نہیں دوں گا، میرے بھائی کلمہ پڑھ لو،پھوٹ پھوٹ کر آواز سے روتے روتے ان کا برا حال ہو گیا، میں نے کہا میں کلمہ پڑھ لوں گا،تم چپ ہوجاؤ، میرے یار چائے تو پی لو، وہ بولے:میں کس دل سے چائے پی لوں جب میرا دلی پیارا دوست ،جس کا اتنا پیارا باپ ہو،جو میرے حقیقی بھائی کی طرح ہونے کے باوجود ایمان کے بغیر مرگیا،سنیل بھیا چچا بلرام جی پر نرک میں کیا کیا گذر رہی ہوگی، میرے ابا نے انھیں مرنے دیا مگر میں تمھیں ہرگز ا ب نرک میں نہیں جانے دوں گا، بار بارمیں ان کو پانی پلانے کی کوشش کرتا،مگر وہ کہتے تمھیں پانی کی پڑی ہے، میرا بھائی میرا دوست سنیل بغیر ایمان کے مرجائے گا۔میرے ہوش خراب ہوگئے، میں نے کہا: چپ ہوجاؤ،پانی پی لو،جو تم کہو گے،میں کرنے کو تیار ہوں،وہ بولے کلمہ پڑھ لو، میں نے کہا کہ تم پانی پی لو،میں کلمہ نہیں پورا قرآن پڑھ لوں گا، وہ بولے اگر پانی پیتے پیتے تم مرگئے تو نرک میں جاؤگے،میں نے کہا میرے بھائی، اچھا تم پڑھاؤکیا پڑھاتے ہو، میں نے ان کی حالت بری دیکھی تو اس کے علاوہ اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا، انھوں نے روتے روتے مجھے کلمہ پڑھایا،پھر ہندی میں اس کا انواد (ترجمہ)کرایا، میں نے ان کو پانی پلایا، میں نے کہا :اچھا اب تم خوش ہو اب چائے پی لو،انھوں نے چائے پی،اور جیب میں سے’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا میں‘‘نکال کر دی،کہ سنیل بھیا اس کتاب کو اب تم دوبار بہت غور سے پڑھنا،’ آپ کی امانت‘میں نے دیکھی تو میرا موڈ خراب ہوگیا،اچھا یہ کتاب تو میں کسی طرح بھی نہیں پڑھوں گا،اس کتاب کے لیکھک(مصنف)کو میں نے قتل کرنے کا پرن(عہد)کیا ہے ، وہ چائے چھوڑ کر پھر مجھے چمٹ گئے اور رونے لگے، میں نے کہا تم کچھ ہی کرو،میں کتاب نہیں پڑھ سکتا، وہ بولے کیوں اس کتاب سے تمھیں ایسی چڑ ہے، میں نے کہا،کیا تم ہی لوگ یہ کتاب بانٹ رہے ہو، انھوں نے کہا کہ تمھارا یہ گیا گذرا بھائی ہی یہ محبت کی خوشبو بانٹ رہا ہے، میں نے کہا محبت کی نہیں نفرت کی، اس کتاب کے نام سے مجھے غصہ آتاہے،وہ بولے کہ بھائی سنیل، اس کتاب میں کیا بات غلط ہے؟ تم نے یہ کتاب پڑھی ہے؟ میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا،اس کتاب کا لیکھک تانترک ہے، اس نے اس کے شبدوں میں جادو کررکھا ہے، وہ دلوں کو باندھ دیتے ہیں،وہ پھر پہلے کی طرح رونے لگے، سنیل بھیا،اس کتاب کا لیکھک ایک تانترک نہیں،ایک سچا انسان اور محبت کا فرشتہ ہے، اس نے اس کتاب میں محبت کی مٹھاس گھول رکھی ہے، اور اس کتاب میں سچ ہے ،سچی ہمدردی ہے،وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کی آتما سچی ہوتی ہے، وہ اپنے مالک کی طرف سے سچی بات پر قربان ہوتی ہے، میرے دوست تمھیں وہ کتاب ضرور پڑھنی پڑے گی۔میں نے کہاکہ سب کہتے ہیں جو اس کتاب کو پڑھتاہے وہ مسلمان ہوجاتاہے،مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے سچ مچ مسلمان ہونا پڑے گا۔ یہ کہنا تھاکہ وہ مجھے چمٹ گئے، اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے، میرے بھائی سنیل ، تم نے سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھا، جھوٹے دل سے پڑھا کلمہ کسی کام کا نہیں،میرے بھائی تمھیں یہ کتاب پڑھنی پڑے گی، میں ہر گز ہرگز تمھیں نرک میں نہیں جانے دوں گا، میرے بھیا میں مرجاؤں گا،مجھے ڈر لگا کہ یہ واقعی روروکے مرجائے گا، میں نے اس کو پانی پلانا چاہا، وہ پانی پینے کو تیار نہ ہوئے، میں نے کہا میرے باپ میں اس کتاب کو دس دفعہ پڑھوں گا تم چپ ہوجاؤ، اچھا یہ پانی پی لو، میں تمھارے سامنے ابھی پڑھتا ہوں اس نے اس شرط پر پانی پیا، ابھی اس کتاب کو پوری میرے سامنے پڑھوگے، میں نے ان کے سامنے کتاب پڑھنا شروع کی، اور خیال تھا کہ تھوڑی دیر میں یہ چپ ہوجائے گا تو یہ کتاب بند کردوں گا، مگر جیسے ہی دو شبد (مقدمہ کتاب)پڑھا،کتاب کے مصنف سے میری دوری کم ہوگئی ،اور پھر میں کتاب پڑھتا گیا،  آدھے گھنٹے میں اس کتاب کا پیش لفظ ہی   میرے اوپر جادو کرچکا تھا، میں نے اپنے دوست سے ایک بار سچے دل سے کلمہ شہاد ت پڑھانے کی خود رکویسٹ (درخواست)کی، انھوں نے مجھے کلمہ پڑھایا ،میں نے گلے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا،اوراپنا نام ان کے مشورہ سے شکیل احمد رکھا۔

س:اس کے بعد آپ نے اپنے اسلام کااعلان کیا؟
ج :رات کو میں نے اپنی بیوی سے بتانے کا ارادہ کیا،بازار سے اس کے لئے جوڑا لیا،اور ایک چاندی کی انگوٹھی خریدی، ایک مٹھائی کا ڈبہ , یہ میری شادی کا دن تھا، اور یہ دن میری بیوی کا برتھ ڈے بھی تھا، رات کومیں نے اس کو مبارک باد دی اور حد درجہ محبت کا اظہار کیا جو میرے معمول کے بالکل خلاف تھا، وہ حیرت سے معلوم کرنے لگی کہ یہ کیا بات ہے، میں نے کہا کہ ایک آدمی سنیل جو تمھارے ساتھ بھارتیہ سماج کے مطابق پاؤں کی جو تی سمجھ کر ویوہار(سلوک)کرتا تھا،آج اس نے نیا جنم لیا ہے،اس پر اس کے مالک نے مہر کردی ہے، اسے دھارمک بنادیاہے،ایک پریم کا دیوتا میرے پاس آکر میرے جیون کے اندھکار کو پرکاشت (اندھیرے کو منور)کرگیا ہے،میں تم سے آج تک کے سارے اتیاچار(ظلم)کے لئے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتا ہوں،اور آئندہ کے لئے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم میری جیون ساتھی،میرے سر کا تاج ہو، وہ بولی میں سمجھ نہیں سکی،میں نے کہا اس کو سمجھنے کے لئے اگر تمھارے پاس وقت ہے تو آدھا گھنٹہ چاہئے، مگر جب تم خوشی سے تیار ہو ،میں تم پر زبردستی بہت کر چکا، اب مجھے نیائے دوس(آخرت)میں حساب دینے کاڈر ہوگیا ہے، تمھارے پاس جب خوشی سے وقت ہو میں ایک پاٹھ تمھیں سنانا چاہتا ہوں، وہ بولی،ایسی ادبھت (حیرت ناک) تبدیلی کے لئے میں سننے کو تیار ہوں، وہ کون سا پاٹھ ہے جس نے آپ کو ایسا بدل کر رکھ دیا، میں نے جیب سے آپ کی امانت نکالی اور پڑھنا شروع کی، وہ بڑے غور سے سنتی رہی،میں نے کتاب ختم کی تو وہ بولی یہ کتاب میں خود بھی پڑھ سکتی ہوں کیا؟ میں نے کہا میرا دل چاہتا ہے میں خود ہی سناؤں،اصل میں میرے دل میں یہ بات آگئی کہ 17 سال میں نے تمھاے ساتھ اتنی سختی اور ظلم کیا، ایک ایسا احسان کردوں جو 17 سال کا انیائے (نا انصافی) دھل جائے، کہ ہمیشہ کے عذاب سے تم بچ جاؤ، وہ بولی اچھا اب ایک بار اس کو ذرا سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں،میں نے کہا ضرور پڑھو، وہ کتاب اس نے لی،پوری کتاب ایک بیٹھک میں پڑھی، پھر میرے پاس آئی اور بولی اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سناتن دھرم اور سچا مذہب صرف اسلام ہے، میں نے کہا مالک نے تمھیں بالکل سچ سمجھایا ،میری اچانک تبدیلی سے وہ بہت متأثر  17 سال سے پہلی بار میں نے ا س کو گلے لگایا تھا، اس کو پیار کیا تھا محبت سے کچھ خرید کر اس کو پیش کیا تھا اس کے جنم دن اور شادی کے دن پر مبارک باد دی تھی، اب ا س کے لئے میری بات ماننا بالکل سوبھاوک (فطری)تھا،میں نے اس کو کلمہ پڑھنے کے لئے کہا وہ فوراً تیار ہو گئی ، میں نے آپ کی امانت میں دیکھ کر اس کو کلمہ پڑھوایا، اس کا نام آمنہ خاتون رکھا، اپنے دونوں بچوں کو بھی کلمہ پڑھوایا ،ان کا نام فاطمہ اور حسن رکھا۔


س:ا س کے بعد آ پ نے عام اعلان کیا؟
ج:ابھی تک عام اعلان نہیں کیا، البتہ میں چار پانچ روز کے بعد تمھارے یہاں ایک مولانا صاحب جن کے بارے میں مجھے معلوم ہوا تھا، آپ کی امانت بانٹتے ہیں،ان کو میں نے ایک دن کھری کھری گالیاں سنائی تھیں، ان کے پاس گیااور ان سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا،اور ان سے اپنی ختنہ کے سلسلہ میں مشورہ کیا، مگر ان کو یقین نہیں آیا، اور ذرا ٹالتے رہے، میں ان کے ڈر کو سمجھ گیا،اور میں مرادآباد ایک مسلمان ڈاکٹر کے پاس گیا، اور جاکر ختنہ کرائی، اس کے بعد میں نے تین بار
صرف تین تین دن گجرولہ جماعت میں لگائے۔

س:گجرولہ کے ساتھیوں کو معلوم تھاکہ آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟
ج:میں نے بتایا کہ اصل میں میں پیدائشی مسلمان تھا بعد میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے چکر میں ہندو بن گیا تھا اور یہ بات سچی تھی، ہر پیدا ہونے والا اسلام پر پیدا ہو تا ہے، اب میرا ارادہ پہلے چار ماہ جماعت میں لگانے کا ہے، اس کے بعد کھل کر اعلان کروں گا، اور انشاء اللہ دین سیکھ لوں گا تو دوسروں کو دعوت دینا آسان ہوگا۔

س:ماشاء اللہ ،اللہ تعالی ٰ مبارک فرمائے،واقعی آپ کا ایمان اللہ کی خاص ہدایت کی کار فرمائی ہے، اچھا آپ قارئین ارمغان کو کچھ پیغام دیں گے؟
ج:دو روز پہلے بدایوں میں حضرت تقریر فرمارہے تھے،کہ تمام مسلمانوں کو اللہ نے داعی بنایا ہے، داعی کی حیثیت طبیب کی اور جس کو دعوت دی جائے اس کی حیثیت مریض کی اور بیمار کی ہے اگر حکیم اور ڈاکٹر مریض کے علاج میں کوتاہی کریں اور مریض مرنے لگیں تو مریض کا غصہ ہونا بالکل نیچرل (فطری)ہے، مگر ڈاکٹر اور حکیم کو اپنے مریض سے نگاہ نہیں پھیرنی چاہئے، دعوت اصل میں محبت بھرا عمل ہے،یہ ڈبیٹ اور مناظرہ نہیں،کہ ہار جیت کی بات بنالے،یہ تو نبوی درد کے ساتھ اپنے مدعو کے خطرہ کو سمجھ کر کڑھنے اور تڑپنے کا عمل ہے، اگر سچے درد اور تڑپ کے ساتھ کوئی رونے والا ہو، مجھ جیسے جلالی اور غصہ ور، قتل اور گالیوں پر آمادہ درندہ کو جس کو کبھی اپنی بیوی بچوں پر پیار نہ آیا ہو،اس کو پگھلاکر اللہ کا بندہ اور غلام بنایا جا سکتا ہے، ایمان قبول کرنے کے بعدجیسے سنیل جوشی غصیارہ درندہ مرگیا اور محمد شکیل ایک کومل دل والے انسان نے جنم لے لیا، میرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ اصل میں درد اور خیر خواہی کی ضرورت ہے۔

س:واقعی بہت گہری بات آپ نے کہی ؟بہت بہت شکریہ جزاک اللہ آپ خوب سمجھے، السلام علیکم
ج: میں نہیں سمجھا،ایک رونے والے نے سمجھا دیا، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ وعلیکم السلام