مسعود احمد صاحب سے ایک ملاقات interview april 2011

س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

س: آپ کے ساتھ دو ساتھی بھی آئے ہیں، اِن کا تعارف کرائیے؟ ج: یہ دونوں میرے دفتر کے ساتھی ہیں،ہمارے ساتھ گڑگاؤں میں امریکی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں،ان میں سے یہ پہلے صاحب ،ان کا نام سنجے کوشک تھا،ان کا نیا نام سعید احمد ہے،اور یہ دوسرے انوپم گلاٹھی تھے،اب محمد نعیم ان کانام ہے، دونوں سافٹ ویر انجینئر ہیں دونوں نے IIT روڑکی سے بی ٹیک کیا ہے ،ہم لوگ روڑکی میں ساتھ پڑھتے تھے،تینوں دوست ہیں، اب انشاء اللہ جنت میں ساتھ جانے کی تمنا ہے،جو بظاہر اللہ نے چاہا تو پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ دونوں جماعت میں وقت لگاکر آرہے ہیں،ان کاچلہ عادل آباد میں لگا،وہاں پر انھوں نے حضرت کااور بھی تعارف سنا توبہت بے چین تھے کہ حضرت سے ملاقات ہوجائے،میری بھی خواہش تھی کہ ملاقات ہوجائے،وہ لوگ بیعت ہونے کے لئے آئے تھے ، اب چونکہ حضرت بالکل دعوت پر بیعت لینے لگے ہیں،اس لئے نئے ارادہ سے جا رہے ہیں۔


س:ان کو دعوت دینے میں آپ کوکوئی مشکل تو نہیں آئی ؟ ج:مشکل تو نہیں کہہ سکتے ،البتہ دوسال لگاتار دعائیں کرنی پڑیں ، اصل میں ان کوجب بھی اسلام کے بارے میں بتاتا،یا کوئی کتاب پڑھنے کو کہتا تو یہ میرا مذاق اڑاتے،یہ کہتے کہ ہمارے لئے کون سی کشمیری لڑکی تم نے تلاش کررکھی ہے جس کے لئے ہم مسلمان ہوں،میری بدقسمتی یا خوش قسمتی ہے جیسا کہ شاید آپ کو حضرت نے بتایا ہوگاکہ میرے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ جموں کی ایک لڑکی سے تعلقات اور شادی ہوئی،یہ ذریعہ ظاہر ہے کسی دوسرے کے لئے اسلام میں دل چسپی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا،تو میں جب بھی ان دوستوں کولے کر بیٹھتا یہ میرا مذاق بناتے،ان کو نان ویج(گوشت)کھانے کا بہت شوق ہے ،دعوت کے بہانے میں ان کو کریم ہوٹل جمعرات کو لے جاتا، اور مرکز لے جاکر تقریر سنواتا ،یہ میرا مذاق بناتے،مرکز کا بھی مذاق اڑاتے،ایک بار انھوں نے حضرت مولانا سعد صاحب کی بہت مذاق بنائی اور تین چار روز ان کی نقل اتارتے رہے،ایک ایک جملہ کو دو دوتین تین بار کہتے،مجھے دیکھتے ہی کہنے لگتے آؤ مولانا صاحب کی تقریر سنو،مجھے بہت تکلیف ہوتی،میں نے ان سے بولنا چھوڑدیا، ان دنوں میں نے بہت دعائیں کیں،اپنے اللہ کے سامنے بہت فریاد کی، میرے اللہ کو مجھ پر ترس آگیا، ایک ہفتہ سے زیادہ بول چال بند رہی ،پھر یہ دونوں میری خوشامد کرنے لگے جب ایک روز بہت خوشامدکی اور مجھ سے بہت معافی مانگی تو میں نے کہا میں تم سے اس شرط پر بولوں گاجب تم دونوں تین بار’’ آپ کی امانت‘‘ اور’’ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟‘‘پڑھنے کا وعدہ کرو،وہ تیار ہوگئے،اصل یہ ہے احمد صاحب، اللہ کے یہاں سے فیصلہ ہو گیا تھا،میرے اللہ کو مجھ گندہ پر ترس آگیااور فیصلہ ہوگیا،بس انھوں نے تین تین بار’ آپ کی امانت‘ اور’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘پڑھی اور خود ہی اسلام قبول کرنے کو کہنے لگے،میں دار ارقم آیا،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہیں ملا،مسجد میں ہم لوگوں نے دوپہر سے شام تک انتظار بھی کیا،پھر میں ان کو لے کر اگلے روز اتوار تھا جامع مسجددہلی چلاگیا،وہاں مولانا جمال الدین صاحب تفسیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے ان کو کلمہ پڑھوایا،کڑکر ڈوبا کورٹ میں میرے ایک دوست وکیل ہیں، انھوں نے ان کے کاغذات بنوائے،دوسرے ہفتے انھوں نے چھٹی لی اور جماعت میں وقت لگایا،مجھے ایسا لگتا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے اس کا اندازہ اب ہوا کہ مجھے اپنے ان دوستو ں سے کتنی محبت ہے ، مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے اپنے اسلام قبول کرنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی ان دونوں دوستوں کے اسلام لانے کی خوشی ہوئی،کئی باردفترسے رخصت ہوتے تو اتنی بے چینی ہوجا تی تھی کہ اگر میرا راستہ میں اکسیڈنٹ ہوگیایا ان میں سے کوئی آج ہی مرگیا تو کیا ہوگا،اورمیں رات بھر نہیں سوپاتا، دیر ہوجاتی تو اٹھتا، وضو کرتا،نماز پڑھ کر گھنٹوں گھنٹوں روتا رہتا،اخبار پڑھتا جگہ جگہ حادثے، اکسیڈنٹ، موت کی خبریں اور بھی بے چین کردیتیں، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ خوشی دکھائی اورانھیں جماعت بہت اچھی ملی ماشاء اللہ دونوں پابندی سے تہجد پڑھ رہے ہیں اور اب دعوت کا بہت جذبہ ان میں پیدا ہوگیا ہے۔


س: آپ تینوں گڑگاؤں میں ملازمت پر ساتھ لگے تھے؟ ج:نہیں! پہلے سنجے کوشک کی نوکری لگی،پھر ان کی کوشش سے ہم دونوں بھی اسی کمپنی میں ملازم ہوگئے،رہنا سہنا بھی ساتھ ہی ساتھ رہا ہے۔


س:آپ کی توشادی ہو گئی ہے،آپ اب بھی ساتھ ہی رہ رہے ہیں؟ ج:ہم تینوں جس فلیٹ میں رہ رہے تھے،میری شادی کے بعد ان دونوں نے میرے برابر میں ایک دوسرا فلیٹ لے لیا ہے، پرانا فلیٹ ذرا اچھا تھا ،وہ انھوں نے میرے لئے چھوڑدیا ہے۔


س: ابیّ بتارہے تھے کہ آپ کے سسرال والے سب بدعتی تھے، اللہ نے آپ کے ذریعہ ان کی اصلاح کی ہے، ذرااس کی تفصیل بتائیے؟ ج:اصل میں،میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک کشمیری جموں کی رہنے والی لڑکی آصفہ بٹ بھی کام کرتی تھی، اس سے میرے تعلقات ہوگئے،بات جب بڑھی تو شادی کے لئے آصفہ نے منع کردیاکہ تم ہندو ہومیں تم سے شادی نہیں کرسکتی، میرے لئے اس لڑکی کو چھوڑنا مشکل تھا،میں بہت غور کرتا رہا، میرے خاندان کاحال بھی ایسا نہیں تھا کہ میں لڑکی کے لئے مسلمان ہوتا،میں چھٹی لے کر بنارس اپنے گھر گیا کہ دیکھوں گھر والوں کی رائے کیا ہے؟ مگر وہ بنارس کے برہمن ان کے لئے تو نام لینا بھی جرم تھا،دو مہینے میں بنارس میں رہا، میرے دل میں وہ لڑکی جگہ کرچکی تھی کہ اس کے بغیر دو مہینے میرے لئے دو سوسال لگے،میں گڑگاؤں آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر مجھے اس سے شادی کرنی ہے،اور ایک روز میں نے آصفہ سے مسلمان ہوکر شادی کرنے کے لئے کہہ دیا،اس نے اپنے والد سے ملنے کے لئے کہا،اس کے والد لاجپت نگر میں شالوں کا کاروبار کرتے ہیں،میں ان سے ملا،انھوں نے کہا،تم مسلمان ہوجاؤ،ایک دو مہینے ہم دیکھیں گے،اطمینان ہو جائے گا تو شادی کر دیں گے،ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی کے ساتھ ایک لڑکے نے مسلمان ہوکر شادی کی تھی، مگر دو سال بعد وہ پھر ہندو ہوگیا، میں نے کہا میںآپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔
وہ بولے اجمیر شریف چلیں گے تم وہاں چل کر مسلمان ہوجانا،میں ان سے تقاضاکرتارہتاتھامگر ان کو مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملتا تھا،دو مہینہ کے بعد ایک اتوار کو ہم شتابدی سے اجمیرگئے، وہا ں جاکر ایک سجادہ صاحب سے ملے،موٹی موٹی مونچھیں،کالی مخمل کی ٹوپی،کلین شیوپاجامہ زمین میں جھاڑو دیتا ہوا، ایک صاحب اپنی دوکان کے کاؤنٹر پر براجمان تھے،نہ جانے کیا نام تھا چشتی قادری صاحب ،ہمارے سسر جن کا نام منظور بٹ ہے،ان کے پاس گئے، ان کی خدمت میں مٹھائی پیش کی،کچھ نقدنذرانہ بھی دیا اور آنے کی غرض بھی بتائی،انھوں نے پانچ ہزار روپئے خرچ بتایا،پھول اور چادرالگ سے خریدنے کے لئے کہا، مجھے میرے سر پر پھولوں کی ٹوکری اور چادر رکھ کر اندر لے کر گئے، مزار کی دیوار سے لگا کر کچھ منھ منھ میں کہا،اور یہ بھی کہا : یا خواجہ آپ کا یہ غلام ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کررہا ہے،اس کو قبول فرمالیجئے اور اس کے اندر کا کفر نکال دیجئے، چادراور پھول چڑھائے اور مجھے پاؤں کی طرف سجدے میں پڑنے کے لئے کہا، میں سجدہ میں پڑگیا اور میرے ساتھ میرے سسر منظور صاحب بھی، قادری صاحب نے باہر نکل کر مبارک باد دی کہ خواجہ صاحب نے آپ کااسلام قبول کرلیا،میں نے ان سے کہا کہ خواجہ صاحب نے اسلام قبول کرلیا،تو اب مجھے اسلام کے لئے کیا کرنا ہے؟بولے بیٹا تمھارا اسلام خواجہ نے قبول کرلیا،تم واقعی سچے دل سے اسلام میں آئے تھے،وہاں تو دل دیکھ کر قبولیت ہو تی ہے،میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں نے سچے دل سے کہاں اسلام کا ارادہ کیا ہے ؟


س:کیا آپ نے اس وقت اسلام قبول کرنے کا دل سے ارادہ نہیں کیا تھا؟ ج: نہیں مولانا احمد صاحب ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے صرف ان لوگوں کے اطمینان اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا تھا،اور میرے دل میں یہ بات تھی کہ باپ دادوں کا دھرم کوئی چھوڑنے کی چیز ہو تی ہے کیا؟


س:آپ اجمیر کچھ روز رہے یا واپس چلے آئے؟ ج:اسی رات کو بس سے دہلی آگئے،میں نے آصفہ سے شادی کا مطالبہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب ابھی مطمئن نہیں ہیں، ابھی دیکھ رہے ہیں۔


س: آپ نے کچھ نماز وغیرہ پڑھنی شروع کردی تھی؟ ج :تین چاربارجمعہ کی نماز ان کو دکھانے اوراطمینا ن کرانے کے لئے پڑھی،اصل میں نماز تو آصفہ کے گھر والے بھی نہیں پڑھتے تھے،اس کے تین بھائی اور ایک بہن،ماں باپ میں سے کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاتھا،بس اجمیرشریف سال میں دوبار جاتے اور نظام الدین اندر درگاہ میں ایک مہینے میں دوبار جاتے تھے ،اور جموں میں کچھ درگاہیں تھیں وہاں بھی جا تے،اسی کو اسلام سمجھتے تھے، ان کے ایک پیر تھے خاندانی،جو سال میں ایک دوبار ان سے نذرانہ لیتے تھے اورکہتے تھے کہ میں تم سب کی طرف سے نماز بھی پڑھ لیتا ہوں اور روزہ بھی رکھ لیتا ہوں۔


س:پھرشادی کس طرح ہوئی؟ ج :شادی ابھی کہاں ہوئی،اصل میں ان کے دوست کی لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا تھا کہ اس لڑکی سے جس لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کی تھی،وہ شادی کے بعد اس لڑکی کو ہولی دیوالی منانے کو کہتا تھا،اور نہ ماننے پر مارتا تھا،بات بن نہ سکی ، وہ ہندو تو تھا ہی،پھراسے چھوڑ کر اپنے خاندان میں چلا گیا،اس لئے آصفہ کے والد ڈرتے تھے،وہ لوگوں سے مشورہ کرتے،لوگ ان کو شادی نہ کرنے کی رائے دیتے،مگر وہ میرے تعلقات کے حد سے زیادہ بڑھنے کے بارے میں جانتے تھے،ان کے کسی ساتھی نے انھیں کشمیر میں مفتی نذیر احمدسے مشورہ کرنے کے لئے کہا، مفتی نذیر احمد صاحب کشمیر کے بڑے مفتی ہیں،بانڈی پورہ کوئی بڑا مدرسہ ہے وہاں مفتی اعظم ہیں،انھوں نے کسی سے ان کا فون نمبر لیا اور ان سے مشورہ کیا،اور بتایا کہ اجمیر شریف جاکر ہم اس لڑکے کو مسلمان کروالائے ہیں،اور خواجہ نے اسلام قبول کرلیا ہے،مفتی صاحب نے کہاخواجہ نے تو کب کا اسلام قبول کیا ہو ا ہے،وہ لڑکا اگراسلام قبول نہ کرے تو لڑکی کا نکاح ہی نہیں ہوگا،مفتی صاحب نے انھیں دار ارقم کا پتہ دیا اور حضرت مولانا کلیم صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا،منظور صاحب کئی بار دار ارقم اور خلیل اللہ مسجد آئے مگر ملاقات نہ ہوسکی،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہ ملا،بٹلہ ہاؤس مسجد میں کوئی عبد الرشید نو مسلم ہیں،ان سے منظور صاحب کی ملاقات ہوگئی،ان سے بات ہوئی،عبد الرشید صاحب نے بتایا کہ حضرت تو ایک ہفتہ کے بعد سفر سے آئیں گے،مولانا اویس اور مولانا اسامہ نانوتوی بھی نانوتہ گئے ہیں،آپ ایسا کریں ان سے مجھے ملا دیں، اگلے روز اتوار تھا،لاجپت نگر عبد الرشید دوستم نے آنے کا وعدہ کیا، میری ان سے ملاقات ہوئی،انھوں نے اسلام کے بارے میں سمجھایا اورکلمہ پڑھوایا اور مجھے اور میرے سسر منظور بٹ صاحب دونوں کو زور دے کر کہاکہ جماعت میں وقت لگوادیں،میرے کاغذات سرفراز صاحب ایڈوکیٹ سے بنوائے،اور مجھے مرکز جاکر ڈاکٹر نادر علی خاں سے مل کر جماعت میں جانے کو کہا،میرے سسر کو بہت سمجھایا اگر آپ اپنی بچی کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں کہ یہ شادی کے بعددوبارہ ہندو نہ ہوں تو کم از کم چالیس روز ورنہ اچھا تو یہ ہے کہ چار مہینے جماعت میں لگوادیں،وہ بولے کہ یہ وہابی ہو جائے گاتو نہ ہندو رہے گا نہ مسلمان،عبد الرشید صاحب نے سمجھایا کہ جماعت والے کسی کا مسلک نہیں بدلواتے، جوحنفی ہیں وہ حنفی رہتے ہیں ،جو شافعی ہیں وہ شافعی رہتے ہیں،اور اہل حدیث اہل حدیث رہتے ہیں،وہاں صرف فضائل بیان کئے جاتے ہیں،مسائل اپنے مسلک کے مطابق لوگ اپنے عالموں سے پوچھتے ہیں،بات ان کی سمجھ میں آگئی اور انھوں نے مجھے جماعت میں جانے کے لئے کہا،چالیس روز میرے لئے بڑی مشکل بات تھی مگر وہ اڑ گئے،بولے جب تک تم جماعت میں چلہ نہیں لگاؤگے شادی نہیں ہوگی،میں نے چھٹی لی اور مرکز اپنے سسر کے ساتھ گیا،ڈاکٹر نادر علی خاں صاحب کے کمرہ میں اوپر جاکر ان سے ملے،انھوں نے مشورہ دیا پہلے آپ مولانا کلیم صاحب سے ملیں،ہم نے بتایا بہت کوشش کے باوجود وہ نہیں مل سکے،عبد الرشید دوستم صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے جماعت میں جانے کا مشورہ دیاہے،علی گڑھ کے ایک پرانے استاذجماعت لے کر حیدرآبادجارہے تھے،ان کے ساتھ جماعت میں جڑوادیا،اور مجھے مشورہ دیا کہ تین چلے پورے کرکے آنا، جماعت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی،بہت اچھا وقت گذرا اور الحمد للہ اسلام میری سمجھ میں آگیا،امیر صاحب نے مشورہ دیا اور مجھے خود بھی تقاضا ہوا کہ جماعت چار مہینے کی ہے،تو میں بھی چار مہینے لگاؤں،جماعت میں ایک مولانا صاحب بھی تھے جو سال لگا رہے تھے،کئی بارنئے ساتھیوں کے ساتھ جماعت بٹ جاتی اورپھر ایک ساتھ آجاتی،
  15 اگست کو میرے چار ماہ پورے ہوئے۔ 16 اگست کو ہم دہلی مرکز پہنچے،ڈاکٹر نادر علی خاں سے ملاقات ہوئی،انھوں نے مجھے حضرت مولانا کلیم صاحب سے جڑے رہنے کی تاکید کی،بات شادی کی ہوئی تو مجھے ہچکچاہٹ تھی،کہ اگر ایسے بدعتی خاندان میں میری شادی ہوگئی توبچے اپنی ماں کے ساتھ بدعتی ہوں گے،اور نسلیں صحیح عقیدہ سے محروم رہیں گی،میں شادی کو ٹالتارہا، ایک روز آصفہ اور اس کے والد نے مجھ سے معلوم کیا کہ شادی کرناہے کہ نہیں؟ میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جماعت میں جانے سے پہلے تو آپ لوگوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مسلمان ہوں کہ نہیں،مگر اب معاملہ الٹا ہے، اجمیر میں لے جاکر جس طرح آپ نے مجھ سے شرک کرایا، قرآن و حدیث کے لحاظ سے تو مندر میں بت کو پوجنا اور اجمیر جاکر خواجہ خواجگان کی درگاہ پر سرجھکانا برابردرجہ کا شرک ہے،اللہ کے رسول  نے فرمایاہے:جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا،اللہ کے نبی  نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ سے فرمایا تھا کہ قبر میں تیرے اعمال کام آئیں گے،یہاں آپ کے پیر صاحب آپ کی نماز اور روزے ادا کرتے ہیں،اور بے وقوف بناتے ہیں۔اب اللہ کا شکر ہے میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام عقل والوں کا مذہب ہے،یہ رسم کانام نہیں،اگر آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہے تو آپ کو پورے خاندان والوں کے ساتھ مسلمان ہونا پڑے گا،جب تک آپ لوگ مسلمان نہیں ہوں گے میں شادی نہیں کروں گا،میں نے کہا : آپ کواور آپ کے تینوں بیٹوں کو چالیس روز لگانے پڑیں گے، میں نے کہا کہ جماعت والے مسلک نہیں بدلتے، میں نے خوشامد بھی کی، کئی ساتھیوں کو ان لوگوں سے ملوایا،الحمد للہ بڑی کوشش کے بعد وہ تیار ہوئے،پہلے میرے سسر نے وقت نکالا ، چھوٹے بیٹے شبیر بٹ کو ساتھ لے کر گئے،اس کے بعد بڑے بھائیوں نے وقت لگایا،اس دوران اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آصفہ کو کافی کتابوں کا مطالعہ کرایا،میں نے چار مہینہ میں قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا،اردو اچھی پڑھنے لگا تھا،اللہ کا شکر ہے آصفہ کا ذہن صاف ہوگیا،گڑگاؤں جامع مسجد کے امام صاحب کے ساتھ، میں آصفہ کو لے کر خلیل اللہ مسجد آیا،اور ہم دونوں امام صاحب کے مشورہ سے حضرت سے بیعت ہوگئے ،جب حضرت حج کو گئے ہوئے تھے توہماری شادی کی تاریخ طے ہوگئی، حضرت نے فون پر زور دیا کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے کہ کسی خاص شخصیت سے نکاح پڑھوانے کا اہتمام کیا جائے اور نکاح میں تاخیر کی جائے، حضرت نے ملاقات پر بھی نکاح میں جلدی کرنے کا مشورہ دیا تھا،بلکہ یہ بھی فرمایاتھاکہ اچھا ہے آج ہی نکاح ہوجائے،دونوں کے ایک ساتھ رہنے،بات کرنے کا قانونی حق ہو جائے گا،ورنہ اس طرح بات کرنا بھی گناہ ہے،اگر چہ جماعت سے آکر میں اللہ کا شکر ہے کافی احتیاط کرنے لگا تھا۔الحمد للہ 17  نومبر کو ہمارا نکاح ہوا،پھرجب حضرت واپس آگئے توآصفہ کے سارے خاندان والے حضرت سے بیعت ہوگئے۔


س:آپ کے گھر والوں کا کیا ہوا؟ ج : ابھی میں نے صرف اپنے گھروالوں کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے،ابھی جلدی ہی حضرت نے بنارس کے ایک صاحب کو ہمارے والد صاحب کا فون نمبر دیا ہے،ہمارے والد صاحب ریلوے میں ایک اچھی پوسٹ پر ہیں،مغل سرائے میں ان کی پوسٹنگ ہے۔


س:اور بھی کچھ لوگوں پر آپ نے کام کیا ہے، اس کی کچھ تفصیل بتائیے؟ ج :ہماری کمپنی میں کام کرنے والے ایک ساتھی جوجے پور کے رہنے والے ہیں،ان کے والد دس سال پہلے بی جے پی کے ایم ایل اے رہے ہیں،الحمد للہ مسلمان ہو گئے ہیں، وہ جماعت میں گئے ہوئے ہیں۔


س:آپ کی اہلیہ آصفہ کا کیا حال ہے؟ ج :الحمد للہ میں نے مشورہ سے طے کیا ہے کہ وہ صرف دعوت کاکام کریں گی،انھوں نے ملازمت چھوڑ دی ہے ،برقع پہننے لگی ہیں،اسلام کا مطالعہ کررہی ہیں،اور قرآن و سیرت ،حضرت کے مشورہ سے پڑھنا شروع کیا ہے،ہم لوگ نیٹ پر دعوت کے لئے ایک آن لائن سائٹ کھول کر کام کا خاکہ بنا رہے ہیں،ان کی دوست دو لڑکیاں ان کی کوشش سے مسلمان ہو چکی ہیں۔


س:بہت بہت شکریہ ،مسعود بھائی، ارمغان کے قارئین کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گے؟ ج: خاندانی مسلمانوں کو رسمی اسلام سے نکال کر قرآنی اسلام میں لانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوتی شعور بیدار ہو، نیا خون پرانے بیمار خون کو تازہ اور صاف کرتا ہے،میں نے اپنا اسلام قبول کیا تھاتومجھے اپنی سسرال والوں کے اسلام کی کیسی فکر تھی بس میں ہی جانتاہوں۔


س:بے شک! بہت پتے کی بات آپ نے کہی ہے۔ السلام علیکم ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




Armughan, April 2011



interview march 2011 بھائی مزمل (سوہن ویر) سے دلچسپ ملاقات

س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

س:مزمل بھائی آپ کا نمبر بھی آہی گیا؟
ج : جی احمدبھائی ،میں نے آپ سے کتنی بار کہا کہ میرا انٹرویو بھی لے لو۔

س:تمھارا حال تمھیں خود معلوم ہے کیسا تھا،کیا وہ اس لائق تھاکہ اسے چھپوایا جائے،وہ تو ایسا حال تھا کہ اسے چھپایاجائے بس،پھر یہ بات بھی تھی کہ ابی جس کے بارے میں فرماتے ہیں میں ان سے ہی بات کرتا ہوں،میں نے ابی سے تمھاری بات کہی تھی،تو ابی کہتے تھے ذرا انتظار کرلو اس کا حال ذرا اس لائق ہونے دو۔
ج: مشہور ہے کہ بارہ برس میں کوڑی کے دن بھی بحال ہو جاتے ہیں،احمد بھائی مجھے بارہ برس اسلام قبول کئے ہوئے ہو گئے،بلکہ اگر میں کہوں کہ اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ بھرے ہوئے ،تویہ بھی صحیح ہے۔

س:مزمل واقعی ہم پر تمھارا احسان ہے کہ تمھاری وجہ سے ہم نے ابی کو پہچانا اور ہمیں معلوم ہو ا کہ کسی کو برداشت کرنا اور صبر کرنا کس کو کہتے ہیں،ورنہ اچھے اچھے ہمت ہار جاتے ہیں؟
ج:احمد بھائی آپ حضرت کے گھر میں سب سے نرم، برداشت کرنے والے اور رحم دل ہیں،آپ نے بھی مجھے دو دفعہ پھلت سے بھگایا ،لیکن حضرت دونوں دفعہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر ساتھ لے آئے۔

س: اچھا اب ڈیڑھ سال سے تم نے کوئی ڈرامہ نہیں کیا، کہتے ہیں چورچوری سے جائے ،ہیرا پھیری سے نہیں جاتا،تو کیا اب تمھارے دل میں پرانی حرکتیں کرنے کی بات نہیں آتی۔
ج: الحمدللہ میرے اللہ کا کرم ہے(روتے ہوئے)اب کچھ بھی نہیں آتی۔ 

س:تمھیں کلمہ پڑھے ہوئے کتنے دن ہوئے؟
ج:کون ساوالا کلمہ پڑھے ہوئے، میں نے توبیسو ں بار کلمہ پڑھا ہے۔

س:تم نے اسلام قبول کرنے کے لئے کلمہ کب پڑھا؟
ج: مولوی احمد! میں نے ہر دفعہ اسلام قبول کرنے کے لئے کہہ کر کلمہ پڑھا،سب سے پہلا ڈرامہ میں نے ۹جون ۱۹۹۸ء میں کلمہ پڑھنے کا کیا، جب تھانہ بھون کے ایک بڑے آدمی چودھری صاحب مجھے حضرت کی خدمت میں لے کر آئے تھے،اس کے بعد میں ضرورت کے لحاظ سے بار بارکلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا،لیکن ۳مارچ ۲۰۰۹ء کو مجھے حضرت نے جامع مسجد پھلت میں دس بج کر بائیس منٹ پر کلمہ پڑھوایاتھااس کے بعدسے کوشش کرتا ہوں کہ اس پر جمع رہوں، ہمارے حضرت کہتے ہیں کہ مجھے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ ایمان رہا کہ نہیں،اس خوف سے مغرب کے بعد اور فجر کے بعد ایک دفعہ روزانہ ایمان قبول کرنے کے لئے کلمہ پڑھتا ہوں،آپ نے تو سنا ہو گا،کوئی نومسلم آکر کہتا ہے کہ میں نومسلم ہوں،حضرت معلوم کرتے ہیں کب مسلمان ہوئے؟تووہ بتاتا ہے کہ دو مہینے ہوگئے،دو سال ہوگئے۔حضرت کہتے ہیں کہ آپ تو مجھ سے پرانے مسلمان ہو،میں نے ابھی فجر کے بعد اسلام قبول کیا ہے یا مغرب کے بعد، حضرت تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر بچہ سچے نبی  کی سچی خبر کے مطابق مسلمان پیدا ہو تا ہے،تو اب آپ نو مسلم کہاں ہوئے آپ تو پیدائشی مسلمان ہیں،الحمد للہ ۹ جون سے روزانہ صبح وشام ایمان کی تجدید کرتا ہوں دن رات میں کبھی کبھی درمیان میں بھی کلمہ پڑھ لیتاہوں،کہ شاید ابھی موت کا وقت قریب ہو۔

س:آج کل تم کہاں رہ رہے ہو؟
ج:میں آج کل حضرت کے حکم سے سہارن پور کے ایک مدرسہ میں پڑھ رہا ہوں،یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ میں اگست ۲۰۰۹ء میں چارمہینے جماعت میں لگا کر آیا،اور قرآن شریف ناظرہ اور حفظ سات مہینے میں مکمل کیا،۵ اپریل ۲۰۱۰ء کو میرے حضرت ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے،میرے ختم قرآن کی دعا ہوئی،حضرت پر اس قدر رقت طاری تھی کہ تقریر کرنا مشکل ہوگیااور چالیس منٹ کی دعا کرائی،سارا مجمع روتا رہا،حضرت نے پروگرام کے بعدکھاناکھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ آج مجھے مزمل کے حفظ کی جتنی خوشی ہوئی اگر اللہ نے بخش دیا اور جنت میں جانا ہوا تو شاید اتنی خوشی بس اس روز ہو گی،اس کے بعدمیں نے دَور کیا اور الحمد للہ میں نے جماعت میں عادل آباد میں وقت لگایا،اور ساتھیوں کو قرآن شریف سنایا،اس سال الحمد للہ عربی پڑھنی شروع کردی ہے،میں نے حضرت سے وعدہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جلد حضرت کو عا لمیت کی سند دکھانی ہے ، ثم انشاء اللہ۔

س:قرآن مجید توآپ کا الحمد للہ اب بالکل پکا ہو گیا ہے،مگر آپ نے بڑی عمر میں حفظ کیا ہے اس لئے یاد کرتے رہنا چاہئے؟
ج :حضرت سے میں نے معلوم کیاتھا کہ ہمارے نبی صلی اللھ علیھ وسلم  کا کتنا قرآن پڑھنے کا معمول تھاتو حضرت نے بتایا کہ ایک منزل روزانہ ،اور بہت سے صحابہ کرام کا بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم  کی اتباع میں اس معمول کا ذکر آتا ہے،میں نے عید کے بعد سے تہجد میں ایک منزل پڑھنا شروع کیا ہے،چند دنوں کے علاوہ جب مجھے ڈینگو ہوگیا تھا الحمد للہ ابھی تک ناغہ نہیں ہوا،ہمارے مدرسہ میں صفر گھنٹے میں ترجمہ قرآن پڑھایا جاتا ہے، الحمد للہ مجھے خاصا قرآن سمجھ میںآنے لگا ہے،کبھی کبھی بہت ہی مزا آتا ہے۔

س:شروع میں جب ۱۹۹۸ء میں تم نے کلمہ پڑھا تھا تو اس وقت تمھارا ارادہ مسلمان ہونے کا تھا کہ نہیں؟
ج :اصل میں آپ کو معلوم ہے، میں تھانہ بھون کے قریب ایک بھنگی خاندان میں پیدا ہوا،ہمارے خاندان والے گاؤں کے چودھریوں کے یہاں صفائی وغیرہ کرتے تھے،میرے پتاجی دسویں کلاس تک پڑھے ہوئے تھے،اور سوسائٹی میں ملازم ہوگئے تھے، میری ماں بھی پڑھی لکھی ہیں،وہ ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں انھوں نے ہی مجھے پڑھایا،میں بہت ذہین تھا،ہائی اسکول میں فرسٹ ڈویزن پاس ہوا،گیارہویں کلاس میں پہلے مجھے شراب کی لت لگی پھراور دوسرے خطرناک نشوں کا عادی ہوگیا،اوراس طرح کے لڑکوں کے ساتھ بری سنگتی (صحبت) ہوگئی،ان میں ایک دو مسلمان بھی تھے،انٹر پاس کرکے میری ماں مجھے ڈاکٹربنانا چاہتی تھیں،مگرمیں آوارہ لڑکوں کے ساتھ لگ گیا،کچھ رفتار میری ایسی تیز تھی کہ جدھر جاتا آگے نکل جاتاتھا،تھانہ بھون میں ایک گوجر زمین دار کے بیٹے کے ساتھ میرے تعلقات بڑھے جو نشہ کی وجہ سے بنے تھے،ان کے یہاں حضرت ایک بار ناشتہ کے لئے آئے تھے،میں وہاں موجود تھا،حضرت سے چودھری صاحب کے بڑے بیٹے نے میری ملاقات کرائی،تو حضرت نے ان کے بیٹے جو میرے ساتھی تھے الطاف سے کہاکہ اپنے دوست کی خبر لوورنہ یہ تمھیں دوزخ میں پکڑ کر لے جائے گا،الطاف کے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا: سوہن ویر کب تک تو اچھوت رہے گا مسلمان ہوجا،میں نے کہا اگر میں مسلمان ہو جاؤں گاتومسلمانوں میں میری شادی ہو جائے گی؟ اس نے کہا: ہو جائے گی۔میں نے سوچا: چلو دیکھتے ہیں،ایک دفعہ مسلمان ہو کر دیکھتے ہیں،اگر جمے گا تو اچھا ہے ورنہ پھر اپنے گھر آجاؤں گا۔میرے پتاجی (والد)کا تو شراب کی لت میں 25 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا،میری ماں میری وجہ سے بہت پریشان رہتی تھی،الطاف کے بڑے بھائی مسرور مجھے لے کر پھلت پہنچے،حضرت نے مجھے کلمہ پڑھوایا، میرٹھ بھیج کر میرے کاغذ بنوائے اور مجھے جماعت کے لئے دہلی مرکز بھیج دیاگیا،ہماری جماعت بھوپال گئی،حضرت نے یہ کہہ کر پیسے اباّالیاس سے دلوائے کہ یہ قرض ہے،جماعت سے واپس آکر تم کام پر لگو گے تو واپس کرنے ہیں،جب یہ جیب خرچ ختم ہو گیا تو میں نے امیر صاحب سے کہا کہ میں نے گھر فون کیا تھا ،میری ماں بہت بیمار ہے مجھے بلایا ہے،امیر صاحب سے سترہ سو روپئے لے کر میں جماعت سے واپس آگیا،سترہ سو روپئے شراب اور گولیوں وغیرہ میں خرچ کئے اور تھانہ بھون پہنچا،وہاں لوگوں سے کہاکہ جماعت سے مجھے امیر صاحب نے بھگا دیا کہ تم نو مسلم ہو ہمیں مرواؤگے کیا؟ تمھارے گھر والے ہمارے سر ہوجائیں گے، یہ کہااور مجھے بھگا دیا،مجھے کرایہ کے پیسے بھی نہیں دئیے،الطاف نے حضرت کو فون کیا حضرت نے کہا کہ ہم معلوم کریں گے، ایسا نہیں ہو سکتا،پھر بھی اگر کوئی جماعت علاقہ میں کام کررہی ہو، اس میں جوڑ دیں،انھوں نے تھانہ بھون مر کز جاکر معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ کیرانہ کے علاقہ میں ایک اچھی جماعت کام کر رہی ہے،مجھے جماعت کے ایک ساتھی لے کر کیرانہ جاکر دوسری جماعت میں جوڑکرچلے آئے،جماعت میں امیر صاحب نے خرچ کی رقم امانت کے طور پر ایک ماسٹر صاحب کے پاس رکھ دی تھی،تین روز تومیں ہمت کرکے جماعت میں رہا،مگر میرے لئے مشکل تھا کہ میں اتنی محنت کروں،میں نے رات ماسٹر صاحب کے جواہر کٹ سے پیسے نکالے اور فرار ہو گیا،جب تک پیسے رہے تفریح کرتا رہا اورپھرپھلت پہنچا،حضرت سے بڑی مشکل سے وقت لے کر تنہائی میں ملاقات کی،حضرت سے معافی مانگی اورکہا کہ پہلے میری شادی کرادیں،حضرت نے مجھے سمجھایا کہ جب تک تم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو گے کون اپنی لڑکی دے گا،تم خود سوچو،ا گر تمھاری کوئی بیٹی ہو توتم بے روزگار لڑکے سے شادی کیسے کروگے؟کچھ صبر کرو،اپنے حال کو بناؤ،دیکھو تمھاری زندگی کا یہ اہم موڑ ہے، ہمیں تم سے صرف تمھارے مستقبل کے لئے تعلق ہے،تم اچھی زندگی گذاروگے تو خوشی ہوگی،مجھے بہت سمجھایا،مگر میری سمجھ میں بات نہ آئی، واپس آیااوردینک جاگرن کے دفتر میں کھتولی جاکر ایک خبر بنوائی:’’شادی کا وعدہ پورا نہ ہونے پر ہندو جوان نے اسلام لوٹایا‘‘ اور اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکٹ ایک لڑکے کے ہاتھ حضرت کے پاس بھجوادیااور حضرت سے کہلوادیا کہ اسلام مجھے نہیں چاہئے،گھر واپس چلا گیا،ماں مجھے دیکھ کر بہت ناراض ہوئی،لیکن جب میں نے دینک جاگرن دکھایا کہ اسلام چھوڑ کر آیا ہوں تو بہت خوش ہوئی۔گھر رہ کر پھر وہی کام ماں کو لوٹنا،شروع میں ماں جھیلتی رہی مگر ایک روز جب میں نے زیادہ نشہ کرکے گاؤں کے ایک لڑکے سے لڑائی کی تو وہ بہت پریشان ہوگئی اور بولی بس سوہن مجھے ایسے بیٹے سے اچھا ہے کہ میں بغیر بیٹے کے رہوں ،اور میرے گھر سے منھ کالا کرکے مجھے نکال دیا، ایک دوروز میں گھر سے اِدھر اُدھر رہا،مجھے کہیں ٹھکانہ نہیں ملا تومیں نے ہمت کرکے حضرت کو فون کیا،اتفاق سے فون مل گیا،حضرت سے میں نے کہا کہ میں مزمل آپ کا بھگوڑا بول رہا ہوں،حضرت نے کہا:ہمارا بھگوڑاکون ہو تا،میرا بیٹا مزمل بول رہا ہے،حضرت نے پوچھا: کہاں ہو؟میں نے کہا:مظفر نگر،حضرت نے کہا:پھلت آجاؤ، ملاقات پر بات ہو گی،میں نے کہا پھلت میں مجھے کون آنے دے گا ،حضرت نے کہا آجاؤ میں آج پھلت میں ہوں،پھلت پہنچا،حضرت نے گلے لگایا، رات کو دیر تک سمجھاتے رہے،اور بولے بیٹاجو کچھ تم اچھا برا کررہے ہو اپنے ساتھ کررہے ہو،تم ہمیں ستربار دھوکہ دوگے ہم فخر کے ساتھ دھوکہ کھائیں گے،اور حضرت عمر کا واقعہ سنایا،حضرت عمر فرماتے تھے دین کے نام پر کوئی ہمیں دھوکہ دے گا تو ہم ستر مرتبہ فخر سے دھوکہ کھائیں گے،مجھے زور دیتے رہے کہ تم جماعت میں ایک پورا چلہ لگالو،میں نے آمادگی ظاہر کی،میرے کاغذات تلاش کرائے تو نہیں مل سکے، دوبار ہ میرٹھ بھیج کر کاغذات بنوائے اور مجھے مرکز نظام الدین بھیج دیا گیا،اس بار ایک جاننے والے ساتھی کو سمجھا کر میرے ساتھ کیا، جماعت میں میرا وقت متھرا میں لگا،نشہ کی عادت میرے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا،میں بہت ہمت کرتا تھا مگر رکا نہیں جاتاتھا،دوبار میں نے باہر جا کر شراب پی لی،امیر صاحب نے حضرت کو فون کیا،حضرت نے ایک صاحب کو مظفر نگرسے نشہ چھڑانے کی دوا لے کر بھیجا،اس کو کھانے سے نشہ کا مسئلہ حل ہوگیا،مگر اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے میں پورے چلہ میں نے ساتھیوں کی ناک میں دم رکھا،مگر امیر صاحب حضرت کے ایک مرید تھے،ان سے حضرت نے کہہ دیاتھا، اگرآپ نے مزمل کا چلہ پورا لگوادیاتو آپ کو داعی سمجھیں گے ورنہ آپ فیل ہوجائیں گے،انھوں نے لوہے کے چنے چبائے مگر جماعت سے واپس نہیں کیا،چونکہ میرا ذہن بہت اچھا تھا،بالکل نہ کرنے کے بعد بھی میں نے نماز مکمل مع نماز جنازہ کے یاد کرلی،اور کھانے کے،سونے کے آداب،مختلف دعائیں یاد کرلیں،چلہ لگا کر آیا تو حضرت بہت خوش ہوئے، امیر صاحب کو بہت مبارک باد دی اور مجھے دہلی میں ایک جاننے والے کے یہاں نوکری پر لگوادیا،چار ہزار روپئے ماہانہ اور کھانا رہنا طے ہوا،ریسپشن پر ڈیوٹی تھی،وہا ں پر ایک لڑکی سے میرے تعلقات ہوگئے،اورمیں اسے لے کر فرار ہو گیا،لڑکی کے گھروالوں نے کمپنی کے مالک اور میرے خلاف ایف آئی آر کردی،سب کو پریشان ہونا تھا،حضرت نے کسی طرح افسروں سے سفارش کرکے کیس کو ڈیل کیا،لڑکی ایک برہمن کی تھی،میں نے اسے کلمہ پڑھوایا اور الہ آبادلے جا کر قانونی کاروائی کروائی،کمپنی میں تین اور نومسلم کام کرتے تھے،کمپنی والوں نے حضرت سے کہا کہ ان سبھی کو کہیں اور کام پر لگا دو،حضرت نے کہا ان کو رزق دینے والے اللہ ہیں، آپ جیسے کتنے لوگوں کو اللہ نے ان کی خدمت کے لئے مالدار بنایا ہے،حضرت ان تینوں کو لے کر آگئے اوراسی دن کوشش کرکے ان تینوں کو کام پر لگوادیا،میری یہ شادی زیادہ دن نہیں چل سکی اور میں نے اس لڑکی کو چھ مہینہ بعد طلاق دے دی۔

س: ان دنوں آپ کہاں رہے؟
ج :میں نے حضرت کا نام لے کر کان پور میں ایک صاحب کو اپنا باپ بنالیاتھا اور ان کے یہاں ہم دونوں رہے۔

س:انھوں نے ایسے میں تمہیں رکھ لیا
ج :میں حضرت کے تعلق کے لوگوں کو نگاہ میں رکھتا تھا، حضرت سے کوئی ملنے آیافورا فون نمبر لے لیا،ایک دو فون خیریت اور دعا کے لئے کرتا تھا حضرت بھی بیٹا بیٹا ان کے سامنے کرتے تھے ، لوگ سمجھتے کہ یہ حضرت کا بہت خاص ہے،بس میرا کام نکلتا رہتاتھا۔

س:اس طرح اندازاً تم نے کتنے لوگوں سے پیسے اینٹھے ہوں گے؟
ج :لاکھوں روپئے میں نے حضرت کے تعلق سے لوگوں سے وصول کئے اورسیکڑوں ایسے لوگ ہو ں گے جن سے میں نے فائدہ بلکہ حقیقت میں نقصان اٹھایا،دسیوں معاملے تو آپ کے سامنے بھی آئے،دوبار آپ نے ،ایک بار شعیب بھائی نے مجھے پھلت سے بھگادیا،آپ نے تو وارننگ دی تھی کہ آج کے بعد تمھیں پھلت میں دیکھا تو اپنی موجودگی میں منھ کالا کرکے نکال دوں گا۔

س:اس لڑکی کا کیاہوا؟
ج:اس کا اسلامی نام میں نے آمنہ رکھاتھا،گھروالے اسے مارنا چاہتے تھے،طلاق کے بعد اس کے لئے پھلت کے علاوہ کوئی جگہ نہیں تھی،حضرت کے پاس وہ پہنچی،حضرت نے اس کو میرٹھ کے کسی مدرسہ میں بھیجا،کچھ روز پڑھایا،عدت کا وقت گذرنے کے بعدغازی آباد کے ایک جاننے والے کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟
ج:مجھ پر ایک بہت شاطر شیطان سوار تھا،روز روز نئے کھیل سجھاتا تھا،میں نے حضرت سے کچھ بڑی رقم اینٹھنے کی سوچی میں نے مظفر نگرانٹلی جینس کے دفتر میں رابطہ شروع کیا اور وہاں ایک راجپوت انسپکٹر سے دوستی کرلی،اورکہاپھلت میں دھرم بدلوانے کاکام ہوتا ہے،اور بڑی رقم ان کے پاس باہرسے آتی ہے۔

س:کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسا ہے؟
ج : مجھے خوب معلوم ہے کہ حضرت کا مزاج تو یہاں کے لوگوں سے بھی چندہ کرنے کا نہیں ہے،بس ویسے ہی شیطانی میں میں نے ایسا کہا،میں نے کہا کہ میں وہاں سے آپ کو بڑی رقم دلواسکتا ہوں، مگر اس میں سے25%مجھے دینا ہوگا،وہ تیار ہو گئے انھوں نے ایک آئی بی کارکن کو جس کا پاؤں ایک حادثہ میں کٹ گیا تھا، میرے ساتھ بھیجا،اور ایک اور ساتھی کو ساتھ لیا، میں تو راستہ میں رک گیا اور ان کو وہاں بھیج دیا،ابا الیاس صاحب اور ماسٹر اکرم کاپتہ بتادیا،وہ دونوں پھلت پہنچے کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں، حضرت تو نہیں ملے،ماسٹراکرم کے پاس گئے ،ان سے باتیں ہوئیں،انھوں نے مولانا عمر صاحب سے ان کو ملوایا،محمودبھائی بھی آگئے، انھوں نے ان کو اسلام کا تعارف کروایااور بتایا کہ ہم لوگ تو پیسے لے کر مسلمان کرتے ہیں،ہم توکلمہ پڑھواکر اسلام دیتے ہیں،اس کے لئے کوئی رقم دینے یا شادی وغیرہ کا کیا تک ہے،ہمارے یہاں تو اگر آپ سرٹیفکٹ لیں گے تو پانچ سو روپئے فیس ہے،وہ دینی پڑے گی،ہم آپ کو مدرسہ کی رسید دیں گے،یہ لوگ اور بحثیں کرتے رہے ،وہاں پر کچھ ملا نہیں تومایوس ہوکر واپس آئے،مجھ پر بہت برسے ،وہاں سے’’ آپ کی امانت‘‘لے کر آئے،اس کو پڑھ کر بہت متأثر تھے،میں نے کہا اتنی آسانی سے بات بننے والی نہیں،وہ میرے اصرار پر دو تین مرتبہ گئے،کچھ ہاتھ نہیں آیا انھوں نے مجھے دھمکایاکہ تمھارے خلاف مقدمہ بنادیں گے،میں مایوس واپس آیا،پھرمیں نے بجرنگ دل اورشیوسینا والوں کو بھڑکانے کی کوشش کی،شیو سینا والوں نے پھلت کہلوایا بھی کہ پھلت والے یہ دھرم بدلوانے کا کام یاتو بند کردیں ورنہ ہم انتظام کریں گے،حضرت نے ان کے پاس ساتھیوں کو بھیجا،اور ان سے کام کا تعارف کرایااور دفتر والوں سے پھلت آنے کو کہا، باری باری وہ لوگ آتے رہے اور پھر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا،

س: اس کے بعد ایک بار ’پور قاضی ‘میں بھی توتم نے شادی کی تھی؟
ج :حضرت کے تعلق کے ایک قاضی جی سے میں نے بہت رو روکر اپنا حال سنایا اور ان سے کہا کہ میں نے حضرت کو بار بار نہ چاہتے ہوئے بھی دھوکہ دیا،اب میں اس وقت تک حضرت کو منھ نہیں دکھانا نہیں چاہتا جب تک ایک اچھا مسلمان نہ بن جاؤں، قاضی جی نے مجھ پر ترس کھاکر مجھے اپنے گھر رکھ لیا، ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی،میں ان کی دوکان پر بیٹھنے لگا،انھوں نے بجنور ضلع کے ایک گاؤں میں اپنے رشتہ داروں میں میری شادی کرادی بے چاروں نے خودہی شادی وغیرہ کے انتظامات کئے۔

س:انھوں نے آپ کے بارے میں تحقیق نہیں کی؟
ج:انھوں نے حضرت سے معلوم کیا تھا،حضرت نے کہا ہم داعی ہیں،اور داعی طبیب ہوتا ہے،آخری سانس تک مایوس ہونا اصول طب کے خلاف ہے،کوشش کیجئے،کیا خبر اللہ نے اس کی ہدایت آپ کے حصہ میں لکھی ہو۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟ اس لڑکی کو بھی تم نے طلاق دے دی ہے نہ؟
ج :بس آٹھ مہینے میں اس کے گھر والوں کا اور قاضی جی کے سارے خاندان والوں کا ناک میں دم کرکے،مار پیٹ کر تین طلاق دے کر بھاگ آیا۔

س:اس کے بعد کیا ہوا؟
ج :میں دربدر بھٹکتا رہا،اس دوران ایک بارہمت کرکے پھلت پہنچا،ماسٹر اسلام مجھے مل گئے، حضرت تو نہیں تھے، انھوں نے مجھے ڈرایا،بہت برا بھلا کہا کہ تو نے سب لوگوں کا اعتماد ختم کردیا، ہر نومسلم مہاجرسے یہاں کے لوگ بدظن ہوگئے ہیں،میں ان سے بہت لڑا اور چلا آیا،کئی بار غلط لوگوں کے ساتھ لگا،دوبار دودو مہینہ کی جیل میں بھی رہا،حضرت کے کسی جاننے والے نے ضمانت کرائی،اللہ کا شکر ہے کہ جن لوگوں نے مقدمہ کرایا تھا حضرت کی سفارش سے انھوں ے واپس لے لیا،جیل میں البتہ میں نے دولوگوں کو کلمہ پڑھوایا،حضرت سب لوگوں سے کہتے تھے کہ دیکھو اس کی وجہ سے پانچ لوگ جیل میں اور ایک برہمن کی لڑکی آمنہ مسلمان ہوئی،اب ان کی نسلوں میں قیامت تک کتنے لوگ مسلمان ہوں گے،اب اگر یہ ہماری زندگی کو جیل خانہ بھی بنادے تو ہم نے محنت وصول کرلی۔

س:سب گھر والے اور تعلق والے تمھاری وجہ سے ابی سے بحث بھی کرتے تھے،ابی اکثر،بگڑے ہوئے لوگوں اور نو مسلموں کے لئے کہتے ہیں کہ جیسی روح ویسے فرشتے،نیک لوگوں کے پاس نیک لوگ آتے ہیں،بدوں کے پاس بد آتے ہیں،ہم فاسق و فاجردھوکہ باز دھونگیوں کے پاس پاک باز اور نیک لوگ کہاں رہنے لگے،دیکھو شرابیوں کے پاس شرابی،جواریوں کے پاس جواری جمع ہوتے ہیں،ہم جیسے بدکاروں کے پاس کہاں نیک لوگ جمع ہونے والے ہیں،امی جان کا انتقال ہوا تو فرمانے لگے کہ امی جان نہیں رہیں تو ہمیں کیسی کمی محسوس ہورہی ہے،حالانکہ اپنے گھرکے سارے عزیز بھائی بہن بیوی بچے موجود ہیں،یہ بیچارے نومسلم ان کا کوئی بھی نہیں،اپنا سگا بیٹاکتنے عیبوں میں پھنس جاتا ہے،کبھی کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا،نہ گھر سے نکالتا ہے، یہ بیچارے دربدر پھرتے ہیں، ذرا سی بات ان سے ہوجائے تو لوگ انھیں نکال دیتے ہیں،پرانا مسلمان سارے عیب کرے تو کوئی خیال نہیں،یہ کل کا مسلمان سوچتے ہیں کہ فرشتہ بن جائے اور سب دھتکارتے ہیں،یہ کہہ کر ابی بار بار رونے لگتے ہیں۔
ج :ایک روز جب میں پچھلی بار آیا تھا،تو میں حضرت سے ملا تو میں نے یہ بھی کہاکہ آپ نے مجھے اتنی بار ایسی بری حرکت کرنے کے باوجود بار بار موقع دیا،حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بری حرکت کون کرنے والا ہوگا،میرے بیٹے تم مجھ سے تو ہزار درجہ بہتر ہو،بس اللہ نے میرے عیب چھپا رکھے ہیں۔

س:اس دوران تم کتنی بار جماعت میں گئے؟
ج :ان بارہ سالو ں میں مجھے سترہ بار جماعت میں بھیجا گیا، ایک بار چلہ لگایااور آخر میں تین چلے تو پورے کئے ،ورنہ دھوکہ دے کر بھاگتا رہا،اسی زمانہ میں مجھے ۲۱ بار کام سے لگایا،یا کاروبار کرایا،مگر میں کوئی کام کرنے کے بجائے دھوکہ دیتا رہا۔

س:اب تمھارے دل میں وہ باتیں نہیں آتیں؟
ج : الحمد للہ نہیں آتیں،مجھے ایسا لگتا ہے وہ شیطان جو مجھ پر سوار تھا وہ میرے حضرت کی برکت سے مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے، ۲ مارچ ۲۰۰۹ء کو پھلت کے ایک صاحب نے میری ایک حرکت پرمجھے بہت مارا،حضرت سفر سے رات کو دیر سے تشریف لائے، صبح دس بجے مجھے دیکھا، میرا پورا جسم زخمی تھا،حضرت مجھے پکڑ کر جامع مسجد لے گئے،مسجد جاکر دورکعت نماز پڑھی،اور مجھے دیکھتے رہے اور باربار چومتے رہے،میرے بیٹے کب تک تم ایسی ذلت برداشت کرتے رہوگے،اور اگر اسی طرح رہے تو پھر دوزخ کی مار کس طرح سہوگے،چلو آؤ اللہ سے دعا کریں بہت دیر تک دعا کی،میں آمین کہتا رہا،پھر بولے مزمل آؤ دونوں سچے دل سے توبہ کریں بس،ایسی توبہ جس کے بعد لوٹنا نہ ہو،مجھے توبہ کرائی،ایمان کی تجدیدکرائی،اور مجھ سے وعدہ لیاکہ بس اب مسلمان داعی بن کر میری عزت کی لاج رکھوگے،اور سب کو دکھادوگے کہ انسان کبھی بھی اچھا بن سکتا ہے،میں نے وعدہ کیا اگلے روز چار مہینے کی جماعت میں چلاگیا،اور الحمد للہ جماعت میں داڑھی رکھی اورخوب دعا کا اہتمام کیا،حضرت نے جماعت سے واپس آکر کام پر لگنے کو کہا،میں نے حافظ عالم بننے کی خواہش کا اظہار کیا،داخلہ ہوگیا ، الحمد للہ حفظ مکمل ہوگیا،انشاء اللہ بہت جلد عا لمیت کا نصاب مکمل کرلوں گا،میرا ارادہ ہے کہ عالمینی داعی بنوں، اس کے لئے ایک گھنٹے میں نے انگریزی اچھی کرنے کے لئے پڑھنی شروع کردی ہے الحمد للہ اس وقفہ میں میرے مدرسہ میں سب لوگ خصوصا اساتذہ اور ذمہ دار مجھے بہت چاہتے ہیں بلکہ مجھ سے دعا کراتے ہیں ۔

س:ماشاء اللہ، ارمغان کے قارئین کیلئے کوئی پیغام دیں؟
ج:بس حضرت کی بات ہی میں کہوں گاکہ ہر مسلمان ایک داعی ہے اور ہر داعی ایک طبیب ہے،کسی مریض سے آخری سانس تک مایوس ہونا یا مرض کے برا ہونے کی وجہ سے مریض کو اپنے در سے دھتکارنا اصول طب کے خلاف ہے،ہر انسان اللہ کی بنائی ہوئی شاہکار مخلوق ہے اس کو احسن تقویم پر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے،اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے،بس اس کے لئے دل میں درد رکھ کراس کی اصلاح اور اسے دعوت دینے کی فکر رکھنی چاہئے،شاید مجھ سے زیادہ برا انسان تو اللہ کی زمین میں کوئی اور ہو؟جب میں اپنے لئے انسان بننے کا ارادہ کرکے یہاں تک آسکتا ہوں تو کسی سے بھی مایوس ہونے کی کیا وجہ ہے،دوسری درخواست قارئین ارمغان سے دعا کی ہے، کہ اللہ تعالی موت تک مجھے استقامت عطا فرمائے اور میرے حضرت نے جو مجھ سے ارمان بنائے ہیں اور حضرت فرماتے بھی ہیں کہ میری حسرت ہے کہ مزمل اللہ تعالی تمھیں پیارے نبی کے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے میری تمنا ہے کہ اللہ تعالی مجھے پیارے نبی  کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔

س:شکریہ بھائی مزمل! واقعی ایک زمانہ تھا کہ تمھارا نام سن کر ہم سبھی کو غصہ آجاتا تھا،مگر الحمد للہ اب تم سے ملنے کی بے چینی رہتی ہے۔ 
ج : جی احمد بھائی! میں اسی لائق تھااور ہوں، بس میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے دل کا رخ موڑ دیا ہے۔

س:شادی کے بارے میں تمھارا کیا ارادہ ہے؟
ج: اب شادی میرے لئے کوئی بات نہیں رہی،الحمد للہ میرے اللہ نے میرا دل اپنی طرف پھیر دیا ہے،اب مجھے خلوت میں اپنے رب کے حضور راز ونیاز کا مزا میرے رب نے مجھ گندے کو لگادیاہے،قرآن یہ کہتا ہے: ان قرآن الفجرکان مشہودا،صبح کا قرآن مجید تو آمنے سامنے کا ہے، بس ایسے جمیل محبوب سے سامنا ہو نے لگے تو ساری حسینائیں اندھیرا لگتی ہیں، الحمدللہ میرے اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت میرے اللہ نے مجھے عطا فرمادی ہے،اس کی وجہ سے ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے میرے اللہ نے مجھے بچالیا ہے۔

س:آج کل اخراجات وغیرہ کس طرح چل رہے ہیں؟
ج :اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت نے دل کو مال دارکردیا ہے، اس کی برکت سے ہاتھ پھیلانے سے اللہ نے بچالیا ہے، الحمد للہ اب مجھے خرچ کی ضرورت نہیں،میں چھٹی میں مزدوری کرلیتا ہوں،میں نے امتحان کی چھٹی میں مزدوری کی، اور ایک ہزار روپئے حضرت کی خدمت میں ہدیہ کئے،کب سے حضرت آپ کو لوٹتا رہا یہ حقیر ہدیہ قبول کر لیجئے، حضرت نے بہت گلے لگایا اور بڑی قدر سے قبول کرلیا،اب ہاتھ اوپر کرلیا ہے اور اللہ سے سوال کیا ہے کہ اللہ اب کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلوائیں، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اب کسی کا محتاج نہ کریں گے۔

س:اچھا بہت شکریہ السلام علیکم
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Armughan, March 2011