DSP ڈاکٹر محمد حذیفہ{سابق رام کمار} بستی یو پی، سے ایک ملاقات interview

مولانا کلیم صدیقی کے لڑکے احمد اوّاہ کو ماہنامہ ارمغان  اکتوبر ٢٠٠٦  کے لئے دیا گیا انٹرویو

Published armughan.net  oct 2006 

ا حمد ا واہ      :   السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
ڈاکٹر حذیفہ  :   وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
سوال  :  اللہ کا شکر ہے آپ آ گئے، ابی سے بہت مرتبہ آپ کا ذکر سنا، ابی اکثر لوگوں کے سامنے آپ کا ذکر کرتے ہیں، اپنے خونی رشتہ کے بھائیوں کی خیر خواہی اور ان کو ہمیشہ کی ہلاکت اور عذاب سے بچانے کے لئے اسلام کی دعوت دینا نہ صرف یہ کہ اسلامی فریضہ ہے بلکہ یہ ایک خیر خواہی  ہونے کی وجہ، ہمارے ملک کے قانون کے لحاظ سے بھی ہمارا قانونی حق ہے، اس سلسلہ میں آپ کے قبول اسلام کا تذکرہ مثال کے طور پر کیا کرتے ہیں، مجھے آپ سے ملاقات کا اشتیاق تھا، اللہ نے ملاقات کرا دی،
جواب  :میں دہلی ایک سرکاری کام سے آیا تھا، مولانا صاحب کا فون تو ملتا نہیں، خیال ہوا کہ فون کر کے دیکھ لوں، اگر پھلت ہوئے تو ملاقات کر کے جاؤں گا، بہت دنوں سے ملاقات نہ ہو پانے کی وجہ سے بہت بے چین سا تھا، فون ملایا تو معلوم ہوا مولانا صاحب دہلی میں ہی ہیں، میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ دہلی میں ملاقات ہو گئی  میرے اللہ کا کرم ہے رمضان سے پہلے ملاقات ہو گئی ہے، بیقراری بھی بہت ہو رہی تھی اور ذرا ایمان کی بیٹری بھی چارج سی ہو گئی، بہت دن ملاقات کو ہو جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے، جیسے اندر کی بیٹری ڈاؤن ہو گئی ہو، الحمد للہ ملاقات ہو گئی اور ایک پروگرام میں بھی مولانا صاحب 
کے ساتھ شرکت ہو گئی، بیان سے بھی تسلی سی ہو گئی۔
Sunein Sunayen
Book "aapki amanat aapki sewa men" in voicehttps://youtu.be/ZOp2xxs-kMo
سوال  :    حذیفہ صاحب میں آپ سے ایک مطلب کے لئے ملنا چاہتا تھا، ہمارے یہاں پھلت سے ایک ماہنامہ میگزین ارمغان کے نام سے نکلتا ہے، شاید آپ کے علم میں ہو، اس کے لئے ایک انٹرویو آپ سے لینا چاہتا ہوں تاکہ دعوت کا کام کرنے والوں کے لئے رہنمائی بھی ہو خصوصاً آپ کے انٹرویوسے خوف کم ہو اور حوصلہ بڑھے۔
جواب  :  ہاں احمد  بھیاّ!میں ’ ارمغان ‘  کو خوب جانتا ہوں میں نے مولانا صاحب سے کئی مرتبہ درخواست کی ہے کہ اس کا ہندی ایڈیشن ضرور نکالیں، میں نے مولانا صاحب سے کہا تھا کہ ہندی کے کم سے کم پانچ سوسالانہ ممبر میں بنواؤں گا انشاء اللہ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ ستمبر سے ہندی ایڈیشن نکل رہا ہے، مگر نہ جانے کیا وجہ ہوئی ستمبر، میں بھی وہ نہیں آ سکا،

سوال  :   وہ انشاء اللہ جلدی آ رہا ہے، آپ فکر نہ کریں، ابی اور مولانا وصی صاحب اس کے لئے بہت فکر مند ہیں اور لوگوں کا تقاضا بھی بہت ہے۔
جواب  : خدا کرے یہ خبر جلدی سچ ہو، احمد بھائی حکم کریں مجھ سے کیا معلوم کرنا چاہتے ہیں ؟
سوال   : آپ اپنا تعارف کرایئے ؟
جواب  : مشرقی یوپی میں بستی ضلع کے گاؤں کے زمیندار کے یہاں میری پیدائش ۱۳/اگست ۱۹۵۷ء میں ہوئی، ۱۹۷۷ء میں انٹر پاس کیا، میرے چچا یوپی پولیس میں ڈی ایس پی تھے، ان کی خواہش پر پولیس میں بھرتی ہو گئی، دوران ملازمت  ۱۹۸۲ء میں میں نے بی کام کیا اور ۱۹۸۴ء میں ایم اے کیا، یوپی کے ۵۵ تھانوں میں انسپکٹر تھانا انچارج رہا، ۱۹۹۰ء میں پرموشن ہوا، سی او ہو گیا ۱۹۹۷ء ایک ٹریننگ کے لئے فلور اکیڈمی جانا ہوا تو اکیڈمی کے ڈائرکٹر جناب اے۔ اے صدیقی صاحب نے جو ہمارے چچا کے دوست بھی تھے، مجھے کر منالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے کا مشورہ دیا اور میں نے چھٹی لے کر ۲۰۰۰ء میں پی ایچ ڈی کیا۱۹۹۷ء میں میری پر فارمینس (ملازمت میں بہتر کار کردگی ) کی بنیاد پر خصوصی پر موشن ڈی ایس پی کے عہدہ پر ہو گیا اور میری پوسٹنگ مظفر نگر میں خفیہ پولیس کے محکمہ میں ہو گئی، میرے ایک چھوٹے بھائی ہیں جو انجنیئر ہیں ایک بہن ہے جس کی شادی ایک لکچررسے ہوئی، خاندان میں الحمد للہ تعلیم کا رواج رہا ہے، آج کل میں مشرقی یوپی میں ایک ضلع ہیڈ کوارٹر میں محکمہ خفیہ پولیس کا ذمہ دار ہوں۔
❤️💚 5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends"
 5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए   5 اسلام دشمن جو دوست بن گئے  🌿
-
سوال  :   اپنے قبول اسلام کے بارے میں بتایئے ؟
جواب : ہمارا خاندان پڑھا لکھا خاندان ہونے کی وجہ سے اپنی مسلم دشمنی میں مشہور رہا ہے، اس کی ایک وجہ یہ رہی کہ ہمارے خاندان کی ایک شاخ تقریباً سوسال پہلے مسلمان ہو کر فتح پرہنسوہ اور پر تاب گڑھ میں جا کر آباد ہو گئی تھی، جو بہت پکے مسلمان ہیں، ادھر ہماری بستی میں تیس سال پہلے بستی کے زمین داروں کی چھو ا چھوت سے تنگ آ کر آٹھ دلت خاندانوں نے اسلام قبول کیا تھا، ان دونوں واقعات کی وجہ سے ہمارے خاندان میں مسلم دشمنی کے جذبات اور بھی زیادہ ہو گئے تھے، بابری مسجد کی شہادت کے زمانے میں اس میں اور بھی زیادتی ہو گئی، ہمارے خاندان کے کچھ نوجوانوں نے بجرنگ دل کی ایک برانچ گاؤں میں قائم کر لی تھی جس میں سب سے زیادہ خاندان کے لڑکے ممبر تھے، میں نے یہ باتیں اس لئے بتائیں کہ کسی آدمی کے اسلام قبول کرنے کے لئے مخالف ترین ماحول میرے لئے تھا، مگر اللہ کو جس کا نام ہادی اور رحیم ہے اپنی شان کا کرشمہ دکھا نا تھا، اس نے ایک عجیب راہ سے مجھے راہ دکھائی۔
ہوا یہ کہ غازی آباد ضلع کے پلکھوہ کے ایک خاندان کے نو لوگوں نے مولانا کے پاس آ کر پھلت میں اسلام قبول کیا، دو ماں باپ اور چار لڑکیاں اور تین لڑکے، لڑکا شادی شدہ تھا، مولانا صاحب سے ان لوگوں نے کلمہ پڑھوانے کے لئے کہا اور بتا یا کہ ہم آٹھ لوگ تو ابھی کلمہ پڑھ رہے ہیں یہ بڑا لڑکا شادی شدہ ہے اس کی بیوی ابھی تیار نہیں ہے، جب اس کی بیوی تیار ہو جائے گی یہ اس کے ساتھ کلمہ پڑھے گا، مولانا صاحب نے کہا موت زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں، یہ بھی ساتھ ہی کلمہ پڑھ لے، ابھی اپنی بیوی کو نہ بتائے اور اس کو تیار کرے اور اس کے ساتھ پھر دوبارہ کلمہ پڑھ لے مولانا صاحب نے ان سب کو کلمہ پڑھوایا اور ان کی فرمائش پر ان سب کے نام بھی اسلامی رکھ دیئے، ان لوگوں کے کہنے پر ایک پیڈ پر ان کے قبول اسلام اور ان کے نئے  ناموں کا سرٹیفکٹ بنا کر دے دیا، ان لوگوں کو بتا بھی دیا کہ قانونی کاروائی ضروری ہے اس کے لئے بیان حلفی تیار کرا کے ڈی ایم کو رجسٹر ڈ ڈاک سے بھیجنا اور کسی اخبار میں اعلان نکالنا کافی ہو گا، یہ لوگ خوشی خوشی وہاں سے گئے اور قانونی کاروائی پکی کرالی، بچوں کو مدرسہ میں داخل کر دیا، بڑی لڑکیاں اور ماں عورتوں کے اجتماع میں جانے لگیں۔
مسلمان عورتوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے خوشی میں مٹھائی تقسیم کر دی، لڑکے کی بہو کو معلوم ہو گیا، اس نے اپنے مائکہ والوں کو خبر کر دی ایک سے ایک کو خبر ہوتی گئی اور ماحول گرم ہو گیا علاقہ کی ہندو تنظیمیں جوش میں آ گئیں، آج تک ٹی وی چینل کے لوگ آ گئے، دیکھتے دیکھتے خبر پھیل گئی دینک جاگرن اور امر اجالا دونوں ہندی اخباروں میں چار کالموں کی بڑی بڑی خبریں چھپیں، جن کا ہیڈنگ تھا ’’لالچ دے کر دھرمانترن پر پوری ہندو برادری میں روش، دھرمانترن پھلت مدرسہ میں ہوا ‘‘اس خبر سے پورے علاقے میں گرمی پیدا ہو گئی میری پوسٹنگ مظفر نگر میں تھی، علاوہ اپنی دفتری ذمہ داری کے مجھے خود اس خبر پر غصہ آیا اور ہم اپنے دو انسپکٹروں کو لے کر پھلت پہنچے، وہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ مولانا صاحب ہی صحیح بات بتا سکتے ہیں اور ہمیں اطمینان دلایا کہ ہمارے یہاں کو ئی غیر قانونی کام نہیں ہوتا، مولانا صاحب سے آپ ملیں وہ آپ کو بالکل حق بات بتا دیں گے میں نے اپنا فون نمبر وہاں دیا کہ مولانا صاحب سے معلوم کر کے مجھے بتائیں کہ وہ پھلت کب آ رہے ہیں ؟
Shandar itihas ek raat men islami desh bana


تیسرے روز مولانا صاحب کا پھلت کا پرو گرام تھا، ۶/ نومبر  ۲۰۰۲ء کی صبح ۱۱/بجے ہم پھلت پہنچے، مولانا صاحب سے ملے، مولانا صاحب بہت خوشی سے ہم سے ملے ہمارے لئے چائے ناشتہ منگایا، بولے بہت خوشی ہوئی آپ آئے، اصل میں مولوی ملاؤں اور مدرسوں کے سلسلہ میں بہت غلط پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، میں تو اپنے ساتھیوں اور مدرسے والوں سے بار بار یہ کہتا ہوں کہ پولیس والوں ہندو تنظیموں کے ذمہ داروں اور سی آئی ڈی، سی بی آئی  کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مدرسوں میں بلانا بلکہ چند دن مدرسوں میں مہمان رکھنا چاہئے، تاکہ وہ اندر کے حال سے واقف ہو جائیں اور مدرسوں کی قدر پہچانیں،  مجھے معلوم ہوا کہ آپ ایک دن پہلے بھی آئے تھے، مجھے ایک سفر پر ادھر ہی سے جانا تھا مگر خیال ہوا کہ آپ کو انتظار کرنا ہو گا، اس لئے میں صرف آپ کے لئے آج آ گیا ہوں مولانا صاحب نے ہنس کر کہا، فرمائیے  میرے لائق کیا سیوا ہے ؟احمد بھائی! مولانا صاحب نے ملاقات کے شروع میں ہی کچھ ایسے اعتماد اور محبت کا اظہار کیا کہ میری سوچ کا رخ بدل گیا، میرا اندر کا غصہ آدھا بھی نہ رہا، میں نے اخبار نکالے اور معلوم کیا کہ آپ نے یہ خبر پڑھی ہے ؟ مولانا صاحب نے بتایا کہ رات مجھے یہ اخبار دکھا یا گیا تھا میں نے امر اجالا  میں یہ خبر پڑھی ہے، میں نے کہا پھر آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ 
مولانا صاحب نے بتا یا کہ میں ایک سفر پر جا رہا تھا، گاڑی میں سوار ہو رہا تھا کہ ایک جیپ گاڑی آئی مجھے سفر کی جلدی تھی میں نے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لوگ حضرت جی سے ملنے آئے ہوں گے  ان کو ادھر قاری حفظ الر حمن صاحب کا پتہ  بتا دو مگر ایک صاحب جانتے تھے، کہا ہمیں کسی دوسری جگہ نہیں جانا ہے ہم لوگ آپ کے پاس آئے ہیں یہ ہمارے بھائی اپنے گھر والوں کے ساتھ مسلمان ہونا چاہتے ہیں اور ایک مہینہ سے پریشان ہیں، میں گاڑی سے اترا ان کو کلمہ پڑھوایا، ان کے زیادہ کہنے پر ان کے اسلامی نام بھی بتائے اور ان کو ایک سرٹیفکٹ بھی قبول اسلام کا دیا اور ان کو بتا دیا کہ قانونی کاروائی پکی جب ہو گی جب آپ بیان حلفی تیار کر کے ڈی یم کو اطلاع کریں گے اور ایک اخبار میں اعلان کر دیں گے اور اچھا ہے کہ ضلعی گزٹ میں دے دیں، ان لوگوں نے وعدہ کیا کل ہی جا کر ہم سب کاروائی پوری کریں گے اور مجھے علم ہوا کہ انھوں نے یہ سب کام پورے کرا لئے ہیں مولانا صاحب نے کہا کہ ہمارا ملک سیکولر ملک ہے اور ملک کے قانون نے اپنے مذہب کو ماننے اور مذہب کی دعوت دینے کا بنیادی حق ہمیں دیا ہے، کسی کو ایمان کی دعوت دینا، کوئی مسلمان ہونا چاہے اس کو کلمہ پڑھوانا ہمارا بنیادی قانونی حق ہے، جس چیز کا قانون ہمیں حق دیتا ہے، اس کے سلسلہ میں ہم لوگ کسی سے نہیں ڈرتے اور غیر قانونی کام ہم لوگ جان بوجھ کر ہر گز نہیں کرتے، بھول میں ہو جائے تو اس کی تلافی کی کوشش کرتے ہیں، جہاں تک لالچ دے کر یا ڈرا کر مذہب  بدلوانے کی بات ہے، یہ بالکل غیر قانونی ہے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ غیر قانونی کام ممکن بھی نہیں ہے، مذہب بدلنا یا کسی کا مسلمان ہونا اس کے دل کے وشواس کا بدلنا ہے، جو لالچ اور ڈر سے ہو ہی نہیں سکتا، آپ کو خوش کرنے کے لئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں ہندو ہوتا ہوں یا مسلمان ہوتا ہوں مگر اتنا بڑا فیصلہ اپنی زندگی کو آدمی اندر سے راضی ہوئے  بغیر نہیں کر سکتا۔

Allach ka challenge

Maulana Kaleem Siddiqui Urdu / Hindi


-
دوسری اس سے بھی اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ میں ایک مسلمان ہوں اور مسلمان اس کو کہتے ہیں جو ہر سچی بات کو مانے، سارے  سچوں سے سچاہے ہمارا ما لک ا ور اس کے بھیجے ہوئے رسول حضرت محمد ﷺ جن کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ و ہ صرف مسلمانوں کے رسول اور ان کے لئے مالک کے سندیش واہک تھے، حالانکہ قرآن میں اور آپ کی حدیثوں میں صرف یہ بات ملتی ہے کہ ہم سب کے مالک کی طرف سے بھیجے ہوئے سارے انسانوں کی طرف انتم (آخری ) اور سچے سند یشٹا ( رسول ) تھے، وہ ایسے سچے تھے کہ ان کے دین کے اور ان کی جان کے آخری دشمن بھی کبھی ان کو جھوٹا نہ کہہ سکے، بلکہ دشمنوں نے آپ کا لقب الصادق الامین اور سچا اور ایمان دار کا دیا، ہمارا وشواس یہ ہے کہ دن ہو رہا ہے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں یہ آنکھیں دھوکہ دے سکتی ہیں، یہ بات جھوٹ ہو سکتی ہے کہ دن ہو رہا ہے، مگر ہمارے رسول ﷺ نے جو ہمیں خبر دی ہے اس میں ذرہ برابر غلطی، دھوکہ یا جھوٹ نہیں ہو سکتا، ہمارے رسول ﷺ نے ہمیں خبر دی ہے کہ سارے دنیا کے سارے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اس لئے سارے جگت کے انسان آپس میں خونی رشتہ کے بھائی ہیں، شاید آپ کے یہاں بھی یہی مانا جاتا ہے میں نے کہا یہ بات تو ہمارے یہاں بھی مانی جاتی ہے، مولانا نے کہا یہ تو بالکل سچی بات ہے ہم اور آپ خونی رشتہ کے بھائی ہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ میرے چچا ہو، یا میں آپ کا چاچا ہوں، مگر آپ کے اور ہمارے بیچ خونی رشتہ ہے، اس خونی رشتہ کے علاوہ آپ بھی انسان ہیں اور میں بھی انسان، انسان وہ ہے جس میں انسیت ہو یعنی محبت ہو، ایک دوسرے کی بھلائی کا جذبہ ہو، اس رشتہ سے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندو دھرم ہی اکیلا مکتی کا راستہ اور موکش کا طریقہ ہے، تو آپ کو مجھے اس رشتہ کا لحاظ کرتے ہوئے، ہندو بنانے کی جی جان سے کوشش کرنی چاہئے اور اگر آپ انسان ہیں اور آپ کے سینہ میں پتھر نہیں ہے دل ہے، تو اس وقت تک آپ کو چین نہیں آنا چاہئے، جب تک میں غلط راستہ چھوڑ کر مکتی کے راستہ پر نہ آ جاؤں، مولانا صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ یہ بات ہے یا نہیں ؟میں نے کہا بالکل سچ بات ہے، مولانا صاحب نے کہا آپ کو سب سے پہلے آ کر مجھے ہندو بننے کے لئے کہنا چاہئے تھا،
Do Goli maarne wale ko maaf kardiya

New Muslim Interview ✔️( Maulana kaleem siddiqui ) with google / micro Voice




 دوسری بات یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں، نکلتے سورج کی روشنی سے زیادہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اسلام ہی واحد، سب سے پہلا اور سب سے آخری، فائنل مذہب اور مکتی اور موکش یعنی نجات کا واحد راستہ ہے، اگر آپ مسلمان ہوئے بغیر دنیا سے چلے گئے تو آپ کو ہمیشہ کی نرک میں جلنا پڑے گا اور زندگی کا ایک سانس کے لئے بھی اطمینان نہیں، جو سانس اندر چلا گیا کیا خبر کہ باہر آنے تک آپ زندہ رہیں گے یا نہیں اور جو سانس باہر نکل گیا کیا خبر کہ اندر آنے تک زندگی وفا کرے گی ؟ اس حال میں اگر میں انسان ہوں اور میں آپ کو اپنا خونی رشتہ کا بھائی سمجھتا ہوں تو جب تک آپ کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہو گے مجھے چین نہیں آئے گا یہ بات میں کوئی ناٹک کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں، تھوڑی دیر کی اس ملاقات کے بعد اس خونی رشتہ کی وجہ سے اگر مجھے رات سوتے سوتے بھی آپ کی موت اور نرک میں جلنے کا خیال آئے گا تو میں بے چین ہو کر بلکنے لگوں گا، اس لئے سر آپ پلکھوہ والوں کی فکر چھوڑ دیجئے، جس مالک نے پیدا کیا ہے جیون دیا ہے اس کے سامنے منھ دکھانا ہے، میرے درد کا علاج تو جب ہو گا جب آپ تینوں مسلمان ہو جائیں گے، اس لئے آپ سے رکویسٹ  (درخواست) ہے کہ آپ میرے حال پر ترس کھائیں، آپ تینوں کلمہ پڑھیں، احمد بھائی میں عجیب حیرت میں تھا، مولانا صاحب کی محبت جیسے جادو ہو، میں ایسے خاندان کا ممبر ہوں، جس کی گھٹی میں مسلمانوں، مسلم بادشاہوں اور اسلام کی دشمنی پلائی گئی ہے اور اس خبر کے سلسلہ میں حد درجہ برہم ہو کر میں گویا مخالف انکوائری کے لئے فیصلہ کر کے پھلت گیا تھا اور مولانا صاحب مجھے نہ اسلام کے مطالعہ کو کہتے ہیں، نہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کہتے ہیں، بس سیدھے سیدھے مسلمان ہونے کو کہہ رہے ہیں اور میری انتر آتما، میرا ضمیر گویا مولانا صاحب کی محبت کے شکنجہ میں جیسے بالکل بے بس ہو، میں نے کہا بات تو آپ کی بالکل سادی اور سچی ہے اور ہمیں سوچنا ہی پڑے گا، مگر یہ فیصلہ اتنی جلدی کرنے کا تو نہیں کہ اتنا بڑا فیصلہ اتنی جلدی میں لے سکیں، مولانا صاحب نے کہا سچی بات یہ ہے کہ آپ اور ہم سب مالک کے سامنے ایک بڑے دن حساب کے لئے اکٹھا ہوں گے تو اس وقت اس سچائی کو آپ ضرور پائیں گے کہ یہ فیصلہ بہت جلدی میں کرنے کاہے اور اس میں دیر کی گنجائش نہیں اور آدمی اس میں جتنی دیر کرے گا  پچھتائے گا، پتہ نہیں پھر زندگی فیصلہ لینے کی مہلت دے یا نہ دے اور موت کے بعد پھرا فسوس اور پچھتا وے کے علاوہ آدمی کچھ نہیں کر سکتا بالکل یہ بات سچ ہے کہ ایمان قبول کرنے اور مسلمان ہونے سے زیادہ جلد بازی میں کرنے کا کوئی اور فیصلہ ہو نہیں سکتا ہاں اگر آپ ہندو دھرم کو مکتی کا راستہ سمجھتے ہیں تو پھر مجھے ہندو بنانے میں اتنی ہی جلدی کرنی چاہئے جس طرح میں مسلمان بننے کے لئے جلدی کرنے کو کہہ رہا ہوں، مجھے خیال ہوا کہ جس وشواس (مضبوط اعتماد و یقین ) کے ساتھ مولانا صاحب مسلمان ہونے کو کہہ رہے ہیں اس میں اس اعتقاد کے ساتھ میں ہندو بننے کو نہیں کہہ سکتا، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے پورے دھرم کو کہی سنائی رسموں پر آدھارت کہانیوں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے تھے، جب ہمارا ہندو دھرم پر وشواس کا یہ حال ہے تو یہ کسی کو کس بل بوتے ہندو بننے کو کہہ سکتے ہیں ؟ میرے اندر سے جیسے کو ئی کہہ رہا تھا، رام کمار اسلام میں ضرور سچائی ہے جو مولانا صاحب کے اندر یہ وشواس ہے، مولانا صاحب کبھی کبھی بہت خوشامد، کبھی ذرا زورسے بارہا ہم لوگوں سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کے لئے کہتے رہے، جب مولانا صاحب خوشامد کر تے تو مجھے ایسا لگتا جیسے کسی زہر کھانے کا ارادہ کرنے والے یا آگ میں کودنے والے کو ہلاکت سے بچانے کے لئے کوئی ہمدرد، کوئی ماں، خوشامد کرتی ہے۔




مولانا صاحب ہمیں بار بار کلمہ پڑھنے پر زور دیتے رہے میں نے وعدہ کیا ہم لوگ ضرور غور کریں گے، ہمیں پڑھ نے کے لئے بھی دیجئے، مولانا نے اپنی کتاب ’’آپ کی امانت آپ کی سیوا میں ‘‘دی اور ہمیں سوسوبار روزانہ یا ہادی، یا رحیم اس وشواس کے ساتھ پڑھنے کو کہا کہ وہ مالک راستہ دکھانے والا، سب سے زیادہ دیا کرنے والا ہے، آنکھیں بند کر کے اس مالک کو جب آپ ان ناموں سے یاد کریں گے تو آپ کے لئے اسلام کے راستے ضرور کھول دیں گے، اصل میں دلوں کو پھیرنے کا فیصلہ اسی اکیلے کا کام ہے، میں نے مولانا صاحب سے کہا اچھا ہے، ماحول گرم ہو رہا ہے آپ اخبارات میں اس خبر کا کھنڈن نکلوا دیں، مولانا صاحب نے کہا میں نے ان کو دینی اور ان کا قانونی حق سمجھ کر کلمہ پڑھوایا ہے، جھوٹ کھنڈن کرانا کس طرح ہو سکتا ہے ؟ میری رائے یہ ہے کہ آپ کو بھی کسی جھوٹ بات کو چھپانا نہیں چاہئے، میں نے کہا اچھا ہم خود کر دیں گے ہم لوگ واپس ہو گئے تو میرے دونوں انسپکٹرس مجھ سے بولے، سر دیکھا کتنے سچے اور سجن آدمی ہیں، ہم لوگوں کا تو دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا   مو لا نا صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ کبھی کبھی شانتی کے لئے ان کی سنگتی میں آ کر بیٹھا جائے کو ئی لا گ نہیں لپیٹ نہیں، صاف صاف باتیں۔
سوال  :  آپ نے کلمہ نہیں پڑھا ؟
جواب  : میں نے گھر جا کر آپ کی اما نت آپ کی سیوا میں پڑھی محبت ہمدردی اور سچائی اس کے لفظ لفظ سے پھوٹ رہی تھی، مجھے اس کتاب کو پڑھ کر لگا کہ ایک بار پھر میری ملاقات مولانا صاحب سے ہو گئی ہے، اس کے بعد بار بار میرے اندر مولانا صاحب سے ملاقات کی ہوک سے اٹھتی رہی، اسلام کو پڑھنے کا شوق بھی پیدا ہوا، میں مظفر نگر میں ایک دکان سے قرآن مجید کا ہندی ترجمہ لے کر آیا، میں نے فون پر مولانا صاحب سے اس کے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا، مولانا صاحب نے کہا، دیکھئے قرآن مجید کو آپ ضرور پڑھیں مگر صرف اور صرف یہ سمجھ کر پڑھیئے کہ میرے مالک کا بھیجا ہوا یہ کلام ہے یہ سوچ کر اور پڑھیں کہ یہ مگر صرف اور صرف میرے لئے بھیجا ہے، اس لئے مالک کا کلام سمجھ کر اچھا ہے آپ اشنان کر کے پڑھیں، پاک کلام کا پاک نور، پاک اور صاف ستھری حالت میں پڑھنا چاہئے، دو ہفتوں میں میں نے پورا قرآن مجید پڑھ لیا اب میرے لئے مسلمان ہونے کے لئے اندر کے دروازے کھل گئے تھے، میں نے پھلت جا کر مولانا صاحب کے سامنے کلمہ پڑھا مولانا صاحب نے میرا نام ’’ رام کمار ‘‘ بدل کر میری خواہش پر محمد حذیفہ رکھا اور بتا یا کہ ہمارے نبیﷺ اپنے ایک صحابی کو راز داری اور جا سوسی کے لئے بھیجا کرتے تھے، مجھے اس لحاظ سے یہ نام بہت اچھا لگا۔
Book Links here : "Aapki amanat aapki swea men" in EnglishHindiMalyalam text, آپ کی امانت Urdu, MarathiTamilTelguBengali, oriyaKannada & Punjabi , Gujrati and Sindhi , Roman-Urdu,,, Roman-Hindi,,,

سوال  :  اس کے بعد اسلام کے مطالعہ کے لئے آپ نے کیا کیا َ؟
جواب  :  مولانا صاحب کے مشورہ سے ہی چھٹی لے کر ایک چلہ جماعت میں لگایا، مگر مولانا صاحب نے مجھے سختی سے منع کر دیا تھا کہ آپ کسی سے جماعت میں اپنا پرانا تعارف نہ کرائیں، نہ اپنے آپ کو نو مسلم کہیں، اس لئے کہ آپ سچی بات یہ ہے کہ پیدائشی مسلمان ہیں، ہمارے نبی نے سچی خبر دی ہے کہ ہر پیدا ہونے والا اسلامی نظریہ پر پیدا ہوتا ہے اس لئے ہر مذہب کے بچے کو دفنا یا ہی جا تا ہے، آپ تو پیدائشی مسلمان ہیں اور ہم سب کے باپ حضرت آدم اس کائنات کے سب سے پہلے مسلمان تھے اس لئے آپ پشتینی مسلمان ہیں، جماعت میں میرا وقت اچھا گذرا، لوگ مجھے انگریزی پڑھا لکھا، دینی تعلیم سے بالکل کورا مسلمان سمجھ کر مجھے نماز وغیرہ یا د کرانے کی کوشش کرتے رہے، گجرات کے ایک نوجوان عالم ہماری جماعت کے امیر تھے، میں نے چالیس دن میں پوری نماز اور بہت سی دعائیں یاد کر لیں، جماعت سے واپس آیا تو میرا ٹرانسفر الہ آباد ہو گیا، اپنی الہ آباد پوسٹنگ کے دوران میں نے اپنی بیوی کو بہت کچھ بتا دیا، وہ بہت فرمانبردار بھولی بھالی عورت ہیں، انھوں نے میرے فیصلہ کی ذرا بھی مخالفت نہیں کی، بلکہ میرے ساتھ ہر حال میں رہنے کا وعدہ کیا میں نے اس کو بھی کتابیں پڑھوائیں، ہماری شادی کو دس سال ہو گئے، تھے مگر کوئی اولاد نہیں تھی میں نے اس کو لالچ دیا، اسلام قبول کرنے سے ہمارا مالک ہم سے خوش ہو جائے گا اور ہمیں اولاد بھی دے گا، اولاد نہ ہو نے کے غم میں وہ بہت گھلتی رہتی تھی وہ اس بات سے بہت خوش ہو گئی، ایک مدرسہ میں لے جا کر اس کو کلمہ پڑھوایا، میں نے اپنے اللہ سے بہت دعا کی میرے رب میں نے آپ کے بھروسے اس سے وعدہ کر لیا ہے، آپ میرے بھروسے کی لاج رکھئے اور اس کو چاہے ایک ہی ہو، اولاد دیجئے خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اللہ نے گیارہ سال کے بعد ہمیں ایک بیٹا دیا اور تین سال کے بعد ایک بیٹی بھی ہو گئی ہے۔
سوال  :  اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی ملازمت میں کوئی مشکل نہیں آئی ؟
جواب  : میں نے الہ آباد پوسٹنگ کے دوران اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا اور قانونی کاروائی ہائی کورٹ کے ایک وکیل کے ذریعہ کرائی، جس کے لئے مجھے اپنے محکمہ سے اجازت لینی ضروری تھی میں نے اس کی درخواست کی، ایک دویدی جی ہمارے بوس تھے، انھوں نے مجھے بہت سختی سے روکا اور دھمکی دی کہ اگر آپ نے یہ فیصلہ کیا تو میں آپ کو معطل کر دوں گا، میں نے ان سے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ فیصلہ تو میں کر چکا ہوں اب واپسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آپ کو جو کچھ کرنا ہو کر دیجئے انھوں نے مجھے سسپینڈ (معطل) کر دیا، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور تین چلے کے لئے جماعت میں چلا گیا، بنگلور اور میسور میں میرا وقت گزرا اور الحمد للہ بہت اچھا گذرا، مجھے اس وقت  تین بار حضور ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی جس کی مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتا، واپس آیا تو اللہ نے میرے تمام افسروں کو نرم کر دیا، لکھنؤ میں ایک مسلمان افسر جو بہت بڑی پوسٹ پر ہیں، میں نے ان سے جا کر اپنا پورا حال سنایا وہ پھلت جا چکے تھے اور مولانا صاحب کو جانتے تھے، انھوں نے میری مدد کی اور مجھے ملازمت پر بحال کر دیا گیا۔
سوال  : آپ کے دونوں انسپکٹر ساتھیوں کا کیا ہوا؟  جو ابی سے آپ کے ساتھ ملنے گئے تھے ؟
جواب  :  ان میں سے ایک نے اسلام قبول کر لیا ہے ان کے گھر والوں کی طرف سے ان پر بہت مشکلیں آئیں، ان کی بیوی ان کو چھوڑ کر چلی گئی مگر وہ جمے رہے اور اللہ نے ان کے حالات کو حل کیا دوسرے بھی اندر سے تیار ہیں مگر وہ بھی اپنے ساتھی کی مشکلات دیکھ کر ڈرے ہوئے ہیں۔
سوال  : آپ نے اپنے خاندان والوں پر کام نہیں کیا؟
جواب  : الحمد للہ کام جاری ہے، اس کام کی بڑی تفصیلات ہیں، میری ٹرین کا وقت ہو رہا ہے، پھر کسی ملاقات میں آپ تفصیلات سنئے تو آپ کو بہت مزا آئے گا۔

سوال  : ایک منٹ میں ارمغان کے پاٹھکوں (قارئین )کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گے ؟
جواب  : اسلام سے بڑی کوئی سچائی نہیں اور جب یہ ایسی سچائی ہے تو اس کے ماننے والوں کو نہ اس پر عمل کرنے میں ڈرنا چاہئے نہ اس کو دوسروں تک پہنچانے سے رکنا چاہئے، تھوڑی بہت مخالفتیں آئیں گی، ہمارے مولانا صاحب کہتے ہیں کہ اسلام ایک روشنی ہے اور سارے باطل مذاہب اندھیرے، اندھیرے کبھی اجالے پر حاوی نہیں ہو سکتے، اجالا ہی غالب ہوا کرتا ہے، کبھی کبھی جب روشنی کی کمی ہوتی ہے تو لگتا ہے کہ اندھیرے چھا گئے اور غالب آ گئے مگر ذرا اجالا کیجئے اندھیرے نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں، بس میرا یہ ماننا ہے اور یہی میرا پیغام ہے کہ فتح ہمیشہ روشنی والوں کی ہوتی ہے اس لئے کسی طرح کے ڈر کے بغیر اسلام کی دعوت دینی چاہئے اور بغیر لالچ کے سچی ہمدردی کا حق ادا کرنے کی نیت سے دعوت دی جائے تو مجھ جیسے اسلام اور مسلم دشمنی میں پلے، مخالفانہ انکوائری کا فیصلہ کرنے والوں کو جب ہدایت ہو سکتی ہے، تو بھولے بھالے سادہ دماغ لوگوں پر اثر نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
سوال  :   شکریہ  !  جزاک اللہ
جواب  :  اچھا اجازت دیجئے، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ
سوال  : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ، بہت بہت شکریہ، انشاء اللہ جب کبھی آپ آئیں گے تو دوسری قسط ضرور سنائیے گا۔
جواب  :انشاء اللہ ضر ور



مستفاد از ماہ نا مہ ارمغان، اکتو بر  ۲۰۰۶ء
--
-
aapki amanat  aapki sewa men in voicehttps://youtu.be/ZOp2xxs-kMo



-
 ۔
۔
 -

-

-

 -


-


-





-

Naseem E Hidayat Ke Jhonkay (Part 1-2-3) Hindi  (Hardcover, Hindi, Maulana Mohammed Kaleem Siddique)




بھائی حسن ابدال»جئے وردھن« سے ایک ملاقات

احمد اوَاہ     :  اسلام علیکم ورحمۃ اﷲو بر کاتہ
حسن ابدال  :  وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ و برکاتہ

  سوال  :   حسن بھائی ! آپ جماعت سے کب لوٹے اور آپ کا وقت کہا ں لگا؟
 جواب  :  احمدبھائی میں آج ہی جماعت میںسے واپس آیا ہوں اور ہماری جماعت متھرامیں وقت لگاکر لوٹی ہے۔

  سوال  :   جماعت میں کچھ پر یشانی تو نہیں ہوئی؟آپ کے ساتھ جماعت کہاں کی تھی؟
 جواب  :  الحمد ﷲ جماعت میں وقت بہت اچھا لگا اور ساتھیوں نے بہت ہی بہت ہماری خدمت کی اور ہماری جماعت متفرق تھی، کچھ لوگ سہارن پور کے تھے تین لوگ میوات کے تھے، دو چار بجنور کے، اﷲ کا شکر ہے اور امیر ہمارے سہارنپور ضلع کے ایک گاؤں کے عالم تھے اور باربار وقت لگا چکے تھے، الحمد ﷲ مجھے پوری نماز دعائے قنوت کے ساتھ یاد ہوگئی۔
Sunein Sunayen
aapki amanat aapki sewa men in voicehttps://youtu.be/ZOp2xxs-kMo

 
  سوال  :   حسن بھائی ہمارے یہاں پھلت سے  ایک اردو میگزین ہر مہینہ نکلتی ہے، اس میں ان لوگوں کے انٹر ویو شائع کیے جار ہے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ آج کے زمانے میں اپنے فضل سے راہِ ہدایت عطا فرماتے ہیں، ابی کا حکم ہے کہ آپ سے اس کے لیے کچھ باتیں کروں تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے رہنمائی ہو، خاص طور پر پرانے خاندانی مسلمانوں کو عبرت ہو،۔
 جواب  :  ہاں مولوی احمد صاحب میں نے متھر ا میں بہت سے لوگوں سے ارمغا ن کا نام سنا، ہم لوگ ایک مسجد میں گئے تو وہاں کے امام صاحب نے ممبئی کے ندیم صاحب انٹر و یو پڑھ کر سنا یا تو مجھے بہت اچھا لگا اور میرے دل میں آیا تھا کہ میں مولانا صاحب سے کہوں گا کہ میرا بھی انٹر ویوچھپوادیں، مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ میرے کہنے سے پہلے ہی خودہی حضرت کے دل میں میرا اﷲ یہ بات ڈال دے گا، اﷲ کی ذات کیسی کرم والی ہے کہ مجھ دو مہینہ بیس دن کے چھوٹے سے مسلمان کے دل میں جو بھی بات آئی ہے میرے اﷲ اسے پورا کر دیتے ہیں، امیر صاحب نے ایک روز تعلیم میں اﷲ کے نبی موسیٰ  ؑ کا قصہ سنایا تھا کہ وہ آگ لینے کے لئے پہاڑ پرگئے تھے اور ان کو پیغمبربنادیا گیا،(روتے ہو ئے) میرے  مالک نے (میری جان اس کے نام پر قربان کہ مجھ گند ے کو،، شرک اوربت پرستی کے راستے پر بلکہ منزل پر ہدایت دی اور میرے ساتھ کیسا کرم ہے کہ میرے دل چاہ رہا تھا کہ میں ارمغان میں انٹر ویو کے لئے کہوں گا مگر اندر سے شرم بھی آرہی تھی کہ ایک دو مہینے کے مسلمان کا حال اس قابل کہاں کہ اس کو ارمغان میں چھپوایا جائے۔

  سوال  :  ابی نے رات میں مجھے حکم کر دیا تھا حسن انٹر ویو ضرور لینا ہے، آپ اپنا خاندانی پریچے (تعارف) کر ائیے۔
 جواب  :  میں غازی آباد ضلع کے ایک گاؤں کے بر ہمن گھرانے 
1975میں 9ستمبر
کو پیدا ہوا، پتاجی (والد صاحب) نے میرا نام جے وردھن رکھا، آٹھویں کلاس تک گاؤں میں ایک اسکول میں پڑھا، اس کے بعد غازی آباد کے ایک کالج سے انٹر کیا، اس کے بعد ایک دوسرے کالج سے بی کام کیا، بی کام کر نے کے بعد ایک سال IAS کمپٹیشن کی تیاری کی، پر یلمس پہلا امتحان دو بار پاس کیا، مگر میں امتحان میں پاس کے قریب قریب رہ گیا جس سے دل بہت ٹوٹ گیا، میرے پتا جی (والد صاحب) ایک اسکول میں پرنسپل تھے، ان کی خواہش تھی کہ میں ایک بار اور کوشش کروں مگر دل دنیا سے بالکل اچاٹ ہوگیا تھا، مجھے دوسری بار بہت امید تھی کہ میں یہ امتحان ضرور پا س کرلوں گا، مگر بالکل قریب ہوکر محروم ہو جانے سے میرے دل و دماغ کو بہت صد مہ ہوا اور میں گھر سے بھاگ کر ہر ید وار چلا گیا کہ سنیاس لے لوں گا، میں ہری دوار، رشی کیش، اتر کا شی بنارس بہت آشرموں میںچار سال بھٹکتا رہا، کہیں شانتی نہیں ملی،دو چا ر مہینے کے بعد ہر آشرم میں کوئی ایسی بات نظر آ جاتی جس سے دل کھٹا ہو جاتا، ہر یدوار سے ایک روز میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ کلیر گیا، وہاں پہنچ کر مجھے شانتی تو ملی،


❤️💚 5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends" 5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए  
-

مگر وہاں کا حال بھی مجھے بازاری آشرموں کی طرح لگا، وہاں سے ہم پھول چڑھا کر واپس آئے تو ایک مست نے مجھے پکڑلیا اور باربار مجھ سے کہتا دس روپیئے مجھے دے دے اﷲ نے تجھے ابدال بنایا ہے، میں نے کہا، میں تو ساد ھو ہوں، ہر یدوار سے آیا ہوں، وہ مست پا گل مجھے چھوڑ نے کو تیار نہ ہوا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پاگل یہاں کہاں رہتا ہے، لوگوں نے کہا کہ یہاں کا ملنگ ہے، یہ کسی سے کچھ نہیں مانگتا، کوئی دے دیتا ہے تو کھانا کھاتا ہے، ورنہ جنگلوں میں چلا جاتا ہے میں نے جان چھڑانے کے لیے اس کو دس روپیئے دئیے، میں نے لوگوں سے معلو م کیا کہ یہ ابدال کیا کہہ رہا تھا، ایک صاحب وہاں تھے انہوں نے بتایا کہ ابدال بڑے پہنچے ہوئے فقیر کو کہتے ہیں، اس کو میں نے دس روپیئے کیا دیئے، مانگنے والے میرے کپڑے پھاڑنے کو تیار ہو گئے، ہر ایک مجھ سے ضد کر تا کہ ہمیں بھی کچھ دو، میرے ماتھے پر تلک لگا ہوا تھا، مگر اس کے باوجود وہاں کے مانگنے والوں سے جان بچانا مشکل ہوگئی، وہاں کے ظاہری حال سے میں بہت بدظن ہوا، مگر وہاں اندر جاکر مجھے کچھ عجیب سی شانتی و سکون ملا، خاص طور پر وہاں ایک مسجد ہے اس میں اندر جا کر بیٹھا، تو میں دو گھنٹے بیٹھا رہا، وہاں سے آنے کو دل نہیں چاہتا تھا، مسجد میں کچھ لو گ سورہے تھے، کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، وہاں سے واپس ہر یدوار آیا، یہاں چین نہ ملا پھر ایک بار گھر چلا گیا گھر والوں نے مجھ پر زور دیا کہ میں آگے پڑھائی کروں، سی،اے کرلوں،یا کم از کم ایم بی کرلوں، میرا دل کچھ اس طرح کا کام کرنے کو نہیں  چاہتا تھا تین مہینے گھر رہنے کے بعد گھر سے دباؤ بڑھا تو پھر میں گھر سے ہر ید وار چلا آیا اور بس نہ جانے کیسی بے چینی میں در بدر مارامار ا پھر تا رہا، یہ میری پہلے جنم کی کہانی ہے۔

  سوال  :   پہلے جنم کا کیا مطلب؟
 جواب  :  بس میں اپنی نئی زندگی کو ۹۲ جولائی ۸۰۰۲ء سے مانتا ہوں اور اس کو میں اپنا نیا جنم سمجھتا ہوں، اس لئے کہ زندگی شرک میں گزرے وہ زندگی کیا زندگی ہے۔

Shandar itihas ek raat men islami desh bana




  سوال  :   اپنے اسلام قبول کرنے کا حال بیان کرئیے۔
 جواب  :  میں نے ابھی بتایا کہ میرا حال تو یہ ہوا کہ میرے اﷲ نے شرک کے راستہ پر اپنا دستِ رحمت میرے اوپر رکھ کے مجھے ہدایت نصیب فر مائی، دربدر مارامارا پھر تا، پھر بھی ایسا لگتا تھا کہ جیسے مجھے کسی چیز کی تلاش ہے، دھرم کی کوئی بات جس پر قربانی دے کر مجھے لگتا کے میرا مالک راضی ہوجائے گا، میں اس کو کرنے کی کو شش کرتا، اس کے لیے میں نے کا وڑلے جانے کی نذرمانی،آپ جانتے ہیں کہ مہاشیوراتری پر سخت گرمی اور برسات کے زمانہ میں ہرکی پوڑی ہر یدوار سے گنگا جل کا وڑ میں لے کر پیدل جہاں کی کاوڑ سے پانی چڑھانے کی نذر مانی جاتی ہے وہاں لے کر جانا ہوتا ہے، سب سے 

زیادہ  پروا مہادیو شیخ پورا کے ایک مندر پر دسیوں لاکھ لوگ پانی چڑھانے جاتے ہیں ،یہ سفر مولانا احمد صاحب بہت مشکل تپسیا (مجاہدہ ) ہے میں بھی تین سال سے کاوڑ لے جاتا اور کسی طرح پانی چڑھا کر سخت بیمار ہو جاتا پچھلے سال تو میں اتنا بیمار ہو گیا کہ سوچتا تھا کہ شاید اس بار بچ نہیں سکوں گا مگر میرے مالک نے زندگی دے دی، پاؤں پر اتنا ورم آ جاتا ہے کہ پاؤں کی کھال پھٹ کر خون رسنے لگتا، چھالے زخم بن جاتے مےں بار بار آسمان کی طرف منھ کر کے مالک سے شکایت کرتا اور فریاد بھی کرتا کہ مالک آپ نے دھرم کتنا مشکل بنا دیا ہے، کبھی کہتا کیا میرے جل چڑھائے بغیر تو خوش نہیں ہو سکتا ؟اس سال میں کاوڑ لے کر چلا تو عجیب شش و پنج میں تھا، کبھی دل میں آتا یہ سب ڈھونگ ہے مگر اندر سے کوئی کہتا ہے کہ توتو سچا ہے تو تجھے اس راستے سے ہی مالک تک پہونچنا نصیب ہو جائے گا،مظفر نگر شہر میں نکلا تو ایک کاوڑکیمپ میں آرام کیا، میں نے سپنا (خواب ) دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں اور جماعت کھڑی ہے ایک صاحب آئے اور انہوںنے مجھے دروازے کے اندر جوتیوں میں کھڑا دیکھا تو بولے بیٹا !نماز ہو رہی ہے تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟میں نے کہا کہ لوگ مجھے پڑھنے نہیں دیں گے میں ہندو ہوں وہ بولے آ میں تجھے لے چلوں میرا ہاتھ پکڑ ا اور جماعت میں کھڑا کر دیا، میں نے دیکھا دیکھی نماز پڑھی، آنکھ کھلی تو احمد صاحب میں بیان نہیں کر سکتا کہ کتنا اچھا لگا،

Allach ka challenge

Maulana Kaleem Siddiqui Urdu / Hindi


-

 تھوڑی دیر آرام کر کے ہم چل دیئے میرے ساتھ ہریدوا رکے تین ساتھی اور تھے،راستے میں ایک مسجد سڑک پر تھی دو بجے دوپہر کا وقت تھامیں نے دیکھا لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں بس میں بے چین ہو گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ مسجد بھی تو اسی مالک کا گھر ہے جس کے لئے ہم جا رہے ہیں میں تھوڑا ساچڑھا وا وہاں چڑھا آؤں تیل کے لئے مجھے مسجد میں پیسے دینےہیں ، کاوڑ ساتھی کو دیکر میں مسجد گیا مگر ڈر بھی لگ رہا تھا کہ نامعلوم مسلمان کیا سمجھےں گے، مگر میں اندر سے مجبور تھا،میرا دل چاہا کہ میں جماعت میں کھڑا ہوجاؤںگا مگر ہمت نہ ہوئی،ایک بڑے میاں بولے، بھولے بیٹا کیا دیکھ رہا ہے تجھے کیا چاہئے ؟میں نے کہا ابا جی !ایک بار نماز پڑھنا چاہتا ہو ں،انہوںنے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ تو پھر سوچ کیا رہا ہے اور یہ کہہ کر میرا ہاتھ پکڑ کر جماعت میں کھڑا کردیا، میں نے نماز پڑھی سر جب زمین پر رکھ کر سجدے میں گیا تو مجھے ایسا لگا جیسے آج میں مالک کے پاس آیا ہوں،نماز پڑھ کر واپس آیا، میں نے ساتھیوں سے اپنے خواب کا ذکر کیا اور نماز میں جو مزہ آیا اس کا بھی، 
ساتھیوںمےں د و نے تو بہت برا بھلا کہا، میرا ایک ساتھی دنیش بولاتو مجھے کیوں 
نہیں لے گیا ؟مجھے بھی دکھاتا کہ نماز میں کیسا مزہ آتا ہے ہمارا سفر چلتا رہا ہم لوگ انتیس تاریخ کی دوپہر کو  نہر کی پٹری والی سڑک سے بھولے کی جھال پر پہنچے توظہر کی اذان مسجد میں ہوئی میں موقع لگا کر کاوڑ ایک کیمپ میں رکھ کر دنیش کو لے کر اندر گاؤں میں مسجد میں گیا، چار پانچ لوگوں کی جماعت ہو رہی تھی، میں جماعت میں شریک ہو گیا میں نے دنیش سے کہا کے شیش (سر) جب زمین پر رکھے گا تو دیکھنا ایسا لگے گا جیسے مالک کے چرنوں (قدموں ) میں ماتھا رکھا ہے، پھر دیکھنا کیسا آنند آئے گا، نماز پڑھ کر پھر ہم کیمپ آ گئے، دنیش نے کہا کہ واقعی تم سچ کہتے ہو، عصر کے بعد ہم لوگ پورا مہادیو پہنچے، ہم لوگ خوشی خوشی منزل تک پہنچنے کی خوشی میں بیٹھے ہوئے تھے،رات بارہ بجے کے بعدجل  چڑھانا تھا بھیڑ بہت تھی دورذرا بھیڑ سے دور، ندی کے کنارے ایک پیڑ کے نیچے ہم سو گئے آ د  ھے گھنٹے میں آنکھ کھلی تو کچھ نو جو ان پا س بیٹھے ہو ئے تھے ان کے ہا تھ میں کچھ کتا بیں تھیں وہ ہما رے پا س آ ئے اور ہما را پر یچے (تعا رف) پو چھا، پھر بو لے ہم سب ایک ما ں با پ کی سنتان ہیں ہم آپ کے حقیقی خونی رشتے کے بھا ئی ہیں، آپ لو گ ما لک کو راضی کر نے کے لئے کیسی کٹھن تپسیا (مجا ہدہ ) کر کے یہا ں پہنچے ہیں، ہما رے ایک دھر م گر و ہیں، انہو ں نے انسا نو ں سے ہما را کیا رشتہ ہے اور اس رشتہ کا سب سے بڑا حق کیا ہے، یہ سمجھانے اور اس حق کو کیسے پہنچاناجائے اس کی ٹریننگ کے لئے ایک کیمپ بڑوت میں لگا یا تھا مسجد میں اس کے آخری پروگرام میں ہم سبھی کو اپنی تقریرمیں بہت پھٹکار سنائی کہ یہ ہمارے خونی رشتہ کے بھائی جو کاوڑ لاتے ہیں کیسی مصیبت بھر کر سفر کرتے ہیں اور ان کا، سچائی کا راستہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے، ہر قدم نرک کی طرف شرک کی طرف جا رہا ہے،اور ہم اپنی کھال میں مست کھانے اور کمانے میں ہیں ، یہ کیسا بڑا ظلم ہے ہم سارے غیر مسلموں کو اپنا دشمن اور مخالف سمجھتے ہیں ، یہ لاکھوں لوگ صرف مالک کو راضی کرنے کے لئے اس قدر مشکل سفر کرتے ہیں ، 

میں نے کئی کاوڑ کیمپوں میں دیکھا کہ پاؤں پر ورم چھالے اور زخم ہو رہے ہیں ،لوگ ان کی مرہم پٹی کر رہے ہیں،  ہم کیسے رحمت بھرے نبی کو ماننے والے ہیں کہ ہم ان بھائیوں کو حق نہیں پہنچاتے، ذرا کوشش تو کرنی چاہئے اپنا سمجھ کر ہمارے ذمہ ان کو سچائی پہنچانا ہے، کم از کم ہمیں پہنچانا توچاہئے،چھ سات روز کے کیمپ میں ایک ساتھی بھی کاوڑ بھائیوں سے نہیں ملا، کل میدان محشر میں یہ ہمارا گلا دبائیں گے اور ہم چھڑا نہ سکیں گے ان کی درد بھری باتوں سے ہمارا دل بھر آیا اور ہم نے ارادہ کیا کہ ہم کچھ بھائیوں تک بات ضرور پہنچائیں گے، آج ہم صبح سے پچیس بھائیوں سے ڈرتے ڈرتے ملے ہیں آپ کو سوتے دیکھا تو خیال ہوا کہ آپ الگ جگہ پر ہیں ، آپ سے اطمینان سے بات ہو سکتی ہے، اگر آپ کو برا نہ لگے تو ہم آپ کے اور اپنے مالک کے بارے میں کچھ باتیں کریں،میرے ساتھی دنیش نے کہا ضرور بتایئے،وہ ہمیں ایک مالک اور اس کی پوجا کے بارے میں بتانے لگے اور اس کے علاوہ کسی کی پوجا کو پاپ بتا کر نرک کی آگ سے ڈرانے لگے اور قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں، وہ جب عربی میں قرآن پڑھتے تو ہم سبھی ساتھیوں کو بہت اچھا لگتا، آدھے گھنٹے تک باری باری وہ لوگ بات کرتے رہے اور جب ہم نے ان کی سب باتوں سے سہمتی (اتفاق) ظاہر کیا تو انہونے ہمیں کلمہ پڑھنے کو کہا ہم چاروں نے کلمہ پڑھا، انہوں نے ہمیں ایک ایک کتاب ’’آپ کی امانت، آپ کی سیوا میں‘‘ دی اور بتا یاکہ جن دھرم گرونے بڑوت میں کیمپ لگا کر ہمیں جھنجھوڑا تھا اور جن کی وجہ سے ہم آپ کے پاس آئے ہیں یہ انہیں کی کتاب ہے،ہم آپ کو بھینٹ کر رہے ہیں، اس کو غور سے تین تین بار پڑھئے، تو آپ کو حق کیا ہے اور اسلام لانا اور کلمہ پڑھنا کیوں ضروری ہے، معلوم ہو جائے گا اور پھر اس کتاب میں جو کرنے کو کہا ہے ضرور کرئیے میں یہ کتاب لے کر فوراً پڑھنے لگا


Do Goli maarne wale ko maaf kardiya

New Muslim Interview ✔️( Maulana kaleem siddiqui ) with google / micro Voice





 میرے دوسرے ساتھی بھی پڑھنے لگے،ہم لوگ اس پریم بھاؤ(محبت ) سے لکھی اس کتاب میں بالکل گم سے ہو گئے یہ کتاب پڑھ کر مجھے ایسا لگا، جیسے یہ کتاب صرف میرے لئے لکھی گئی ہو اور میں جس سچائی کی تلاش میں در بدر مارا پھرتارہا اور تپسیائیں کرتا رہا، وہ مجھے مل گئی، دن چھپنے کو تھا،وہ لوگ یہ کہہ کر جانے لگے اچھا ہم چلتے ہےں میں نے کہا آپ تو جاتے ہم کیا کریں،انہوںنے کہا کہ آپ جل چڑھایئے پھر گھر جا کر سوچئے اور فیصلہ کیجئے، میں نے کہا کے آپ کیسی بات کرتے ہیں ؟اس کتاب میں شرک کو سب سے بڑا پاپ کہا گیا ہے اور یہاں جل چڑھانا سب سے بڑا پاپ ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کاوڑ یہاں آپ چھوڑیں گے تو کچھ اور نہ ہو جائے،میں نے کہا ہوجائے تو کیا ہے،اور میں نے وہ کاوڑ ندی میں پھینک دی اور کہا کہ اب کسی نماز کا وقت ہے کہ نہیں ؟انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر بعد نماز کا وقت ہو جا ئے گا، میں نے کہا مجھے نماز پڑھنے لے چلو،میرے ساتھی دنیش نے بھی کاوڑ ڈال دی،اور ہم ان دونوں کے ساتھ ہولئے اور بڑوت پہنچے، میرے دو ساتھی کاوڑلے کر پانی چڑھانے کے لئے چلے گئے، مگر بعد میں انہوں نے بھی پانی چڑھانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

  سوال  :  اس کے بعد کیا ہوا ؟
 جواب  : بڑوت پہنچ کر انہوں نے میرے اور آپ کے والد مولانا کلیم صاحب سے فون پر بات کی، انہوں نے فون پر مجھے بہت بہت مبارک باد دی اور کہا کہ آپ سچے طالب تھے اس لئے مالک نے آپ کو راہ دکھائی،میں نے اسلام کو سمجھنے خاص طور پر نماز سیکھنے کاتقاضہ کیا، تو انہوں نے مجھے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ پہلے کچہری جاکر کسی وکیل سے مل کر قانونی کاروائی کرکے اور پھر دہلی آجائں میں آپ کو کسی اچھی جماعت میں بھیج دوںگا، اگلے روز میں نے سہارنپور جا کر اپنا بیان حلفی اور سرٹیفکیٹ وغیرہ بنوایا اور پھر اکتیس کی شام کو میں اور دنیش دہلی پہنچے حضرت سے ملاقات کی اور پوری داستان سنائی،انہوںنے میرا نام حسن اور دنیش کا نام حسین رکھا میں نے عرض کیا کہ ایک مست نے مجھے کلیر میں بتایا تھا کہ تجھے ابدال بناےا،اس لئے میرا نام ابدال رکھ دیں تا کہ میں نام کا ابدال بن جاؤں، کیا مشکل ہے کہ میرا اللہ مجھے پہنچا ہوا ابدال بنادے،مولانا نے کہا کہ اللہ کے ایک بہت پیارے بندے اور بزرگ حسن ابدال ہوئے ہیں میں آپ کا نام حسن ابدال رکھتا ہوں تاکہ آپ ابدال بھی اچھے والے بن جائے، جس اللہ نے آپ کو پروامہادیو میں شرک کی منزل پر ہدایت عطا فرمائی اور اپنی آغوش رحمت میں آپ کو اٹھا لیا اس اللہ کے لئے ابدال بنانا بہت آسان ہے، مولانا صاحب نے کہا مجھے امید ہے آپ ابدال ضرور بنےں گے، انشاء اللہ اور بلکہ ابدال سے بھی آگے اللہ آپ کو کچھ بنا ئیں گے، میں نے مولانا صاحب سے جب اپنی چار سالہ تپسیا کی بات بتائی کہ میں نے برت پر برت رکھا ہے، تین چلے ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر یگیہ کیا ہے، چھ مہینے بہت نہ کے برابر سو یا ہوں، کتنے آشر موں میں جیسے کوئی بتاتار ہا محنت کرتا رہا ہوں مولانا صاحب رونے لگے اور بولے اصل میں تمہاری ان تکلیفوں کے ہم مجرم ہیں کہ ہم نے آپ کو بتایا نہیں پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تو آپ کے پالنہار ہیں خود ہی اللہ نے آپ کے لئے راہ نکال دی، مولانا نے مجھے ایک مولانا صاحب کے صاحب کے ساتھ مرکز نظام الدین بھیج دیا پہلی اگست کو ہم جماعت میں متھرا چلے گئے، جماعت تین چلے کی تھی، آگرہ متھرا کے چلّے کے بعد میرا دل نہیں بھرا، میرا قاعدہ مکمل ہو ا، اردو بھی میں نے پڑھنا شروع کر دی تو امیر صاحب نے ہمیں دوسرے چلے میں جانے کا مشورہ دیا جماعت میں میرے ساتھ عجیب عجیب حالات آئے، ایک دودفعہ نہ جانے ساتھیوں سے کس طرح بچھڑ گیا، کچھ عجیب عجیب لوگوں سے میری ملاقاتیں ہو ئیں، 


Do Goli maarne wale ko maaf kardiya

New Muslim Interview ✔️( Maulana kaleem siddiqui ) with google / micro Voice





انہوں  نے مجھے کیسی کیسی عجیب چیزیں دکھا ئیں اور جب میں ذرا خیال کرتا کہ میری جماعت ! تو اچانک جیسے زمیں میرے پیروں کے نیچے بھاگ رہی ہو، جس طرح ریل میں یا گاڑی میں بیٹھ کر لگتی ہے ایسا لگتا اور میں اپنی جماعت کے ساتھ ہوتا ایسا میرے ساتھ ۸،۹ بار ہوا، مجھے خواب دکھائی دیتا جیسے میں پروں والا پرندہ ہوں، یہاں اڑا، وہاں اڑا، یہاں پہنچا، وہاں پہنچا سوتے میں میں اڑنے لگتا، ایک روز تعلیم میں فضائل اعمال میں ابدالوں کا ذکر آیا میں نے امیر صاحب سے معلوم کیا کہ ابدال کیا ہو تے ہےں ؟انہوںنے تفصیلات بتائیں کہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہےں، جن کے پیرو ں میں زمین سکڑ جاتی ہے، جس طرح فیلڈ افسروں کو گاڑی دی جاتی ہے اسی طرح ابدالوکو طرح طرح کے کمالات اور کرامات دی جاتی ہےں، مجھے دھن سی لگ گئی، میرے اللہ مجھے تو ابدال بنادے، پوری جماعت یہ دعا کرتا رہا اس کے بعد میرے ساتھ جماعت سے بچھڑ نے وغیرہ کے معاملے ہوئے۔

  سوال  : آپ نے ابی سے یہ حالات بتائے ؟
 جواب  : دو گھنٹے تک حضرت نے کارگزاری سنی، اصل میں حضرت نے مجھے سختی سے منع کر دیا تھا کہ جماعت میں کسی کو مت بتانا کہ میں کاوڑ لے جا رہا تھا اور وہیں مسلمان ہوا ہوں، بس میں نے ایک روز امیر صاحب سے آخر میں ذکر کیا،آج میں نے مولا نا صاحب سے کہا آپ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ مجھے ابدال بنادے، مولانا نے کہا کہ دال بننے سے کیا ہوگا، گوشت بنیئے ابدال تو تم ہو ہی انسان گوشت کا بنا رہے اس کے لئے یہ ہی بہتر ہے، جب میں نے ضد کی تو مولانا صاحب نے کہا کہ بس اللہ ایمان پر خاتمہ فرماویں اور اپنے نبی  ؐ کے طریقے پر چلا دیں اور سب سے زیادہ یہ کہ انسان بنا دیں، ا س کی دعاء کرنا چاہئے ابدال ہونا، کشف کرامت کی تمنا کرنا یہ بھی ایک طرح غیر ہی ہیں، جس طرح دیو دیوتا کی تمنا کرنا شرک ہے اسی طرح یہ بھی ایک طرح خاص لوگوں کے لئے شرک کی طرح ہے، بس اللہ کو راضی کرنے کی فکر کرنا چاہئے اس کے لئے دعوت کے کام کو مقصد بنایئے، جہاں تک ابدال اور غوث بننے کی بات ہے آدمی اپنے اللہ کی رضا میں سچا ہو تو ابدال اور غوث تو یوں ہی اللہ بنا دیتے ہیں آپ کے حالات بتا رہے ہیں کہ اللہ آپ کو ضرور ابدال ہی نہیں اس سے آگے بنائیں گے۔

  سوال  :  اب آپ کا کیا ارادہ ہے ؟
 جواب  :  مجھے حضرت نے چند روز کے لئے ایک اللہ والے کے یہاں جاکر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔





  سوال  :   آپ کے دو ساتھی جو کاوڑ میں ساتھ تھے ان کا کیا ہوا ؟
 جواب  : وہ گھر آکر ۵۱ روز کے بعد مولانا سے آکر ملے تھے، بعد میں وہ بھی جماعت میں چلہ لگا کر آئے اور گھر والوں پر کام کر رہے ہیں ۔

  سوال  :  آپ کے ساتھی دنیش کمار کا وقت کیسا گزرا ؟
 جواب  : الحمدللہ اس کا وقت بھی بہت اچھا گزرا وہ بہت سیدھا سادھا اور بھلا آدمی ہے، اس کے نیچر میں برائی پہلے ہی سے نہیں ہے بس کلمہ پڑھ کر بہت اچھا مومن انسان وہ بن گیا، ہماری پوری جماعت میں سب سے اچھا وقت دنیش کا لگا، سارے ساتھی اس کی خدمت میں بہت خوش تھے۔

  سوال  : آپ نے ساتھیوں کی خدمت نہیں کی ؟ 
 جواب  : میرے ساتھ ایک دو عجیب باتیں ہو گئی تھیں، اس لئے ساتھی مجھے نہ جانے کیا سمجھنے لگے اور سب میری خدمت کرتے تھے مجھے نہ جانے کیا کیا کہتے تھے دعا کو کہتے تھے، مجھے ڈر بھی لگتا تھا کہ میرے اندر کی خرابی ان کو معلوم ہو جائے گی تو سارا بھرم کھل جائے گا، میں اللہ سے دعابھی کرتا تھا۔


  سوال  :  ابی نے آپ کو دعوت کا کام کرنے کے لئے نہیں کہا؟
 جواب  :  آج بیٹھ کر خاکہ بنایا ہے، حضرت نے مجھے کہا ہے کہ پہلے اپنے کو بنانے کی فکر کیجئے، یہ ہمارا دیش محبت والوں اور روحانیت والوں کا دیش ہے، اگر اندر کوصاف کر کے اور بنا کے روحانیت کی ترقی ہو جائے، تو ان میں خصوصا ً مذہبی لوگوں میں کام زیادہ آسان ہو گا، اس لئے مجھے کچھ روز کے لئے ایک جگہ بھیج رہے ہےں وہاں ذکر وغیرہ بتا ئے ہیں دعا کیجئے اللہ تعالیٰ میرے اندر کا کھوٹ نکال دے اور حضرت کا میرے بارے میں جو ارادہ ہے وہ پورا ہو جائے۔

  سوال  : انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ ضرور پورا کریں گے، بہت بہت شکریہ، حسن بھائی کسی وقت حسین بھائی سے بھی ملوایئے، تاکہ ان سے بھی باتیں کی جا سکیں ؟
 جواب  : جب آپ کہیں گے میں ان کو انشاء اللہ بلادوں گا 

  سوال  : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘،بہت بہت شکریہ 
 جواب  : احمد بھائی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ نے میرے دل کی چاہت پوری کرادی ارمغان میں میری کارگزاری آئے گی اور آپ کا بھی شکریہ، دھنیہ واد۔
       و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ 

2008مستفاداز ماہنامہ ارمغان، اکتوبر
Location: Phulat, Uttar Pradesh 251201, India