نو مسلم شمیم بھائی ﴾شیام سندر سے ایک ملاقات

(حضرت مولانا کلیم صدیقی پر حملہ کرنے والے گروہ کے ممبر کا انٹرویو)

शमीम भाई (पूर्व गेंग मेम्‍बर श्याम सुंदर) से एक मुलाकात

احمد اواہ : السلام علیکم ورحمة اللہ و بر کاتہ‘
شمیم بھائی : وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ‘

 سوال : شمیم بھائی آپ جماعت میں سے کب آئے؟
 جواب : میں جماعت میں سے ۲۲ اپریل کو واپس آگیا تھا۔

 سوال : آپ کا یہ چلہ کہاں لگا تھا؟
 جواب : میرا یہ چلہ میوات میں لگا،بجنور کی جماعت تھی مفتی عباس صاحب امیر تھے، الحمدللہ اس چلے میں میرا پہلے چلے سے بہت اچھا وقت گزرا۔

 سوال : اچھا ماشاءاللہ ، آپ کا یہ دوسرا چلہ تھا؟
 جواب : ہاں احمد بھائی ، پہلا چلہ تو میرا جب مولانا صاحب حج سے آئے تھے اس کے فوراً بعد لگا تھا، حج سے آنے کے چار روز بعد میں نے کلمہ پڑھا تھا اور تین دن بعد میرے کاغذات بنواکر نظام الدین سے مجھے جماعت میں بھیج دیا گیا تھا، وہ چلہ میرا سیتا پور میں لگا تھا، مگر وہ جماعت ذرا میری جیسی تھی، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ اچھی نہیں تھی امیر بھی نئے تھے اور ساتھیوں میں بھی روز لڑائی ہوتی رہی ، چار ساتھی درمیان میں واپس آگئے میں تو یہ کہوں گا کہ میری نحوست تھی کہ اللہ کی راہ میں بھی مجھے میرے جیسے حال والوں سے سابقہ پڑا۔

 سوال : اچھا شمیم بھائی ، آپ اپنا خاندانی تعارف کرایئے؟
 جواب : میں مظفر نگر ضلع کے سکھیڑہ گاﺅں کے پاس ایک گاﺅں کے گوجر زمیندار پریوار میں پیدا ہوا، ۹۱اپریل ۴۸۹۱ءمیری جنم تتھی (تاریخ پیدائش )ہے، میرے پتاجی نے نام شیام سندر رکھا ، میرا خاندان پڑھا لکھا خاندان ہے،میرے چچا سرکاری افسر ہیں، میرے والد بھی ماسٹر تھے اور ستر بیگھہ زمین بھی تھی،میرے بڑے بھائی فوج میں ہیں، ایک بہن ہے ان کی شادی سرکاری اسکول کے ٹیچر سے ہوئی ہے، میں نے ہائی اسکول سے پڑھائی چھوڑ دی اور فلم دیکھنا ، سگریٹ پینا، گٹکہ کھانا اور آوارہ لڑکوں کے ساتھ رہنا میرا کام تھا، میرے پتاجی نے مجھے پڑھنے پر زور دیا تو میں گھر سے بھاگ گیا، میری سنگتی اچھی نہیں رہی اور پھر مجھے گولیاں کھانے کی عادت ہوگئی، کافی دنوں کے بعد میں کسی طرح گھر آیا، مگر میرا تعلق غلط لوگوں سے تھا، خرچ گھر والے دیتے نہیں تھے، میں نے خرچ بڑھا رکھا تھا مجبوراً گھر سے چوری کرتا، کبھی کچھ نکال کر بیچ آتا کبھی کچھ گھر والوں نے احتیاط کی تو پھر باہر سے چوری کرنے لگا، بات بگڑتی گئی اور میں لوٹ مار کر نیوالے لڑکوں کی گینگ میں جا ملا اور میرے اللہ کی رحمت پر قربان کہ یہ گینگ ہی میری نیا پار لگائی گئی۔

 سوال : اصل میں گینگ میں رہنا تو نیا کو ڈبوتا ہی ہے، بس اللہ کی رحمت نے آپ کو پھول سمجھ کر اس گندی گینگ کی کیچڑ سے آغوش رحمت میں اٹھا لیا۔
 جواب : ہاں آپ سچ کہتے ہیں۔ اصل میں میرا خاندان اور پورا پریوار بڑے سجن لوگوں کا پریوار ہے میرے گھر والوں کے زیاد ہ تر مسلمانوں سے تعلقات رہے ہیں میرا بچپن بھی اسی ماحول میں گزرا، میں بد قسمتی سے اس ماحول سے دور ہوتا رہا مگر مجھے اس غلط ماحول سے سوبھاﺅ (فطرت) کے لحاظ سے میل محسوس نہ ہوا۔

 سوال : اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں ذرابتائیے ؟
 جواب : احمد بھائی پچھلے سال دکھےڑی جلسہ سے واپس آتے ہوئے رات کو منصور پورسے پہلے آپ کے اور ہم سب کے ابی مولانا کلیم  صاحب کی گاڑی پر بدمعاشوں نے گولی چلادی تھی،ہمارے   ڈرایور سلیم  کے دو گولی  لگی تھیں ایک  ہاتھ میں اندر گھس گئی تھی دوسری گولی بالکل دل کے سامنے سینے پر لگی تھی ،کرتا بری طرح پھٹ گیا . ٣١٥  کی گولی ،مگر کلائی سے (اللہ کی رحمت سے ) بس  جیسے چھوکر واپس آگئی ،گولی کا نشان دیکھ کر آدمی خود حیرت  کرے گا کہ اللہ کی شان تھی ،اللہ تعالی اپنے سچے بندوں کو ساتھی بھی ایسے دیتے ہیں کہ گولی لگنے کے با وجود سلیم  نے گاڑی کو دو تین کلو میٹر  الٹا بیک گیر میں  دوڑایا اور موقع لگا کر موڑااور دس کلو میٹر  دور جاکر بتایا کہ مجھے گولی لگ گئی ہے اور حوصلہ نہیں  کھویا ،ورنہ ہمارے ساتھی تویہ  کہہ رہے تھے کہ ہم نے اسے نشانہ بنا کر گولی سامنے سے ماری تھی کہ ہم کویقین تھا کہ ڈرایور تو مر گیا  ہوگا ،کوئی دوسرابرابر والا گاڑی بھگا رہا ہے ۔           
 وہ جو گولی چلانے والے لوگ تھے سب میرے  اتھی تھے ،مگرمیرے اللہ کا کرم تھا میں دو ہفتہ سے بیمار ما ر ہوگیا تھا اور مجھے پیلیا ہوگیا تھا، میں مظفر نگر اسپتال میں بھرتی تھا، یہ خبر پورے علاقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، ہم آٹھ لوگوں کا گینگ تھا ، صرف میں ایک ہندو تھا اور سب سات لوگ مسلمان تھے اتفاق سے میرے علاوہ ساتوں اس روز اس واقعہ میں موجود تھے ، کھتولی کوتوالی نے سی آئی ڈی انچارج کو بلایا اور دونوں نے قسم کھائی کہ ایسے سجن، بھلے اور مہان آدمی کی گاڑی پر ہمارے چھیتر (علاقہ ) میں یہ حملہ ہوا ہے ہمارے لئے ڈوب مرنے کی بات ہے، قسم کھاکر عہد کیا جب تک مجرموں کو پکڑ نہ لیں گے اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے، بھلا ایسے لوگوں پر گولی چلانے والے کب بچ سکتے تھے، تیسرے روز ان میں سے تین پکڑے گئے اور پٹائی پر سب نے بتادیا، باقی چار بھی ایک ہفتہ میں گرفتار ہوگئے، بہت سے کیس لوٹ مار چوری ڈاکے کے کھلے اور تھانہ انچارج نے ایسے کیس بنائے کہ ضمانت تو سالوں تک ممکن ہی نہیں تھی نہ ہوئی۔
ایک ہفتہ کے بعد میری طبیعت کچھ ٹھیک ہوئی، دوبار خون بھی چڑھا تو میری چھٹی ہوئی، دو ہفتے تک گھر پر ہی رہا، ساتھیوں کے پکڑے جانے کی خبر مجھے مل گئی تھی، میرا خون سوکھتا تھا کہ سختی میں میرا نام نہ لے لیا ہو، مگر دو مہینے تک جب ہمارے گھر پولیس نہ آئی تو کچھ اطمینان ہوا کچھ طبیعت بھی ٹھیک ہوگئی تو میں کسی طرح موقع لگا کر جیل میں ملائی کرنے گیا، جیل میں ساتھیوں نے سارا معاملہ بتایا اور مجھے بدھائی دی کہ تو بیمار ہوگیا ورنہ تو بھی ہمارے ساتھ جیل میں ہوتا، مظفر نگر جیل میں ان کی ملاقات کچھ قیدیوں سے ہوئی جو مولانا صاحب کے ان ساتھیوں کی کوشش سے جن کو دشمنی میں لوگوں نے جھوٹ ایک قتل کے کیس میں پھنسا دیا تھا مسلمان ہوگئے تھے، ان قیدیوں سے ملنے مولانا کلیم کئی بار جیل آئے، جیل والوں سے مولانا صاحب اور ان کے گھر والوں اور ان کی والدہ کے بارے میں کہانیاں سی سناتے رہتے تھے، ان کے گھر کا یہ حال ہے کہ اپنے چوروں کو خود چھڑا کر لاتے ہیں ، معاف کرتے ہیں ان کے گھر راشن پہنچاتے ہیں، کوکڑا گاﺅں کے میرے ایک ساتھی نے جو ہمارا سردرد تھا مجھ سے کہا تو پھلت جانا اور مولانا صاحب سے ہماری پریشانی بتانا اور خوب رونا ، منھ بناکر خوب پریشانیاں بتانا، میں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی ، بھلا ان کے یہاں جانے کا کس طرح منھ ہوسکتا ہے، مگر وہ زور دیتا رہا تو جاکر دیکھنا وہ تجھے کچھ نہیں کہیں گے، ان سے کہنا سب ساتھی دل سے معافی مانگ رہے ہیں اور سبھی عہد کررہے ہیں کہ اب اچھی زندگی گزاریں گے اور آپ کے مرید بھی بن جائیں گے، میری ہمت نہ ہوئی، ہفتے دو ہفتے کے بعد وہ مجھے زور دیتے رہے۔
بار بار کہنے پر مجھے بھی ان کے حال پر ترس آگیا اور میں پتہ لینے کے بعد پھلت پہنچا،سردی کا زمانہ تھا راستہ میں بارش ہوگئی اور میں بھیگ گیا، مولانا صاحب ظہر کی نماز کے لئے جا رہے تھے نماز کا وقت قریب تھا، مجھے دیکھا معلوم کیا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے اپنے گاﺅں کا نام بتایا، مولانا صاحب گھر میں گئے اور میرے لئے ایک شرٹ پینٹ لے کر آئے اور بولے سردی سخت ہورہی ہے آپ اندر جاکر کپڑے بدل لیجئے، میرا نام پوچھا میں نے نام بتایا شیام سندر ، تو انھوں نے رضائی میں بیٹھ جانے کو کہا اور اندر سے بچے کو ایک کپ چائے لانے کو کہا، نماز کے لئے جاتے وقت ہنستے ہوئے بولے ، آپ تو اس علاقے کے مہمان ہیں جہاں ہماری اچھی مہمانی ہوئی تھی، ہمارے ڈرائیور کے گولی لگی تھی، میں یہ سن کر سہم گیا، میرے چہرے کے اترنے سے مولانا صاحب بولے آپ کیوں شرماتے ہیں، کوئی آپ نے گولی نہیں چلائی تھی، آپ تو ہمارے مہمان ہیں، مولانا صاحب نماز پڑھنے چلے گئے۔
نماز پڑھ کر واپس آئے تو میں نے الگ بات کرنے کے لئے کہا، برابر کے چھوٹے کمرے میں مجھے لے گئے میں نے اپنا تعارف کرایا اور اپنے ساتھیوں کا حال اور ان کے گھر کا حال خوب بناوٹی رونا بنا کر سنایا اور مولانا صاحب سے کہا آپ چاہیں تو ان کی ضمانت ہوسکتی ہے، مولانا صاحب نے کہا نہ ہم نے ان کو گرفتار کیا ہے اور ہم ان کو مجرم کم اور بیمار زیادہ سمجھتے ہیں، ایسے سچے اور اچھے دین کو ماننے والے ، ایسے رحمت بھرے رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھنے والے، ایسی بے دھڑک لوگوں کی جانیں لیں گے تو پھر دنیا کا کیا ہوگا؟ ان کا علاج یہ ہے کہ ان سے کہوں یا عمر قید میں رہو یا تین چلے کے لئے جماعت چلے جاﺅ، اگر وہ سچے دل سے اپنی غلطی پر شرمندہ ہیں تو وہ جیل سے سیدھے تین چلے کے لئے ساتوں جماعت میں چلے جائیں، ہم خود گواہی دینے کے بجائے ان کی ضمانت کو تیار ہیں۔
مولانا صاحب نے مجھ سے کہا ، آپ پہلے کھانا کھالیں میں ابھی آتا ہوں، ایک صاحب اندر سے کھانا لے آئے، تھوڑی دیر میں مولانا آئے اور مجھ سے کہا اپنے ساتھیوں کی جیل کی تو تم فکر کرتے ہو تمہیں بھی ایک جیل میں مرنے کے بعد جانا پڑسکتا ہے، وہ جیل ہمیشہ کی ہے جس سے ضمانت بھی نہیں ہے وہ نرک کی جیل ہے، جس میں ایسی سزائیں ہیں جن کا تصور بھی یہ دنیا کی پولیس والے نہیں کرسکتے ، اس جیل سے بچنے کے لئے یہ کتاب پڑھو یہ کہہ کر ” آپ کی امانت آپ کی سیوا میں“مجھے دی پھر وہ ایک ساتھی کو میرے پاس بھیج کر چلے گئے ان سے بات کرو، وہ مجھے مسلمان ہونے کے لئے کہتے رہے اور بولے تم بڑے خوش قسمت ہو کہ مالک نے آپ کو اسی بہانے ہمارے حضرت کے یہاں بھیج دیا، مالک کی مہر ہوتی ہے تو اللہ اس در کا پتہ دیتے ہیں، میں نے ان سے اس کتاب کو پڑھنے کا وعدہ کیا اور اس لحاظ سے خوش خوش گھر لوٹا کہ چار مہینے جماعت میں جانا تو بہت آسان ہے، میں نے اگلے روز جیل جاکر ساتھیوں کو خوش خبری سنائی انھوں نے پوری بات سنی اور بہت روئے ایسے آدمی کے ساتھ ہم نے بڑا ظلم کیا اور پھر ان نو مسلم قیدیوں کے ساتھ رہنے لگے نماز پڑھنی شروع 
کردی ، روزانہ تعلیم میں بیٹھنے لگے اور تین قیدی ان کے کہنے سے مسلمان بھی ہوئے۔
میں نے دوسرے روز وہ کتاب پڑھی ، ایک اجنبی آدمی کے ساتھ مولانا صاحب کے برتاﺅ نے میرے اندر ون کو مولانا
کلیم صاحب کے ڈرائیورسلیم سینہ پر گولی کا نشان دکھاتے ہوئے 

 کا کردیا اور مجھے اندر میں ایسا لگ رہا تھا کہ میں مولانا کا غلام ہو گیا ہوں، اس کتاب نے مجھے اور بھی جذباتی بنادیا، میں تین دن کے بعد پھلت گیا مولانا نہیں ملے ، بہت مایوس واپس لوٹا دوسری بار گیا، تیسری بار گیا تو معلوم ہوا کہ وہ آئے تھے 
اور آج ہی حج کے سفر پر چلے جائے گے اور ایک مہینے بعد آئیں گے۔
ایک ایک دن کر کے دن گنتا رہا ، میں بیان نہیں کرسکتا احمد بھیا، میں نے ایک مہینہ سالوں کی قید کی طرح گزارا، اللہ کا کرم ہوا میں نے پھلت فون کیا معلوم ہوا کہ مولانا صاحب آگئے ہیں اور کل تک رہیں گے، ۶۱جنوری کو صبح کے دس بجے میں نے مولانا صاحب کے پاس جا کر کلمہ پڑھا میں نے مولانا صاحب سے کہا کہ میرے پتاجی مجھے مارتے اور ڈانتے تو کہا کرتے تھے کہ نالائق ہمارے بڑے تو یہ کہا کرتے تھے، کہ انسان وہ ہے کہ اس کے دشمن بھی اس سے فائدہ اٹھائیں، تو نے اپنے ہی گھر کو نرک بنادیاہے، میں یہ سن کر کہتا ایسے لوگ کسی دوسرے لوک میں ہوں گے، لیکن آپ کے قاتلوں کے ساتھ رہنا میرے لئے ایمان لانے کا ذریعہ بن گیا، مولانا صاحب نے کہا میں کیا بلکہ وہ مالک جس نے پیدا کیا اس کو آپ پر رحم آگیا، آپ رحمت کی قدر کریں، میرا نام مولانا صاحب نے شمیم احمد رکھا۔

 سوال : پھر اس کے بعد آپ جماعت میں چلے گئے؟
 جواب : دوسرے روز میرے کاغذات میرٹھ بھجواکر بنوائے اور مجھے ساتھ لے کر مولانا صاحب دلی گئے اور ایک مولانا کے ساتھ مجھے مرکز بھیج دیا، سیتا پور چلہ لگا، کچھ نماز وغیرہ تو میں نے سیکھ لی واپس آکر میں نے کار گزاری سنائی مولانا صاحب نے کہا چالیس دن میں اگر آپ کلمہ بھی اچھی طرح یاد کر کے آگئے تو کافی ہے، آپ کو نما ز بھی خاصی آگئی ہے،دو بارہ جاکر اور اچھی طرح یاد کر لینا، کچھ روز میں مظفر نگر ایک مدرسہ میں رہا پھر جماعت میں دوبارہ گیا، الحمدللہ اس بار میں نے ایک پارہ بھی پڑھ لیا اور اردو بھی پڑھنا سیکھ لی، گھر والوں اور ساتھیوں کے لئے دعا بھی کی ، واپس جاکر جیل گیا اور ساتھیوں سے جماعت اور مسلمان ہونے کی کارگزاری سنائی، وہ بہت خوش ہوئے، اب انشاءاللہ جلدی ان کی ضمانت ہونے والی ہے، دو لوگوں کی ضمانت تو کسی طرح ہوگئی مگر میں نے ان کو بھی تیار کیا ہے وہ ساتوں انشاءاللہ جلد چار مہینے کی جماعت میں جانے والے ہیں۔

 سوال : جماعت سے واپس آکر آپ گھر گئے؟ تو گھر والوں کو آپ نے کیا بتایا؟
 جواب : میرے گھر والے یہ سمجھ رہے تھے کہ پھر گینگ میں چلا گیا ہوں، میرے گھر سے باہر جانے کے وہ عادی تھے ان کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ، ٹوپی اوڑھ کر کرتا پاجامہ پہن کر میں گھر پہنچا تو گھر والے حیرت میں پڑ گئے، شروع میں میرے پتاجی بہت ناراض ہوئے، پھر میں نے پھلت جانے کی اور وہاں کی ساری رپورٹ سنائی تو وہ خاموش ہو گئے، میں نے ایک دن بہت خوشامد سے ان سے وقت لیا کمرہ بند کرکے دو گھنٹے ان سے دعوت کی بات کی، پھر آپ کی امانت ان کو دی الحمدللہ، اللہ نے ان کے دل کو پھیر دیا اور وہ پھلت جاکر مسلمان ہو گئے، ہمارے گاﺅں میں مسلمان نام کے برابر ہیں مولانا صاحب نے ان سے ابھی اظہار اور اعلان کرنے کے لئے منع کردیاہے، البتہ وہ گھر والوں کو سمجھانے میں لگ رہے ہیں۔ خدا کرے ہمارا سارا گھر جلد مشرف بہ اسلام ہوجائے۔

 سوال : ماشاءاللہ بہت خوب ، اللہ تعالیٰ مبارک کرے، آپ کوئی پیغام ارمغان کے واسطہ سے مسلمانوں کو دیناچاہیں گے؟
 جواب : میں اپنی بات کیا کہوں میرا منھ کہاں میں کچھ کہہ سکوں ، مگر میں ضرور کہوںگا جو مولانا صاحب کہتے ہیں، کہ مسلمان اپنے کو داعی اور ساری امت کو مدعو سمجھنے لگے تو ساری دنیا رشک جنت بن جائے گی اور داعی طبیب اور مدعو مریض ہوتا ہے وہ آدمی نہیں جو اپنے مریض سے مایوس ہو اور وہ بھی طبیب نہیں جو مریض سے نفرت کرے، اس سے کراہت کرے، اسے دھکے دیدے، مسلمانوں نے اپنے مریضوں کو اپنا حریف ، اپنا دشمن سمجھ لیا ہے، اس کی وجہ سے خود بھی پس رہے ہیں اور پوری انسانیت ایمان اور اسلام سے محروم ہورہی ہے۔

 سوال : ماشاءاللہ! بہت اچھا پیغام دیا، شمیم بھائی، بہت دنوں سے میں انٹرویو لے رہا ہوں مگر اتنی اہم بات آپ نے کہی، آپ کو یہ سمجھ مبارک ہو۔
 جواب : احمد بھائی! بس یاد کرکے میں نے آپ کو سنادیاہے، سبق تو مولانا صاحب نے یاد کرایا ہے۔
 سوال : بہت بہت شکریہ! السلام علیکم
 جواب : آپ کا بھی شکریہ! وعلیکم السلام ورحمة اللہ 
مستفاداز ماہ نامہ ارمغان، جون ۷۰۰۲ئ
Monthly "Armughan"-june 2007




new muslim Noorul islam interview


۲ دسمبر ۱۹۵۸ میں مغربی بنگال کے ایک نہایت متشدد مذہبی ہندو ویشنو خاندان میں پیدا ہوا،ہمارا خاندان ایک پڑھا لکھا خاندان ہے،اس خاندان مین مسلمانوں کے تعلق سے چھوت چھات کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان گھر میں داخل ہو جائے تو گوبر کے پانی سے گھر کو پاک کیا جاتا ہے،باپ دادا نے میرا نام پریم انگسوشیکھرادھیکاری Premangshu Shehkar Adhikaryرکھا تھا ،بچپن سے میرا عجیب حال تھا ،خاندانی ماحول کے اثر سے مسلمانوں سے بہت زیادہ نفرت تھی،کوئی مسلمان بچہ اگر ہمارے گھر کے پاس ہو تا یا کھیلتا ہوا ملتا تو ڈانٹ کر بھگا دیتا ان سے نفرت کرنا اور ان کو پاپی سمجھنا(بطور خاص میرے ذہن میں مسلمانوں کی گائے کشی کی نفرت بیٹھی ہوئی تھی)یہ چیزیں میرے دل میں بسی ہو ئی تھیں۔
جہاں پر ہندوؤں کا محلہ ختم ہو تا ہے وہیں ہمارا گھر تھا،اور وہیں ایک پرائمری اسکول اور ایک مسجد تھی ،اور پھر مسلمانوں کا محلہ شروع ہو جاتا تھا،یوں تو ہمارے گھر ہی میں مندر تھا اس میں روزانہ پوجا وغیرہ ہو تی تھی،لیکن کسی خاص تہوار کے موقع پر باقاعدہ منڈپ باندھا جاتا تھا،اور دھوم دھام سے پوجا ہوتی تھی، چونکہ مسلمانوں کا محلہ بالکل ہمارے مکان سے قریب تھا،ان کے چھوٹے چھوٹے بچے منڈپ میں مورتی دیکھنے آتے تھے،اس وقت میں ان کو جھڑک دیتا اور یہ کہہ کر بھگا دیتا تھا کہ تم لوگ گندے ہو،خراب اور اچھوت ہو،اس وقت میری عمر سات آٹھ سال کی تھی،جب میں چوتھی کلاس میں پڑھتا تھا اس وقت میری عمر نو سال کی تھی ایک دن ہمارے پڑوس میں رہنے والا ایک مسلمان لڑکا جس کی عمر تقریباً ١٤ سال تھی  اور جس کاپورا گھرانا پڑھا لکھا تھا ،اس خاندان کے لوگ اونچے اونچے سرکاری عہدوں پر فائز تھے،ایک دن شام کے وقت اسکول کے صحن میں بیٹھ کر اسلام کی تعریفیں کرنے لگا اس نے کہا کہ تمہاری ٣٦٠ مورتیاں ہمارے کعبے میں رکھی ہوئیں تھیں ، میں سوچ میں پڑ گیا کے ہمارے دیوی دیوتا تمہارے کعبہ میں ، پھر اس نے حضرت ابراہیمؑ کاقصہ سنایا کہ حضرت ابراہیمؑنے سورج کو چاند کو اور ستاروں کو خدا تسلیم کیا ،پھر ان کے طلوع و غروب کو دیکھ کر ان کی خدائی کا انکار کردیا ،کہ یہ خود مختار نہیں ہیں ،ان کا بھی کوئی مالک ہے،اور والد کے ساتھ میلے میں جانے سے آپ کے انکار ،پھر بتوں کو توڑ کر کلہاڑی بڑ ے بت کے گلے میں ڈالنے ،پھر نمرود بادشاہ نے حضرت کے ساتھ جو کچھ کیا ،پورا واقعہ تفصیل سے سنایا ،اس واقعہ سے میرے دل پر بہت زیادہ اثر ہوا،جس کو میں بیان نہیں کرسکتا،اور دل اندر سے کہنے لگاکہ بات تو صحیح لگ رہی ہے کہ یہ کیسا بھگوان ہے جو دوسروں کوتو بچانا بہت دور کی بات ہے اپنے آپ کو نہیں بچا سکا ، اور ایک عجیب سا ڈر لگنے لگا۔
مغرب کے بعد جب ہوم ورک کرنے بیٹھا تو دل ہی نہیں لگ رہا تھا، فلم کی طرح دماغ میں یہ باتیں گردش کر رہی تھیں،اب مجھے احساس ہو نے لگا کہ مسجد میں جو اذان ہو تی ہے اور اس میں اللہ کانام لیا جاتا ہے ،اللہ اکبر کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کوئی ہستی ہے،جو بہت طاقت والی ہے،دوسرے دن شام کو پھر ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے عاجزی سے کہا کہ نذر الاسلام بھائی آج بھی کچھ سناؤ نا ۔انہوں نے پھر حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہ اوربیٹے حضرت اسماعیل ؑ کا پورا واقعہ سنایا،یہ سن کر دل میں آیا کہ اللہ میاں اپنے بندے کا امتحان لیتے ہیں اور بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں ،انہوں نے پھر بتایا کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو مرنے کے بعد جنت (سورگ)دے گا،اور جو بے ایمان ہوں گے ان کو دوزخ(نرک)میں ڈالا جائے گا،دوزخ میں آگ اور سڑا ہوا خون اور پیپ ہوگا،سانپ ہو ں گے ،بچھو ہوں گے ،جو ڈستے رہیں گے،اتنی تکلیف ہو گی کہ بیان نہیں کرسکتے،وہاں کوئی بچانے نہیں آئے گا’’تو تو ہندو ہے ، اگر ایمان نہیں لایا تو تجھے بھی دوزخ میں ڈالدیں گے،اورتم لوگوں کے بھگوان تم کو کیا بچائیں گے،بھگوان کو بھی تمہارے ساتھ دوزخ میں ڈالدیں گے،اور پھر ایمان کا مطلب بھی بتایا کہ اللہ کو دل سے ایک مان لینا اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لینا ،ایما ن کہلاتا ہے ،اور جو ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ (ﷺ) کایہ کلمہ پڑھ لیتا ہے وہ مسلمان کہلاتا ہے،لیکن تیرا مسلمان ہو نا بہت ہی مشکل ہے ، تیرے خاندان والے تجھے مار ڈالیں گے،اور یہ بھی بتایاکہ مرنے کے بعد قبر میں تین سوال ہوں گے،(۱)من ربّک(۲)ما دینک (۳)ما تقول فی ھذا الرجل،جو ایمان والا ہو گا وہ توآسانی سے جواب دے سکے گا اور جو ایمان والا نہیں ہو گا وہ جواب نہیں دے سکے گا،ہر سوال کے جواب میں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ہی کہتا جائے گا،پھر ان کو مار پڑے گی اور پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ، مجھے ڈر لگنے لگا ،اور فکر ہو گئی کہ کیا کروں ،پھر میں نے دل دل میں ٹھان لیا کہ کچھ بھی کرنا پڑے ،ان تینوں سوالوں کے جواب خوب یاد کرلوں گااور جب مرنے کے بعد مجھ سے پو چھا جائے گا تو اس وقت میں بتا دوں گا،پھر میں جوابوں کو خوب یا د کرنے لگا۔
میں نے نذر الاسلام سے کہا بھائی مجھے وہ کلمہ یاد کرادو مجھے کلمہ یاد کرا دیا،میں اس کو روزانہ پڑھا کرتا ،اس سال پرائمری کا کورس پورا ہو اتوگھرسے ایک کلو میٹر دور ہائی اسکول میں پانچویں کلاس میں ایڈمیشن لیا ،اس میں نذر الاسلام بھائی پہلے سے پڑھتے تھے،اب تو ان کے ساتھ ہی آنا جانا شروع ہو گیا ،اور وہ راستہ بھر کلمے اور درود شریف وغیرہ یاد کراتے جاتے اور بتاتے جاتے کہ کوئی مصیبت آئے تو درود شریف پڑھنا،مصیبت دور ہو جائے گی میری کلاس میں اور بھی کئی ساتھی مسلمان تھے ،وہ بھی دین کی باتیں بتاتے رہتے تھے،مجھے بہت اچھا لگتا تھا ،افسوس یہ کہ نذر الاسلام بھائی پہلے سے اس اسکول میں پڑھتے تھے ،اور میرا پہلا سال تھا،انہوں نے آٹھویں تک اسکول پڑھ کر اسکول چھوڑ دیا،تصویر سازی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کلکتہ چلے گئے،ہم آٹھویں تک پہنچے کہ والد صاحب نے اس اسکول سے اٹھا کر ایک خالص ہندو اسکول میں ایڈمیشن کرادیا،اب کیا تھا جو مسلمان ساتھی تھے ان سے دوری ہو گئی،اور اسلام سے جو لگاؤ تھا وہ بھی آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔ایک دن گھر کے پاس دھوم دھام سے سرسوتی کی پوجا ہو رہی تھی،میں مورتی کے سامنے کھڑا ہو کر درشن کررہا تھا،اچانک میرے بازو میں نذر الاسلام بھائی کے چچازاد بھائی آکر کھڑے ہو گئے اور آہستہ سے کان میں کہنے لگے کہ جس کو تم پوج رہے ہو اس کو تو تمہیں لوگوں نے بنایا ہے،دیکھو آنکھ بنائی ہے جس سے وہ دیکھ نہیں سکتی،ہاتھ بنایا ہے مگر کچھ کر نہیں سکتا،یہاں تک کہ مکّھی بھی بدن نہیں اڑا سکتی ،اور اوپر سے قیمتی کپڑا پہنا کر سجادیا ہے،اندر سے پول ہی پول ہے،ایسے مٹی کے ڈھیر کے سامنے اپنی اس قیمتی پیشانی کو جھکا دیتے ہو ،او ر گائے کا پیشاب جو کہ ناپاک(اپوتر)چیز ہے ،اس سے پوجا کرتے ہو اور پھر پیتے ہو ،کتنی بیوقوفی ہے ،سوچو تو سہی کہ تم یہ کیا کررہے ہو ؟پہلے تو ان کی یہ باتیں مجھے بری لگیں ،اس لئے کہ اسکول کے ساتھی سبھی چھوٹ گئے تھے،ایمان کے اوپر پردہ پڑگیا تھا،جاتے جاتے کہا کہ اس پر غور کرنااورسوچنا۔
بعدمیں اللہ نے سوچنے کی توفیق عطا فرمائی کہ جو بات یہ کہہ رہے ہیں ہے، توبالکل صحیح پھر ہم کیوں جھوٹے دیوتاؤں کی پوجا کریں؟اوراپنے آپ کو نرک(دوزخ)میں جھونک دیں،اس وقت میری عمر
 16؍سال کی تھی،اب فکر ہو گئی کہ ہندو دھرم کو کس طرح چھوڑوں ؟اور اسلام کو کیسے اپناؤں؟اور پھر کہاں جاؤں؟
میرے تمام رشتہ دار مجھے بہت چاہتے تھے،یہاں تک کہ مسلمان محلہ والے بھی بہت چاہتے تھے،اب تومسلمانوں کے گھروں میں میرا آنا جانا شروع ہو گیا ،ان لوگوں سے جتنی نفرت تھی اتنی ہی محبت ہو گئی،مسلمانوں میں سے کئی دوست بن گئے، ان کی مائیں مجھے اسلام کے بارے میں بہت کچھ بتا تی تھیں،اور مجھے بہت ہی اچھا لگتا تھا ،مسجدسے اذان کی آواز آتی تھی تو بہت اچھا لگتا تھا،اور میں دھیمی آواز سے اذان کو دہرا تا تھا،ایک دن اذان کا ترجمہ بھی سیکھ لیا ،اب مجھے ایسامحسوس ہو نے لگا کہ اللہ تعالیٰ سامنے موجود ہیں ،میں ان کو دیکھ رہا ہوں ،اور وہ مجھے دیکھ رہے ہیں ،دل میں اتنا سکون ملتا تھا کہ میں بتا نہیں سکتا،لیکن ایک مستقل الجھن رہتی تھی کہ میں اپنے خاندان کو،اپنے چچا، پھوپھی، دادا ،نانا، ماموں اور کئی رشتہ دار جو بہت چاہتے تھے،پیار کرتے تھے ،ان کو کس طرح چھوڑوں ،مجھے بہت ہی مشکل معلوم ہو نے لگااور مایوس ہو نے لگا،اور دل میں سوچنے لگا کہ اب تو نرک (دوزخ)میں جانا یقینی ہو گیاہے،مرتے ہی اللہ میاں مجھے نرگ میں ڈالیں گے۔
ہمارے گھر کے پیچھے سے ریل کی لائن بچھائی جارہی تھی، اس وقت پورے دن میں ایک دو گاڑی چلتی تھی،اسکول جانے کا یہ بھی ایک راستہ تھا،گرمی کا موسم تھا،ریل کی پٹری بے حد گرم ہوجاتی تھی،میں نے سوچا کہ مجھے ننگے پاؤں اس پٹری پر چل کر اسکول جانا چاہیے تاکہ گرمی سہنے کی عادت پڑ جائے،جس سے نرک کی آگ کو برداشت کرنے کی کچھ تو ہمت ہو،چنانچہ میں ننگے پاؤں گھر سے نکلتا تھا ،کئی مسلمان ساتھی بھی ساتھ میں جاتے تھے، جو دوسرے اسکول میں پڑھتے تھے،کہتے کہ جوتے پہن کر کیوں نہیں آتا؟اور پھر ننگے پاؤں گرم گرم پٹری پر چل رہا ہے،کیا تمہارا پاؤں جلتا نہیں ؟میں صرف اتنا کہہ دیتا کہ مجھے اچھا لگتا ہے،اب تو روزانہ ننگے پاؤں پٹری پر چل کر اسکول جانے لگا، مسلمان ساتھیوں نے کہا تجھے کیا ہو گیا ہے؟ایک تو ننگے پاؤں اور پھر پٹری گرم ؟کیوں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال رہا ہے؟میں نے دکھ بھری آواز میں کہا، بھائی تم لوگ مرنے کے بعد سورگ میں چلے جاؤگے،مجھے تو نرک میں جانا پڑے گا،تو ابھی سے پریکٹس Practiceکررہا ہوں ،تکلیف میں کچھ کمی محسوس ہو،(یہ تو بندہ کی ایک سوچ تھی ورنہ جہنم کی آگ کی شدت کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا)۔
پھر مجھے اسلام سے لگاؤ ہو نے لگا ،اسکول میں خاموش رہنے لگا گھر کے پاس اسکول کے میدان میں مسلمانوں کا کبھی کبھی پروگرام ہوتا تھا ،پروگرام میں بڑے بڑے مولانا آتے تھے،کھیلنے کے بہانے سے میں جاکر کام میں کچھ مدد کردیتا،اس سے میرے دل میں ایک سکون سا محسوس ہو تا،چچا وغیرہ ان حضرات کا بہت مذاق اڑاتے تھے،مجھے اچھا نہیں لگتا تھا،اور چپکے چپکے ان حضرات کا بیان سنتا تھا۔
Secondry Educationکے امتحان میں اب صرف دو ڈھائی ماہ باقی تھے،نصاب اتنا ہارڈ(مشکل) تھاکہ میں تو درود شریف ہی پڑھنے لگتا ،اسکول میں سرسوتی پوجا ہو رہی تھی، ہمارے سر (Sir)نے ہماری پوری جماعت سے کہا کہ ’’پشپا نجلی‘‘ کے بعد سب پاس ہو نے کی پراتھنا کرنا کہ علم کی دیوی ہم سب کو اچھے نمبرات سے پاس کرادے،سب ہاتھ جو ڑ کر کامیابی کی پراتھنا کررہے تھے ،میں نے بھی ظاہراً ہاتھ جوڑ کرپراتھنا کی ، تاکہ کسی کو میرے حال پر شک نہ ہو،میں نے کہا :اے مورتی اگر تیرے اندر شکتی (طاقت)ہے اور تو سچی ہے تو مجھے فیل کردے اور بھی بہت کچھ بولتا رہا جو سب مجھے یاد نہیں ،ادھر اُدھر آکر تنہائی میں دعا مانگتا’’اے!میرے اللہ تجھے میں نے اپنا معبود مان لیا اور تجھے سچا جاناہے ،تو مجھے پاس کرادے،ورنہ وہ بت کہیں سچ نہ ہوجائے اور میرا ایمان نہ ڈگمگاجائے،دیکھتے دیکھتے بورڈ کا امتحان آکر ختم بھی ہو گیا،رزلٹ آنے میں دو تین ماہ باقی تھے، اس موقع پر میں نے مسلمان غریب بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا تھا تاکہ اپنے اخراجات کا انتظام ہو جائے۔
والد صاحب زیورات بناتے تھے ،ان کی ایک دوکان تھی، اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے مغنی بھی تھے،انہوں نے ہم بھائی بہنوں کو گانا سکھانے کیلئے ایک ماسٹر مقررکردیااور کہاکہ تم لوگ بھی گانا بجانا سیکھو،اور فلم وغیرہ دیکھنے کیلئے والد صاحب خود پیسے دیتے تھے۔
میں جن لوگوں کے گھر ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا ان لوگوں سے میرا اتنا تعلق ہو گیا تھا کہ وہ لوگ مجھ سے بے تکلف ہو گئے، اور اسلام کے بارے میں روزانہ کچھ نہ کچھ باتیں ضرور ہو تی تھیں، کیا بتاؤں مجھے تو اب اسلام کے سچا ہو نے میں اور صحیح دھرم ہونے میں رتی بھر بھی شک نہیں رہا،اور ہندو دھرم سوفیصد من گڑھت، خیالی اور بے بنیاد دھرم معلوم ہو نے لگا،سراسر اندھے عقائدمیں جکڑا ہوا محسوس ہو نے لگا،گھر میں فلمی کتابیں تھیں، اس کے اندر دینی کتابوں کو چھپا کر پڑھتا تھا،تاکہ کوئی اچانک دیکھے تو یہ سمجھے کہ یہ تو فلمی کتاب پڑھ رہا ہے،اور فلم دیکھنے کا بہانہ کرکے دینی پروگراموں میں چھپ چھپ کر چلا جاتا ،اسی طرح کسی مدرسہ میں چلاجاتا،ایک دن منصور بھائی نام کے ایک ساتھی کہنے لگے کہ میں تمہارے گھر کے پاس سے جب گذرتا ہوں توسنگیت اور گانے کی آواز آتی ہے ،ایسالگتا ہے کوئی گانا بجانا سیکھ رہا ہے،میں نے کہا کہ ہاں !ہم بھائی بہن سیکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ تم تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو مانتے ہو اور اسلام میں گانا بجانا حرام (سخت منع ) ہے،میں نے کہا اچھا بھائی مجھے معلوم نہیں تھا،ٹھیک ہے آج سے گانا بجانا بند۔دوسرے دن ماسٹر صاحب آکر بلا نے لگے،تو میں نے صاف انکار کردیاکہ میرا دل نہیں چاہتا،اب سے میں گانا سیکھنے نہیں آؤں گا،اسی ساتھی نے مجھے ایک دن آتے دیکھا تو پوچھاکہاں گئے تھے،میں نے کہا’’ سنیما‘‘ دیکھنے گیا تھا،انہوں نے کہا کہ میرے بھائی اسلام میں سنیما دیکھنا بہت بڑا گناہ ہے، میں نے کہا آج سے وہ بھی بند،اس طریقہ سے بہت سے گناہوں سے میرے اللہ نے مجھے بچایا،چونکہ ابھی تو ہماری چھٹی چل رہی تھی،تو میں مولانا صاحب سے ملنے کیلئے اکثر گھر کے پاس مسجد میں چلا جاتا تھا،اور دین کی باتیں سنتا تھا،اور معلوم بھی کرتا تھا۔
جیسے جیسے وقت گذرتا گیا گھر میں گھٹن محسوس ہو نے لگی، چاروں طرف ناپاکی کی وجہ سے پریشان رہنے لگا،سب سے زیادہ مصیبت یہ تھی کہ گھر میں آئے دن پوجا ہوتی رہتی تھی،مورتیوں کو سجدہ کرنا پڑتا تھا،پروہت اور گھر کے ہر بڑے کو بھی،پھر پرساد کھانا اور ایک گندی چیز جس کو پنچمرِت کہتے ہیں اس کو تو وہیں پینا پڑتاتھا،اور اس وقت چھپ بھی نہیں سکتا تھا،حاضر رہنا پڑتا تھا ورنہ شور مچ جاتا تھا،جہاں تک ہو سکتا تھا اس کوشش میں رہتا تھا کہ نظر بچا کر پھینک دوں،مورتیوں کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات دل میں پیدا ہوتے توکبھی دادا سے پوچھتا ،چاچی سے پوچھتا اور گھر میں اکثر پنڈت جی آتے تھے ان سے بھی طرح طرح کے سوالات کرتا تھا،امّی ہم کو ڈانٹتی تھیں،یہ کیا بڑوں سے اس طرح کا سوال ؟لیکن ان پنڈتوں کا جواب گلے سے نہیں اترتا تھا،چچی توجھنجھلا کر کہہ دیتی کہ ابھی تو چھوٹا ہے ،یہ سب باتیں تیری سمجھ میں نہیں آئیں گی،اور رشتہ داروں کے گھر اس وجہ سے جانا چھوڑ دیا تھا کہ عمر میں جو بڑے ہیں ان سب کو سجدہ کرنا پڑتا تھا، اس تبدیلی کی وجہ سے گھر والوں کا دھیان میری طرف مرکوز ہوگیا ،مجھے شک کی نظر سے دیکھنے لگے،ایک دن رات کو جب سب بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے،چھوٹی پھوپھی بھی آئی ہوئی تھیں ،نہ جانے گھرمیں میرے بارے میں کیا بات ہوئی، یکایک غصہ ہوگئیں اور کہنے لگیں اس کو سب مل کر مارو،اور ڈانٹنے لگیں،میں چپ چاپ سر جھکا کر کھانا کھا کر اٹھ گیا۔
ایک دن دوپہر کو گھر کی دوسری منزل پر برآمدہ میں سوگیا، ایک خواب دیکھا کہ میں مرگیا ہوں ،مجھے جلانے کیلئے شمشان لے گئے،چتا سجائی گئی،مجھے اس پر لٹا دیا اور پھر اوپر سے میرے اوپر لکڑیا ں رکھ دی گئیں،جو مجھے چبھنے لگیں،چھ سات آدمی بہت ہی ڈراونے،بدصورت کالے کلوٹے آنکھیں سفید لگ رہی تھیں، سر پر سفید کپڑاپگڑی کی طرح لپٹا ہوا تھا،سفید دھوتی جو گھٹنوں تک پہن رکھی تھی پورا بدن ایکدم کالا ،اتنا کالا کہ آج تک میں نے ایسا کالا نہیں دیکھا،کالے رنگ کی وجہ سے سفید آنکھ بھی ڈراؤنی لگ رہی تھی،سب کے ہاتھ میں ایک ایک لاٹھی تھی، انہوں نے چیتا کے اوپر اور چاروں طرف ’’کیروسین ‘‘ڈال دیا، ایک آدمی نے آکر اس میں آگ لگا دی ،کیروسین کی وجہ سے چتامیںیکایک آگ لگ گئی،میں چتا میں لیٹے لیٹے دیکھ رہا تھا کہ آسمان بالکل صاف ہے ،سورج آسمان پر آب وتاب سے کرنیں بکھیر رہا تھا، تھوڑے فاصلے پر ہمارے دوست منصور اور عبد الخالق ایک چھوٹے سے کھجور کے درخت کی آڑ میں بیٹھ کر افسوس کررہے ہیں،کہ ہائے اس کو جلا رہے ہیں،حالانکہ وہ تو مسلمان ہو گیا ہے،اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سورج غائب ہو گیا،اور آن کی آن میں آسمان میں کالے بادل چھا گئے،فوراً ہی تیز آندھی اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی،وہ جو کالے کالے چھ سات لوگ تھے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھا گ گئے،ان کا بھاگنا تھا کہ طوفانی ہوا اوربارش ایک دم سے رک گئی،اسی وقت سورج بھی آسمان پر نمودار ہو گیا،یہ دونوں ساتھی دوڑتے ہوئے چتا کے پاس آئے اور لکڑی ہٹا کر مجھے باہر نکالا،اور منہ پر پانی کا چھڑ کاؤ کیا،میں نے آنکھ کھول دی ،میں نے دیکھا کہ میرا پورا بدن گورا ہو گیا،اور کہیں کہیں آگ لگنے کی وجہ سے کالے کالے داغ پڑ گئے،وہ ساتھی مجھے اپنے گھر لے گئے،اور مجھے کھانا پیش کیا،کھانے کا لقمہ منہ میں رکھا ہی تھا کہ آنکھ کھل گئی اور میں ڈر کے مارے دوڑتے ہوئے نیچے آگیا،میرا برا حال تھا لیکن کسی کو کچھ نہیں کہہ سکا،اب تو میں اللہ کو یاد کرکے تنہائی میں روتا تھا کمرہ بند کرکے نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ،لیکن سوائے اٹھک بیٹھک کے کچھ نہیں کرسکتا تھا،ایک دن میری بہن نے کسی طرح دیکھ لیا کہ میں بند کمرے میں قبلہ کی طرف منہ کرکے ہاتھ باندھ کر نماز میں مشغول ہوں ،دروازہ کھٹکھٹایا،میں نے فورًا دروازہ کھول دیا ،بہن کہنے لگی کیا نماز پڑھی جارہی تھی؟میں نے کہا ورزش کررہاہوں،اس لئے کہ وہ میرا ورزش کا وقت بھی تھا،اس نے جاکر والدصاحب سے شکایت کردی،میں نے کہامیں ورزش کررہا تھا،اس کو ایسا لگا کہ میں نماز پڑھ رہاہوں ،والد صاحب کو میری ورزش کے بارے میں معلوم تھا ،اس لئے مجھے کچھ نہیں کہا،رمضان کا مہینہ چل رہا تھا،روزہ رکھنے کو جی بہت چا ہتا تھا ، بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا چاہا لیکن امّی ناشتہ کے لئے کہتی تھیں،میں نے کہا میرا ناشتہ ڈھک کر رکھ دیجئے بعد میں کھالوں گا ، کوئی سائل آتا تو ان کو چپکے سے ناشتہ دیدیتا تاکہ یہ سمجھیں کہ میں نے ناشتہ کرلیا،لیکن دوپہر تک ہی روزہ کی حالت میں رہ سکتا تھا،اس لئے کہ دوپہر کو سب کے ساتھ کھانا پڑتا تھا،مجھے اسلام کے بارے میں کافی معلومات ہو چکی تھیں،گھر کے لوگ ،والد صاحب اور دادا سے شک کا اظہار کرتے تو محبت کی وجہ سے میری کسی بات پر کان نہیں دھرتے تھے،ایک دن مصطفی نام کے اسکول کے ایک ساتھی (جس کے گھر میرے ایک چچا ٹیوشن پڑھانے جاتے تھے)کہنے لگے تو کیا چاہتا ہے،تجھے مرنا ہے یا جینا؟میں نے تعجب سے پوچھا کیوں کیا بات ہے؟اس نے کہا کہ تیرے بارے میں تیرے چچا کا ارادہ خطرناک ہے،جو کرنا ہے بہت ہی جلدی فیصلہ کر ڈال،یہ سن کر فکر ہوئی ،کیا کروں؟اللہ نے ایک بہترین ترکیب دماغ میں ڈالی،ایک ڈرامائی انداز اختیار کیا رات کو گھر کے سبھی لوگ ایک ساتھ بیٹھے تھے ،چھوٹے دادا کے پاس گیا جو ہندو مذہب کے بہت ہی پابند تھے،میں نے کہا کہ دادا چلئے مایا پور چلیں(ایک بہت مشہور جگہ جہاں پر ’’شری چیتنےَ ‘‘کا بہت بڑا مندر ہے)بھگوان’’ شری چیتنے‘‘جی کا درشن کرکے آتے ہیں،یہ کہہ کر بھگوان کی کئی کتابیں گھر میں رکھی تھیں،زور زور سے پڑھنے لگا،اور ساتھ ہی ساتھ یہ کہتا جاتا اہا بھگوان کی وانی تو دیکھئے کتنی اچھی بات کہی ہے وغیرہ وغیرہ،ایک ہفتہ تو ایسا ہی ڈراما کرتا رہا، اور گھر والوں کو اب یقین ہو گیا کہ اب اس نے پرانی باتیں چھوڑ دی ہے ،اور اب ہندو مذہب کو ماننے لگا ہے،نگرانی بھی کم ہوگئی،ایک مسلم ساتھی نے کہا کہ اگر تمہارا ایفی ڈیوٹ بن جائے تو قانونی اعتبار سے تم محفوظ ہو جاؤ گے،یہ کہہ کر وہ خود ہی ڈسٹرکٹ قاضی کے پاس گیا سارے حالات بیان کئے قاضی صاحب نے کہاابھی عمر اٹھارہ سال ہے،بائیس سال کی عمر ہو گی تو ہم ایفی ڈیوٹ دے سکتے ہیں ،ہم کو بہت مایوسی چھا گئی ،پھر ایک مدرسہ کے مہتمم صاحب جو بڑے بااثر تھے،ان کو بھی یہ تمام باتیں بتا کر مشورہ لیناچاہا،انہوں نے خاندان کا نام سنتے ہی فرمایا کہ وہ خاندان بہت ہی کٹر ہے،وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا،جاؤ ابھی تم چلے جاؤ،جب بائیس سال کی عمر ہو جائے تب ایفی ڈیوٹ بنا لینا،اور آج سے تمہارا نام نورا لاسلام رکھتا ہوں،وہاں سے بھی مایوس واپس ہونا پڑا،اب تو گھر والوں نے نگرانی کم کردی تھی،پھر بھی سنیما کا بہانا کرنا پڑتا ،میرا مسلمان ہو نے کا پکا ارادہ دیکھ کر ایک ایک ساتھی نے مجھ سے ملنا جلنا چھوڑدیا،یہ کہہ کر تمہارے خاندان کے لوگ ہم لوگوں کو چھوڑیں گے نہیں ،ایک دن دکھے دل کے ساتھ گاؤں کی مسجد کے امام صاحب کے پاس جاکر کہا کہ امام صاحب کیا کروں،اب تو کفر اور ناپاکی سے نکلنا چاہتا ہوں ،کچھ تو مشورہ دیجئے،چار سال تک تو گھر میں اس طرح رہ نہیں سکتا ،کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان میرے اس ایمان پر حملہ کردے،اور مجھے پھر کفر میں زندگی گذارنی پڑے،اور میں پھر ہندو ہو جاؤں۔
انہوں نے کہا کہ دیکھو تم فلاں بازار میں چلے جاؤ،اور وہاں تیسری منزل پر ایک مسلمان کی دکان ہے ،وہاں پر عبد الرزاق رتھ نام کے ایک نومسلم آتے ہیں جاؤانہیں سے مشورہ کرلو،وہ تم کو صحیح راستہ دکھائیں گے۔
مقررہ وقت پر اس دکان پر پہنچ گیا،اس دکان پر ایک نوجوان مسلمان کام کرتا تھا،جو مجھے پہچانتا تھا،پوچھا کیا کام ہے؟ میں نے پوچھا عبد الرزاق رتھ یہیں پر آتے ہیں ، لیکن کیا کام ہے؟ میں نے کہا مجھے ملنا ہے،اس جوان نے اندر جاکر سیٹھ کے کان میں کچھ کہا ،سیٹھ نے اندر بلا لیا ،ماشاء اللہ نورانی چہرا ، سفید داڑھی ،سنتی لباس،پوچھابھائی عبد الرزاق سے آپ کو کیا کام ہے؟ میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا،پھر آہستہ سے کہا مجھے مسلمان ہو نا ہے، سیٹھ صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر اندر آفس میں لے گئے،اور پھر رونے لگے ،میرے بھائی تو نے اسلام میں ایسا کیا دیکھ لیا،اس کچی عمر میں گھر بار رشۃ داروں کو چھوڑنے کا بھی فیصلہ کرلیا،پھر روتے روتے مجھے سینے سے لگا لیا،پھر اس جوان سے کہا تو دکان کے گیٹ پر کھڑا ہو جا تاکہ ادھر کوئی گاہک یا کوئی دوسرا شخص نہ آسکے،اور اپنے داماد اور ایک دو رشتہ داروں کو بلا لیا ،پھر عبدالرزاق رتھ صاحب بھی آگئے،جن کا پہلا نام مدن موہن رتھ تھا،سب کچھ سننے کے بعد کہا کہ تم گھر چلے جاؤ،تمہارا کام نہیں ابھی تم چھوٹے ہو،تم ایک تھپڑ کے بھی نہیں ہو،یہ کہہ کر اپنا ہاتھ دکھایا ، جس کو تھانے میں داروغہ نے بلیڈ سے چیر ڈالا تھا،پاؤں دکھایا جہاں پر کیل ٹھوکی تھی،پھر کہا پیٹھ پر بھی بڑے بڑے داغ پڑے ہیں ،لیکن اللہ کے فضل سے یہ سب دیکھ کر بھی مجھے ذرا بھی ڈر نہیں لگا،نہ اپنے ارادے سے ہٹا،سب نے مل کر مشورہ کیا کہ ان کا کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ یہ ان کے خاندان والوں کے ہاتھ نہ لگے، آخر یہ بات طے ہوئی کہ ابھی عمر کم  ہے سال کچھ بھی کرکے ان کو ایسی جگہ چھپا کر رکھو جہاں ان کے خاندان والے نہ پہنچ سکیں ، عبد الرزاق صاحب نے سب کے سامنے وعدہ کر لیا کہ ہم ان کو کلکتہ مٹیا برج میں ایک با اثر آدمی کے وہاں چھوڑ آتے ہیں،اور وہیں اسلامی تعلیم بھی حاصل کرتے رہیں گے،دن ،تاریخ اور جگہ مقرر ہو گئی کہ وہاں سے آپ کو لے کر چلا جاؤنگا،جب مشورہ کرکے ہم نیچے اترے اس وقت بازار میں کافی بھیڑ تھی،معلوم نہیں کس طرح میرے چچا نے مجھے عبد الرزاق کے ساتھ دیکھ لیا، گھر سے جب ہجرت کرکے چلا گیا اور میرے خط سے جب معلوم ہو گیا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو اس وقت چچا کو یاد آیا کہ ہم نے عبد الرزاق کے ساتھ بازار میں اس کو دیکھا تھا،تو پھر والد صاحب نے ان کے نام وارنٹ جاری کرا دیا ،بیچارہ بھاگابھاگا اِدھر اُدھر پھرتا رہا،کسی نے اخبار میں ان کے قتل کی خبر چھاپ دی تھی،جس سے والد صاحب ڈر گئے،اور وارنٹ واپس لے لیا،پھر چند دن کے بعد عبد الرزاق صاحب بھی سامنے آگئے،جو روپوش ہو گئے تھے،میں نے بھی اِدھر اپنے اسکول کے ساتھی مدن کے ساتھ تفریح کا پروگرام پہلے ہی سے بنا رکھا تھا،مدن کے پاس جاکر کہا کہ کیا پروگرام پکا ہے؟اس نے بتایا دو تین دن بعد چلیں گے،میں نے کہا کہ میں تو جارہا ہوں تم لوگ بعد میں آجانا،ان کو یہ بھی سمجھا دیا کہ میرے پتا جی کچھ بھی پوچھیں گے تو کہہ دینا کہ ہم لوگوں کا پروگرام تھا لیکن وہ پہلے چلے گئے،اصل مقصد یہ تھا کہ تلاشی شروع ہو نے سے پہلے ہی ہم خطرے کی حد سے دور چلیں جائیں،اس پروگرام کے مطابق میں مدن کا بہانہ کرکے گھر سے نکل گیا۔
عبد الرزاق صاحب پروگرام کے مطابق مقررہ جگہ پر نہیں پہنچ سکے ،مایوس ہو کر میں اسی دکان پہنچ گیا،ان لوگوں کو بہت ہی افسوس ہوا کہ اگر گھر والوں کو ذرا بھی ہوا لگ گئی تو پھر سارا معاملہ دھرا رہ جائے گا،بوڑ ھے سیٹھ جی جن کو ہم دادا کہہ چکے تھے ،بہت ہی افسوس کرتے رہے،پھر ہم کو تسلی دی کہ آٹھ دن کسی طرح سنبھل کر گذار لو،ان شاء اللہ تم کو اپنے بھانجے کے ساتھ سہارنپور بھیج دوں گا،ان شاء اللہ وہاں تم کو کوئی تلاش نہیں کر سکے گا،آٹھ دن بعد ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۷ ؁ ء کو پھر مدن کا بہانہ بنا کر صبح صبح گھر سے نکل گیا،اس وقت عجیب لگ رہا تھا ، ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر چیز مجھے الوداع کہہ رہی ہو،ریلوے اسٹیشن تک پہنچے اللہ نے دو جگہ خوب خوب حفاظت فرمائی،ایک تو جب بس سے جارہا تھا تو بالکل قریب ہمارے وہ استاذ بیٹھے ہو ئے تھے جو ہمیں گانا سکھاتے تھے، لیکن خدا کی قدرت کہ وہ مجھے نہ پہچان سکے،ورنہ وہ پوچھتے ضرور کہ اس طرف کہاں؟اس کے بعد بس اڈہ سے دادا جی (سیٹھ جی شمس الدین خاں صاحب)ساتھ ہو گئے، ان کے ساتھ چل رہا تھا ،کہ دور کے رشتہ کے ایک مامو ں کے روڈ پر کام چل رہا تھا ،وہ ایک دم بیچ روڈ پر تھے،مسلمان کے ساتھ اگر دیکھ لیتے تو بڑی مصیبت کھڑی ہو جاتی ،لیکن اللہ نے میری طرف سراٹھا کر دیکھنے کی نوبت ہی نہیں دی ،اللہ کا شکر ادا کرتے کرتے ہم وہاں سے نکل گئے،پھر ہم دادا جی (سیٹھ شمس الدین خان ) کے بھانجے کے ساتھ سہارن پورپہنچے،انہوں نے ان کے علاقے کے ایک مولاناصاحب جو اس سال مظاہر علوم میں بخاری شریف پڑھ رہے تھے،ان کے پاس چھوڑ دیا ،اور کہا کہ ان کو پڑھانا ،انہوں نے مجھے بھائی کی طرح رکھا ،گھر اور عزیز واقارب سے اچانک جدائی کی وجہ سے ان لوگوں کا پیار ، محبت بہت ستاتا تھا ،او ر میں روتا رہتا تھا،کسی کسی وقت تنہائی میں مسجد کے ستون کو پکڑ پکڑ کر روتا تھا اس وقت مولانا صاحب بہت تسلی دیتے تھے اور سمجھاتے تھے کہ اللہ نے تم کو اسلام کی دولت دی ،اور تم کو جہنم کی آگ سے بچالیا، چند دن گذرنے کے بعد دادا جی (سیٹھ شمس الدین خان) کا خط آیا جس مین تاکید تھی کہ بہت سنبھل کر رہنا،مسجد سے باہر مت نکلنا ،یہاں پر تمہارے پتا جی نے طوفان برپا کر رکھا ہے ، ان کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مسلمان ہو گئے ہو ، اور تم کو یہاں کے مسلمانوں نے کہیں چھپایا ہے ، یہاں پر لوگ چاروں طرف تلاش کرتے پھر رہے ہیں جن کے اوپر شک جاتاہے ان کو دھمکی دے رہے ہیں۔
میں نے دادا جی کے پتے پر ایک خط لکھا اور اس لفافے کے اندر پتا جی کے نام ایک خط لکھ کر دوسرے لفافے میں ڈال کر بھیج دیا ،دادا جی کو یہ بھی لکھ دیا کہ دوسرا لفافہ ہاوڑہ اسٹیشن یادور جہاں آپ کو سہولت ہو پوسٹ کر دیجئے گا، تاکہ اسی جگہ کی ہی مہر لگے ،تو پتا جی کو سہارن پور کا پتہ نہیں چل سکے گا،اور پتا جی کو میں نے خط میں لکھا تھا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں میں بہت آرام کے ساتھ ہوں اچھا ہوں اور دھارمک جگہ پر ہوں ،اتفاق سے خط پرمہر کسی آشرم کے قریب کی جگہ کی تھی، پتا جی نے وہاں کے آشرم کو چھان مارا، لیکن کوئی اطلاع نہ مل سکی،پھر چند دن بعد اسی طرح ایک خط کے ذریعہ اپنے اسلام قبول کرنے کی اطلاع بھی ان کو کردی،پھر کیا تھا ایک دم آگ بگولا ہو گئے،اور مسلمانوں کو پریشان کرنے لگے، جہاں ان کو شک ہو تا وہاں پولیس کو ساتھ لے کر چھاپے مارتے، کچھ لوگوں کو پکڑ کر سخت باز پرس کی گئی،چاروں طرف جاسوس لگا دیئے گئے،اور کئی گاڑیاں صبح ڈھونڈھنے نکلتیں اور رات کو واپس آتیں، پھر پتا جی نے ریڈیو ،اخبار اور ٹی وی میں گمشدگی کا اعلان کروادیا،اور انعام بھی مقرر کردیا۔
کئی بڑے بااثر لوگوں کے ذریعہ چیف منسٹر (C.M)جوتی باسو تک پہنچے،اور اغواکابہانہ کر کے پولیس کی مدد کیلئے سفارش نامہ اور دو جاسوس بھی حاصل کرلئے،اور پتا جی نے الگ سے ایک پرایؤیٹ جاسوس بھی لگا دیا،پھر کیا تھا جہاں شک پڑتا وہاں فورس کے ذریعہ چھاپے مارتے ،چنانچہ بعض مدرسوں میں بھی چھاپے مارے،پھر داداجی کا خط آیا کہ بھیا اگر پکڑے گئے تو پھر تمھاری خیر نہیں ہے اور اگرہم لوگوں کا نام نے بتادیا تو پھر ہم لوگ مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے۔
جاسوسوں کوجو فوٹو دیا گیا تھا وہ میرے چھٹی کلاس میں پڑھنے کے زمانہ کا تھا،جاسوسوں نے والد صاحب سے کہا کہ اس فوٹو سے پہچاننا بہت ہی مشکل ہے،آپ ہمارے ساتھ رہیں تاکہ دیکھ کر آپ شناخت کرلیں ،والد صاحب ان کے ساتھ میرٹھ آئے اور وہیں سے واپس ہو گئے ،اللہ تعالی نے کسی کے دل میں سہارن پور کی بات آنے ہی نہیں دی، واپس پہنچنے کے بعد ان کو سہارن پور کا خیال آیا تو والد صاحب حاجی صاحب کو لے کر جن کا لڑکا سہارن پور پڑھتاتھا،سہارن پور جانے کے لئے تیار ہوگئے،یہ بات دادا جی کو معلوم ہوگئی ،انہوں نے فوراً حاجی صاحب سے ملاقات کی اور ان کو ساری بات بتادی کہ ہم لوگوں نے ہی اس کو سہارن پور بھیجاہے،تم ہر گز نہ جانا،اس لئے حاجی صاحب نے بہانہ کر کے سہارن پور جانے سے انکار کردیا،اس پر والد صاحب نے ان کو جیل بھجوادیا،یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب میں حاجی صاحب کو دیکھتاہوں توبہت دکھ ہوتا ہے کہ بیچارے میری وجہ سے جیل گئے۔
اس سلسلہ میں مدن کوجو میرے کلاس کے ساتھی تھے،باندھ کر اور لٹکاکر بے حد مارا کہ بتاؤ کہاں ہے تمہارا ساتھی؟اس نے فون پر بتایا کہ بھائی تم تو چلے گئے،مجھ پر اغواکا شک کر کے مجھے بہت ماراگیا،پھر جیل بھیج دیا گیا،جب تمہارا خط آیاکہ تم مسلمان ہو گئے ہو تب مجھے جیل سے چھوڑاگیا۔
چارسال سہارن پورکے مختلف مقامات اورگاؤں میں چھپ چھپ کر گزارنا پڑے،ایک دو جگہ سے سی۔آئی ۔ڈی (C.I.D) کی وجہ سے بھاگنا بھی پڑا،چار سال کے بعد کلکتہ جا کر Affidavite بنوالیا،اس کے بعد مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ بھی ہوگیا،اس دوران ہمارے علاقہ کے بعض ساتھیوں کے ذریعہ معلوم ہوتا رہتا تھا کہ امی پاگل جیسی ہو گئی ہیں ،یہ سن کر والدین بہت زیادہ یاد آنے لگے،گھر چھوڑے ہوئے تقریباً ساڑھے پانچ سال ہو چکے تھے۔
ان دنوں کلکتہ سے ایک جماعت سہارن پور آئی،جماعت کے امیرہمارے کمرہ کے ایک ساتھی کے والد محترم تھے اور ڈاکٹر بھی تھے،اس نے میری ملاقات اپنے والد سے کرائی،ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تمہارے علاقہ کے ایک ساتھی جو جماعت میں ہیں ، فوڈ کارپوریشن آفسر ہیں ،تم ان سے ملاقات کرلو میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ فلاں جگہ کے فلاں خاندان کا جو بچہ غائب ہو گیا تھا اس کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا :غائب ہوگیاہے یہ تو معلوم ہے،لیکن کہاں گیا ہے یہ نہیں معلوم ،اس کے گھر والے اس کو تلاش کرتے رہتے ہیں، لیکن آج تک تلاش نہیں کر پائے،میں نے کہا وہ لڑکا یہیں پر ہے ، میں اسے آپ سے ملا سکتا ہوں،لیکن ایک شرط ہے ،وہ لڑکا اپنے ماں باپ سے ملنے کے لئے بیتاب ہے،اگر آپ اپنی ذمہ داری میں ملاقات کرادیں تو بتادوں ،افسر نے کہا:ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گا ،تو میں نے کہا وہ لڑکا میں ہی ہوں،افسرنے مجھے سینے سے لگالیا اور کہا :ان شاء اللہ میں پوری کو شش کروں گا،لیکن جب میں بلاؤں سیدھے میرے گھر پرہی آنا،اچانک اپنے گھر ہرگز نہ جانا،میں ماحول دیکھ کر خط لکھوں گا۔
شعبان کی چھٹی ہونے والی تھی،اس دن بہت سے ساتھی گھر جا رہے تھے،دو پہر کو کھانے بیٹھے ہی تھے کہ ڈاکیہ نے خط دیا ، لفافہ کھول کرجب خط نکالا تو میری چیخ نکل گئی کہ میرے ابا نے مجھے خط لکھا ،سب ساتھی کھانا چھوڑ کر میرے گرد جمع ہوگئے،تاکہ خط سنیں،میری آنکھوں میں آنسو آگئے،زبان لڑکھڑارہی تھی، کوشش کے با وجود نہیں پڑھ سکا،ایک دوسرے ساتھی پڑھ کر سنایا،لکھاتھا:
’’پیارے بیٹے!معلوم نہیں تم کہاں ہو،تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے دادا،نانا،پھوپھی وغیرہ دنیا سے چلے گئے، بلکہ تمہارے دادا تو مرنے سے پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ میرے دادو بھائی تم کہاں ہو؟میرے دادو بھائی تم کہاں چلے گئے ہو؟ اور اس وقت تمہاری اماں موت سے لڑرہی ہیں ،ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ماں کو بہت زیادہ صدمہ ہے،لڑکے کو ان سے ملادو تو و ہ ٹھیک ہو سکتی ہیں ،تم سے درخواست کرتاہوں کہ تم ایک بار اپنی ماں کو اپنا منہ دکھاکر چلے جاؤمیں وعدہ کر تاہوں کہ تمہارے بدن پر ایک کانٹا بھی چبھنے نہیں دوں گا،دیکھو بیٹا! اولاد کی محبت کیا چیز ہے تمہیں اس وقت معلوم ہوگی جب تمہاری اولاد ہوگی۔
خط سن کر کمرہ کے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،اس کے بعد اسی لفافہ سے دوسرا خط نکالا جوافسر صاحب نے لکھا تھا اس میں لکھاتھا:’’میں تمہارے گھر گیا تھا،تمہارے والد صاحب ٹوٹ چکے ہیں ،میرے ہا تھ پکڑ کر خوب روئے،پھر بھی تم میرے گھر آؤ ملاقات پر سب بتاؤں گا،سیدھے میرے گھر آنا ،اپنے گھر ہرگز نہ جانا ،تمہارے والد کو میں نے تمہاراپتہ نہیں دیا،میرے آفس پر آکر یہ خط دے کر گئے جو میں نے لفافہ میں ڈال دیا۔
جب افسر کے گھر ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں تمہاری دکان پر تمہارے ابا سے ملا اور کہا کہ آپ سے آپ کے بیٹے کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے تو ابا ایک دم غصہ ہوگئے، اور کہا آپ ذرا رکئے ،لیکن جب گاہک چلے گئے تو ابانے افسر سے کہا کہ آپ اندر آجائیں ، افسر نے بتایا کہ تمہارے ابا مجھے اندر گھر میں لے گئے اور گھرکے دروازے بند کرنے لگے تو میں ڈرنے لگا کہ نہ جانے کیا ہوگا؟پھر تمھارے ابا میرے ہاتھ پکڑ کر خوب روئے اور کہنے لگے کہ کیا تم نے میرے بیٹے کو اپنی آنکھوں سے دیکھاہے؟اور پھر کہنے لگے کہ میں نے جو غصہ کیا وہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے کیاتھاتاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل جائے کہ میں اپنے بیٹے کو اب بھی چاہتاہوں،انہوں نے مزید بتایاکہ تمہاری ماں دروازے کے پاس کھڑی زاروقطار روئے جارہی تھیں،میں نے ان کو سمجھایاکہ فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ میرے گھر آئے گا،چنانچہ میں افسر کے گھر پہنچاتوآفسرنے ابا کو اطلاع بھیجی ، رات کو بارہ بجے ابا ۴۔۵ آدمیوں کے ساتھ ملنے کے لئے افسر کے گھر آئے، افسر کے گھر والوں کو یہ دیکھ کر کچھ شک ہوا،تو وہ لوگ خاموشی سے چھپ کرلاٹھی لے کر کھڑے ہوگئے ،کہ اگر میرے ساتھ ان لوگوں نے کچھ کیا تو ایک کو بھی یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔
دوسرے دن صبح صبح ابا مٹھائی لے کر افسر کے گھر آگئے اور مجھے سمجھانے لگے ،طرح طرح کے سوالات بھی کر تے تھے کہ اللہ کون ہے؟ ہم تو اس کو دیکھتے نہیں تو ہم اس کو کیونکر مانیں اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔یہ اللہ کا خاص فضل تھا کہ اس نے تمام سوالوں کے جوابات دلوائے،اس لئے پہلے سے میرے ذہن میں کوئی جواب موجود نہیں تھا،اس دوران ابانے اصرار کیا اور کہنے لگے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر پھر سے ہندو بن جاؤ،تب میں نے کہا کہ ابا سنئے :پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے میں چاند لاکر دیں تو بھی میں اسلام کو نہیں چھوڑ سکتا، دوسری بات یہ ہے کہ آپ ۳۳کروڑ بھگوانوں کو مانتے ہیں اور میں صرف ایک اللہ کی عبادت کر تاہوں ،ایک اللہ کو راضی رکھنے کے لئے رات دن لگا رہتا ہوں ،جب ایک معبود راضی کرنا اتنا مشکل معلوم ہوتاہے تو پھر
میں٣٣ کروڑ کو کیسے راضی کر سکوں گا؟یہ تو ناممکن ہے،ایک راضی ہوگا تو دوسراناراض ،ابا یہ میرے بس کی بات نہیں ،یہ جواب سن کر اباایک دم خاموش ہو گئے- پھر ابا جی نے مندرکے پجاریوں سے ملنے کے لئے مجھ سے بہت ضد کی ،میں نے کہا :مندر تو نہیں جا سکتا ،البتہ گروجی یہاں آئیں گے تو بات کر لوں گا ،کہنے لگے :وہ بہت بڑے آدمی ہیں،یہاں نہیں آئیں گے ،پھر ایک شخص سے ملنے کے بہانے ایک پرانے مندر میں مجھے لے گئے،دیکھا کہ مندر کے آفس میں وکیل، ڈاکٹر وغیرہ سب میرے انتظار میں بیٹھے ہیں ،میرے اللہ نے وہاں بھی میری خوب خوب مدد کی ،سب باری باری مجھ سے طرح طرح کے سوالات کرتے رہے اور میں ان کے جواب دینے کے بعد خود انہیں لوگوں سے ہندو دھرم کے بارے میں جو سوال کر تاتھا اس کا جواب کسی سے نہیں بن پڑتاتھا،ایک گھنٹہ کی بحث کے بعد ڈاکٹر صاحب جو ہمارے رشتہ دار بھی تھے بول اٹھے کہ بھائی جانے دو،ان کو واپس ہندو بنانا اب ممکن نہیں ہے،یہ تو بالکل پختہ ہو چکاہے ،واقعی مجھے معلوم نہیں کہ کیسے کیسے میں نے ان کے سوالوں کا جواب دیا،جیسے لگتاتھا میرے اندر سے کوئی بول رہاتھا ،اللہ تعالی کی مدد میں نے دیکھ لی ،میرے اللہ نے میرا ایمان بچالیااور کسی قسم کی کوئی تکلیف بھی کسی نے نہیں پہنچائی۔
سہارن پور سے جب دوسری مرتبہ افسر کے گھر گئے تو ابانے کہا کہ اب تو گھر چلو ،بہت دن سے سب لوگ تم کو دیکھنا چاہتے ہیں ،میں نے کہا :گھر تو نہیں جا سکتا ،ابانے کہا :میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کچھ ہونے نہیں دوں گا،چنانچہ ہم رات کو گھر پہنچے تو گھر میں ایک بھیڑ لگ گئی ،ابا کے چچا کے خاندان کے لوگ ہمارے بازومیں رہتے تھے تو ابا کے چچا نے کہلوایا کہ اس کو ہمارے گھر بھیج دو ،ابانے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے بھیج دیا ،پہلے تو دادا وغیرہ نے خیر خیریت پوچھی ،پھراچانک کہیں سے ان کے لڑکے جو میرے چچا لگتے تھے ،آگئے اور مجھے دیکھ کر غصہ سے چیخنے لگے کہ تو یہاں کیوں آیا؟تونے ہمارے خاندان کا سرنیچاکردیا،تو ہمارے خاندان پر کلنک ہے،تو مرجاتا تو اچھاہوتا،اور نہ جانے کیاکیا بولے جارہے تھے،قریب تھا کہ پاس پڑی لکڑی میرے سر پر دے ماریں،چیخ سن کر ابا جلدی آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے اپنے گھر لے آئے،اور صبح اندھیرے میں گھر کے نوکر کے ساتھ مجھے افسر کے گھر پہنچوا دیا،پھر میں سہارنپور واپس چلاگیا۔
پالن پور کے ایک ساتھی سید مولاناابراہیم صاحب جو سہارن پور مظاہر علوم میں پڑھتے تھے مجھے بہت چاہتے تھے ، گجرات آنے کا ذریعہ بنے ، پھر پالن پور میں جناب فتح محمد صاحب ٹیلر ماسٹر نام کے ایک شخص تھے جو اصلاً راجستھان کے رہنے والے تھے معلوم نہیں انہوں نے میرے اندر کیا دیکھا کہ ایک دن مسجد میں مجھے دیکھ کر خوشی کے مارے ہنس بھی رہے تھے اور آنکھیں بھی تر تھیں، کہنے لگے میرے تین بیٹے ہیں لیکن تم میرے چوتھے بیٹے ہو اور ان تینوں کے بڑے بھائی ہو ، پھر انہی کے ذریعہ حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب ؒ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی اپنا بنالیا اور اپنے ایک خاص دوست حضرت مولانا محمدیونس صدیقی صاحب ؒ جو حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب ؒ جونپوری کے خلیفہ تھے ،جنہوں نے احمدآباد کے قریب’’ کڈی‘‘ نام کے ایک قریہ میں ایک مدرسہ قائم کیا اور وہیں اخیر عمر تک خدمت انجام دی،ان کی صاحب زادی (جوحافظہ اور صالحہ ہیں ) سے نکاح کروادیا جن سے اللہ رب العزت نے چار لڑکیاں اور چار لڑکے دئیے،الحمدللہ ایک لڑکی اور تین بچوں نے حفظ مکمل کرلیا ایک بچہ درجۂ عربی پنجم میں تعلیم حاصل کررہاہے ،اللہ رب العزت تمام ہی بچوں کو دین کا داعی بنائیں ، آمین 
کافی سال بعد حضرت مولانا محمد کلیم صاحب صدیقی دامت برکاتہم سے ملاقات ہوئی ، حضرت نے فکر دلائی کہ گھروالوں کے اسلام کے بارے میں فکر کریں،خدا کے فضل وکرم سے تقریبا ۸؍مارچ ۲۰۱۰ ؁ء کوکچھ عزیزوں نے کلمہ پڑھ لیا ،اور پھر بہن کو بھی خوب سمجھا یا تو بہن نے بھی کلمہ پڑھ لیا،باقی خاندان والوں پر کام جاری ہے، مجھے بہت افسوس ہے کہ پہلے سے فکر کرتا تو بہت سے لوگ جو خاندان کے انتقال کرگئے ہیں وہ دوزخ سے بچ جاتے، حضرت واقعی سچ کہتے ہیں کہ نمک کی کان میں جو جاتا ہے نمک بن جا تا ہے۔مہاجر مسلمان بھی خاندانی مسلمانوں میں آکر ،خاندانی مسلمانوں کی طرح اپنے خاندان والوں سے بے فکر بس اپنی اپنی فکر کے ہوجا تے ہیں، اس لئے ملت میں دعوتی شعور پیداکرنا بہت ضروری ہے۔
حضرت مولانا کے حکم سے خونی رشتہ کے بھائیوں میں کام شروع کردیا ہے ان کے پاس جانا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جس مذہب کو مانتے ہیں اس سے وہ کچھ بھی واقف نہیں ایسے خالی الذہن لوگوں کو صحیح مذہب سمجھانا بہت آسان ہے اگر اس پر ہر مسلمان عمل کرکے ان کو دعوت دے تو دن دور نہیں کہ قوموں کی قومیں اسلام میں داخل ہوسکتی ہیں،مگر ہم سنجیدگی سے کوشش نہیں کرتے، کبھی کبھی دل بہت تڑپتا ہے کہ کیسے ان لوگوں تک دین پہنچایا جائے،ان تک دین نہ پہنچنے کی وجہ سے کتنے لوگ روز دوزخ کا ایندھن بن جاتے ہیں،کبھی کبھی اس خیال سے دعوت دیتے ہوئے بے اختیارہوجاتا ہوں،اور پھوٹ پھوٹ کررونے لگتا ہوں،ماحول بالکل سازگار ہے گجرات جیسے علاقے میں ہم لوگ دعوت کاکام کرتے ہیں مگر ایک بار بھی کسی نے ناگواری کا اظہار نہیں کیا،بکہ بہت احسان مانتے ہیں اور قدر سے دین کی بات سنتے ہیں،ایسے ماحول میں ہم فائدہ نہ اٹھائیں تو بہت ظلم کی بات ہے۔


جناب عبد الرحمن سے ایک گفتگو


احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عبد الرحمٰن : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

س:عبدالرحمٰن بھائی آپ دہلی کہاں سے تشریف لائے ہیں ؟
ج: جی میں دہلی میں روہنی میں رہتاہو ں، وہیں سے آیا ہوں ۔
س: آپ پچھلے ہفتے بھی تشریف لائے تھے ؟
ج: جی ہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ پچھلے اتوار کو آیا تھا آج میں اپنے دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی کو حضرت سے ملانے لایا ہوں ، اصل میں کل میری بیٹی سسرال سے آئی تھی ، ہم نے بتایا کہ حضرت سے ہماری ملاقات ہو گئی ہے تو بیٹی نے بہت ضد کی کہ ہمیں بھی ملائیے، اصل میں، اس نے نسیم ہدایت کے جھونکے کتاب پڑھی ہے اس لئے وہ بہت زیادہ حضرت سے ملنا چاہتی تھی ۔
س: آپ پہلے سے کہاں کے رہنے والے ہیں، روہنی تو اب رہتے ہوں گے ؟
ج: جی ہم لوگ پہلے سے روہتک ضلع کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں ، ۲۶ سال ہوئے دہلی شفٹ ہو گئے ہیں ۔ہمارا خاندان مذہبی ہندو گھرانہ ہے، ذات سے ہم لوگ خاندانی برہمن ہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ برہمن آرین قو میں ہیں، شاید یہ لوگ براہیمی لوگ ہوں گے، اس لئے کہ مکہ کے مشرک جو اپنے کو براہیمی دین پر کہتے تھے، ان کا کلچر ہم سے بہت ملتا جلتا ہے ،ہو سکتا ہے کہ ہم لوگ حضرت ابراہیم کے خاندان میں بھی رہے ہوں ۔
س: آپ نے خوب سوچا، ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو ، آپ کو اسلام قبول کئے کتنا زمانہ ہو گیا ؟
ج: یوں تو اسلام قبول کئے مجھے آٹھ سال ہو گئے، مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اصلی مسلمان تو پچھلے اتوار کو ہواہوں، اصل میں ہندو پنڈتوں کے چکر سے تو آٹھ سال پہلے نکل گیا تھا، مگر مثال مشہور ہے آسمان سے گر ا کھجور میں اٹکا، مسلمان بن کے، پیر نماایک پیشہ ور بہروپئے مسلمان پنڈت کے چنگل میں پھنس گیاتھا اور اس ظالم نے ہندو پنڈتوں کو اچھا کہلوادیا ۔
س: ابی بتا رہے تھے کہ ایک جاہل پیر آپ کو ایک زمانہ تک ٹھگتا رہا، کیا انہوں نے ہی آپ کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟
ج:نہیں وہ اسلام کی دعوت کیا دیتے، مجھے تو ایک بندر نے دعوت دے کر مسلمان بنایا حضرت کہہ رہے تھے کہ آپ کا اسلام ہمارے لئے ایک بڑی وارننگ ہے کہ اگر مسلمان اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے اور دعوت کے اپنے فریضے کو ادا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ بندروں سے دعوت کا کام لے کر برہمنوں کو مسلمان بنائیں گے ۔
س: ذرا تفصیل سے سنائیے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح ہدایت دی ؟
ج: اصل میں خاندانی طور پر برہمن ہونے کی وجہ سے میں بہت مذہبی قسم کا ہندو تھا ، اور سب سے زیادہ میری عقیدت ویشنو دیوی سے تھی ، اس کے علاوہ کالی اور انباجی کا بھی اپاسک تھا، اس لئے سال میں دوبارویشنو دیوی کی یاترا(سفر)کرتا تھا ، شاید آپ جانتے ہوں گے، ویشنو دیوی کا خاص مندر کشمیر میں ہے ، وہاں جانا ایسا ہے جیسے حج وغیرہ کرنا، یوں سمجھو کہ میں بھی سال میں دو بار عمرہ کو جاتا تھا ، عمرہ توآدمی سو فیصد اپنے ایک اللہ کے ساتھ اپنے ایمان او رایک اللہ کی محبت کو بڑھانے کے لئے جاتا ہے ، ویشنو دیوی پر تو آدمی،حق کو چھوڑ کر شرک میں بھٹکنے کے لئے جاتا ہے ، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جتنا وقت اور پیسہ عمرہ میں لگتا ہے، اتنا ہی تقریباً ویشنو دیوی کی یاترا میں لگتا ہے ، ہاں مشقت اور محنت ویشنو دیوی کی یاترا میں اورزیادہ ہے، یہ کہ وہاں پیدل پہاڑ کی بڑی چڑھائی میں آدمی کاحال خراب ہو جاتاہے،اس کے علاوہ بھی الگ الگ مندروں میں جاتا تھا ، میری کمائی اور وقت کا ایک خاصاحصہ ان پوجاؤں میں لگتا تھا، بہت برت(ہندو مذہبی روزے )رکھتا تھا ، میرے گھر میں ایک خاص کمرہ جس کے تین حصے کرکے الگ الگ دیویوں کے مندر بنائے ہوئے تھے، آٹھ سال پہلے نورتے(خاص ہندوروزے)چل رہے تھے، ایک شام کو میں برت میں پوجا میں مگن تھا ، بڑی عقیدت سے نمبروار ایک کے بعد ایک دیوی کی پوجا کی پرشاد چڑھاتا اور عقیدت سے دیپ جلاتا ، اچانک پیچھے کے راستہ سے ایک بندر گھرمیں گھس گیا اس نے کمرہ میں گھس کر پرشاد پرجھپٹے لگائے تو دیپ گرگئے اور پورے کمرہ میں آگ لگ گئی ، اور آگ اس قدر لگی کہ تینوں دیویاں اور پورا کمرہ آگ میں جھلس گیا، میرے دل میں آیا کہ جو دیویاں خود اپنی حفاظت نہیں کرسکیں اور جل کر جھلس گئیں ، وہ پوجا کے لائق کیسے ہو سکتی ہیں ، میں اس آستھا او ر عقیدت سے بہت بددل ہوکر گھر سے نکلا ،گھرسے کچھ دور ایک پیر پر ایک میواتی بابا ہزار تسبیح لئے بیٹھے تھے، میں نے ان سے کہا میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں، وہ پیر بابا بولے ،مسلمان ہوکرتمھیں میرا مرید بھی ہونا پڑے گا ، میں نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لئے مرید ہونا بھی ضروری ہے ، وہ بولے کہ پکا مسلمان تو تب ہی ہوگا جب مرید ہو جائے گا ، میں نے کہاکہ میں مرید بھی ہو جاؤ ں گا ، وہ بولے میں دو طرح کے مرید کرتا ہوں ، ایک مرید تو ایسا ہوتاہے کہ مرید ہو کر نماز او ر روزہ اور ساری عبادتیں تمھیں ہی کرنا ہوں گی ، ایک مرید ایسے ہوتے ہیں کہ مرید تو مرید ہی ہوتا ہے، وہ عبادات ٹھیک طریقے پر کہاں کرسکتا ہے ، میں ہی تمہاری طرف سے نماز روزے ادا کروں گا، اس کے لئے تمہیں ماہانہ خرچ دینا پڑے گا ،میں نے معلوم کیا کہ ماہانہ خرچ کیا پڑے گا؟ وہ بولے تمہاری آمدنی کتنی ہے ،تم بتاؤ اس مالک کے نام پر تم کتنے خرچ کر سکتے ہو، میں نے کہا میں ہاتھ سے بنی دیویوں کے نام پر اتنا خرچ کرتا تھا،تو اس مالک کے نام پرمیں جان بھی دے سکتاہوں،وہ بولے تو پھر اچھا مرید اور اچھی نماز روزہ پیر صاحب سے کروانے کے لئے دس ہزار روپئے ماہانہ خرچ کرنے پڑیں گے ، میں نے کہا مالک کا دیا بہت ہے اس کے نام پر دس ہزار روپئے کوئی بڑی بات نہیں ۔ پیر بابا نے مجھے کلمہ پڑھایا اور ایک چادر میرے سر پر ڈال کر مجھے مرید کر لیا ، مرید کرنے کے لئے دیر تک ناٹک کرتے رہے ۔

س: آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے ؟
ج: کھلی آنکھوں دکھائی دے رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے۔
س: جب آپ کو لگ رہا تھا کہ یہ ناٹک ہے، پھر بھی آپ سب کرتے رہے ؟
ج: اصل بات یہ تھی کہ مجھے اسلام کے بارے میں ذرا بھی معلوم نہیں تھا ،اب یہ جاننے والے تھے توپھر مجھے ان کی بات ماننی تھی، اس ڈر سے کہ کہیں میرے اسلام میں کوئی کمی نہ رہ جائے، مذہب کے معاملے میں انسان اپنی عقل نہیں لڑاتا بلکہ وہ اپنی عقل کو مذہب کے سپرد کرتا ہے ۔ میں آپ کو ایک لطیفہ بتاؤں :پچھلی اتوار کو جب ہم حضرت سے ملنے آئے تھے، تو مرادآباد کے ایک انگریزی کے پروفیسر صاحب کلمہ پڑھنے آئے ہوئے تھے ، بہت محبت اور عقیدت سے انہوں نے حضرت سے کلمہ پڑھانے کو کہا، حضرت نے انہیں کلمہ پڑھوایا،حضرت نے کلمہ پڑھوانے سے پہلے کہا اپنے مالک کو راضی کرنے کے لئے اور اس ارادے سے کہ میں اپنی زندگی اللہ کے آخری قانون قرآن مجیدکو مان کر، او راللہ کے آخری رسول ﷺ نے زندگی گذارنے کاجو طریقہ بتایا ہے اس کے مطابق گذارنے کے عہد کی نیت سے کلمہ پڑھ رہا ہوں، پہلے ہم کلمہ عربی میں پڑھیں گے اورپھر ہندی انوواد (ترجمہ )کہلوادوں گا،حضرت نے کہا جس طرح میں کہوں کہیے،حضرت نے کلمہ کہلوانا شروع کیا ’’اشھد ان لا الہ الااللہ ‘‘یہ کہتے ہوئے حضرت کے کان میں کھجلی آرہی تھی،حضرت نے داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا، تو پروفیسر صاحب نے بھی داہنے ہاتھ سے کان کھجلایا ، حضرت نے کہلوایا ’’واشھدان محمد عبدہ ورسولہ ﷺ ‘‘ حضرت کی ناک کے اوپر ایک دانہ سا ہورہا تھا، حضرت نے بائیں ہاتھ سے ناک پر ہاتھ پھیرا، پروفیسر صاحب نے بھی ناک کو پکڑا ، ہم سبھی کو ہنسی آگئی ، حضرت کو بھی ہنسی آگئی ، پروفیسر صاحب عجیب سے ہوگئے ،حضرت نے بتایا کہ اصل میں میرے کان اور ناک پر کھجلی آرہی تھی ، کلمہ پڑھتے ہوئے کسی ایکشن کی ضرورت نہیں،بلکہ اندرسے یقین اوروشواس کی ضرورت ہے،پروفیسرصاحب بولے کہ مذہب کا معاملہ ہے،دھرم میں آدمی اپنی عقل کو مالک کے حکم کے سپرد کرنے آتا ہے ،میں یہ سمجھا کہ کان ناک پکڑ کر عہد کرنا ہے، اس لئے میں نے ایسا کیا۔حضرت صاحب نے سمجھایا کہ اسلام علم اورعقل کومطمئن کرنے والا مذہب ہے۔ احمد صاحب اس لئے میں نے باوجود یہ کہ میری عقل کہہ ر ہی تھی کہ یہ پیر بابا کا ناٹک ہے، مگر وہ جیسا کہتے گئے ویسا میں نے کیا ،مرید ہو کر پہلے ہفتے کی نماز ، روزہ ، عبادات کی فیس دس ہزار روپئے ،اورمٹھائی کے لئے دو سو روپے میں نے ایڈ وانس میں پیر صاحب کو جمع کرا دئے۔
س: ماشاء اللہ ایسے مرید کھری فیس ادا کرنے والے کہاں کسی کو ملتے ہوں گے اس کے بعد آپ ماہانہ جمع کرتے رہے ؟
ج: مولانا احمد! دس ہزار تو وہ جمع کرتا ہی تھا، اس کے علاوہ پیر صاحب آنکھیں لال پیلی کرکے مٹھی بھی کھولتے تھے کہ آج تمہارے لئے خوش خبری ہے ،تمہارے درجے آسمان کی طرف چڑھ رہے ہیں، اس کی خوشی میں فرشتوں کو منانے کے لئے اب اس چیز کی ضرورت ہے۔ آٹھ سا ل ہو گئے مجھے اسلام قبول کئے ، اوسطاًبیس ہزار روپئے ماہانہ میں نے پیر بابا کو ضرور دئیے ہوں گے
س: اتنے پیسے آپ پیر بابا کو دیتے تھے۔ آپ کا کارو بار کیا ہے ؟
ج: میرا ایک مشہور بیوٹی پارلرہے،میں اور میری بیوی دونوں اس میں کام کرتے ہیں۔
س: اس میں اتنی آمدنی ہوجاتی ہے،آپ کی کیا فیس ہے؟
ج: مالک کا کرم ہے،کام بہت اچھا ہے، میری بیوی دلہن بنانے کی فیس پچا س ہزار تک بھی لے لیتی ہیں۔
س: تو پیرکی کیا خطا ہے۔ آپ بھی روپ بھرنے کے لئے لیتے ہیں پیر بابا بھی روپ بھرنے کے لئے ہی لیتے ہیں۔
ج: بات آپ کی ٹھیک ہے،جب میں حضرت سے پچھلے مہینے بیعت ہواتھاتوحضرت نے معلوم کیاتھا کہ آپ کا کاروبارکیا ہے؟ میں نے کہا کہ بیوٹی پارلر ہے، تو حضرت نے فرمایا کہ روز گار پاک اور حلال ہونا چاہیے،میں نے حضرت سے کہا کہ میں آج سے بیوٹی پار لر بند کردوں ،حضرت نے فرمایا کہ کوئی اچھا حلال طیب روزگار تلاش کریں، بالکل حرام تو نہیں ہاں اچھانہیں،جب دوسرا روزگار مل جائے تواس کو چھوڑدینا،ہاں البتہ تب تک مفتی صاحب کا نام بتایا کہ ان سے معلوم کر یں کہ بیوٹی پارلر میں کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں،اس کا خیال کریں ،میں نے کہا کہ حضرت میں نے دیویوں کو راضی کرنے کے لئے اتنی قربانیاں دی ہیں،میں اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے آپ سے بیعت ہوا ہوں ، اگر میرے اللہ کی رضا جان دینے میں ہے تو میں جان دینے کے لئے تیار ہوکر آیا ہوں، آپ مجھے بس حکم کریں ۔
س: ابی سے آپ مرید ہو گئے، آپ توپہلے پیر بابا سے مرید تھے، اب دوبارہ مرید کیسے ہو گئے ؟
ج: اصل میں میں تین سال سے حضرت سے ملنا چاہ رہا تھا حضرت کو فون کرتا تھا، پہلے تو فون ملتا ہی نہ تھا اور ملتا تو حضرت سفر پرہوتے ، دس روز پہلے میں نے فون کیا تو فوراً کہا کہ میں آٹھ سال پہلے مسلمان ہوا ہوں،مجھے جن مولانا صاحب نے حضرت کا پتہ دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ اپنانام بتانے سے پہلے یہ بتا دینا ، پھر حضرت کہیں نہ کہیں ملنے کی شکل بتا دیں گے ۔ میں نے جب کہا کہ میں تین سال سے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ حضرت نے بہت معذرت کی اور فرمایا کہ اتوار کے روز شاہین باغ آپ آجائیں ، بہت لوگوں کو میں نے بلالیا ہے ، مگر پھر بھی آپ کی زیارت ہو جائے گی ۔
س: ابی کا پتہ آپ کو کس نے دیا تھا ؟
ج: مجھے ایک مولانا صاحب نے حضرت کی کتاب’’ آپ کی امانت آپ کی سیو امیں‘‘ ،’ ’مجھے ہدایت کیسے ملی؟‘‘ اور’’ نسیم ہدایت کے جھونکے‘‘ خرید کر لا کر دی تھی ، میں نے وہ پڑھی ، اصل میں،میں اپنے پیر بابا کی مسلسل ٹھگی اورظلم سے پریشان تھا ، اور میں آٹھ سال تک اس مریدی سے یہ بات سمجھا کہ مذہب کے نام پر شرک،دھرم کے نام پر سب سے بڑا اَدھرم دھارمک پنڈتوں (مذہبی پیشواؤں)نے کیسے چلایا ، شرک کے نام پر لوگوں کو غلام بناکر ان کو ٹھگنے کانام شرک ہے ۔ مذہب انسان کی اندرونی پیاس ہے، اس کی آتما (روح)یہ مانگتی ہے کہ وہ اپنے خدا کو راضی کرے اس کے لئے اس سے جو قربانی مانگی جائے انسان دیتا ہے ، تقریبا بیس ہزار روپئے کی میری ماہانہ فیس کے علاوہ پیر بابانے مجھ پر نہ جانے کیاکیاظلم کئے۔ میری لڑکی بہت خوبصورت تھی،انٹرمیں پڑھ رہی تھی اچانک ایک جمعرات میں میں پیر بابا کے پاس گیا ، ہر جمعرات کوکچھ ہدیہ لے کر جانا پڑتا تھا ، میں پہنچا تو پیر بابا بہت خوش تھے،بولے عبدالرحمٰن تیرے لئے جو میں عبادت کررہا ہوں وہ مالک کے یہاں بہت قبول ہو رہی ہے ، پیر اور مرید کا رشتہ تو آقا اور غلام کا ہوتا ہے ، مگر شاید تجھے اپنے پیر کے برابر درجہ ملنے والا ہے،آج اوپر سے مجھے اشارہ ہوا ہے، عبدالرحمٰن پہلے ہی تمہارا غلام ہے ، مگر اس کی عقیدت ہمیں بہت قبول ہے، اپنے بیٹے سے اس کی بیٹی اور پھر اپنی بیٹی سے اس کے بیٹے کی شادی کردو،یہ اعزازبیٹا تمہیں مبارک ہو ، تمہاری اولاد نے کیسا نصیب پایا ہے ، پیر کے بیٹے و بیٹی سے آسمان سے رشتہ جڑوالیا ہے ، میں نے کہا اگر میرے مالک کا یہ حکم ہے تو میں حاضر ہوں ، میں گھر آیا اپنی بیوی سے بتایا ،بچوں سے مشورہ کیا،گھر والے تیار نہیں تھے ، گھر میں میں نے ان کو مالک کے غصے سے ڈرایا، وہاں سے حکم ہوا ہے تو ماننا چاہیے،مالک نے اولاد دی ہے تو اس کے حکم کو ماننا چاہیے۔
س: آپ کو یہ بات ڈھونگ نہیں لگ رہی تھی ؟
ج: دل میں بات آئی تھی کہ شاید یہ بھی ناٹک اور ڈھونگ ہے، مگر یہ بھی ڈر لگتا تھاکہ اگر سچ مچ مالک کا حکم ہوگا اورنہ مانا تو برباد ہوجائیں گے ،کبھی کبھی دل کرتا، پھر دل کو سمجھاتا ،اگر میرے مالک کے نام پر دھوکہ ہے تو اس کی محبت میں دھوکہ کھانا بھی اچھا ہے ، بس اس لئے سب کچھ کرتے رہے ۔
س: آگے کیا ہوا آپ نے شادیاں کردیں ؟
ج:میری لڑکی چھوٹی تھی اور پیر بابا کی لڑکی چھ سال بڑی تھی، مگر انہوں نے کہا کہ اشارہ ہے کہ پہلے تمہاری لڑکی کی شادی ہو،بیوی کو خدمت کرنی پڑتی ہے ،پہلے پیر کی لڑکی سے خدمت کرانا بے ادبی ہے، پہلے اپنی بیٹی کو خدمت کے لئے پیش کرو ، شادی سے پہلے ہم سے پیر بابانے کہا تم مرید ہو اور میں پیر ہوں ، اللہ کی محبت میں یہ رشتہ ہے، اس میں جو بھی آپ پیر بابا کو اپنی لڑکی کے جہیزمیں دوگے وہ جنت میں ملے گا، میں نے کہا اللہ کی محبت میں ہر چیز میری جانب سے ہے ، آپ حکم کرو ۔ پیر بابا نے کہا تمہاری بیٹی میوات آیا جایا کرے گی ، اس کے علاوہ ہمارے پاس بھی سواری کا سادھن نہیں ہے، ایک اے سی گاڑی دو، میرامکان تمہاری لڑکی کے لائق نہیں ہے ،میوات میں مکان دوبارہ بنوانا پڑے گا، اس کے علاوہ اور گھر میں ضرورت کا جو سامان تمہاری بچی چاہے ، ہم توفقیرآدمی ہیں،ہمارے پاس تو بورئیے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، بہرحال تقریباً ۲۸؍۲۹ لاکھ روپے شادی میں خرچ کئے ، ایک سال بعد پھر میری لڑکے کی شادی کا حکم اوپر سے آنے کی خبر دی ، وہ بولے تم مرید ہو میں پیر ہوں ہم تمہیں جنت اور ولایت کے درجات جیسی قیمتی چیز دلاتے ہیں ، اگر مرید اپنے پیر سے جہیز وغیرہ کا مطالبہ کرے تو مریدی ٹوٹ جائے گی،ان کی لڑکی جو کپڑے پہن کر آئی سارے میں نے ہی بنائے، ایک سوئی بھی ، وہ جہیز میں نہ لائی ۔
س: آپ یہ سب کچھ کرتے رہے آج کل عقل کا زمانہ ہے ، اور آپ شہر کے رہنے والے پڑھے لکھے گریجویٹ ہیں، بچے پڑھے لکھے ہیں، آپ کی بیوی پڑھی لکھی ہیں ؟
ج: اصل میں دل ٹو ٹتا رہا، مگر بس وہی بات کہ مالک کے نام پر دھوکہ کھانابھی ایک مزہ دیتا ہے ۔ ہم سب یہ کرتے رہے ۔
س: ان پیر صاحب سے اب بھی تعلق ہے ؟
ج: اصل میں’ نسیم ہدایت کے جھونکے ‘نے دل تو ہٹا دیا تھا ، مگر اب رشتوں کی وجہ سے ظاہری طور پر نبھاتے رہے ۔مگر اب ظالم نے میری بچی کو ستانا شروع کر دیاہے، پیر بابا کی بیوی ایسی ظالم عورت ہے کہ بس اللہ پناہ میں رکھے ، اب اس کے ظلم سے خود اس کا بیٹا بھی عاجز آگیاہے ، اور اس نے خود ہم سے کہا کہ ان دھوکہ بازوں کے چکر میں نہ آئیں ۔اصل میں اللہ تعالیٰ کو ہم پر ترس آیا، اس کے نام پر دھوکہ ہم نے چونکہ اس کی محبت میں کھایا تھا، اس لئے خود پیر باباکا بیٹا ہمارے لئے پیر بابا کے بندھن سے چھڑانے کا ذریعہ بنا۔ پیر بابا کا بیٹا جو ہمارا داماد ہے جاوید و ہ ایک ساتھی کے ساتھ دہلی حضرت سے ملا، دوکان نہ چلنے کی شکایت کی ، حضرت نے اس کو کسی ایک نماز کے بعد ایک تسبیح استغفار اور ہرماہ میں، تین ماہ تک تین دن جماعت میں لگانے کا مشورہ دیا ، اور فرمایا کہ امید ہے کہ انشاء اللہ کاروبار چل جائے گا ،وہ نمازیں پڑھتاتھا اس نے استغفا ر نماز کے بعد پڑھنے کے لئے عشاء کی نماز پڑھنا شروع کی اور جماعت میں تین روز تین ماہ تک لگائے ، تیسرے ماہ امیر صاحب نے چا ر ماہ کی تشکیل کر لی، اللہ کا شکر ہے وہ جماعت سے جڑ گیا اور وہ آج حضرت سے بیعت بھی ہوا ،اس نے زیادہ زور دیا کہ ہم سب گھر والے حضرت سے بیعت ہو جائیں، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے اور میری بیوی کو ایک ہفتے پہلے ہی توفیق دے دی ، میری بیوی اور بچے سب یہ کہہ رہے تھے کہ ڈیڈی اصل میں آج ایسا لگا جیسے ہم آزاد ہو گئے ،ہمارے گھر میں نسیم ہدایت کے جھونکے بہت دنوں سے بچے پڑھتے ہیں،میرے دونوں بیٹے اس کے بعد سے جمعرات کو مرکز بھی جانے لگے، اب میرا بھی جماعت میں وقت لگا نے کا ارادہ ہے ، حضرت نے بھی مشورہ دیا ہے کہ چا رمہینے لگا دوں۔
س: ماشاء اللہ واقعی آپ کی بات بھی خوب ہے کہ آپ کو بندر نے مسلمان بنادیا ہے ۔ اچھا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کا یہ انٹر ویو ہمارے یہاں میگزین ارمغان میں شائع کرنے کے لئے ہے آپ اس کے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام (سندیش )دیں گے ؟
ج: میں سندیش یا پیغام کیا دے سکتا ہوں،سچی بات یہ ہے کہ میں صرف ایک ہفتے کا مسلمان ہوں میں اپنی زندگی کے تجربے سے دو باتیں کہتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شرک کے واسطے سے مذہبی غلامی میں جکڑی انسانیت کو ایک اللہ کے سامنے کھڑا کرکے اور اس سچے مالک سے جوڑ کر آزاد کرانے کی کوشش کریں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نہ مظلوم اور سسکتی انسانیت کے گلے سے شرک کے پھندے اور بیڑیاں کاٹنے کے لئے بندروں کو بھیج کر یہ کام کرالیں گے ، دوسری بات یہ بھی دل میں آئی ہے کہ اللہ کی محبت میں اس کو راضی کرنے کی نیت سے اتنا دھوکہ کھانے اور قربانی دینے کے بدلے میں اللہ تعالی ٰ نے ہم پر ترس کھایا اور خود پیر بابا کے بیٹے کو اس چنگل سے نکالا اور ہمیں نکلوایا۔ تو اگر اس کے نام پر اسلامی او رشرعی قاعدوں کو جان کر قربانی دی جائے گی تو وہ اللہ کتنا نوازیں گے اس کا اندازہ مشکل ہے ۔
س: آپ نے اپنے خاندان پر کام کا کچھ ارادہ کیا،آپ نے ابی سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا ؟
ج: ایسا نہیں ہوسکتا ، پہلی ملاقات میں سب سے پہلے حضرت نے یہ کہا کہ یہ ایمان آپ کا جب ہی ایمان ہے،جب یہ یقین ہو کہ ایمان کے بغیر نجات نہیں،اور جب یہ یقین ہے تو آپ کیسے انسان ہیں کہ آپ کے سامنے آپ کے بھائی بہن رشتہ دار جائے جائیں۔اور یہ ایمان اور بڑھے گا، جب آپ ساری انسانیت کی فکر کریں گے اور خاص طور پر رشتہ داروں اور خاندان والوں کا اور بھی زیادہ حق ہے ۔ الحمد للہ میں نے ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ بات کرنا شروع کردی ہے ، آپ سے دعا کی درخواست ہے ، اللہ تعالیٰ ہمارے سب رشتہ دار اسلام میں آجائیں ۔
س:آمین بہت بہت شکریہ، جزاکم اللہ خیرالجزاء ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ج: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



نو مسلم محمد شکیل (سنیل جوشی )سے ایک گفتگو




احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
محمد شکیل : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


س :شکیل احمد صاحب! ابی نے چند روز پہلے ہم لوگوں کو بتایا تھاکہ آ پ نے ہمارے ایک ذمہ دار ساتھی کے ساتھ بہت غصہ کا معاملہ کیاتھااورگالیاں وغیرہ دی تھیں ،اور اب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازدیا،آپ کے اس غصہ اور ناراضگی کا پس منظر کیا تھا،حالانکہ آپ کے خاندان کے مسلمانوں سے تعلقات بھی رہے ہیں ؟ج:مولانااحمدصاحب ! اصل میں تو میرے مالک کو مجھ پر رحم آرہا تھا،پس اس نے ذریعہ بنادیا،ورنہ پچھلے دنوں مجھ پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو بھوت سوار تھا اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

 س:پھربھی ظاہری طو رپر اس غصہ کی وجہ کیا تھی؟
ج :اصل میں ہمارے یہاں شاہ آباد میں آندھرا کے چار بچے مسلمان ہوئے،چاروں بہن بھائی تھے،جس لڑکے کے ساتھ وہ آئے تھے اس نے ان کی بڑی بہن سے شادی کرلی تھی، ہمارے ضلع کی شیو سینا کے ذمہ داروں کو معلوم ہوگیاتو انھوں نے علاقہ میں بوال کھڑا کردیا، اس لڑکے کے خلاف بچوں کو بہکا کر مسلمان بنانے کا مقدمہ دائر کردیا، اور اس کو جیل بھیج دیا، عدالت میں ان بچوں نے صاف صاف کھل کر بیان دیا کہ ہم اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،لڑکی ابھی ١٨ سال کی نہیں ہوئی تھی، اصل میں اس کے والد جھانسی کے پاس کسی جگہ رہتے ہیں،شیو پوری کوئی ضلع ہے وہاں پر ان بچوں کی سگی ماں تو انتقال کرگئی، والد نے ایم پی میں ہی دوسری شادی کی، ماں کے رویہ سے پریشان ہوکر یہ بچے گھر سے بھاگ کرآگئے،اسٹیشن پر اس لڑکے کو یہ چاروں ملے،اس کو ترس آگیا،یہ ان کو شاہ آباد لے آیا ،گھروالوں نے مخالفت کی، مگر اس لڑکے نے اس لڑکی سے وعدہ کرلیا تھا اس لئے شادی کرلی، بعد میں عدالت اور پولیس نے ا ن بچوں کے والد سے رابطہ کیا تو ان کے والد نے یہ بیان دیا کہ یہ بچے میری مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،اور میری مرضی سے میری بیٹی نے شادی کی ہے، اس پر ہمارے یہاں کے شیو سینا والوں نے شیو پوری کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا اور بچوں کے والد کے خلاف بیان دینے پر زور دیا اور ان کو طرح طرح کی دھمکیاں بھی دیں، مگر وہ کسی طرح خلاف بیان دینے پر راضی نہ ہوئے، اور کہتے رہے کہ اس دیوتا صفت نوجوان نے ان بچوں پر ترس کھا کر اپنے پورے پریوار کے خلاف ایسی ہمدردی کی اور اس کو نبھایا، ہم اس کے خلاف بیان دیں یہ کیساگھور اَنیائے (سراسر نا انصافی )ہوگی،کیا میں بالکل حیوان بن جاؤں۔جب وہاں کے شیو سینکوں نے بہت زیادہ دباؤ دیا توان بچوں کے باپ نے اور ان بچوں کے ساتھ ان کی سوتیلی ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی، اس پر پورے علاقہ کی ہندو تنظیموں نے اپنی ہار سمجھ کر ایک جٹ ہوکر چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ علاقہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوتے جارہے ہیں، اس پر کھود کریدہوئی تو پتہ چلا کہ سنبھل اور اس کے پاس کے کچھ قصبوں میں کچھ لوگ یہ کام کررہے ہیں، میرے ایک ساتھی بجرنگ دل کے ضلع سنچالک ہیں،انل کوشک ،وہ میرے پاس سنبھل آئے اور انھوں نے سنبھل میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے لوگوں کی میٹنگ کی، اور اس میں دھرمانترن(تبدیلی مذہب )کو روکنے کے سلسلہ میں لوگوں کو گرمایا، میں بچپن سے بہت جذباتی آدمی ہوں مجھے بہت غصہ آیا، اور میں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اراردہ کرلیا، میرے ایک اور ساتھی نے جو اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا وعدہ کرچکے تھے، انھوں نے مجھے بتایا کہ اصل میں ایک کتاب ہندی میں’’ آپ کی امانت ،آپ کی سیوا میں‘‘ مولاناکلیم صدیقی صاحب نے لکھی ہے، وہ ایسی جادو بھری بھاشا(زبان)میں لکھی گئی ہے کہ جو اسے پڑھتا ہے مسلمان ہوجاتا ہے، اور وہ دہلی سے چھپی ہے اس پر چھپوانے والے کا فون نمبر ہے، میں نے کہا وہ کتاب ذرا مجھے لا کر دو، میں دیکھوں اس میں کیا بات لکھی ہے،اس نے کہا نہیں اس کا پڑھنا ٹھیک نہیں ہے، اس کتاب کا لیکھک (مصنف)کوئی تانترک ہے، اس نے اس کی بھاشا(زبان)میں جادو کردیا ہے،اگر تم پڑھوگے تو مسلمان ہوجاؤگے، مجھے بھی ڈر لگا، میں نے کتاب پر چھپے موبائیل نمبروں پر بات کی، پہلے نمبر پر ایک صاحب کو فون ملا وہ بڑے نرم سوا بھاؤ کے تھے،میں انھیں ماں بہن کی بڑی گالیاں دیتا رہا، اور پوری دھمکیاں دیتارہا،مگر وہ ہنستے رہے اور بولے آپ کی گالیاں کتنی میٹھی ہیں ان سے محبت کی خوشبو آرہی ہے، رات کو دوسرے نمبر پر میں نے بات کی اور بہت سخت سست آخری درجہ کی ماں بہن کی سڑی سڑی گالیاں دیتارہا،اور قتل کی اور پورے پریوار کو برباد کرنے کی دھمکیاں دیں، تو وہ صاحب پہلے تو بہت غصہ ہوئے پھر بولے ،میں نے پورا فون ٹیپ کرلیا ہے، اب آپ کے خلاف تھانہ میں رپورٹ کرانے جا رہا ہوں، ایک دفعہ تومیں ڈرسا گیا،پھر ہمت کی اور کہا کہ قتل کے بعد اکٹھے ہی کیس کردینا، میں نے ان سے کہا کہ ذرا اپنی پتنی(اہلیہ)سے بات کرادے، میں تجھے قتل کروں گا، تو وہ وِدھوا( بیوہ) ہوجائے گی،میں اس سے پہلے ہی شما(معافی اور
معذرت)تو کرلوں،پھر تو موقع ملے گانہیں۔

س :اچھا تو وہ آپ تھے، ابی تو بہت مزے لے کر یہ بات سناتے تھے، اور ان ساتھی کو سمجھایاتھاجب وہ بہت شکستہ دل ہوکر
 ان گالیوں کی شکایت کررہے تھے، ابی نے ان کو سمجھایا کہ تمھیں تو فخر کرنا چاہئے، کہ سید الاولین والآخرین نبی رحمت للعالمین کی سنت ادا کرنے کا شرف تمھیں ملا، دعوت کی راہ میں کسی خوش قسمت کو ہی گالیاں نصیب ہوتی ہیں، ابی ان سے کہنے لگے تم بتاؤ کوئی ایسا خوش قسمت آدمی جس کو دعوت کی راہ میں گالیاں ملی ہوں یہ پیارے آقا کی سنت ہے کہ جن کو دوزخ کی آگ سے نکالنے کے لئے آپ راتوں کو روتے اور دنوں کو خوشامد کرتے تھے، وہ لوگ گالیاں دیتے،پتھر برساتے، اور ہرطرح سے ستاتے تھے، پھر اس نے ان سے کہا کہ تم نے اس کی گالیوں پر تو غور کیا ،اس کی انسانیت اور رحم دلی اور اس کی محبت بھری فطرت کا احساس نہیں کیا کہ ابھی اس نے تمھیں قتل کیا بھی نہیں اور تمھاری اہلیہ سے معذرت اور تعزیت کرنے کو کہہ رہا ہے.... جی تو آگے سنائیے؟
ج:ان صاحب نے مجھ سے معلوم کیاکہ آپ یہ بتائیے کہ اس کتاب میں کون سی بات ایسی غلط ہے جس پر آپ کو اعتراض اور ایسا غصہ ہے، میں نے کہا ،میں نے تو وہ کتاب پڑھی نہیں، انھوں نے کہا پھر آپ کو غصہ کیوں ہے؟ میں نے کہا میرے کئی ساتھیوں نے کتاب پڑھنے سے منع کیا اور کہا جو بھی یہ کتاب پڑھتا ہے اس کتاب کی بھاشا(زبان)میں جادو کررکھا ہے، وہ مسلمان ہوجاتا ہے، اس ڈر کی وجہ سے میں نے کتاب نہیں پڑھی، انھوں نے کہا آپ کو کسی نے غلط کہا ہے؟ مجھ سے پوچھا آپ کچھ پڑھے لکھے ہیں؟ میں نے کہا میں ایم ایس سی ہوں، وہ بولے سائنس کے اسکالر ہو کر آپ کیسی اندھ وشواش کی بات کررہے ہیں، انسان کو مالک نے دیکھنے کے لئے عقل دی ہے، اور آپ اتنے پڑھے لکھے آدمی ہیں،انسان چاند تاروں پر جا رہا ہے، اور آپ جادو کی بات کر رہے ہیں، آپ ایسا کیجئے کہ آپ اس کتاب کو ضرور پڑھئے اور اس کے پڑھنے کے بعد جو بات آپ کو غلط لگے اپنے قلم سے کاٹ دیجئے، آئندہ آپ جس طرح کرکشن(اصلاح)کریں گے کتاب اسی طرح چھپے گی،انھوں نے کیا میں آپ کے پاس کتاب بھیج دوں؟ میں نے کہا اگر مجھے نہ ملی تو میں منگالوں گا، اور اگر مجھے اس کتاب میں کوئی بات
ہندو دھرم کے خلاف ملے گی تو میں تیرے پورے خاندان کو قتل کردوں گا۔ وہ بولے کوئی بات نہیں۔

س : ا س کے بعد آپ نے وہ کتاب پڑھی؟
ج : نہیں میں نے اس وقت وہ کتاب نہ تلاش کی نہ پڑھی، ساتھیوں سے بات ہوئی تومیری طبیعت میں بہت نرمی دیکھ کر وہ بہت برہم ہوئے، اور بولے کہ ایسے ہی تو لٹھ مار مار کر وہ دھرمانترن کررہے ہیں،دیکھا نہیں یہ عیسائی مشن والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں،میں جگہ جگہ جاکر چوراہوں پر اس کتاب اوراس کے بانٹنے والوں کو گالیاں دیتا، سنبھل کے نواب خاندان کے ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ سنبھل کے پاس ایک قصبہ میں ایک آدمی سنیل جوشی نام کا’’ آپ کی امانت‘‘ کے خلاف بہت غصہ ہے، وہ اس کے لیکھک(مصنف)کوبہت گالیاں بکتاہے،مولانا کلیم صاحب سے وہ مرید ہے، وہ تلاش کرتے کرتے میرے پاس پہنچے، مجھے دیکھا توچمٹ کر بہت رونے لگے، سنیل بھیا تم تو میرے ساتھ چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک پڑھے ہو،تمھارے ساتھ میں نے کبڈی بھی کھیلی ہے، میں نے بھی پہچان لیا،میں نے کہا کہ میرے پتاجی نے تو آپ کے ابا جان کی زمین بھی کاشت کی ہے، بولے ہاں ہاں وہ زمین تو والد صاحب نے بہت سستے داموں میں آپ کے پتاجی کو تعلقات کی وجہ سے فروخت کردی تھی،میں نے کہا ہاں تمھارے پتاجی تو ہماری شادی میں بہت بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے تھے، اور کئی دن تک کام کرایا تھا بلکہ ایک طرح سے شادی کی ذمہ داری نبھائی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے چمٹ گئے، بری بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ان کا رو روکر برا حال ہوگیا، روتے رہے اور کہتے رہے میرے لاڈلے دوست، ایمان کے بغیر تم مر گئے تو دوزخ میں جلو گے، میں ایسے اچھے دوست کو کیسے دوزخ میں جاتا دیکھوں گا،میرے بھائی سنیل میں نے اس بار حج میں بار بار تمھاری ہدایت کے لئے دعا کی ہے، میرے بھائی ایمان کے بغیر بڑا خطرہ ہے اور بہت خطرناک آگ ہے، میرے بھائی سنیل نرک کی آگ سے بچ جاؤ، جلدی سے کلمہ پڑھ لو، دیکھو میں دل کا مریض ہوں تڑپ تڑپ کر میرا ہارٹ فیل ہوجائے گا،میں ایسے اچھے دوست کو ہر گز کفر پر مرنے نہیں دوں گا، میرے بھائی کلمہ پڑھ لو،پھوٹ پھوٹ کر آواز سے روتے روتے ان کا برا حال ہو گیا، میں نے کہا میں کلمہ پڑھ لوں گا،تم چپ ہوجاؤ، میرے یار چائے تو پی لو، وہ بولے:میں کس دل سے چائے پی لوں جب میرا دلی پیارا دوست ،جس کا اتنا پیارا باپ ہو،جو میرے حقیقی بھائی کی طرح ہونے کے باوجود ایمان کے بغیر مرگیا،سنیل بھیا چچا بلرام جی پر نرک میں کیا کیا گذر رہی ہوگی، میرے ابا نے انھیں مرنے دیا مگر میں تمھیں ہرگز ا ب نرک میں نہیں جانے دوں گا، بار بارمیں ان کو پانی پلانے کی کوشش کرتا،مگر وہ کہتے تمھیں پانی کی پڑی ہے، میرا بھائی میرا دوست سنیل بغیر ایمان کے مرجائے گا۔میرے ہوش خراب ہوگئے، میں نے کہا: چپ ہوجاؤ،پانی پی لو،جو تم کہو گے،میں کرنے کو تیار ہوں،وہ بولے کلمہ پڑھ لو، میں نے کہا کہ تم پانی پی لو،میں کلمہ نہیں پورا قرآن پڑھ لوں گا، وہ بولے اگر پانی پیتے پیتے تم مرگئے تو نرک میں جاؤگے،میں نے کہا میرے بھائی، اچھا تم پڑھاؤکیا پڑھاتے ہو، میں نے ان کی حالت بری دیکھی تو اس کے علاوہ اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا، انھوں نے روتے روتے مجھے کلمہ پڑھایا،پھر ہندی میں اس کا انواد (ترجمہ)کرایا، میں نے ان کو پانی پلایا، میں نے کہا :اچھا اب تم خوش ہو اب چائے پی لو،انھوں نے چائے پی،اور جیب میں سے’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا میں‘‘نکال کر دی،کہ سنیل بھیا اس کتاب کو اب تم دوبار بہت غور سے پڑھنا،’ آپ کی امانت‘میں نے دیکھی تو میرا موڈ خراب ہوگیا،اچھا یہ کتاب تو میں کسی طرح بھی نہیں پڑھوں گا،اس کتاب کے لیکھک(مصنف)کو میں نے قتل کرنے کا پرن(عہد)کیا ہے ، وہ چائے چھوڑ کر پھر مجھے چمٹ گئے اور رونے لگے، میں نے کہا تم کچھ ہی کرو،میں کتاب نہیں پڑھ سکتا، وہ بولے کیوں اس کتاب سے تمھیں ایسی چڑ ہے، میں نے کہا،کیا تم ہی لوگ یہ کتاب بانٹ رہے ہو، انھوں نے کہا کہ تمھارا یہ گیا گذرا بھائی ہی یہ محبت کی خوشبو بانٹ رہا ہے، میں نے کہا محبت کی نہیں نفرت کی، اس کتاب کے نام سے مجھے غصہ آتاہے،وہ بولے کہ بھائی سنیل، اس کتاب میں کیا بات غلط ہے؟ تم نے یہ کتاب پڑھی ہے؟ میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا،اس کتاب کا لیکھک تانترک ہے، اس نے اس کے شبدوں میں جادو کررکھا ہے، وہ دلوں کو باندھ دیتے ہیں،وہ پھر پہلے کی طرح رونے لگے، سنیل بھیا،اس کتاب کا لیکھک ایک تانترک نہیں،ایک سچا انسان اور محبت کا فرشتہ ہے، اس نے اس کتاب میں محبت کی مٹھاس گھول رکھی ہے، اور اس کتاب میں سچ ہے ،سچی ہمدردی ہے،وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کی آتما سچی ہوتی ہے، وہ اپنے مالک کی طرف سے سچی بات پر قربان ہوتی ہے، میرے دوست تمھیں وہ کتاب ضرور پڑھنی پڑے گی۔میں نے کہاکہ سب کہتے ہیں جو اس کتاب کو پڑھتاہے وہ مسلمان ہوجاتاہے،مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے سچ مچ مسلمان ہونا پڑے گا۔ یہ کہنا تھاکہ وہ مجھے چمٹ گئے، اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے، میرے بھائی سنیل ، تم نے سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھا، جھوٹے دل سے پڑھا کلمہ کسی کام کا نہیں،میرے بھائی تمھیں یہ کتاب پڑھنی پڑے گی، میں ہر گز ہرگز تمھیں نرک میں نہیں جانے دوں گا، میرے بھیا میں مرجاؤں گا،مجھے ڈر لگا کہ یہ واقعی روروکے مرجائے گا، میں نے اس کو پانی پلانا چاہا، وہ پانی پینے کو تیار نہ ہوئے، میں نے کہا میرے باپ میں اس کتاب کو دس دفعہ پڑھوں گا تم چپ ہوجاؤ، اچھا یہ پانی پی لو، میں تمھارے سامنے ابھی پڑھتا ہوں اس نے اس شرط پر پانی پیا، ابھی اس کتاب کو پوری میرے سامنے پڑھوگے، میں نے ان کے سامنے کتاب پڑھنا شروع کی، اور خیال تھا کہ تھوڑی دیر میں یہ چپ ہوجائے گا تو یہ کتاب بند کردوں گا، مگر جیسے ہی دو شبد (مقدمہ کتاب)پڑھا،کتاب کے مصنف سے میری دوری کم ہوگئی ،اور پھر میں کتاب پڑھتا گیا،  آدھے گھنٹے میں اس کتاب کا پیش لفظ ہی   میرے اوپر جادو کرچکا تھا، میں نے اپنے دوست سے ایک بار سچے دل سے کلمہ شہاد ت پڑھانے کی خود رکویسٹ (درخواست)کی، انھوں نے مجھے کلمہ پڑھایا ،میں نے گلے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا،اوراپنا نام ان کے مشورہ سے شکیل احمد رکھا۔

س:اس کے بعد آپ نے اپنے اسلام کااعلان کیا؟
ج :رات کو میں نے اپنی بیوی سے بتانے کا ارادہ کیا،بازار سے اس کے لئے جوڑا لیا،اور ایک چاندی کی انگوٹھی خریدی، ایک مٹھائی کا ڈبہ , یہ میری شادی کا دن تھا، اور یہ دن میری بیوی کا برتھ ڈے بھی تھا، رات کومیں نے اس کو مبارک باد دی اور حد درجہ محبت کا اظہار کیا جو میرے معمول کے بالکل خلاف تھا، وہ حیرت سے معلوم کرنے لگی کہ یہ کیا بات ہے، میں نے کہا کہ ایک آدمی سنیل جو تمھارے ساتھ بھارتیہ سماج کے مطابق پاؤں کی جو تی سمجھ کر ویوہار(سلوک)کرتا تھا،آج اس نے نیا جنم لیا ہے،اس پر اس کے مالک نے مہر کردی ہے، اسے دھارمک بنادیاہے،ایک پریم کا دیوتا میرے پاس آکر میرے جیون کے اندھکار کو پرکاشت (اندھیرے کو منور)کرگیا ہے،میں تم سے آج تک کے سارے اتیاچار(ظلم)کے لئے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتا ہوں،اور آئندہ کے لئے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم میری جیون ساتھی،میرے سر کا تاج ہو، وہ بولی میں سمجھ نہیں سکی،میں نے کہا اس کو سمجھنے کے لئے اگر تمھارے پاس وقت ہے تو آدھا گھنٹہ چاہئے، مگر جب تم خوشی سے تیار ہو ،میں تم پر زبردستی بہت کر چکا، اب مجھے نیائے دوس(آخرت)میں حساب دینے کاڈر ہوگیا ہے، تمھارے پاس جب خوشی سے وقت ہو میں ایک پاٹھ تمھیں سنانا چاہتا ہوں، وہ بولی،ایسی ادبھت (حیرت ناک) تبدیلی کے لئے میں سننے کو تیار ہوں، وہ کون سا پاٹھ ہے جس نے آپ کو ایسا بدل کر رکھ دیا، میں نے جیب سے آپ کی امانت نکالی اور پڑھنا شروع کی، وہ بڑے غور سے سنتی رہی،میں نے کتاب ختم کی تو وہ بولی یہ کتاب میں خود بھی پڑھ سکتی ہوں کیا؟ میں نے کہا میرا دل چاہتا ہے میں خود ہی سناؤں،اصل میں میرے دل میں یہ بات آگئی کہ 17 سال میں نے تمھاے ساتھ اتنی سختی اور ظلم کیا، ایک ایسا احسان کردوں جو 17 سال کا انیائے (نا انصافی) دھل جائے، کہ ہمیشہ کے عذاب سے تم بچ جاؤ، وہ بولی اچھا اب ایک بار اس کو ذرا سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں،میں نے کہا ضرور پڑھو، وہ کتاب اس نے لی،پوری کتاب ایک بیٹھک میں پڑھی، پھر میرے پاس آئی اور بولی اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سناتن دھرم اور سچا مذہب صرف اسلام ہے، میں نے کہا مالک نے تمھیں بالکل سچ سمجھایا ،میری اچانک تبدیلی سے وہ بہت متأثر  17 سال سے پہلی بار میں نے ا س کو گلے لگایا تھا، اس کو پیار کیا تھا محبت سے کچھ خرید کر اس کو پیش کیا تھا اس کے جنم دن اور شادی کے دن پر مبارک باد دی تھی، اب ا س کے لئے میری بات ماننا بالکل سوبھاوک (فطری)تھا،میں نے اس کو کلمہ پڑھنے کے لئے کہا وہ فوراً تیار ہو گئی ، میں نے آپ کی امانت میں دیکھ کر اس کو کلمہ پڑھوایا، اس کا نام آمنہ خاتون رکھا، اپنے دونوں بچوں کو بھی کلمہ پڑھوایا ،ان کا نام فاطمہ اور حسن رکھا۔


س:ا س کے بعد آ پ نے عام اعلان کیا؟
ج:ابھی تک عام اعلان نہیں کیا، البتہ میں چار پانچ روز کے بعد تمھارے یہاں ایک مولانا صاحب جن کے بارے میں مجھے معلوم ہوا تھا، آپ کی امانت بانٹتے ہیں،ان کو میں نے ایک دن کھری کھری گالیاں سنائی تھیں، ان کے پاس گیااور ان سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا،اور ان سے اپنی ختنہ کے سلسلہ میں مشورہ کیا، مگر ان کو یقین نہیں آیا، اور ذرا ٹالتے رہے، میں ان کے ڈر کو سمجھ گیا،اور میں مرادآباد ایک مسلمان ڈاکٹر کے پاس گیا، اور جاکر ختنہ کرائی، اس کے بعد میں نے تین بار
صرف تین تین دن گجرولہ جماعت میں لگائے۔

س:گجرولہ کے ساتھیوں کو معلوم تھاکہ آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟
ج:میں نے بتایا کہ اصل میں میں پیدائشی مسلمان تھا بعد میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے چکر میں ہندو بن گیا تھا اور یہ بات سچی تھی، ہر پیدا ہونے والا اسلام پر پیدا ہو تا ہے، اب میرا ارادہ پہلے چار ماہ جماعت میں لگانے کا ہے، اس کے بعد کھل کر اعلان کروں گا، اور انشاء اللہ دین سیکھ لوں گا تو دوسروں کو دعوت دینا آسان ہوگا۔

س:ماشاء اللہ ،اللہ تعالی ٰ مبارک فرمائے،واقعی آپ کا ایمان اللہ کی خاص ہدایت کی کار فرمائی ہے، اچھا آپ قارئین ارمغان کو کچھ پیغام دیں گے؟
ج:دو روز پہلے بدایوں میں حضرت تقریر فرمارہے تھے،کہ تمام مسلمانوں کو اللہ نے داعی بنایا ہے، داعی کی حیثیت طبیب کی اور جس کو دعوت دی جائے اس کی حیثیت مریض کی اور بیمار کی ہے اگر حکیم اور ڈاکٹر مریض کے علاج میں کوتاہی کریں اور مریض مرنے لگیں تو مریض کا غصہ ہونا بالکل نیچرل (فطری)ہے، مگر ڈاکٹر اور حکیم کو اپنے مریض سے نگاہ نہیں پھیرنی چاہئے، دعوت اصل میں محبت بھرا عمل ہے،یہ ڈبیٹ اور مناظرہ نہیں،کہ ہار جیت کی بات بنالے،یہ تو نبوی درد کے ساتھ اپنے مدعو کے خطرہ کو سمجھ کر کڑھنے اور تڑپنے کا عمل ہے، اگر سچے درد اور تڑپ کے ساتھ کوئی رونے والا ہو، مجھ جیسے جلالی اور غصہ ور، قتل اور گالیوں پر آمادہ درندہ کو جس کو کبھی اپنی بیوی بچوں پر پیار نہ آیا ہو،اس کو پگھلاکر اللہ کا بندہ اور غلام بنایا جا سکتا ہے، ایمان قبول کرنے کے بعدجیسے سنیل جوشی غصیارہ درندہ مرگیا اور محمد شکیل ایک کومل دل والے انسان نے جنم لے لیا، میرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ اصل میں درد اور خیر خواہی کی ضرورت ہے۔

س:واقعی بہت گہری بات آپ نے کہی ؟بہت بہت شکریہ جزاک اللہ آپ خوب سمجھے، السلام علیکم
ج: میں نہیں سمجھا،ایک رونے والے نے سمجھا دیا، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ وعلیکم السلام




مسعود احمد صاحب سے ایک ملاقات interview april 2011

س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

س: آپ کے ساتھ دو ساتھی بھی آئے ہیں، اِن کا تعارف کرائیے؟ ج: یہ دونوں میرے دفتر کے ساتھی ہیں،ہمارے ساتھ گڑگاؤں میں امریکی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں،ان میں سے یہ پہلے صاحب ،ان کا نام سنجے کوشک تھا،ان کا نیا نام سعید احمد ہے،اور یہ دوسرے انوپم گلاٹھی تھے،اب محمد نعیم ان کانام ہے، دونوں سافٹ ویر انجینئر ہیں دونوں نے IIT روڑکی سے بی ٹیک کیا ہے ،ہم لوگ روڑکی میں ساتھ پڑھتے تھے،تینوں دوست ہیں، اب انشاء اللہ جنت میں ساتھ جانے کی تمنا ہے،جو بظاہر اللہ نے چاہا تو پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ دونوں جماعت میں وقت لگاکر آرہے ہیں،ان کاچلہ عادل آباد میں لگا،وہاں پر انھوں نے حضرت کااور بھی تعارف سنا توبہت بے چین تھے کہ حضرت سے ملاقات ہوجائے،میری بھی خواہش تھی کہ ملاقات ہوجائے،وہ لوگ بیعت ہونے کے لئے آئے تھے ، اب چونکہ حضرت بالکل دعوت پر بیعت لینے لگے ہیں،اس لئے نئے ارادہ سے جا رہے ہیں۔


س:ان کو دعوت دینے میں آپ کوکوئی مشکل تو نہیں آئی ؟ ج:مشکل تو نہیں کہہ سکتے ،البتہ دوسال لگاتار دعائیں کرنی پڑیں ، اصل میں ان کوجب بھی اسلام کے بارے میں بتاتا،یا کوئی کتاب پڑھنے کو کہتا تو یہ میرا مذاق اڑاتے،یہ کہتے کہ ہمارے لئے کون سی کشمیری لڑکی تم نے تلاش کررکھی ہے جس کے لئے ہم مسلمان ہوں،میری بدقسمتی یا خوش قسمتی ہے جیسا کہ شاید آپ کو حضرت نے بتایا ہوگاکہ میرے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ جموں کی ایک لڑکی سے تعلقات اور شادی ہوئی،یہ ذریعہ ظاہر ہے کسی دوسرے کے لئے اسلام میں دل چسپی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا،تو میں جب بھی ان دوستوں کولے کر بیٹھتا یہ میرا مذاق بناتے،ان کو نان ویج(گوشت)کھانے کا بہت شوق ہے ،دعوت کے بہانے میں ان کو کریم ہوٹل جمعرات کو لے جاتا، اور مرکز لے جاکر تقریر سنواتا ،یہ میرا مذاق بناتے،مرکز کا بھی مذاق اڑاتے،ایک بار انھوں نے حضرت مولانا سعد صاحب کی بہت مذاق بنائی اور تین چار روز ان کی نقل اتارتے رہے،ایک ایک جملہ کو دو دوتین تین بار کہتے،مجھے دیکھتے ہی کہنے لگتے آؤ مولانا صاحب کی تقریر سنو،مجھے بہت تکلیف ہوتی،میں نے ان سے بولنا چھوڑدیا، ان دنوں میں نے بہت دعائیں کیں،اپنے اللہ کے سامنے بہت فریاد کی، میرے اللہ کو مجھ پر ترس آگیا، ایک ہفتہ سے زیادہ بول چال بند رہی ،پھر یہ دونوں میری خوشامد کرنے لگے جب ایک روز بہت خوشامدکی اور مجھ سے بہت معافی مانگی تو میں نے کہا میں تم سے اس شرط پر بولوں گاجب تم دونوں تین بار’’ آپ کی امانت‘‘ اور’’ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟‘‘پڑھنے کا وعدہ کرو،وہ تیار ہوگئے،اصل یہ ہے احمد صاحب، اللہ کے یہاں سے فیصلہ ہو گیا تھا،میرے اللہ کو مجھ گندہ پر ترس آگیااور فیصلہ ہوگیا،بس انھوں نے تین تین بار’ آپ کی امانت‘ اور’ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘پڑھی اور خود ہی اسلام قبول کرنے کو کہنے لگے،میں دار ارقم آیا،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہیں ملا،مسجد میں ہم لوگوں نے دوپہر سے شام تک انتظار بھی کیا،پھر میں ان کو لے کر اگلے روز اتوار تھا جامع مسجددہلی چلاگیا،وہاں مولانا جمال الدین صاحب تفسیر بیان کرتے ہیں، انھوں نے ان کو کلمہ پڑھوایا،کڑکر ڈوبا کورٹ میں میرے ایک دوست وکیل ہیں، انھوں نے ان کے کاغذات بنوائے،دوسرے ہفتے انھوں نے چھٹی لی اور جماعت میں وقت لگایا،مجھے ایسا لگتا ہے اور میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے اس کا اندازہ اب ہوا کہ مجھے اپنے ان دوستو ں سے کتنی محبت ہے ، مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے اپنے اسلام قبول کرنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی ان دونوں دوستوں کے اسلام لانے کی خوشی ہوئی،کئی باردفترسے رخصت ہوتے تو اتنی بے چینی ہوجا تی تھی کہ اگر میرا راستہ میں اکسیڈنٹ ہوگیایا ان میں سے کوئی آج ہی مرگیا تو کیا ہوگا،اورمیں رات بھر نہیں سوپاتا، دیر ہوجاتی تو اٹھتا، وضو کرتا،نماز پڑھ کر گھنٹوں گھنٹوں روتا رہتا،اخبار پڑھتا جگہ جگہ حادثے، اکسیڈنٹ، موت کی خبریں اور بھی بے چین کردیتیں، میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے یہ خوشی دکھائی اورانھیں جماعت بہت اچھی ملی ماشاء اللہ دونوں پابندی سے تہجد پڑھ رہے ہیں اور اب دعوت کا بہت جذبہ ان میں پیدا ہوگیا ہے۔


س: آپ تینوں گڑگاؤں میں ملازمت پر ساتھ لگے تھے؟ ج:نہیں! پہلے سنجے کوشک کی نوکری لگی،پھر ان کی کوشش سے ہم دونوں بھی اسی کمپنی میں ملازم ہوگئے،رہنا سہنا بھی ساتھ ہی ساتھ رہا ہے۔


س:آپ کی توشادی ہو گئی ہے،آپ اب بھی ساتھ ہی رہ رہے ہیں؟ ج:ہم تینوں جس فلیٹ میں رہ رہے تھے،میری شادی کے بعد ان دونوں نے میرے برابر میں ایک دوسرا فلیٹ لے لیا ہے، پرانا فلیٹ ذرا اچھا تھا ،وہ انھوں نے میرے لئے چھوڑدیا ہے۔


س: ابیّ بتارہے تھے کہ آپ کے سسرال والے سب بدعتی تھے، اللہ نے آپ کے ذریعہ ان کی اصلاح کی ہے، ذرااس کی تفصیل بتائیے؟ ج:اصل میں،میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک کشمیری جموں کی رہنے والی لڑکی آصفہ بٹ بھی کام کرتی تھی، اس سے میرے تعلقات ہوگئے،بات جب بڑھی تو شادی کے لئے آصفہ نے منع کردیاکہ تم ہندو ہومیں تم سے شادی نہیں کرسکتی، میرے لئے اس لڑکی کو چھوڑنا مشکل تھا،میں بہت غور کرتا رہا، میرے خاندان کاحال بھی ایسا نہیں تھا کہ میں لڑکی کے لئے مسلمان ہوتا،میں چھٹی لے کر بنارس اپنے گھر گیا کہ دیکھوں گھر والوں کی رائے کیا ہے؟ مگر وہ بنارس کے برہمن ان کے لئے تو نام لینا بھی جرم تھا،دو مہینے میں بنارس میں رہا، میرے دل میں وہ لڑکی جگہ کرچکی تھی کہ اس کے بغیر دو مہینے میرے لئے دو سوسال لگے،میں گڑگاؤں آیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ گھر والوں کی مرضی کے بغیر مجھے اس سے شادی کرنی ہے،اور ایک روز میں نے آصفہ سے مسلمان ہوکر شادی کرنے کے لئے کہہ دیا،اس نے اپنے والد سے ملنے کے لئے کہا،اس کے والد لاجپت نگر میں شالوں کا کاروبار کرتے ہیں،میں ان سے ملا،انھوں نے کہا،تم مسلمان ہوجاؤ،ایک دو مہینے ہم دیکھیں گے،اطمینان ہو جائے گا تو شادی کر دیں گے،ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی کے ساتھ ایک لڑکے نے مسلمان ہوکر شادی کی تھی، مگر دو سال بعد وہ پھر ہندو ہوگیا، میں نے کہا میںآپ کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔
وہ بولے اجمیر شریف چلیں گے تم وہاں چل کر مسلمان ہوجانا،میں ان سے تقاضاکرتارہتاتھامگر ان کو مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملتا تھا،دو مہینہ کے بعد ایک اتوار کو ہم شتابدی سے اجمیرگئے، وہا ں جاکر ایک سجادہ صاحب سے ملے،موٹی موٹی مونچھیں،کالی مخمل کی ٹوپی،کلین شیوپاجامہ زمین میں جھاڑو دیتا ہوا، ایک صاحب اپنی دوکان کے کاؤنٹر پر براجمان تھے،نہ جانے کیا نام تھا چشتی قادری صاحب ،ہمارے سسر جن کا نام منظور بٹ ہے،ان کے پاس گئے، ان کی خدمت میں مٹھائی پیش کی،کچھ نقدنذرانہ بھی دیا اور آنے کی غرض بھی بتائی،انھوں نے پانچ ہزار روپئے خرچ بتایا،پھول اور چادرالگ سے خریدنے کے لئے کہا، مجھے میرے سر پر پھولوں کی ٹوکری اور چادر رکھ کر اندر لے کر گئے، مزار کی دیوار سے لگا کر کچھ منھ منھ میں کہا،اور یہ بھی کہا : یا خواجہ آپ کا یہ غلام ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کررہا ہے،اس کو قبول فرمالیجئے اور اس کے اندر کا کفر نکال دیجئے، چادراور پھول چڑھائے اور مجھے پاؤں کی طرف سجدے میں پڑنے کے لئے کہا، میں سجدہ میں پڑگیا اور میرے ساتھ میرے سسر منظور صاحب بھی، قادری صاحب نے باہر نکل کر مبارک باد دی کہ خواجہ صاحب نے آپ کااسلام قبول کرلیا،میں نے ان سے کہا کہ خواجہ صاحب نے اسلام قبول کرلیا،تو اب مجھے اسلام کے لئے کیا کرنا ہے؟بولے بیٹا تمھارا اسلام خواجہ نے قبول کرلیا،تم واقعی سچے دل سے اسلام میں آئے تھے،وہاں تو دل دیکھ کر قبولیت ہو تی ہے،میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں نے سچے دل سے کہاں اسلام کا ارادہ کیا ہے ؟


س:کیا آپ نے اس وقت اسلام قبول کرنے کا دل سے ارادہ نہیں کیا تھا؟ ج: نہیں مولانا احمد صاحب ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے صرف ان لوگوں کے اطمینان اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا تھا،اور میرے دل میں یہ بات تھی کہ باپ دادوں کا دھرم کوئی چھوڑنے کی چیز ہو تی ہے کیا؟


س:آپ اجمیر کچھ روز رہے یا واپس چلے آئے؟ ج:اسی رات کو بس سے دہلی آگئے،میں نے آصفہ سے شادی کا مطالبہ کیا تو اس نے بتایا کہ ہمارے والد صاحب ابھی مطمئن نہیں ہیں، ابھی دیکھ رہے ہیں۔


س: آپ نے کچھ نماز وغیرہ پڑھنی شروع کردی تھی؟ ج :تین چاربارجمعہ کی نماز ان کو دکھانے اوراطمینا ن کرانے کے لئے پڑھی،اصل میں نماز تو آصفہ کے گھر والے بھی نہیں پڑھتے تھے،اس کے تین بھائی اور ایک بہن،ماں باپ میں سے کوئی بھی نماز نہیں پڑھتاتھا،بس اجمیرشریف سال میں دوبار جاتے اور نظام الدین اندر درگاہ میں ایک مہینے میں دوبار جاتے تھے ،اور جموں میں کچھ درگاہیں تھیں وہاں بھی جا تے،اسی کو اسلام سمجھتے تھے، ان کے ایک پیر تھے خاندانی،جو سال میں ایک دوبار ان سے نذرانہ لیتے تھے اورکہتے تھے کہ میں تم سب کی طرف سے نماز بھی پڑھ لیتا ہوں اور روزہ بھی رکھ لیتا ہوں۔


س:پھرشادی کس طرح ہوئی؟ ج :شادی ابھی کہاں ہوئی،اصل میں ان کے دوست کی لڑکی کے ساتھ حادثہ ہوا تھا کہ اس لڑکی سے جس لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کی تھی،وہ شادی کے بعد اس لڑکی کو ہولی دیوالی منانے کو کہتا تھا،اور نہ ماننے پر مارتا تھا،بات بن نہ سکی ، وہ ہندو تو تھا ہی،پھراسے چھوڑ کر اپنے خاندان میں چلا گیا،اس لئے آصفہ کے والد ڈرتے تھے،وہ لوگوں سے مشورہ کرتے،لوگ ان کو شادی نہ کرنے کی رائے دیتے،مگر وہ میرے تعلقات کے حد سے زیادہ بڑھنے کے بارے میں جانتے تھے،ان کے کسی ساتھی نے انھیں کشمیر میں مفتی نذیر احمدسے مشورہ کرنے کے لئے کہا، مفتی نذیر احمد صاحب کشمیر کے بڑے مفتی ہیں،بانڈی پورہ کوئی بڑا مدرسہ ہے وہاں مفتی اعظم ہیں،انھوں نے کسی سے ان کا فون نمبر لیا اور ان سے مشورہ کیا،اور بتایا کہ اجمیر شریف جاکر ہم اس لڑکے کو مسلمان کروالائے ہیں،اور خواجہ نے اسلام قبول کرلیا ہے،مفتی صاحب نے کہاخواجہ نے تو کب کا اسلام قبول کیا ہو ا ہے،وہ لڑکا اگراسلام قبول نہ کرے تو لڑکی کا نکاح ہی نہیں ہوگا،مفتی صاحب نے انھیں دار ارقم کا پتہ دیا اور حضرت مولانا کلیم صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا،منظور صاحب کئی بار دار ارقم اور خلیل اللہ مسجد آئے مگر ملاقات نہ ہوسکی،اتفاق سے دار ارقم میں کوئی نہ ملا،بٹلہ ہاؤس مسجد میں کوئی عبد الرشید نو مسلم ہیں،ان سے منظور صاحب کی ملاقات ہوگئی،ان سے بات ہوئی،عبد الرشید صاحب نے بتایا کہ حضرت تو ایک ہفتہ کے بعد سفر سے آئیں گے،مولانا اویس اور مولانا اسامہ نانوتوی بھی نانوتہ گئے ہیں،آپ ایسا کریں ان سے مجھے ملا دیں، اگلے روز اتوار تھا،لاجپت نگر عبد الرشید دوستم نے آنے کا وعدہ کیا، میری ان سے ملاقات ہوئی،انھوں نے اسلام کے بارے میں سمجھایا اورکلمہ پڑھوایا اور مجھے اور میرے سسر منظور بٹ صاحب دونوں کو زور دے کر کہاکہ جماعت میں وقت لگوادیں،میرے کاغذات سرفراز صاحب ایڈوکیٹ سے بنوائے،اور مجھے مرکز جاکر ڈاکٹر نادر علی خاں سے مل کر جماعت میں جانے کو کہا،میرے سسر کو بہت سمجھایا اگر آپ اپنی بچی کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتے ہیں کہ یہ شادی کے بعددوبارہ ہندو نہ ہوں تو کم از کم چالیس روز ورنہ اچھا تو یہ ہے کہ چار مہینے جماعت میں لگوادیں،وہ بولے کہ یہ وہابی ہو جائے گاتو نہ ہندو رہے گا نہ مسلمان،عبد الرشید صاحب نے سمجھایا کہ جماعت والے کسی کا مسلک نہیں بدلواتے، جوحنفی ہیں وہ حنفی رہتے ہیں ،جو شافعی ہیں وہ شافعی رہتے ہیں،اور اہل حدیث اہل حدیث رہتے ہیں،وہاں صرف فضائل بیان کئے جاتے ہیں،مسائل اپنے مسلک کے مطابق لوگ اپنے عالموں سے پوچھتے ہیں،بات ان کی سمجھ میں آگئی اور انھوں نے مجھے جماعت میں جانے کے لئے کہا،چالیس روز میرے لئے بڑی مشکل بات تھی مگر وہ اڑ گئے،بولے جب تک تم جماعت میں چلہ نہیں لگاؤگے شادی نہیں ہوگی،میں نے چھٹی لی اور مرکز اپنے سسر کے ساتھ گیا،ڈاکٹر نادر علی خاں صاحب کے کمرہ میں اوپر جاکر ان سے ملے،انھوں نے مشورہ دیا پہلے آپ مولانا کلیم صاحب سے ملیں،ہم نے بتایا بہت کوشش کے باوجود وہ نہیں مل سکے،عبد الرشید دوستم صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے جماعت میں جانے کا مشورہ دیاہے،علی گڑھ کے ایک پرانے استاذجماعت لے کر حیدرآبادجارہے تھے،ان کے ساتھ جماعت میں جڑوادیا،اور مجھے مشورہ دیا کہ تین چلے پورے کرکے آنا، جماعت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی،بہت اچھا وقت گذرا اور الحمد للہ اسلام میری سمجھ میں آگیا،امیر صاحب نے مشورہ دیا اور مجھے خود بھی تقاضا ہوا کہ جماعت چار مہینے کی ہے،تو میں بھی چار مہینے لگاؤں،جماعت میں ایک مولانا صاحب بھی تھے جو سال لگا رہے تھے،کئی بارنئے ساتھیوں کے ساتھ جماعت بٹ جاتی اورپھر ایک ساتھ آجاتی،
  15 اگست کو میرے چار ماہ پورے ہوئے۔ 16 اگست کو ہم دہلی مرکز پہنچے،ڈاکٹر نادر علی خاں سے ملاقات ہوئی،انھوں نے مجھے حضرت مولانا کلیم صاحب سے جڑے رہنے کی تاکید کی،بات شادی کی ہوئی تو مجھے ہچکچاہٹ تھی،کہ اگر ایسے بدعتی خاندان میں میری شادی ہوگئی توبچے اپنی ماں کے ساتھ بدعتی ہوں گے،اور نسلیں صحیح عقیدہ سے محروم رہیں گی،میں شادی کو ٹالتارہا، ایک روز آصفہ اور اس کے والد نے مجھ سے معلوم کیا کہ شادی کرناہے کہ نہیں؟ میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ جماعت میں جانے سے پہلے تو آپ لوگوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مسلمان ہوں کہ نہیں،مگر اب معاملہ الٹا ہے، اجمیر میں لے جاکر جس طرح آپ نے مجھ سے شرک کرایا، قرآن و حدیث کے لحاظ سے تو مندر میں بت کو پوجنا اور اجمیر جاکر خواجہ خواجگان کی درگاہ پر سرجھکانا برابردرجہ کا شرک ہے،اللہ کے رسول  نے فرمایاہے:جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا،اللہ کے نبی  نے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ سے فرمایا تھا کہ قبر میں تیرے اعمال کام آئیں گے،یہاں آپ کے پیر صاحب آپ کی نماز اور روزے ادا کرتے ہیں،اور بے وقوف بناتے ہیں۔اب اللہ کا شکر ہے میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام عقل والوں کا مذہب ہے،یہ رسم کانام نہیں،اگر آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہے تو آپ کو پورے خاندان والوں کے ساتھ مسلمان ہونا پڑے گا،جب تک آپ لوگ مسلمان نہیں ہوں گے میں شادی نہیں کروں گا،میں نے کہا : آپ کواور آپ کے تینوں بیٹوں کو چالیس روز لگانے پڑیں گے، میں نے کہا کہ جماعت والے مسلک نہیں بدلتے، میں نے خوشامد بھی کی، کئی ساتھیوں کو ان لوگوں سے ملوایا،الحمد للہ بڑی کوشش کے بعد وہ تیار ہوئے،پہلے میرے سسر نے وقت نکالا ، چھوٹے بیٹے شبیر بٹ کو ساتھ لے کر گئے،اس کے بعد بڑے بھائیوں نے وقت لگایا،اس دوران اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آصفہ کو کافی کتابوں کا مطالعہ کرایا،میں نے چار مہینہ میں قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا تھا،اردو اچھی پڑھنے لگا تھا،اللہ کا شکر ہے آصفہ کا ذہن صاف ہوگیا،گڑگاؤں جامع مسجد کے امام صاحب کے ساتھ، میں آصفہ کو لے کر خلیل اللہ مسجد آیا،اور ہم دونوں امام صاحب کے مشورہ سے حضرت سے بیعت ہوگئے ،جب حضرت حج کو گئے ہوئے تھے توہماری شادی کی تاریخ طے ہوگئی، حضرت نے فون پر زور دیا کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے کہ کسی خاص شخصیت سے نکاح پڑھوانے کا اہتمام کیا جائے اور نکاح میں تاخیر کی جائے، حضرت نے ملاقات پر بھی نکاح میں جلدی کرنے کا مشورہ دیا تھا،بلکہ یہ بھی فرمایاتھاکہ اچھا ہے آج ہی نکاح ہوجائے،دونوں کے ایک ساتھ رہنے،بات کرنے کا قانونی حق ہو جائے گا،ورنہ اس طرح بات کرنا بھی گناہ ہے،اگر چہ جماعت سے آکر میں اللہ کا شکر ہے کافی احتیاط کرنے لگا تھا۔الحمد للہ 17  نومبر کو ہمارا نکاح ہوا،پھرجب حضرت واپس آگئے توآصفہ کے سارے خاندان والے حضرت سے بیعت ہوگئے۔


س:آپ کے گھر والوں کا کیا ہوا؟ ج : ابھی میں نے صرف اپنے گھروالوں کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے،ابھی جلدی ہی حضرت نے بنارس کے ایک صاحب کو ہمارے والد صاحب کا فون نمبر دیا ہے،ہمارے والد صاحب ریلوے میں ایک اچھی پوسٹ پر ہیں،مغل سرائے میں ان کی پوسٹنگ ہے۔


س:اور بھی کچھ لوگوں پر آپ نے کام کیا ہے، اس کی کچھ تفصیل بتائیے؟ ج :ہماری کمپنی میں کام کرنے والے ایک ساتھی جوجے پور کے رہنے والے ہیں،ان کے والد دس سال پہلے بی جے پی کے ایم ایل اے رہے ہیں،الحمد للہ مسلمان ہو گئے ہیں، وہ جماعت میں گئے ہوئے ہیں۔


س:آپ کی اہلیہ آصفہ کا کیا حال ہے؟ ج :الحمد للہ میں نے مشورہ سے طے کیا ہے کہ وہ صرف دعوت کاکام کریں گی،انھوں نے ملازمت چھوڑ دی ہے ،برقع پہننے لگی ہیں،اسلام کا مطالعہ کررہی ہیں،اور قرآن و سیرت ،حضرت کے مشورہ سے پڑھنا شروع کیا ہے،ہم لوگ نیٹ پر دعوت کے لئے ایک آن لائن سائٹ کھول کر کام کا خاکہ بنا رہے ہیں،ان کی دوست دو لڑکیاں ان کی کوشش سے مسلمان ہو چکی ہیں۔


س:بہت بہت شکریہ ،مسعود بھائی، ارمغان کے قارئین کے لئے کوئی پیغام آپ دیں گے؟ ج: خاندانی مسلمانوں کو رسمی اسلام سے نکال کر قرآنی اسلام میں لانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں دعوتی شعور بیدار ہو، نیا خون پرانے بیمار خون کو تازہ اور صاف کرتا ہے،میں نے اپنا اسلام قبول کیا تھاتومجھے اپنی سسرال والوں کے اسلام کی کیسی فکر تھی بس میں ہی جانتاہوں۔


س:بے شک! بہت پتے کی بات آپ نے کہی ہے۔ السلام علیکم ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




Armughan, April 2011