مسعود احمد صاحب سے ایک ملاقات interview april 2011

س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

س: آپ کے ساتھ دو ساتھی بھی آئے ہیں، اِن کا تعارف کرائیے؟ ج: یہ دونوں میرے دفتر کے ساتھی ہیں،ہمارے ساتھ گڑگاؤں میں امریکی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں،ان میں سے یہ پہلے صاحب ،ان کا نام سنجے کوشک تھا،ان کا نیا نام سعید احمد ہے،اور یہ دوسرے انوپم گلاٹھی تھے،اب محمد نعیم ان کانام ہے، دونوں سافٹ ویر انجینئر ہیں دونوں نے IIT روڑکی سے بی ٹیک کیا ہے ،ہم لوگ روڑکی میں ساتھ پڑھتے تھے،تینوں دوست ہیں، اب انشاء اللہ جنت میں ساتھ جانے کی تمنا ہے،جو بظاہر اللہ نے چاہا تو پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ دونوں جماعت میں وقت لگاکر آرہے ہیں،ان کاچلہ عادل آباد میں لگا،وہاں پر انھوں نے حضرت کااور بھی تعارف سنا توبہت بے چین تھے کہ حضرت سے ملاقات ہوجائے،میری بھی خواہش تھی کہ ملاقات ہوجائے،وہ لوگ بیعت ہونے کے لئے آئے تھے ، اب چونکہ حضرت بالکل دعوت پر بیعت لینے لگے ہیں،اس لئے نئے ارادہ سے جا رہے ہیں۔


س:ان کو دعوت دینے میں آپ کوکوئی مشکل تو نہیں آئی ؟ ج:مشکل تو نہیں کہہ سکتے ،البتہ دوسال لگاتار دعائیں کرنی پڑیں ، اصل میں ان کوجب بھی اسلام کے بارے میں بتاتا،یا کوئی کتاب پڑھنے کو کہتا تو یہ میرا مذاق اڑاتے،یہ کہتے کہ ہمارے لئے کون سی کشمیری لڑکی تم نے تلاش کررکھی ہے جس کے لئے ہم مسلمان ہوں،میری بدقسمتی یا خوش قسمتی ہے جیسا کہ شاید آپ کو حضرت نے بتایا ہوگاکہ میرے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ جموں کی ایک لڑکی سے تعلقات اور شادی ہوئی،یہ ذریعہ ظاہر ہے کسی دوسرے کے لئے اسلام میں دل چسپی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا،تو میں جب بھی ان دوستوں کولے کر بیٹھتا یہ میرا مذاق بناتے،ان کو نان ویج(گوشت)کھانے کا بہت شوق ہے ،دعوت کے بہانے میں ان کو کریم ہوٹل جمعرات کو لے جاتا، اور مرکز لے جاکر تقریر سنواتا ،یہ میرا مذاق بناتے،مرکز کا بھی مذاق اڑاتے،ایک بار انھوں نے حضرت مولانا سعد صاحب کی بہت مذاق بنائی اور تین چار روز ان کی نقل اتارتے رہے،ایک ایک جملہ کو دو دوتین تین بار کہتے،مجھے دیکھتے ہی کہنے لگتے آؤ مولانا صاحب کی تقریر سنو،مجھے بہت تکلیف ہوتی،میں نے ان سے بولنا چھوڑدیا، ان دنوں میں نے بہت دعائیں کیں،اپنے اللہ کے سامنے بہت فریاد کی، میرے اللہ کو مجھ پر ترس آگیا، ایک ہفتہ سے زیادہ بول چال بند رہی ،پھر یہ دونوں میری خوشامد کرنے لگے جب ایک روز بہت خوشامدکی اور مجھ سے بہت معافی مانگی تو میں نے کہا میں تم سے اس شرط پر بولوں گاجب تم دونوں تین بار’’ آپ کی امانت‘‘ اور’’ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟‘‘پڑھنے کا وعدہ کرو،وہ تیار ہوگئے،اصل یہ ہے احمد صاحب، اللہ کے یہاں سے فیصلہ ہو گیا تھا،میرے اللہ کو مجھ گندہ پر ترس آگیااور فیصلہ ہوگیا،بس انھوں نے تین تین بار’ آپ کی امانت‘ اور’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘پڑھی اور خود ہی اسلام قبول کرنے کو کہنے لگے،میں دار ارقم آیا،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہیں ملا،مسجد میں ہم لوگوں نے دوپہر سے شام تک انتظار بھی کیا،پھر میں ان کو لے کر اگلے روز اتوار تھا جامع مسجددہلی چلاگیا،وہاں مولانا جمال الدین صاحب تفسیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے ان کو کلمہ پڑھوایا،کڑکر ڈوبا کورٹ میں میرے ایک دوست وکیل ہیں، انھوں نے ان کے کاغذات بنوائے،دوسرے ہفتے انھوں نے چھٹی لی اور جماعت میں وقت لگایا،مجھے ایسا لگتا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے اس کا اندازہ اب ہوا کہ مجھے اپنے ان دوستو ں سے کتنی محبت ہے ، مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے اپنے اسلام قبول کرنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی ان دونوں دوستوں کے اسلام لانے کی خوشی ہوئی،کئی باردفترسے رخصت ہوتے تو اتنی بے چینی ہوجا تی تھی کہ اگر میرا راستہ میں اکسیڈنٹ ہوگیایا ان میں سے کوئی آج ہی مرگیا تو کیا ہوگا،اورمیں رات بھر نہیں سوپاتا، دیر ہوجاتی تو اٹھتا، وضو کرتا،نماز پڑھ کر گھنٹوں گھنٹوں روتا رہتا،اخبار پڑھتا جگہ جگہ حادثے، اکسیڈنٹ، موت کی خبریں اور بھی بے چین کردیتیں، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ خوشی دکھائی اورانھیں جماعت بہت اچھی ملی ماشاء اللہ دونوں پابندی سے تہجد پڑھ رہے ہیں اور اب دعوت کا بہت جذبہ ان میں پیدا ہوگیا ہے۔


س: آپ تینوں گڑگاؤں میں ملازمت پر ساتھ لگے تھے؟ ج:نہیں! پہلے سنجے کوشک کی نوکری لگی،پھر ان کی کوشش سے ہم دونوں بھی اسی کمپنی میں ملازم ہوگئے،رہنا سہنا بھی ساتھ ہی ساتھ رہا ہے۔


س:آپ کی توشادی ہو گئی ہے،آپ اب بھی ساتھ ہی رہ رہے ہیں؟ ج:ہم تینوں جس فلیٹ میں رہ رہے تھے،میری شادی کے بعد ان دونوں نے میرے برابر میں ایک دوسرا فلیٹ لے لیا ہے، پرانا فلیٹ ذرا اچھا تھا ،وہ انھوں نے میرے لئے چھوڑدیا ہے۔


س: ابیّ بتارہے تھے کہ آپ کے سسرال والے سب بدعتی تھے، اللہ نے آپ کے ذریعہ ان کی اصلاح کی ہے، ذرااس کی تفصیل بتائیے؟ ج:اصل میں،میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک کشمیری جموں کی رہنے والی لڑکی آصفہ بٹ بھی کام کرتی تھی، اس سے میرے تعلقات ہوگئے،بات جب بڑھی تو شادی کے لئے آصفہ نے منع کردیاکہ تم ہندو ہومیں تم سے شادی نہیں کرسکتی، میرے لئے اس لڑکی کو چھوڑنا مشکل تھا،میں بہت غور کرتا رہا، میرے خاندان کاحال بھی ایسا نہیں تھا کہ میں لڑکی کے لئے مسلمان ہوتا،میں چھٹی لے کر بنارس اپنے گھر گیا کہ دیکھوں گھر والوں کی رائے کیا ہے؟ مگر وہ بنارس کے برہمن ان کے لئے تو نام لینا بھی جرم تھا،دو مہینے میں بنارس میں رہا، میرے دل میں وہ لڑکی جگہ کرچکی تھی کہ اس کے بغیر دو مہینے میرے لئے دو سوسال لگے،میں گڑگاؤں آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر مجھے اس سے شادی کرنی ہے،اور ایک روز میں نے آصفہ سے مسلمان ہوکر شادی کرنے کے لئے کہہ دیا،اس نے اپنے والد سے ملنے کے لئے کہا،اس کے والد لاجپت نگر میں شالوں کا کاروبار کرتے ہیں،میں ان سے ملا،انھوں نے کہا،تم مسلمان ہوجاؤ،ایک دو مہینے ہم دیکھیں گے،اطمینان ہو جائے گا تو شادی کر دیں گے،ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی کے ساتھ ایک لڑکے نے مسلمان ہوکر شادی کی تھی، مگر دو سال بعد وہ پھر ہندو ہوگیا، میں نے کہا میںآپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔
وہ بولے اجمیر شریف چلیں گے تم وہاں چل کر مسلمان ہوجانا،میں ان سے تقاضاکرتارہتاتھامگر ان کو مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملتا تھا،دو مہینہ کے بعد ایک اتوار کو ہم شتابدی سے اجمیرگئے، وہا ں جاکر ایک سجادہ صاحب سے ملے،موٹی موٹی مونچھیں،کالی مخمل کی ٹوپی،کلین شیوپاجامہ زمین میں جھاڑو دیتا ہوا، ایک صاحب اپنی دوکان کے کاؤنٹر پر براجمان تھے،نہ جانے کیا نام تھا چشتی قادری صاحب ،ہمارے سسر جن کا نام منظور بٹ ہے،ان کے پاس گئے، ان کی خدمت میں مٹھائی پیش کی،کچھ نقدنذرانہ بھی دیا اور آنے کی غرض بھی بتائی،انھوں نے پانچ ہزار روپئے خرچ بتایا،پھول اور چادرالگ سے خریدنے کے لئے کہا، مجھے میرے سر پر پھولوں کی ٹوکری اور چادر رکھ کر اندر لے کر گئے، مزار کی دیوار سے لگا کر کچھ منھ منھ میں کہا،اور یہ بھی کہا : یا خواجہ آپ کا یہ غلام ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کررہا ہے،اس کو قبول فرمالیجئے اور اس کے اندر کا کفر نکال دیجئے، چادراور پھول چڑھائے اور مجھے پاؤں کی طرف سجدے میں پڑنے کے لئے کہا، میں سجدہ میں پڑگیا اور میرے ساتھ میرے سسر منظور صاحب بھی، قادری صاحب نے باہر نکل کر مبارک باد دی کہ خواجہ صاحب نے آپ کااسلام قبول کرلیا،میں نے ان سے کہا کہ خواجہ صاحب نے اسلام قبول کرلیا،تو اب مجھے اسلام کے لئے کیا کرنا ہے؟بولے بیٹا تمھارا اسلام خواجہ نے قبول کرلیا،تم واقعی سچے دل سے اسلام میں آئے تھے،وہاں تو دل دیکھ کر قبولیت ہو تی ہے،میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں نے سچے دل سے کہاں اسلام کا ارادہ کیا ہے ؟


س:کیا آپ نے اس وقت اسلام قبول کرنے کا دل سے ارادہ نہیں کیا تھا؟ ج: نہیں مولانا احمد صاحب ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے صرف ان لوگوں کے اطمینان اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا تھا،اور میرے دل میں یہ بات تھی کہ باپ دادوں کا دھرم کوئی چھوڑنے کی چیز ہو تی ہے کیا؟


س:آپ اجمیر کچھ روز رہے یا واپس چلے آئے؟ ج:اسی رات کو بس سے دہلی آگئے،میں نے آصفہ سے شادی کا مطالبہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب ابھی مطمئن نہیں ہیں، ابھی دیکھ رہے ہیں۔


س: آپ نے کچھ نماز وغیرہ پڑھنی شروع کردی تھی؟ ج :تین چاربارجمعہ کی نماز ان کو دکھانے اوراطمینا ن کرانے کے لئے پڑھی،اصل میں نماز تو آصفہ کے گھر والے بھی نہیں پڑھتے تھے،اس کے تین بھائی اور ایک بہن،ماں باپ میں سے کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاتھا،بس اجمیرشریف سال میں دوبار جاتے اور نظام الدین اندر درگاہ میں ایک مہینے میں دوبار جاتے تھے ،اور جموں میں کچھ درگاہیں تھیں وہاں بھی جا تے،اسی کو اسلام سمجھتے تھے، ان کے ایک پیر تھے خاندانی،جو سال میں ایک دوبار ان سے نذرانہ لیتے تھے اورکہتے تھے کہ میں تم سب کی طرف سے نماز بھی پڑھ لیتا ہوں اور روزہ بھی رکھ لیتا ہوں۔


س:پھرشادی کس طرح ہوئی؟ ج :شادی ابھی کہاں ہوئی،اصل میں ان کے دوست کی لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا تھا کہ اس لڑکی سے جس لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کی تھی،وہ شادی کے بعد اس لڑکی کو ہولی دیوالی منانے کو کہتا تھا،اور نہ ماننے پر مارتا تھا،بات بن نہ سکی ، وہ ہندو تو تھا ہی،پھراسے چھوڑ کر اپنے خاندان میں چلا گیا،اس لئے آصفہ کے والد ڈرتے تھے،وہ لوگوں سے مشورہ کرتے،لوگ ان کو شادی نہ کرنے کی رائے دیتے،مگر وہ میرے تعلقات کے حد سے زیادہ بڑھنے کے بارے میں جانتے تھے،ان کے کسی ساتھی نے انھیں کشمیر میں مفتی نذیر احمدسے مشورہ کرنے کے لئے کہا، مفتی نذیر احمد صاحب کشمیر کے بڑے مفتی ہیں،بانڈی پورہ کوئی بڑا مدرسہ ہے وہاں مفتی اعظم ہیں،انھوں نے کسی سے ان کا فون نمبر لیا اور ان سے مشورہ کیا،اور بتایا کہ اجمیر شریف جاکر ہم اس لڑکے کو مسلمان کروالائے ہیں،اور خواجہ نے اسلام قبول کرلیا ہے،مفتی صاحب نے کہاخواجہ نے تو کب کا اسلام قبول کیا ہو ا ہے،وہ لڑکا اگراسلام قبول نہ کرے تو لڑکی کا نکاح ہی نہیں ہوگا،مفتی صاحب نے انھیں دار ارقم کا پتہ دیا اور حضرت مولانا کلیم صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا،منظور صاحب کئی بار دار ارقم اور خلیل اللہ مسجد آئے مگر ملاقات نہ ہوسکی،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہ ملا،بٹلہ ہاؤس مسجد میں کوئی عبد الرشید نو مسلم ہیں،ان سے منظور صاحب کی ملاقات ہوگئی،ان سے بات ہوئی،عبد الرشید صاحب نے بتایا کہ حضرت تو ایک ہفتہ کے بعد سفر سے آئیں گے،مولانا اویس اور مولانا اسامہ نانوتوی بھی نانوتہ گئے ہیں،آپ ایسا کریں ان سے مجھے ملا دیں، اگلے روز اتوار تھا،لاجپت نگر عبد الرشید دوستم نے آنے کا وعدہ کیا، میری ان سے ملاقات ہوئی،انھوں نے اسلام کے بارے میں سمجھایا اورکلمہ پڑھوایا اور مجھے اور میرے سسر منظور بٹ صاحب دونوں کو زور دے کر کہاکہ جماعت میں وقت لگوادیں،میرے کاغذات سرفراز صاحب ایڈوکیٹ سے بنوائے،اور مجھے مرکز جاکر ڈاکٹر نادر علی خاں سے مل کر جماعت میں جانے کو کہا،میرے سسر کو بہت سمجھایا اگر آپ اپنی بچی کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں کہ یہ شادی کے بعددوبارہ ہندو نہ ہوں تو کم از کم چالیس روز ورنہ اچھا تو یہ ہے کہ چار مہینے جماعت میں لگوادیں،وہ بولے کہ یہ وہابی ہو جائے گاتو نہ ہندو رہے گا نہ مسلمان،عبد الرشید صاحب نے سمجھایا کہ جماعت والے کسی کا مسلک نہیں بدلواتے، جوحنفی ہیں وہ حنفی رہتے ہیں ،جو شافعی ہیں وہ شافعی رہتے ہیں،اور اہل حدیث اہل حدیث رہتے ہیں،وہاں صرف فضائل بیان کئے جاتے ہیں،مسائل اپنے مسلک کے مطابق لوگ اپنے عالموں سے پوچھتے ہیں،بات ان کی سمجھ میں آگئی اور انھوں نے مجھے جماعت میں جانے کے لئے کہا،چالیس روز میرے لئے بڑی مشکل بات تھی مگر وہ اڑ گئے،بولے جب تک تم جماعت میں چلہ نہیں لگاؤگے شادی نہیں ہوگی،میں نے چھٹی لی اور مرکز اپنے سسر کے ساتھ گیا،ڈاکٹر نادر علی خاں صاحب کے کمرہ میں اوپر جاکر ان سے ملے،انھوں نے مشورہ دیا پہلے آپ مولانا کلیم صاحب سے ملیں،ہم نے بتایا بہت کوشش کے باوجود وہ نہیں مل سکے،عبد الرشید دوستم صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے جماعت میں جانے کا مشورہ دیاہے،علی گڑھ کے ایک پرانے استاذجماعت لے کر حیدرآبادجارہے تھے،ان کے ساتھ جماعت میں جڑوادیا،اور مجھے مشورہ دیا کہ تین چلے پورے کرکے آنا، جماعت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی،بہت اچھا وقت گذرا اور الحمد للہ اسلام میری سمجھ میں آگیا،امیر صاحب نے مشورہ دیا اور مجھے خود بھی تقاضا ہوا کہ جماعت چار مہینے کی ہے،تو میں بھی چار مہینے لگاؤں،جماعت میں ایک مولانا صاحب بھی تھے جو سال لگا رہے تھے،کئی بارنئے ساتھیوں کے ساتھ جماعت بٹ جاتی اورپھر ایک ساتھ آجاتی،
  15 اگست کو میرے چار ماہ پورے ہوئے۔ 16 اگست کو ہم دہلی مرکز پہنچے،ڈاکٹر نادر علی خاں سے ملاقات ہوئی،انھوں نے مجھے حضرت مولانا کلیم صاحب سے جڑے رہنے کی تاکید کی،بات شادی کی ہوئی تو مجھے ہچکچاہٹ تھی،کہ اگر ایسے بدعتی خاندان میں میری شادی ہوگئی توبچے اپنی ماں کے ساتھ بدعتی ہوں گے،اور نسلیں صحیح عقیدہ سے محروم رہیں گی،میں شادی کو ٹالتارہا، ایک روز آصفہ اور اس کے والد نے مجھ سے معلوم کیا کہ شادی کرناہے کہ نہیں؟ میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جماعت میں جانے سے پہلے تو آپ لوگوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مسلمان ہوں کہ نہیں،مگر اب معاملہ الٹا ہے، اجمیر میں لے جاکر جس طرح آپ نے مجھ سے شرک کرایا، قرآن و حدیث کے لحاظ سے تو مندر میں بت کو پوجنا اور اجمیر جاکر خواجہ خواجگان کی درگاہ پر سرجھکانا برابردرجہ کا شرک ہے،اللہ کے رسول  نے فرمایاہے:جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا،اللہ کے نبی  نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ سے فرمایا تھا کہ قبر میں تیرے اعمال کام آئیں گے،یہاں آپ کے پیر صاحب آپ کی نماز اور روزے ادا کرتے ہیں،اور بے وقوف بناتے ہیں۔اب اللہ کا شکر ہے میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام عقل والوں کا مذہب ہے،یہ رسم کانام نہیں،اگر آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہے تو آپ کو پورے خاندان والوں کے ساتھ مسلمان ہونا پڑے گا،جب تک آپ لوگ مسلمان نہیں ہوں گے میں شادی نہیں کروں گا،میں نے کہا : آپ کواور آپ کے تینوں بیٹوں کو چالیس روز لگانے پڑیں گے، میں نے کہا کہ جماعت والے مسلک نہیں بدلتے، میں نے خوشامد بھی کی، کئی ساتھیوں کو ان لوگوں سے ملوایا،الحمد للہ بڑی کوشش کے بعد وہ تیار ہوئے،پہلے میرے سسر نے وقت نکالا ، چھوٹے بیٹے شبیر بٹ کو ساتھ لے کر گئے،اس کے بعد بڑے بھائیوں نے وقت لگایا،اس دوران اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آصفہ کو کافی کتابوں کا مطالعہ کرایا،میں نے چار مہینہ میں قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا،اردو اچھی پڑھنے لگا تھا،اللہ کا شکر ہے آصفہ کا ذہن صاف ہوگیا،گڑگاؤں جامع مسجد کے امام صاحب کے ساتھ، میں آصفہ کو لے کر خلیل اللہ مسجد آیا،اور ہم دونوں امام صاحب کے مشورہ سے حضرت سے بیعت ہوگئے ،جب حضرت حج کو گئے ہوئے تھے توہماری شادی کی تاریخ طے ہوگئی، حضرت نے فون پر زور دیا کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے کہ کسی خاص شخصیت سے نکاح پڑھوانے کا اہتمام کیا جائے اور نکاح میں تاخیر کی جائے، حضرت نے ملاقات پر بھی نکاح میں جلدی کرنے کا مشورہ دیا تھا،بلکہ یہ بھی فرمایاتھاکہ اچھا ہے آج ہی نکاح ہوجائے،دونوں کے ایک ساتھ رہنے،بات کرنے کا قانونی حق ہو جائے گا،ورنہ اس طرح بات کرنا بھی گناہ ہے،اگر چہ جماعت سے آکر میں اللہ کا شکر ہے کافی احتیاط کرنے لگا تھا۔الحمد للہ 17  نومبر کو ہمارا نکاح ہوا،پھرجب حضرت واپس آگئے توآصفہ کے سارے خاندان والے حضرت سے بیعت ہوگئے۔


س:آپ کے گھر والوں کا کیا ہوا؟ ج : ابھی میں نے صرف اپنے گھروالوں کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے،ابھی جلدی ہی حضرت نے بنارس کے ایک صاحب کو ہمارے والد صاحب کا فون نمبر دیا ہے،ہمارے والد صاحب ریلوے میں ایک اچھی پوسٹ پر ہیں،مغل سرائے میں ان کی پوسٹنگ ہے۔


س:اور بھی کچھ لوگوں پر آپ نے کام کیا ہے، اس کی کچھ تفصیل بتائیے؟ ج :ہماری کمپنی میں کام کرنے والے ایک ساتھی جوجے پور کے رہنے والے ہیں،ان کے والد دس سال پہلے بی جے پی کے ایم ایل اے رہے ہیں،الحمد للہ مسلمان ہو گئے ہیں، وہ جماعت میں گئے ہوئے ہیں۔


س:آپ کی اہلیہ آصفہ کا کیا حال ہے؟ ج :الحمد للہ میں نے مشورہ سے طے کیا ہے کہ وہ صرف دعوت کاکام کریں گی،انھوں نے ملازمت چھوڑ دی ہے ،برقع پہننے لگی ہیں،اسلام کا مطالعہ کررہی ہیں،اور قرآن و سیرت ،حضرت کے مشورہ سے پڑھنا شروع کیا ہے،ہم لوگ نیٹ پر دعوت کے لئے ایک آن لائن سائٹ کھول کر کام کا خاکہ بنا رہے ہیں،ان کی دوست دو لڑکیاں ان کی کوشش سے مسلمان ہو چکی ہیں۔


س:بہت بہت شکریہ ،مسعود بھائی، ارمغان کے قارئین کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گے؟ ج: خاندانی مسلمانوں کو رسمی اسلام سے نکال کر قرآنی اسلام میں لانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوتی شعور بیدار ہو، نیا خون پرانے بیمار خون کو تازہ اور صاف کرتا ہے،میں نے اپنا اسلام قبول کیا تھاتومجھے اپنی سسرال والوں کے اسلام کی کیسی فکر تھی بس میں ہی جانتاہوں۔


س:بے شک! بہت پتے کی بات آپ نے کہی ہے۔ السلام علیکم ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




Armughan, April 2011

1 comments:

نورمحمد ابن بشیر said...

Subhan- Allah . . . Allah jab hidyat ki hawa chalata hai to jiss ko chahe atta karta hai...

Agar hamara bhi kuch hissa iss mehenat me lage to hamari khush kismati hogia

jazakallah

Post a Comment