sunil joshi to shakil - interview in urdu

احمد اوّاہ: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محمد شکیل : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 


س :شکیل احمد صاحب! ابی نے چند روز پہلے ہم لوگوں کو بتایا تھاکہ آ پ نے ہمارے ایک ذمہ دار ساتھی کے ساتھ بہت غصہ کا معاملہ کیاتھااورگالیاں وغیرہ دی تھیں ،اور اب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازدیا،آپ کے اس غصہ اور ناراضگی کا پس منظر کیا تھا،حالانکہ آپ کے خاندان کے مسلمانوں سے تعلقات بھی رہے ہیں ؟

ج:مولانااحمدصاحب ! اصل میں تو میرے مالک کو مجھ پر رحم آرہا تھا،پس اس نے ذریعہ بنادیا،ورنہ پچھلے دنوں مجھ پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو بھوت سوار تھا اس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔


 س:پھربھی ظاہری طو رپر اس غصہ کی وجہ کیا تھی؟
ج :اصل میں ہمارے یہاں شاہ آباد میں آندھرا کے چار بچے مسلمان ہوئے،چاروں بہن بھائی تھے،جس لڑکے کے ساتھ وہ آئے تھے اس نے ان کی بڑی بہن سے شادی کرلی تھی، ہمارے ضلع کی شیو سینا کے ذمہ داروں کو معلوم ہوگیاتو انھوں نے علاقہ میں بوال کھڑا کردیا، اس لڑکے کے خلاف بچوں کو بہکا کر مسلمان بنانے کا مقدمہ دائر کردیا، اور اس کو جیل بھیج دیا، عدالت میں ان بچوں نے صاف صاف کھل کر بیان دیا کہ ہم اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،لڑکی ابھی ١٨ سال کی نہیں ہوئی تھی، اصل میں اس کے والد جھانسی کے پاس کسی جگہ رہتے ہیں،شیو پوری کوئی ضلع ہے وہاں پر ان بچوں کی سگی ماں تو انتقال کرگئی، والد نے ایم پی میں ہی دوسری شادی کی، ماں کے رویہ سے پریشان ہوکر یہ بچے گھر سے بھاگ کرآگئے،اسٹیشن پر اس لڑکے کو یہ چاروں ملے،اس کو ترس آگیا،یہ ان کو شاہ آباد لے آیا ،گھروالوں نے مخالفت کی، مگر اس لڑکے نے اس لڑکی سے وعدہ کرلیا تھا اس لئے شادی کرلی، بعد میں عدالت اور پولیس نے ا ن بچوں کے والد سے رابطہ کیا تو ان کے والد نے یہ بیان دیا کہ یہ بچے میری مرضی سے مسلمان ہوئے ہیں،
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚5 Inspirational Muslim Revert Stories"islam enemies now friends"
5 اسلام دشمن جو دوست بن گئے  🌿

https://youtu.be/GboWBeiXiBg


اور میری مرضی سے میری بیٹی نے شادی کی ہے، اس پر ہمارے یہاں کے شیو سینا والوں نے شیو پوری کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا اور بچوں کے والد کے خلاف بیان دینے پر زور دیا اور ان کو طرح طرح کی دھمکیاں بھی دیں، مگر وہ کسی طرح خلاف بیان دینے پر راضی نہ ہوئے، اور کہتے رہے کہ اس دیوتا صفت نوجوان نے ان بچوں پر ترس کھا کر اپنے پورے پریوار کے خلاف ایسی ہمدردی کی اور اس کو نبھایا، ہم اس کے خلاف بیان دیں یہ کیساگھور اَنیائے (سراسر نا انصافی )ہوگی،کیا میں بالکل حیوان بن جاؤں۔جب وہاں کے شیو سینکوں نے بہت زیادہ دباؤ دیا توان بچوں کے باپ نے اور ان بچوں کے ساتھ ان کی سوتیلی ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی، اس پر پورے علاقہ کی ہندو تنظیموں نے اپنی ہار سمجھ کر ایک جٹ ہوکر چھان بین شروع کی تو معلوم ہوا کہ علاقہ میں بہت سے لوگ مسلمان ہوتے جارہے ہیں، اس پر کھود کریدہوئی تو پتہ چلا کہ سنبھل اور اس کے پاس کے کچھ قصبوں میں کچھ لوگ یہ کام کررہے ہیں، میرے ایک ساتھی بجرنگ دل کے ضلع سنچالک ہیں،انل کوشک ،وہ میرے پاس سنبھل آئے اور انھوں نے سنبھل میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے لوگوں کی میٹنگ کی، اور اس میں دھرمانترن(تبدیلی مذہب )کو روکنے کے سلسلہ میں لوگوں کو گرمایا، میں بچپن سے بہت جذباتی آدمی ہوں مجھے بہت غصہ آیا، اور میں نے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اراردہ کرلیا، میرے ایک اور ساتھی نے جو اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا وعدہ کرچکے تھے، انھوں نے مجھے بتایا کہ اصل میں ایک کتاب ہندی میں’’ آپ کی امانت ،آپ کی سیوا میں‘‘ مولاناکلیم صدیقی صاحب نے لکھی ہے، وہ ایسی جادو بھری بھاشا(زبان)میں لکھی گئی ہے کہ جو اسے پڑھتا ہے مسلمان ہوجاتا ہے، اور وہ دہلی سے چھپی ہے اس پر چھپوانے والے کا فون نمبر ہے، میں نے کہا وہ کتاب ذرا مجھے لا کر دو، میں دیکھوں اس میں کیا بات لکھی ہے،اس نے کہا نہیں اس کا پڑھنا ٹھیک نہیں ہے، اس کتاب کا لیکھک (مصنف)کوئی تانترک ہے، اس نے اس کی بھاشا(زبان)میں جادو کردیا ہے،اگر تم پڑھوگے تو مسلمان ہوجاؤگے، مجھے بھی ڈر لگا، میں نے کتاب پر چھپے موبائیل نمبروں پر بات کی، پہلے نمبر پر ایک صاحب کو فون ملا وہ بڑے نرم سوا بھاؤ کے تھے،میں انھیں ماں بہن کی بڑی گالیاں دیتا رہا، اور پوری دھمکیاں دیتارہا،مگر وہ ہنستے رہے اور بولے آپ کی گالیاں کتنی میٹھی ہیں ان سے محبت کی خوشبو آرہی ہے، رات کو دوسرے نمبر پر میں نے بات کی اور بہت سخت سست آخری درجہ کی ماں بہن کی سڑی سڑی گالیاں دیتارہا،اور قتل کی اور پورے پریوار کو برباد کرنے کی دھمکیاں دیں، تو وہ صاحب پہلے تو بہت غصہ ہوئے پھر بولے ،میں نے پورا فون ٹیپ کرلیا ہے، اب آپ کے خلاف تھانہ میں رپورٹ کرانے جا رہا ہوں، ایک دفعہ تومیں ڈرسا گیا،پھر ہمت کی اور کہا کہ قتل کے بعد اکٹھے ہی کیس کردینا، میں نے ان سے کہا کہ ذرا اپنی پتنی(اہلیہ)سے بات کرادے، میں تجھے قتل کروں گا، تو وہ وِدھوا( بیوہ) ہوجائے گی،میں اس سے پہلے ہی شما(معافی اور
معذرت)تو کرلوں،پھر تو موقع ملے گانہیں۔
aapki amanat  aapki sewa men in voice
 -
س :اچھا تو وہ آپ تھے، ابی تو بہت مزے لے کر یہ بات سناتے تھے، اور ان ساتھی کو سمجھایاتھاجب وہ بہت شکستہ دل ہوکر
 ان گالیوں کی شکایت کررہے تھے، ابی نے ان کو سمجھایا کہ تمھیں تو فخر کرنا چاہئے، کہ سید الاولین والآخرین نبی رحمت للعالمین کی سنت ادا کرنے کا شرف تمھیں ملا، دعوت کی راہ میں کسی خوش قسمت کو ہی گالیاں نصیب ہوتی ہیں، ابی ان سے کہنے لگے تم بتاؤ کوئی ایسا خوش قسمت آدمی جس کو دعوت کی راہ میں گالیاں ملی ہوں یہ پیارے آقا کی سنت ہے کہ جن کو دوزخ کی آگ سے نکالنے کے لئے آپ راتوں کو روتے اور دنوں کو خوشامد کرتے تھے، وہ لوگ گالیاں دیتے،پتھر برساتے، اور ہرطرح سے ستاتے تھے، پھر اس نے ان سے کہا کہ تم نے اس کی گالیوں پر تو غور کیا ،اس کی انسانیت اور رحم دلی اور اس کی محبت بھری فطرت کا احساس نہیں کیا کہ ابھی اس نے تمھیں قتل کیا بھی نہیں اور تمھاری اہلیہ سے معذرت اور تعزیت کرنے کو کہہ رہا ہے.... جی تو آگے سنائیے؟
ج:ان صاحب نے مجھ سے معلوم کیاکہ آپ یہ بتائیے کہ اس کتاب میں کون سی بات ایسی غلط ہے جس پر آپ کو اعتراض اور ایسا غصہ ہے، میں نے کہا ،میں نے تو وہ کتاب پڑھی نہیں، انھوں نے کہا پھر آپ کو غصہ کیوں ہے؟ میں نے کہا میرے کئی ساتھیوں نے کتاب پڑھنے سے منع کیا اور کہا جو بھی یہ کتاب پڑھتا ہے اس کتاب کی بھاشا(زبان)میں جادو کررکھا ہے، وہ مسلمان ہوجاتا ہے، اس ڈر کی وجہ سے میں نے کتاب نہیں پڑھی، انھوں نے کہا آپ کو کسی نے غلط کہا ہے؟ مجھ سے پوچھا آپ کچھ پڑھے لکھے ہیں؟ میں نے کہا میں ایم ایس سی ہوں، وہ بولے سائنس کے اسکالر ہو کر آپ کیسی اندھ وشواش کی بات کررہے ہیں، انسان کو مالک نے دیکھنے کے لئے عقل دی ہے، اور آپ اتنے پڑھے لکھے آدمی ہیں،انسان چاند تاروں پر جا رہا ہے، اور آپ جادو کی بات کر رہے ہیں، آپ ایسا کیجئے کہ آپ اس کتاب کو ضرور پڑھئے اور اس کے پڑھنے کے بعد جو بات آپ کو غلط لگے اپنے قلم سے کاٹ دیجئے، آئندہ آپ جس طرح کرکشن(اصلاح)کریں گے کتاب اسی طرح چھپے گی،انھوں نے کیا میں آپ کے پاس کتاب بھیج دوں؟ میں نے کہا اگر مجھے نہ ملی تو میں منگالوں گا، اور اگر مجھے اس کتاب میں کوئی بات
ہندو دھرم کے خلاف ملے گی تو میں تیرے پورے خاندان کو قتل کردوں گا۔ وہ بولے کوئی بات نہیں۔

Dawat-e-islam, Dekhiye kaise 80 musalman ho gaye..
س : ا س کے بعد آپ نے وہ کتاب پڑھی؟
ج : نہیں میں نے اس وقت وہ کتاب نہ تلاش کی نہ پڑھی، ساتھیوں سے بات ہوئی تومیری طبیعت میں بہت نرمی دیکھ کر وہ بہت برہم ہوئے، اور بولے کہ ایسے ہی تو لٹھ مار مار کر وہ دھرمانترن کررہے ہیں،دیکھا نہیں یہ عیسائی مشن والے بھی ایسا ہی کرتے ہیں،میں جگہ جگہ جاکر چوراہوں پر اس کتاب اوراس کے بانٹنے والوں کو گالیاں دیتا، سنبھل کے نواب خاندان کے ایک صاحب کو معلوم ہوا کہ سنبھل کے پاس ایک قصبہ میں ایک آدمی سنیل جوشی نام کا’’ آپ کی امانت‘‘ کے خلاف بہت غصہ ہے، وہ اس کے لیکھک(مصنف)کوبہت گالیاں بکتاہے،مولانا کلیم صاحب سے وہ مرید ہے، وہ تلاش کرتے کرتے میرے پاس پہنچے، مجھے دیکھا توچمٹ کر بہت رونے لگے، سنیل بھیا تم تو میرے ساتھ چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک پڑھے ہو،تمھارے ساتھ میں نے کبڈی بھی کھیلی ہے، میں نے بھی پہچان لیا،میں نے کہا کہ میرے پتاجی نے تو آپ کے ابا جان کی زمین بھی کاشت کی ہے، بولے ہاں ہاں وہ زمین تو والد صاحب نے بہت سستے داموں میں آپ کے پتاجی کو تعلقات کی وجہ سے فروخت کردی تھی،میں نے کہا ہاں تمھارے پتاجی تو ہماری شادی میں بہت بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے تھے، اور کئی دن تک کام کرایا تھا بلکہ ایک طرح سے شادی کی ذمہ داری نبھائی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے چمٹ گئے، بری بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور ان کا رو روکر برا حال ہوگیا، روتے رہے اور کہتے رہے میرے لاڈلے دوست، ایمان کے بغیر تم مر گئے تو دوزخ میں جلو گے، میں ایسے اچھے دوست کو کیسے دوزخ میں جاتا دیکھوں گا،میرے بھائی سنیل میں نے اس بار حج میں بار بار تمھاری ہدایت کے لئے دعا کی ہے، میرے بھائی ایمان کے بغیر بڑا خطرہ ہے اور بہت خطرناک آگ ہے، میرے بھائی سنیل نرک کی آگ سے بچ جاؤ، جلدی سے کلمہ پڑھ لو، دیکھو میں دل کا مریض ہوں تڑپ تڑپ کر میرا ہارٹ فیل ہوجائے گا،میں ایسے اچھے دوست کو ہر گز کفر پر مرنے نہیں دوں گا، میرے بھائی کلمہ پڑھ لو،پھوٹ پھوٹ کر آواز سے روتے روتے ان کا برا حال ہو گیا، میں نے کہا میں کلمہ پڑھ لوں گا،تم چپ ہوجاؤ، میرے یار چائے تو پی لو، وہ بولے:میں کس دل سے چائے پی لوں جب میرا دلی پیارا دوست ،جس کا اتنا پیارا باپ ہو،جو میرے حقیقی بھائی کی طرح ہونے کے باوجود ایمان کے بغیر مرگیا،سنیل بھیا چچا بلرام جی پر نرک میں کیا کیا گذر رہی ہوگی، میرے ابا نے انھیں مرنے دیا مگر میں تمھیں ہرگز ا ب نرک میں نہیں جانے دوں گا، بار بارمیں ان کو پانی پلانے کی کوشش کرتا،مگر وہ کہتے تمھیں پانی کی پڑی ہے، میرا بھائی میرا دوست سنیل بغیر ایمان کے مرجائے گا۔میرے ہوش خراب ہوگئے، میں نے کہا: چپ ہوجاؤ،پانی پی لو،جو تم کہو گے،میں کرنے کو تیار ہوں،وہ بولے کلمہ پڑھ لو، میں نے کہا کہ تم پانی پی لو،میں کلمہ نہیں پورا قرآن پڑھ لوں گا، وہ بولے اگر پانی پیتے پیتے تم مرگئے تو نرک میں جاؤگے،میں نے کہا میرے بھائی، اچھا تم پڑھاؤکیا پڑھاتے ہو، میں نے ان کی حالت بری دیکھی تو اس کے علاوہ اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا، انھوں نے روتے روتے مجھے کلمہ پڑھایا،پھر ہندی میں اس کا انواد (ترجمہ)کرایا، میں نے ان کو پانی پلایا، 

 نے کہا :اچھا اب تم خوش ہو اب چائے پی لو،انھوں نے چائے پی،اور جیب میں سے’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا میں‘‘نکال کر دی،کہ سنیل بھیا اس کتاب کو اب تم دوبار بہت غور سے پڑھنا،’ آپ کی امانت‘میں نے دیکھی تو میرا موڈ خراب ہوگیا،اچھا یہ کتاب تو میں کسی طرح بھی نہیں پڑھوں گا،اس کتاب کے لیکھک(مصنف)کو میں نے قتل کرنے کا پرن(عہد)کیا ہے ، وہ چائے چھوڑ کر پھر مجھے چمٹ گئے اور رونے لگے، میں نے کہا تم کچھ ہی کرو،میں کتاب نہیں پڑھ سکتا، وہ بولے کیوں اس کتاب سے تمھیں ایسی چڑ ہے، میں نے کہا،کیا تم ہی لوگ یہ کتاب بانٹ رہے ہو، انھوں نے کہا کہ تمھارا یہ گیا گذرا بھائی ہی یہ محبت کی خوشبو بانٹ رہا ہے، میں نے کہا محبت کی نہیں نفرت کی، اس کتاب کے نام سے مجھے غصہ آتاہے،وہ بولے کہ بھائی سنیل، اس کتاب میں کیا بات غلط ہے؟ تم نے یہ کتاب پڑھی ہے؟ میں نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا،اس کتاب کا لیکھک تانترک ہے، اس نے اس کے شبدوں میں جادو کررکھا ہے، وہ دلوں کو باندھ دیتے ہیں،وہ پھر پہلے کی طرح رونے لگے، سنیل بھیا،اس کتاب کا لیکھک ایک تانترک نہیں،ایک سچا انسان اور محبت کا فرشتہ ہے، اس نے اس کتاب میں محبت کی مٹھاس گھول رکھی ہے، اور اس کتاب میں سچ ہے ،سچی ہمدردی ہے،وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان کی آتما سچی ہوتی ہے، وہ اپنے مالک کی طرف سے سچی بات پر قربان ہوتی ہے، میرے دوست تمھیں وہ کتاب ضرور پڑھنی پڑے گی۔میں نے کہاکہ سب کہتے ہیں جو اس کتاب کو پڑھتاہے وہ مسلمان ہوجاتاہے،مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر مجھے سچ مچ مسلمان ہونا پڑے گا۔ یہ کہنا تھاکہ وہ مجھے چمٹ گئے، اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے، میرے بھائی سنیل ، تم نے سچے دل سے کلمہ نہیں پڑھا، جھوٹے دل سے پڑھا کلمہ کسی کام کا نہیں،میرے بھائی تمھیں یہ کتاب پڑھنی پڑے گی، میں ہر گز ہرگز تمھیں نرک میں نہیں جانے دوں گا، میرے بھیا میں مرجاؤں گا،مجھے ڈر لگا کہ یہ واقعی روروکے مرجائے گا، میں نے اس کو پانی پلانا چاہا، وہ پانی پینے کو تیار نہ ہوئے، میں نے کہا میرے باپ میں اس کتاب کو دس دفعہ پڑھوں گا تم چپ ہوجاؤ، اچھا یہ پانی پی لو، میں تمھارے سامنے ابھی پڑھتا ہوں اس نے اس شرط پر پانی پیا، ابھی اس کتاب کو پوری میرے سامنے پڑھوگے، میں نے ان کے سامنے کتاب پڑھنا شروع کی، اور خیال تھا کہ تھوڑی دیر میں یہ چپ ہوجائے گا تو یہ کتاب بند کردوں گا، مگر جیسے ہی دو شبد (مقدمہ کتاب)پڑھا،کتاب کے مصنف سے میری دوری کم ہوگئی ،اور پھر میں کتاب پڑھتا گیا،  آدھے گھنٹے میں اس کتاب کا پیش لفظ ہی   میرے اوپر جادو کرچکا تھا، میں نے اپنے دوست سے ایک بار سچے دل سے کلمہ شہاد ت پڑھانے کی خود رکویسٹ (درخواست)کی، انھوں نے مجھے کلمہ پڑھایا ،میں نے گلے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا،اوراپنا نام ان کے مشورہ سے شکیل احمد رکھا۔

س:اس کے بعد آپ نے اپنے اسلام کااعلان کیا؟
ج :رات کو میں نے اپنی بیوی سے بتانے کا ارادہ کیا،بازار سے اس کے لئے جوڑا لیا،اور ایک چاندی کی انگوٹھی خریدی، ایک مٹھائی کا ڈبہ , یہ میری شادی کا دن تھا، اور یہ دن میری بیوی کا برتھ ڈے بھی تھا، رات کومیں نے اس کو مبارک باد دی اور حد درجہ محبت کا اظہار کیا جو میرے معمول کے بالکل خلاف تھا، وہ حیرت سے معلوم کرنے لگی کہ یہ کیا بات ہے، میں نے کہا کہ ایک آدمی سنیل جو تمھارے ساتھ بھارتیہ سماج کے مطابق پاؤں کی جو تی سمجھ کر ویوہار(سلوک)کرتا تھا،آج اس نے نیا جنم لیا ہے،اس پر اس کے مالک نے مہر کردی ہے، اسے دھارمک بنادیاہے،ایک پریم کا دیوتا میرے پاس آکر میرے جیون کے اندھکار کو پرکاشت (اندھیرے کو منور)کرگیا ہے،میں تم سے آج تک کے سارے اتیاچار(ظلم)کے لئے پاؤں پکڑ کر معافی مانگتا ہوں،اور آئندہ کے لئے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم میری جیون ساتھی،میرے سر کا تاج ہو، وہ بولی میں سمجھ نہیں سکی،میں نے کہا اس کو سمجھنے کے لئے اگر تمھارے پاس وقت ہے تو آدھا گھنٹہ چاہئے، مگر جب تم خوشی سے تیار ہو ،میں تم پر زبردستی بہت کر چکا، اب مجھے نیائے دوس(آخرت)میں حساب دینے کاڈر ہوگیا ہے، تمھارے پاس جب خوشی سے وقت ہو میں ایک پاٹھ تمھیں سنانا چاہتا ہوں، وہ بولی،ایسی ادبھت (حیرت ناک) تبدیلی کے لئے میں سننے کو تیار ہوں، وہ کون سا پاٹھ ہے جس نے آپ کو ایسا بدل کر رکھ دیا، میں نے جیب سے آپ کی امانت نکالی اور پڑھنا شروع کی، وہ بڑے غور سے سنتی رہی،میں نے کتاب ختم کی تو وہ بولی یہ کتاب میں خود بھی پڑھ سکتی ہوں کیا؟ میں نے کہا میرا دل چاہتا ہے میں خود ہی سناؤں،اصل میں میرے دل میں یہ بات آگئی کہ 17 سال میں نے تمھاے ساتھ اتنی سختی اور ظلم کیا، ایک ایسا احسان کردوں جو 17 سال کا انیائے (نا انصافی) دھل جائے، کہ ہمیشہ کے عذاب سے تم بچ جاؤ، وہ بولی اچھا اب ایک بار اس کو ذرا سمجھ کر پڑھنا چاہتی ہوں،میں نے کہا ضرور پڑھو، وہ کتاب اس نے لی،پوری کتاب ایک بیٹھک میں پڑھی، پھر میرے پاس آئی اور بولی اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سناتن دھرم اور سچا مذہب صرف اسلام ہے، میں نے کہا مالک نے تمھیں بالکل سچ سمجھایا ،میری اچانک تبدیلی سے وہ بہت متأثر  17 سال سے پہلی بار میں نے ا س کو گلے لگایا تھا، اس کو پیار کیا تھا محبت سے کچھ خرید کر اس کو پیش کیا تھا اس کے جنم دن اور شادی کے دن پر مبارک باد دی تھی، اب ا س کے لئے میری بات ماننا بالکل سوبھاوک (فطری)تھا،میں نے اس کو کلمہ پڑھنے کے لئے کہا وہ فوراً تیار ہو گئی ، میں نے آپ کی امانت میں دیکھ کر اس کو کلمہ پڑھوایا، اس کا نام آمنہ خاتون رکھا، اپنے دونوں بچوں کو بھی کلمہ پڑھوایا ،ان کا نام فاطمہ اور حسن رکھا۔


س:ا س کے بعد آ پ نے عام اعلان کیا؟

ج:ابھی تک عام اعلان نہیں کیا، البتہ میں چار پانچ روز کے بعد تمھارے یہاں ایک مولانا صاحب جن کے بارے میں مجھے معلوم ہوا تھا، آپ کی امانت بانٹتے ہیں،ان کو میں نے ایک دن کھری کھری گالیاں سنائی تھیں، ان کے پاس گیااور ان سے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں بتایا،اور ان سے اپنی ختنہ کے سلسلہ میں مشورہ کیا، مگر ان کو یقین نہیں آیا، اور ذرا ٹالتے رہے، میں ان کے ڈر کو سمجھ گیا،اور میں مرادآباد ایک مسلمان ڈاکٹر کے پاس گیا، اور جاکر ختنہ کرائی، اس کے بعد میں نے تین بار
صرف تین تین دن گجرولہ جماعت میں لگائے۔



س:گجرولہ کے ساتھیوں کو معلوم تھاکہ آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟

ج:میں نے بتایا کہ اصل میں میں پیدائشی مسلمان تھا بعد میں شیو سینا اور بجرنگ دل کے چکر میں ہندو بن گیا تھا اور یہ بات سچی تھی، ہر پیدا ہونے والا اسلام پر پیدا ہو تا ہے، اب میرا ارادہ پہلے چار ماہ جماعت میں لگانے کا ہے، اس کے بعد کھل کر اعلان کروں گا، اور انشاء اللہ دین سیکھ لوں گا تو دوسروں کو دعوت دینا آسان ہوگا۔



-

س:ماشاء اللہ ،اللہ تعالی ٰ مبارک فرمائے،واقعی آپ کا ایمان اللہ کی خاص ہدایت کی کار فرمائی ہے، اچھا آپ قارئین ارمغان کو کچھ پیغام دیں گے؟

ج:دو روز پہلے بدایوں میں حضرت تقریر فرمارہے تھے،کہ تمام مسلمانوں کو اللہ نے داعی بنایا ہے، داعی کی حیثیت طبیب کی اور جس کو دعوت دی جائے اس کی حیثیت مریض کی اور بیمار کی ہے اگر حکیم اور ڈاکٹر مریض کے علاج میں کوتاہی کریں اور مریض مرنے لگیں تو مریض کا غصہ ہونا بالکل نیچرل (فطری)ہے، مگر ڈاکٹر اور حکیم کو اپنے مریض سے نگاہ نہیں پھیرنی چاہئے، دعوت اصل میں محبت بھرا عمل ہے،یہ ڈبیٹ اور مناظرہ نہیں،کہ ہار جیت کی بات بنالے،یہ تو نبوی درد کے ساتھ اپنے مدعو کے خطرہ کو سمجھ کر کڑھنے اور تڑپنے کا عمل ہے، اگر سچے درد اور تڑپ کے ساتھ کوئی رونے والا ہو، مجھ جیسے جلالی اور غصہ ور، قتل اور گالیوں پر آمادہ درندہ کو جس کو کبھی اپنی بیوی بچوں پر پیار نہ آیا ہو،اس کو پگھلاکر اللہ کا بندہ اور غلام بنایا جا سکتا ہے، ایمان قبول کرنے کے بعدجیسے سنیل جوشی غصیارہ درندہ مرگیا اور محمد شکیل ایک کومل دل والے انسان نے جنم لے لیا، میرے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ اصل میں درد اور خیر خواہی کی ضرورت ہے۔



س:واقعی بہت گہری بات آپ نے کہی ؟بہت بہت شکریہ جزاک اللہ آپ خوب سمجھے، السلام علیکم

ج: میں نہیں سمجھا،ایک رونے والے نے سمجھا دیا، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ وعلیکم السلام
-


-



 -


-
-


-



-



-



-



-



-

























-


 -



pujari-to-sufi-urdu-armughan-monthly-again

پجاری سے بہت جلد صوفی بن جانے والے
کا مولانا کلیم صدیقی کے لڑکے احمد اوّاہ کو ماہنامہ ارمغان جولائی ٢٠١٩ کے لئے دیا گیا انٹرویو
Image result for damroo wala
احمد اوّاہ : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
صوفی صاحب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
احمد اوّاہ : آپ تو ابھی شاید دو مہینے پہلے آئے تھے، گیروے رنگ کے کپڑے اور ڈمرو ہاتھ میں تھا، تین چار لوگ آپ کے ساتھ تھے، اور آپ گھر پر تشریف لائے تھے، میں نے آپ کو کسی کے ساتھ خانقاہ میں بھیجا تھا۔
صوفی صاحب: جی جی! آپ نے بالکل صحیح پہچانا۔

शानदार इतिहास : एक रात में इस्लामिक राष्ट्र बन गया 🌿
احمد اوّاہ : ماشاء اللہ آپ نے بڑی جلدی چھلانگ لگائی، واقعی آپ پیدائشی صوفی لگ رہے ہیں۔
صوفی صاحب: مولانا احمد صاحب ہمیں تو یہ سمجھ میں آیا ہے کہ ایک تو راستہ ہے اپنے مالک کو راضی کرنے کا، اس کو کھوجنے کا اس کو تلاش کرنے کا، اس کا بننے کا، جسے دین کا یا دھرم کا راستہ کہتے ہیں، اور ایک راستہ ہے دنیا کمانے کا مال کمانے کا، اور جانوروں کی طرح پیٹ بھرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا، دنیا کے راستے میں اگر کوئی انسان راستہ صحیح نہ معلوم ہونے کے وجہ سے بالکل الٹے راستہ پر پڑ جائے اور چلتا رہے اور اسے راستے میں دور جاکر معلوم ہوکہ یہ راستہ میری منزل سے بہت دور جارہاہے، تو اسے پہلے اسی راستہ پر واپس آنا پڑتا ہے، اور جتنا جلد لوٹ سکے، اتنی جلدی اپنی ابتدا پر آنا پڑتا ہے، اور پھر صحیح راستہ پر اپنا سفر شروع کرنا پڑتا ہے، مگر دین کے، دھرم کے، اپنے مالک کا بننے اور تلاش کرنے کے راستے میں یہ بات نہیں، اس راستہ پر اگر آدمی سچی نیت سے مالک کو تلاش کرنے نکل پڑا ہے، اور وہ مجاہدہ کرکے، یگیہ کرکے محنت کرکے بالکل مخالف رخ پر حتی کہ شرک میں جو دین اور دھرم کا بالکل الٹا یعنی دھرم کے نام پر سب سے بڑا دھرم ہے دور نکل جاتا ہے، اور وہاں جاکر مالک کی مہر ہوتی ہے، اگر آدمی سچی آتما سے اسے تلاش کرتا ہے تو مالک کی مہر ہوتی ہی ہے، اس لئے اسے غلط راستہ پر پورا سفر واپس نہیں طے کرنا پڑتا ہے، بلکہ مالک اس کو آغوش رحمت میں اٹھاکر سیدھے راستہ پر لاڈالتے ہیں،اور اس کی زندگی بھر کی محنت ضائع نہیں ہوتی، اس لئے مجھے پنڈت سے صوفی بننے میں کچھ دِقّت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ ظاہری حلیہ میں بھی کچھ نہیں کرنا پڑا، داڑھی بال سب کچھ بڑھے ہوئے تھے، بس بگڑے ہوئے بے حال تھے، حضرت سے سُنّت معلوم کرکے ایک حاجی صاحب کو نائی کے یہاں ساتھ لے کر گیا، تو میں صوفی جی کا حلیہ بن گیا، اگر میں دنیادار آدمی ہوتا تو اس حلیہ اور داڑھی وغیرہ کے لئے مجھے لمبا انتظار کرنا پڑتا، اس طرح مجھے اپنے اندر میں بھی باکل ظاہر کی طرح ذرا سا بدلاؤ اور کرنا پڑا، اور میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس حال کو، جس کو احسان کہتے ہیں کہ زندگی اس طرح گزارو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، پانے میں مجھ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ 

احمد اوّاہ : ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، اس لئے تو پیارے نبیؐ کا ارشاد ہے''خیار ہم فی الجاہلیۃ خیار ہم فی الاسلام"  
’’جو لوگ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے جتنے اچھے ہیں اسلام میں بھی اسی طرح بڑھے ہوتے ہیں، واقعی آپ کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کر پائے گا،کہ آپ صرف دو مہینے پہلے مسلمان ہوئے ہیں، اور اندر کا حال جو آپ بتا رہے ہیں وہ تو لاکھوں صوفیوں اور سالکو ں میں سے، مشکل سے کسی ایک کو حاصل ہوتا ہے، بہت بہت مبارک ہو، واقعی رشک آرہا ہے آپ پر۔
صوفی صاحب: رب کا کرم ہے جس نے اپنے گندے بندہ کی انتر آتما میں ستیہ کی جوتجلا دی، الحمد للہ، الحمد للہ (دیر تک روتے رہے)

احمد اوّاہ : ہمارے لئے بھی دعا کیجئے، کہ آپ کے اس حال کا کوئی حصہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے؟
صوفی صاحب: یہ تو آپ کی بڑائی ہے کہ آپ ایسا کہہ رہے ہیں، آپ تو آپ ہی ہو، آپ کے گھرانہ کو اللہ تعالیٰ نے اس بڑے مشن اور کام کے لئے چن لیا ہے، جو اللہ کے لاڈلے رسولؐ کا مشن تھا۔

احمد اوّاہ : مگر یہ احسان کی اور دوام حضور کی کیفیت تو جو آپ سے مل کر محسوس ہوئی اس کے لئے ترستے ہیں ہم سب،اچھا براہ کرم آپ اپنا خاندانی تعارف کرائےے؟
صوفی صاحب: میری پیدائش قلعہ پریکشت گڑھ ضلع میرٹھ میں١٩٦١  ء میں ہوئی، میرا تعلق ایک برہمن خاندان سے تھا، نرائن شرما میرے پتا جی نے نام رکھا، میرے والد نے دان دَکشِنا سے بچنے کے لئے خاندانی کام کُنڈلی بنانا، پھیرے کرانا اور جیتوتِش وغیرہ کو تیاگ کر اپنا کاروبار شروع کیا، شروع میں انہوں نے کئی کاروبار کئے، مگر ٹھیک نہیں چلے، آخر میں برتنوں کی ایک ایک دُکان کھول لی تھی، جو بہت اچھی نہیں چلتی تھی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا،میں ان کا بڑا بیٹا تھا، میں نے انٹرمیڈیٹ کیا، تو اس کے بعد میرے والد مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، میں کلاس میں پوزیشن لاتاتھا، پی ایم ٹی اگزام میں چار سال تک کوشش کرتا رہا مگرمیری سلیکشن نہیں ہوسکا،اسی دوران میں نے بی ایسی سی بھی میرٹھ کالج سے کرلیا، بہت کوشش کے بعد بھی کمپٹیشن کوالیفائی نہ کرپانے کی وجہ سے میرا دل دنیا سے اچاٹ ہوگیااور میں ۱۱ ستمبر ١٩٨١ ء کو گھر سے نکل گیا، اور سنیاس کی نیت سے رِشی کیش چلا گیا، وہاں پر بہت سے آشرموں اور اکھاڑوں میں ایک کے بعدایک پندرہ سال تک چکر چلاتا رہا، سوامی دکھی رام جی کا ہنومان اکھاڑہ بہت بڑا اکھاڑہ مانا جاتا ہے، ان کے ساتھ پانچ سال رہا، انہوں نے مجھے پہاڑوں میں ایک آشرم کا پرمکھ بناکر بھیج دیا، وہاں پر کچھ لوگوں سے اَن بَن ہوگئی، اور میں سب کچھ چھوڑ کر گھر واپس آگیا،اور قلعہ پریکشِت گڑھ میں ایک ہنومان مندر اپنی زمین میں بنوایا، جو آبادی کے پاس تھا، اس کے بعد ایک ٹرسٹ بنایا،ہنومان مانو سیوا ٹرسٹ، اس کے تحت دو مندر الگ الگ جگہ بنائے تھے، ایک مندر لال کرتی میں بنایا،اور اس سے لگتی ہوئی اپنے رہنے کے لئے ایک کٹیا بھی بنائی، میرے مالک کو مجھ پر دیا آئی، اورمیرے رب نے اسلام سے میرا دامن بھردیا اور اپنی یاد میں بھٹکتے ہوئے بندہ کو بغیر کسی دوسرے سبب کے، خود ہاتھ پکڑ کر اپنے راستہ پر لگا لیا۔ 

احمد اوّاہ : آپ اپنے اسلام قبول کرنے کاواقعہ سنایئے؟
صوفی صاحب: اصل میں دین اور دھرم کہتے ہیں اپنے مالک کو راضی کرنے،اور اس کو پانے کے لئے جیون گزارنے کو، میں نے ایم بی بی ایس میں داخلہ کے لئے اپنی بھرپور کوشش کی، اور مجھے ہربار پوری امید تھی کہ میرا سلیکشن ہوجائے گا، مگر ایک کے بعد ایک چاربار ناکامی سے میرا دل دنیا سے ٹوٹ گیا، اور پھر میں نے اپنے مالک کو پانے اور اس کا بننے کے لئے گھر سے نکل پڑا،اس روز جب ہم کلمہ پڑھنے آئے تھے، تو حضرت نے بتایا تھاکہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سنسار کو بنانے سے پہلے سارے انسانوں کی آتماؤں کوبنایا، اور سب کو جمع کرکے ایک سبق پڑھایا، اور ان سے سوال کیاکہ بتاؤ کیامیں تمہارا پالنہار ہوں؟ ایک آیت ہے نہ قرآن مجید میں، حضرت نے پڑھ کر سنائی تھی۔

cheen men Islam: Maulana Kaleem Siddiqui
 احمد اوّاہ : جی جی
الست بربکم‘‘    
کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟
صوفی صاحب: تو پہلے سارے سنسار کو بنانےوالے اور پیدا کرنے والے مالک کاپڑھایا ہوا سبق آتما کیسے بھول سکتی ہے، ہر انسان کی انترآتما میں یہ سبق یاد ہوتا ہے کہ ہمارا بنانے والا ہمارا مالک صرف اور صرف ایک اکیلا ہے، اس لئے مولانا احمد آخری درجہ کے شرک اور بت پرستی کی بھول بھلیوں میں پھنسے، کسی دیش اور قوم کے انسان بلکہ شِرک کی دلدل اور گندگی میں پھنسے کسے دھرم گرو سے اچانک آپ جاکر سوال کریں کہ گروجی یا پنڈت جی اس سنسار کواور برہمانڈ (کائنات) کو بنانے والااور چلانے والا کون ہے؟ تو وہ فوراً بے اختیار اوپر کوایک انگلی (ہاتھ اوپر کرکے، شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے)کااشارہ کرکے صرف اور صرف یہ کہے گاکہ وہ ایک اکیلا اوپر والا مالک ہے، میں اپنے ہندو بھائیوں اور رشتہ داروں کو دعوت دیتا ہوں تو یہ بات کہتا ہوں کہ کسی کے گھر موت ہوجائے، اکلوتا جوان بیٹا مرجائے یا کوئی اور مرجائے، تو اس کے یہاں جو بھی جاتاہے، اورسہان بھوتی وَیکت کرتا ہے( تعزیت کرتا ہے)تو صرف یہی کہتا ہے،اوپر ہاتھ اٹھاکر کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی،اب کر بھی کیا سکتے ہیں جس کی امانت تھی اس نے لے لی، آخری درجہ کا مُشرِک اور دیوی دیوتا کابھکت  ہی کیوں نہ ہو، یہ نہیں کہتا کہ ہنومان جی کی مایا تھی، انہوں نے لے لی، یا کالی کی مایا تھی کالی نے لے لی، جیسا کہ وہ لوگ جو پیرپرست اور مسلمان ہوکر قبروں اور درگاہوں پر عقیدت اور پوجا کرتے ہیں،وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ خواجہ جی کی مایا تھی خواجہ نے لے لی، بے اختیار ہر انسان کا یہ جواب کہ سنسار بنانے اور چلانے والا وہ اکیلا مالک ہے،اور ہر مرنے والے کے لئے بلاتفریق مذہب و ملت یہ جواب کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی، یہ جواب اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ہر انسان کی انترآتما کویہ سبق الست بربکم(کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں) کا یاد ہے۔اور اس سبق کی وجہ سے اپنے پیدا کرنے والے رب کو پانے اور اس کو راضی کرنے کی پیاس اس کی فطرت میں رکھی ہے، اور اس اکیلے اور صرف ایسے اکیلے مالک کی، جو اس کے فکر و خیال اور عقل و شعور سے اوپر ہو، عبادت و بندگی کرنے اور اس سے محبت کرنے اور اس کو راضی کرنے کا تقاضا، اس کے اندر کی فطرت کا تقاضا ہے، اس کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے اور بندگی کرنے کو اس کی فطرت پسند نہیں کرتی، میں بھی انسانوں میں سے ایک ہوں، جس کی روح کو میرے مالک نے الست بربکم کا سبق پڑھایا، اس لئے دنیا چھوڑ کر اور دنیا سے مایوس ہوکر جب میں نے اپنے مالک کو پانے کے لئے گھر چھوڑا، اور سنیاس اختیار کیا،تو اتنے دنوں تک شرک 
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends"

 -

کی بھول بھلیوں میں دھرم کے نام پر، ادھرم میں پھسنے ہونے کے باوجود کوئی اندر میں طاقت تھی جو مجھے کھینچے دیتی ہے، کہ جس سنسارکے بنانے والے اورچلانے والے مالک کی تلاش میں تو سب کچھ چھوڑ کرآیا ہے، اس کو اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بھگوانوں سے بھلاکیا واسطہ، میں جس آشرم میں گیا وہاں کے گروؤں سے اپنی یہ بات کہی،وہ مجھے یہ کہہ کر چپ تو کرادیتے تھے، کہ یہ مورتیاں تو اکاگرتا (کنٹریشن،دھیان،یکسوئی) کے لئے ہیں، اصلی تو وہی ایک اکیلا مالک ہے، مگر مجھے لگتا کہ اس سے کیسے ایکاگرتا(یکسوئی) ہوگی، شِرک سے تو انتشار ہی ہوسکتا ہے، یکسوئی ہرگز نہیں ہوسکتی، میں نے میرٹھ لال کُرتی میں مندر بنایا، تو ہمارے گھر میں ذرا صفائی کا ہماری ماں کو زیادہ فکر تھا، مجھے ماں سے بھی زیادہ صفائی کاذوق تھا، جب میں نے آشرم بنایا تو میں صفائی کا بہت زیادہ خیال کرتاتھا،ہنومان جی کی مورتی پر صبح سے شام تک لوگ پرشاد چڑھاتے، ہر طرح کے پرشاد اور مٹھائی وغیرہ سے خود مورتیوں اور فرش پر گندگی ہوجاتی، اور میٹھے پر مکھیاں بھی بہت آتیں، ا س کے لئے لاکھ دھونی دیتے مگر مورتیاں گندی ہوجاتیں، دن میں کئی کئی بار مجھے مورتیوں کی صفائی کرنا پڑتی تھی، ہر بار جب مورتی کی صفائی کرتا تو میری آتما میں اندر سے کوئی مجھے جھنجھوڑتا کہ یہ کوئی دھرم ہے، مورتی کو بھانڈتے رہو اور دھوتے رہو، کبھی کبھی اس خیال سے اتنا پریشان ہوجاتا کہ جی چاہتا گلے میں پھانسی لگاکر آتم ہتیا کرلوں،جب آتما جس کی مایا ہے اس کے پاس چلی جائے گی تو پھر اصل مالک سے مل جائے گی، چار پانچ سال سے یہ خیال بہت پریشان کرتا تھا، چار سال پہلے ہمارے مندر سے کچھ فاصلہ پر ایک مسجد ہے وہاں پر گیا، اس خیال سے کہ دیوی دیوتاؤں کے سارے بھگت اور پجاریوں کو دیکھ چکا ہوں، وہاں تو بس دھرم کے نام پر کاروبارکے علاوہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھاچلو ذرا دیکھیں کہ یہ کس کی پوجا کرتے ہیں، امام صاحب مسجد کے قریب اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے تھے، میں نے امام صاحب کی کنڈی کھٹکھٹائی، امام صاحب مجھے دیکھ کر ذرا ہکے بکے ہوگئے، میں نے اپنی پریشانی بتائی کہ میں اسلام کے بارے میں جاننے کی اچھا رکھتا ہوں، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مسجد کے امام ہوکر ان کاپریوارہے، میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ اس کو پانے کے لئے سارے سنسار کے اس جال کو تیاگ کر اس کو پاسکتا ہوں، سارے مسلمانوں کو نماز پڑھانے والا امام اپنے پریوار کے ساتھ رہتا ہے، امام صاحب نے کہااسلام یہ کہتا ہے کہ ساری کی ساری چیزیں اس مالک نے انسان کے لئے بنائی ہیں،اور اس کو ایک سماجی سسٹم سے جوڑا ہے، اس پورے سماج کا اس مالک کے لئے حق ادا کرنے کا نام ہی اسلام ہے، میں نے معلوم کیا کہ آپ نماز پڑھتے ہیں تو کس کی پوجا کرتے ہیں: کیا محمد صاحب کی، یا الگ الگ پیر پیغمبروں کی، وہ مجھے مسجد میں لے گئے اور بتایا کہ قبلہ کی طرف یعنی مکہ کی طرف منھ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے مالک کا حکم ہے، اور اس سے ایکتارہتی ہے، الگ الگ سمت کو منھ کریں گے تو ڈسپلن نہیں رہے گا، مگر اسلام میں پوجا تو صرف اکیلے مالک کی ہے، جو خیال میں نہ آسکے، جس کی مورتی نہ بنائی جاسکے، جو صرف اور صرف اکیلا سارے سنسار کو بنانے اور چلانے والا ہے، امام صاحب کے ساتھ میری ذراسی دیرکی ملاقات نے میرے اند رکو جھنجھوڑ دیا اور مجھے لگا کہ جس سچی راہ کو تو تلاش کر رہا ہے وہ اسلام ہے، میں نے امام صاحب کو بتایا کہ میں آپ کے پڑوس کے مندر کا پرمکھ ہوں، اور ان سے کہا اگرمیں اسلام اپنانا چاہوں تو مجھے کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ شرک سے توبہ کرکے ایک کلمہ ہے اسے سچے دل سے پڑھنا ہوگا، میں نے کہا آپ مسلمان کرتے ہےں؟ انہوں نے کہا نہیں، ہم تو نہیں کرتے، اور آپ کو تو بالکل بھی نہیں کرسکتے، یہاں تو میرٹھ میں آگ لگ جائے گی، پاس میں ایک گاؤں ہے پھلت، آپ چاہیں تو وہاں چلے جائیں، وہا ں یہ کام ہوتا ہے، کوئی اگر مسلمان ہونا چاہے تو وہ سب کام کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا آپ میرے ساتھ چل سکتے ہیں؟ انہوں نے صاف منع کردیا، او ریہ بھی کہ اگر واقعی آپ کا مسلمان ہونے کا ارادہ ہے تو براہ کرم آپ میرے پاس بالکل نہیں آیئےگاورنہ یہاں کے مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے نکال دیں گے، یہاں فساد ہوجائے گا، مجھے بہت عجیب سا لگا کہ میں جھوٹے بھگوان کا اپاسک تو اسلام قبول کرنے میں نہیں ڈر رہا، اور یہ سارے سنسار کے مالک کی عبادت کرنے والے، ڈر رہے ہیں۔

Dawat-e-islam, Dekhiye kaise 80 musalman ho gaye...
احمد اوّاہ : اس کے بعد کیا ہوا؟
صوفی صاحب: جی بتا رہا ہوں، ہمارے یہاں قلعہ پریکشت گڑھ کے ایک حاجی صاحب جو میرٹھ میں ٹائر کی دکان کرتے ہیں، وہ کبھی کبھی مجھ سے ملتے تھے میں ان کے یہاں گیا، اور ان سے کہا آپ مجھے پھلت لے کر چلو، ان کے ایک دوست جماعت کے امیر تھے، وہ ایک بار ان کی دوکان پر ملے، کہنے لگے میں آپ کو پھلت لے کر چلوں گا، ہم لوگ ٢٧ رمضان کو پھلت جاتے ہیں، مگر وہ مجھے ٹلاتے رہے، ایک روز میں خود ہی نکل گیا، ہماےر یہاں مندر میں آگ لگ گئی، فون آیا تو مجھے لوٹنا پڑا، باربار شیطان شاید مجھے ستیہ سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، تین سال مجھے اسی بے چینی میں گذر گئے، حاجی صاحب اور امیر صاحب کی میں خوشامد کرتا رہا مگر شاید وہ بھی ڈر رہے تھے، اس لئے مجھے ٹلاتے رہے، ٢١  اپریل کی صبح نو بجے میں حاجی صاحب کی دکان پر پہنچ گیا، اتفاق سے امیر صاحب بھی کسی کمپنی میں نوکری کرتے تھے، وہاں موجود تھے میں نے ان سے کہا، آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں، آج آپ کو مجھے پھلت لے کر چلنا ہی پڑے گا، حاجی صاحب نے عذر کیا، میری دکان پر کوئی نہیں ہے،میں نے کہا آپ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کتنے روپے کما لیتے ہو، وہ بولے دو تین ہزار بی کما لیتا ہوں، میں نے پرس میں سے تین ہزار روپے نکالے اور ان کی جیب میں ڈالے، وہ پہلے تو تکلف کرتے رہے بعدمیں لے لئے، اور دکان بند کردی، امیر صاحب کی جیب میں بھی میں نے دو ہزار روپے ڈالے، آپ کو زیادہ سے زیادہ ایک روز کی نوکری میں دو ہزار ملتے ہوں گے آپ بھی چلیں، سامنے ٹیکسی اسٹینڈ سے ٹیکسی کی اور ان دونوں کو بٹھا کر مندر سے ایک صفائی کرنے والے سندرداس کو فون کرکے بیگم برج  (پُل)پر بلایا، جو میرے ساتھ مسلمان ہونے کو کہتا تھا، اس طرح ہم پھلت پہنچے۔

احمد اوّاہ : آپ نے معلوم کرلیا تھا کہ ابی(مولانا کلیم صاحب) وہاں موجود ہیں؟
صوفی صاحب: نہیں، مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ کون مسلمان بناتا ہے، اور مولانا کلیم صاحب کون ہیں؟ ہم پہنچے تو اللہ کا کرم ہے کہ حضرت پھلت خانقاہ میں موجود تھے، امیر صاحب نے میرا تعارف کرایا، اور بتایا کہ یہ پنڈت جی چار سال سے ہم سے مسلمان ہونے کی ضد کر رہے ہیں، آج صبح صبح جاکر ہمیں زبردستی دبا لیا، اور میرا گریبان پکڑ کر ٹیکسی میں بٹھایا کہ آج آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔
احمد اوّاہ :  کیا واقعی آپ نے امیر صاحب کی گریبان پکڑ لیا تھا؟
صوفی صاحب: جی واقعی میں بہت تھک کر عاجز ہوکر ان کے پاس گیا تھا، او رمیں نے امیر صاحب کا گریبان پکڑ کر کہا کہ آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ مجھے مسلمان نہیں بنوائیں گے، حضرت صاحب نے سنا تو امیر صاحب اور حاجی صاحب کو بہت سمجھایا اور مسئلہ بتایاکہ دیوبند کے سب سے بڑے مفتی، شاید ان کا نام مفتی محمود صاحب بتایا تھا،وہ فرماتے تھے کہ مسجد کے باہر کوئی آدمی آیاکہ مجھے مسلمان ہونا ہے، اور آپ اس کو لے کر میرے پاس مسجد ک حجرہ میں آئے کہ مفتی صاحب ذرا اچھی طرح کلمہ پڑھائیں گے، تو جتنی دیرآپ نے کلمہ پڑھوانے میں تاخیر کی، اتنی دیر آپ کفر پر راضی رہے، اور کفر پر راضی رہنا عین کفر ہے، اگر اس حال میں آپ مرگئے تو کفر پر موت ہوگی، حضرت نے امیر صاحب اور حاجی صاحب سے کہا، آپ چار سال سے ان کو ٹلا رہے تھے تو آپ ان کے کفر پر راضی رہے، یعنی یہ زندگی آپ کی کفر پر گزری بہت بہت توبہ کرنی چاہئے۔حضرت نے کھڑے کھڑے ہم کو کلمہ پڑھوایا، اور پوچھا کوئی اسلام نام رکھنا چاہیں گے، میں نے کہا ضرور، تو حضرت نے میرا نام سلمان رکھا، سندرداس کا نام عثمان رکھا، اور بتایا کہ حضرت سلمان فارسی حق کو تلاش کرتے کرتے اسلام تک پہنچے تھے، اور دیر تک حضرت سلمان فارسی کے اسلام کی باتیں ہمیں بتاتے رہے، حضرت نے ہم سے پوچھا آپ نے اسلام کو کچھ پڑھا بھی ہے ،میں نے کہا نہیں، مجھے تو میرے جھوٹے بھگوانوں نے ہی پڑھایاتھا کہ ہماری پوجا دھرم نہیں بلکہ ادھرم ہے، سارا جیون اس حماقت میں گزر گیا کہ ہنومان جی کو بھانڈو اور دھوتے رہوبس اس کے لئے پڑوس کی مسجد گیا، امام صاحب سے معلوم کیا تو پتہ لگا کہ مسلمان صرف ایک اکیلے مالک کو پوجتے ہیں، تو دل میںآیا کہ یہ صلی دھرم ہے، مگر امام صاحب نے بھی صاف منع کردیاکہ اگر آپ کا رادہ ملسمان ہونے کا ہے تو آپ ہمارے پاس مت آیئے، ورنہ مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے الگ کردیں گے، فساد ہوجائے گا، حضرت کو بہت افسوس ہوا۔

احمد اوّاہ : پھر اس کے بعد کیا ہوا، آپ نے مندر چھوڑ دیا؟
صوفی صاحب: حضرت نے مشورہ دیا ایک دم مندر سے غائب ہونا ٹھیک نہیں ہے، آپ کسی شاگرد کو مندر کا ذمہ دار بنایئے،  اور دھرم میں آگے بڑھنے کا کہہ کر چلے آئےے، اور جماعت(تبلیغی جماعت)میں وقت لگائےے۔ میں نے حضرت کے مشورہ کے مطابق جماعت میں چالیس دن لگائے، بنگلور میں رمضان اور عیدکے بعد تک کا ہمارا وقت لگا، الحمد للہ ساتھی بہت پڑھے لکھے تھے، انہوں نے بہت خدمت کی اور بہت کچھ سکھایا، الحمد للہ جس شاگرد کو میں نے مندر کا ذمہ دار بنایا تھا،وہ میرا بہت وفادار شاگرد ہے، جماعت سے آکر میں نے اس کو بلاکر سب بتا دیا ہے اور پہلی ملاقات میں اس نے کلمہ بھی پڑھ لیا ہے، میں کافی دنوں کے بعد اپنے گھر بھی گیا ماں نے مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئی، اور بولی بیٹا میں نے کئی بار سپنے میں دیکھا، او ریہی دیکھا کہ تو مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔

احمد اوّاہ :آپ نے اپنی امی کو دعوت دی؟ 
صوفی صاحب: جی الحمد للہ انہوں نےکلمہ پڑھ لیا ہے، انہوں نے خوابوں کی وجہ سے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔

احمد اوّاہ :اب آپ کا کیا اردہ ہے۔ 
صوفی صاحب: حضرت کے یہاں آیا ہوں جیسا بھی حضرت کہیں گے کروں گا۔ میری اندر کی چاہت یہ ہے کہ میں ہریدوار یا رشی کیش یا کسی بڑے تیرتھ استھان پر جہاں پر میرے جیسے بہت سے لوگ سچ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، ان پر کام کروں، کرنا دعوت کا کام ہی ہے، ظہر(دوپہر کی نماز) کے بعد حضرت نے ملاقات کا وقت دیا ہے۔

احمد اوّاہ :  ماشاء اللہ، اللہ مبارک کرے، بہت شکریہ السلام علیکم
صوفی صاحب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

-
 -

-
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories

"islam enemies now friends"

 -
-



-

-

-

-

 -
 -

 
 -
 -







Pujari-to-sufi-urdu-armughan-monthly-july-2019

پجاری سے بہت جلد صوفی بن جانے والے
کا مولانا کلیم صدیقی کے لڑکے احمد اوّاہ کو ماہنامہ ارمغان جولائی ٢٠١٩ کے لئے دیا گیا انٹرویو
Image result for damroo wala
احمد اوّاہ : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
صوفی صاحب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
احمد اوّاہ : آپ تو ابھی شاید دو مہینے پہلے آئے تھے، گیروے رنگ کے کپڑے اور ڈمرو ہاتھ میں تھا، تین چار لوگ آپ کے ساتھ تھے، اور آپ گھر پر تشریف لائے تھے، میں نے آپ کو کسی کے ساتھ خانقاہ میں بھیجا تھا۔
صوفی صاحب: جی جی! آپ نے بالکل صحیح پہچانا۔

शानदार इतिहास : एक रात में इस्लामिक राष्ट्र बन गया 🌿
احمد اوّاہ : ماشاء اللہ آپ نے بڑی جلدی چھلانگ لگائی، واقعی آپ پیدائشی صوفی لگ رہے ہیں۔
صوفی صاحب: مولانا احمد صاحب ہمیں تو یہ سمجھ میں آیا ہے کہ ایک تو راستہ ہے اپنے مالک کو راضی کرنے کا، اس کو کھوجنے کا اس کو تلاش کرنے کا، اس کا بننے کا، جسے دین کا یا دھرم کا راستہ کہتے ہیں، اور ایک راستہ ہے دنیا کمانے کا مال کمانے کا، اور جانوروں کی طرح پیٹ بھرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا، دنیا کے راستے میں اگر کوئی انسان راستہ صحیح نہ معلوم ہونے کے وجہ سے بالکل الٹے راستہ پر پڑ جائے اور چلتا رہے اور اسے راستے میں دور جاکر معلوم ہوکہ یہ راستہ میری منزل سے بہت دور جارہاہے، تو اسے پہلے اسی راستہ پر واپس آنا پڑتا ہے، اور جتنا جلد لوٹ سکے، اتنی جلدی اپنی ابتدا پر آنا پڑتا ہے، اور پھر صحیح راستہ پر اپنا سفر شروع کرنا پڑتا ہے، مگر دین کے، دھرم کے، اپنے مالک کا بننے اور تلاش کرنے کے راستے میں یہ بات نہیں، اس راستہ پر اگر آدمی سچی نیت سے مالک کو تلاش کرنے نکل پڑا ہے، اور وہ مجاہدہ کرکے، یگیہ کرکے محنت کرکے بالکل مخالف رخ پر حتی کہ شرک میں جو دین اور دھرم کا بالکل الٹا یعنی دھرم کے نام پر سب سے بڑا دھرم ہے دور نکل جاتا ہے، اور وہاں جاکر مالک کی مہر ہوتی ہے، اگر آدمی سچی آتما سے اسے تلاش کرتا ہے تو مالک کی مہر ہوتی ہی ہے، اس لئے اسے غلط راستہ پر پورا سفر واپس نہیں طے کرنا پڑتا ہے، بلکہ مالک اس کو آغوش رحمت میں اٹھاکر سیدھے راستہ پر لاڈالتے ہیں،اور اس کی زندگی بھر کی محنت ضائع نہیں ہوتی، اس لئے مجھے پنڈت سے صوفی بننے میں کچھ دِقّت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ ظاہری حلیہ میں بھی کچھ نہیں کرنا پڑا، داڑھی بال سب کچھ بڑھے ہوئے تھے، بس بگڑے ہوئے بے حال تھے، حضرت سے سُنّت معلوم کرکے ایک حاجی صاحب کو نائی کے یہاں ساتھ لے کر گیا، تو میں صوفی جی کا حلیہ بن گیا، اگر میں دنیادار آدمی ہوتا تو اس حلیہ اور داڑھی وغیرہ کے لئے مجھے لمبا انتظار کرنا پڑتا، اس طرح مجھے اپنے اندر میں بھی باکل ظاہر کی طرح ذرا سا بدلاؤ اور کرنا پڑا، اور میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس حال کو، جس کو احسان کہتے ہیں کہ زندگی اس طرح گزارو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، پانے میں مجھ کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ 

احمد اوّاہ : ماشاء اللہ، ماشاء اللہ، اس لئے تو پیارے نبیؐ کا ارشاد ہے''خیار ہم فی الجاہلیۃ خیار ہم فی الاسلام"  
’’جو لوگ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے جتنے اچھے ہیں اسلام میں بھی اسی طرح بڑھے ہوتے ہیں، واقعی آپ کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کر پائے گا،کہ آپ صرف دو مہینے پہلے مسلمان ہوئے ہیں، اور اندر کا حال جو آپ بتا رہے ہیں وہ تو لاکھوں صوفیوں اور سالکو ں میں سے، مشکل سے کسی ایک کو حاصل ہوتا ہے، بہت بہت مبارک ہو، واقعی رشک آرہا ہے آپ پر۔
صوفی صاحب: رب کا کرم ہے جس نے اپنے گندے بندہ کی انتر آتما میں ستیہ کی جوتجلا دی، الحمد للہ، الحمد للہ (دیر تک روتے رہے)

احمد اوّاہ : ہمارے لئے بھی دعا کیجئے، کہ آپ کے اس حال کا کوئی حصہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے؟
صوفی صاحب: یہ تو آپ کی بڑائی ہے کہ آپ ایسا کہہ رہے ہیں، آپ تو آپ ہی ہو، آپ کے گھرانہ کو اللہ تعالیٰ نے اس بڑے مشن اور کام کے لئے چن لیا ہے، جو اللہ کے لاڈلے رسولؐ کا مشن تھا۔

احمد اوّاہ : مگر یہ احسان کی اور دوام حضور کی کیفیت تو جو آپ سے مل کر محسوس ہوئی اس کے لئے ترستے ہیں ہم سب،اچھا براہ کرم آپ اپنا خاندانی تعارف کرائےے؟
صوفی صاحب: میری پیدائش قلعہ پریکشت گڑھ ضلع میرٹھ میں١٩٦١  ء میں ہوئی، میرا تعلق ایک برہمن خاندان سے تھا، نرائن شرما میرے پتا جی نے نام رکھا، میرے والد نے دان دَکشِنا سے بچنے کے لئے خاندانی کام کُنڈلی بنانا، پھیرے کرانا اور جیتوتِش وغیرہ کو تیاگ کر اپنا کاروبار شروع کیا، شروع میں انہوں نے کئی کاروبار کئے، مگر ٹھیک نہیں چلے، آخر میں برتنوں کی ایک ایک دُکان کھول لی تھی، جو بہت اچھی نہیں چلتی تھی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا،میں ان کا بڑا بیٹا تھا، میں نے انٹرمیڈیٹ کیا، تو اس کے بعد میرے والد مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، میں کلاس میں پوزیشن لاتاتھا، پی ایم ٹی اگزام میں چار سال تک کوشش کرتا رہا مگرمیری سلیکشن نہیں ہوسکا،اسی دوران میں نے بی ایسی سی بھی میرٹھ کالج سے کرلیا، بہت کوشش کے بعد بھی کمپٹیشن کوالیفائی نہ کرپانے کی وجہ سے میرا دل دنیا سے اچاٹ ہوگیااور میں ۱۱ ستمبر ١٩٨١ ء کو گھر سے نکل گیا، اور سنیاس کی نیت سے رِشی کیش چلا گیا، وہاں پر بہت سے آشرموں اور اکھاڑوں میں ایک کے بعدایک پندرہ سال تک چکر چلاتا رہا، سوامی دکھی رام جی کا ہنومان اکھاڑہ بہت بڑا اکھاڑہ مانا جاتا ہے، ان کے ساتھ پانچ سال رہا، انہوں نے مجھے پہاڑوں میں ایک آشرم کا پرمکھ بناکر بھیج دیا، وہاں پر کچھ لوگوں سے اَن بَن ہوگئی، اور میں سب کچھ چھوڑ کر گھر واپس آگیا،اور قلعہ پریکشِت گڑھ میں ایک ہنومان مندر اپنی زمین میں بنوایا، جو آبادی کے پاس تھا، اس کے بعد ایک ٹرسٹ بنایا،ہنومان مانو سیوا ٹرسٹ، اس کے تحت دو مندر الگ الگ جگہ بنائے تھے، ایک مندر لال کرتی میں بنایا،اور اس سے لگتی ہوئی اپنے رہنے کے لئے ایک کٹیا بھی بنائی، میرے مالک کو مجھ پر دیا آئی، اورمیرے رب نے اسلام سے میرا دامن بھردیا اور اپنی یاد میں بھٹکتے ہوئے بندہ کو بغیر کسی دوسرے سبب کے، خود ہاتھ پکڑ کر اپنے راستہ پر لگا لیا۔ 

احمد اوّاہ : آپ اپنے اسلام قبول کرنے کاواقعہ سنایئے؟
صوفی صاحب: اصل میں دین اور دھرم کہتے ہیں اپنے مالک کو راضی کرنے،اور اس کو پانے کے لئے جیون گزارنے کو، میں نے ایم بی بی ایس میں داخلہ کے لئے اپنی بھرپور کوشش کی، اور مجھے ہربار پوری امید تھی کہ میرا سلیکشن ہوجائے گا، مگر ایک کے بعد ایک چاربار ناکامی سے میرا دل دنیا سے ٹوٹ گیا، اور پھر میں نے اپنے مالک کو پانے اور اس کا بننے کے لئے گھر سے نکل پڑا،اس روز جب ہم کلمہ پڑھنے آئے تھے، تو حضرت نے بتایا تھاکہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سنسار کو بنانے سے پہلے سارے انسانوں کی آتماؤں کوبنایا، اور سب کو جمع کرکے ایک سبق پڑھایا، اور ان سے سوال کیاکہ بتاؤ کیامیں تمہارا پالنہار ہوں؟ ایک آیت ہے نہ قرآن مجید میں، حضرت نے پڑھ کر سنائی تھی۔

cheen men Islam: Maulana Kaleem Siddiqui
 احمد اوّاہ : جی جی
الست بربکم‘‘    
کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟
صوفی صاحب: تو پہلے سارے سنسار کو بنانےوالے اور پیدا کرنے والے مالک کاپڑھایا ہوا سبق آتما کیسے بھول سکتی ہے، ہر انسان کی انترآتما میں یہ سبق یاد ہوتا ہے کہ ہمارا بنانے والا ہمارا مالک صرف اور صرف ایک اکیلا ہے، اس لئے مولانا احمد آخری درجہ کے شرک اور بت پرستی کی بھول بھلیوں میں پھنسے، کسی دیش اور قوم کے انسان بلکہ شِرک کی دلدل اور گندگی میں پھنسے کسے دھرم گرو سے اچانک آپ جاکر سوال کریں کہ گروجی یا پنڈت جی اس سنسار کواور برہمانڈ (کائنات) کو بنانے والااور چلانے والا کون ہے؟ تو وہ فوراً بے اختیار اوپر کوایک انگلی (ہاتھ اوپر کرکے، شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے)کااشارہ کرکے صرف اور صرف یہ کہے گاکہ وہ ایک اکیلا اوپر والا مالک ہے، میں اپنے ہندو بھائیوں اور رشتہ داروں کو دعوت دیتا ہوں تو یہ بات کہتا ہوں کہ کسی کے گھر موت ہوجائے، اکلوتا جوان بیٹا مرجائے یا کوئی اور مرجائے، تو اس کے یہاں جو بھی جاتاہے، اورسہان بھوتی وَیکت کرتا ہے( تعزیت کرتا ہے)تو صرف یہی کہتا ہے،اوپر ہاتھ اٹھاکر کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی،اب کر بھی کیا سکتے ہیں جس کی امانت تھی اس نے لے لی، آخری درجہ کا مُشرِک اور دیوی دیوتا کابھکت  ہی کیوں نہ ہو، یہ نہیں کہتا کہ ہنومان جی کی مایا تھی، انہوں نے لے لی، یا کالی کی مایا تھی کالی نے لے لی، جیسا کہ وہ لوگ جو پیرپرست اور مسلمان ہوکر قبروں اور درگاہوں پر عقیدت اور پوجا کرتے ہیں،وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ خواجہ جی کی مایا تھی خواجہ نے لے لی، بے اختیار ہر انسان کا یہ جواب کہ سنسار بنانے اور چلانے والا وہ اکیلا مالک ہے،اور ہر مرنے والے کے لئے بلاتفریق مذہب و ملت یہ جواب کہ اوپر والے کی مایا تھی اس نے لے لی، یہ جواب اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ہر انسان کی انترآتما کویہ سبق الست بربکم(کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں) کا یاد ہے۔اور اس سبق کی وجہ سے اپنے پیدا کرنے والے رب کو پانے اور اس کو راضی کرنے کی پیاس اس کی فطرت میں رکھی ہے، اور اس اکیلے اور صرف ایسے اکیلے مالک کی، جو اس کے فکر و خیال اور عقل و شعور سے اوپر ہو، عبادت و بندگی کرنے اور اس سے محبت کرنے اور اس کو راضی کرنے کا تقاضا، اس کے اندر کی فطرت کا تقاضا ہے، اس کے علاوہ کسی کے آگے جھکنے اور بندگی کرنے کو اس کی فطرت پسند نہیں کرتی، میں بھی انسانوں میں سے ایک ہوں، جس کی روح کو میرے مالک نے الست بربکم کا سبق پڑھایا، اس لئے دنیا چھوڑ کر اور دنیا سے مایوس ہوکر جب میں نے اپنے مالک کو پانے کے لئے گھر چھوڑا، اور سنیاس اختیار کیا،تو اتنے دنوں تک شرک 
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories "islam enemies now friends"

 -

کی بھول بھلیوں میں دھرم کے نام پر، ادھرم میں پھسنے ہونے کے باوجود کوئی اندر میں طاقت تھی جو مجھے کھینچے دیتی ہے، کہ جس سنسارکے بنانے والے اورچلانے والے مالک کی تلاش میں تو سب کچھ چھوڑ کرآیا ہے، اس کو اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بھگوانوں سے بھلاکیا واسطہ، میں جس آشرم میں گیا وہاں کے گروؤں سے اپنی یہ بات کہی،وہ مجھے یہ کہہ کر چپ تو کرادیتے تھے، کہ یہ مورتیاں تو اکاگرتا (کنٹریشن،دھیان،یکسوئی) کے لئے ہیں، اصلی تو وہی ایک اکیلا مالک ہے، مگر مجھے لگتا کہ اس سے کیسے ایکاگرتا(یکسوئی) ہوگی، شِرک سے تو انتشار ہی ہوسکتا ہے، یکسوئی ہرگز نہیں ہوسکتی، میں نے میرٹھ لال کُرتی میں مندر بنایا، تو ہمارے گھر میں ذرا صفائی کا ہماری ماں کو زیادہ فکر تھا، مجھے ماں سے بھی زیادہ صفائی کاذوق تھا، جب میں نے آشرم بنایا تو میں صفائی کا بہت زیادہ خیال کرتاتھا،ہنومان جی کی مورتی پر صبح سے شام تک لوگ پرشاد چڑھاتے، ہر طرح کے پرشاد اور مٹھائی وغیرہ سے خود مورتیوں اور فرش پر گندگی ہوجاتی، اور میٹھے پر مکھیاں بھی بہت آتیں، ا س کے لئے لاکھ دھونی دیتے مگر مورتیاں گندی ہوجاتیں، دن میں کئی کئی بار مجھے مورتیوں کی صفائی کرنا پڑتی تھی، ہر بار جب مورتی کی صفائی کرتا تو میری آتما میں اندر سے کوئی مجھے جھنجھوڑتا کہ یہ کوئی دھرم ہے، مورتی کو بھانڈتے رہو اور دھوتے رہو، کبھی کبھی اس خیال سے اتنا پریشان ہوجاتا کہ جی چاہتا گلے میں پھانسی لگاکر آتم ہتیا کرلوں،جب آتما جس کی مایا ہے اس کے پاس چلی جائے گی تو پھر اصل مالک سے مل جائے گی، چار پانچ سال سے یہ خیال بہت پریشان کرتا تھا، چار سال پہلے ہمارے مندر سے کچھ فاصلہ پر ایک مسجد ہے وہاں پر گیا، اس خیال سے کہ دیوی دیوتاؤں کے سارے بھگت اور پجاریوں کو دیکھ چکا ہوں، وہاں تو بس دھرم کے نام پر کاروبارکے علاوہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھاچلو ذرا دیکھیں کہ یہ کس کی پوجا کرتے ہیں، امام صاحب مسجد کے قریب اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے تھے، میں نے امام صاحب کی کنڈی کھٹکھٹائی، امام صاحب مجھے دیکھ کر ذرا ہکے بکے ہوگئے، میں نے اپنی پریشانی بتائی کہ میں اسلام کے بارے میں جاننے کی اچھا رکھتا ہوں، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مسجد کے امام ہوکر ان کاپریوارہے، میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ اس کو پانے کے لئے سارے سنسار کے اس جال کو تیاگ کر اس کو پاسکتا ہوں، سارے مسلمانوں کو نماز پڑھانے والا امام اپنے پریوار کے ساتھ رہتا ہے، امام صاحب نے کہااسلام یہ کہتا ہے کہ ساری کی ساری چیزیں اس مالک نے انسان کے لئے بنائی ہیں،اور اس کو ایک سماجی سسٹم سے جوڑا ہے، اس پورے سماج کا اس مالک کے لئے حق ادا کرنے کا نام ہی اسلام ہے، میں نے معلوم کیا کہ آپ نماز پڑھتے ہیں تو کس کی پوجا کرتے ہیں: کیا محمد صاحب کی، یا الگ الگ پیر پیغمبروں کی، وہ مجھے مسجد میں لے گئے اور بتایا کہ قبلہ کی طرف یعنی مکہ کی طرف منھ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے مالک کا حکم ہے، اور اس سے ایکتارہتی ہے، الگ الگ سمت کو منھ کریں گے تو ڈسپلن نہیں رہے گا، مگر اسلام میں پوجا تو صرف اکیلے مالک کی ہے، جو خیال میں نہ آسکے، جس کی مورتی نہ بنائی جاسکے، جو صرف اور صرف اکیلا سارے سنسار کو بنانے اور چلانے والا ہے، امام صاحب کے ساتھ میری ذراسی دیرکی ملاقات نے میرے اند رکو جھنجھوڑ دیا اور مجھے لگا کہ جس سچی راہ کو تو تلاش کر رہا ہے وہ اسلام ہے، میں نے امام صاحب کو بتایا کہ میں آپ کے پڑوس کے مندر کا پرمکھ ہوں، اور ان سے کہا اگرمیں اسلام اپنانا چاہوں تو مجھے کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ شرک سے توبہ کرکے ایک کلمہ ہے اسے سچے دل سے پڑھنا ہوگا، میں نے کہا آپ مسلمان کرتے ہےں؟ انہوں نے کہا نہیں، ہم تو نہیں کرتے، اور آپ کو تو بالکل بھی نہیں کرسکتے، یہاں تو میرٹھ میں آگ لگ جائے گی، پاس میں ایک گاؤں ہے پھلت، آپ چاہیں تو وہاں چلے جائیں، وہا ں یہ کام ہوتا ہے، کوئی اگر مسلمان ہونا چاہے تو وہ سب کام کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا آپ میرے ساتھ چل سکتے ہیں؟ انہوں نے صاف منع کردیا، او ریہ بھی کہ اگر واقعی آپ کا مسلمان ہونے کا ارادہ ہے تو براہ کرم آپ میرے پاس بالکل نہیں آیئےگاورنہ یہاں کے مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے نکال دیں گے، یہاں فساد ہوجائے گا، مجھے بہت عجیب سا لگا کہ میں جھوٹے بھگوان کا اپاسک تو اسلام قبول کرنے میں نہیں ڈر رہا، اور یہ سارے سنسار کے مالک کی عبادت کرنے والے، ڈر رہے ہیں۔

Dawat-e-islam, Dekhiye kaise 80 musalman ho gaye...
احمد اوّاہ : اس کے بعد کیا ہوا؟
صوفی صاحب: جی بتا رہا ہوں، ہمارے یہاں قلعہ پریکشت گڑھ کے ایک حاجی صاحب جو میرٹھ میں ٹائر کی دکان کرتے ہیں، وہ کبھی کبھی مجھ سے ملتے تھے میں ان کے یہاں گیا، اور ان سے کہا آپ مجھے پھلت لے کر چلو، ان کے ایک دوست جماعت کے امیر تھے، وہ ایک بار ان کی دوکان پر ملے، کہنے لگے میں آپ کو پھلت لے کر چلوں گا، ہم لوگ ٢٧ رمضان کو پھلت جاتے ہیں، مگر وہ مجھے ٹلاتے رہے، ایک روز میں خود ہی نکل گیا، ہماےر یہاں مندر میں آگ لگ گئی، فون آیا تو مجھے لوٹنا پڑا، باربار شیطان شاید مجھے ستیہ سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، تین سال مجھے اسی بے چینی میں گذر گئے، حاجی صاحب اور امیر صاحب کی میں خوشامد کرتا رہا مگر شاید وہ بھی ڈر رہے تھے، اس لئے مجھے ٹلاتے رہے، ٢١  اپریل کی صبح نو بجے میں حاجی صاحب کی دکان پر پہنچ گیا، اتفاق سے امیر صاحب بھی کسی کمپنی میں نوکری کرتے تھے، وہاں موجود تھے میں نے ان سے کہا، آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں، آج آپ کو مجھے پھلت لے کر چلنا ہی پڑے گا، حاجی صاحب نے عذر کیا، میری دکان پر کوئی نہیں ہے،میں نے کہا آپ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کتنے روپے کما لیتے ہو، وہ بولے دو تین ہزار بی کما لیتا ہوں، میں نے پرس میں سے تین ہزار روپے نکالے اور ان کی جیب میں ڈالے، وہ پہلے تو تکلف کرتے رہے بعدمیں لے لئے، اور دکان بند کردی، امیر صاحب کی جیب میں بھی میں نے دو ہزار روپے ڈالے، آپ کو زیادہ سے زیادہ ایک روز کی نوکری میں دو ہزار ملتے ہوں گے آپ بھی چلیں، سامنے ٹیکسی اسٹینڈ سے ٹیکسی کی اور ان دونوں کو بٹھا کر مندر سے ایک صفائی کرنے والے سندرداس کو فون کرکے بیگم برج  (پُل)پر بلایا، جو میرے ساتھ مسلمان ہونے کو کہتا تھا، اس طرح ہم پھلت پہنچے۔

احمد اوّاہ : آپ نے معلوم کرلیا تھا کہ ابی(مولانا کلیم صاحب) وہاں موجود ہیں؟
صوفی صاحب: نہیں، مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ کون مسلمان بناتا ہے، اور مولانا کلیم صاحب کون ہیں؟ ہم پہنچے تو اللہ کا کرم ہے کہ حضرت پھلت خانقاہ میں موجود تھے، امیر صاحب نے میرا تعارف کرایا، اور بتایا کہ یہ پنڈت جی چار سال سے ہم سے مسلمان ہونے کی ضد کر رہے ہیں، آج صبح صبح جاکر ہمیں زبردستی دبا لیا، اور میرا گریبان پکڑ کر ٹیکسی میں بٹھایا کہ آج آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔
احمد اوّاہ :  کیا واقعی آپ نے امیر صاحب کی گریبان پکڑ لیا تھا؟
صوفی صاحب: جی واقعی میں بہت تھک کر عاجز ہوکر ان کے پاس گیا تھا، او رمیں نے امیر صاحب کا گریبان پکڑ کر کہا کہ آج میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ مجھے مسلمان نہیں بنوائیں گے، حضرت صاحب نے سنا تو امیر صاحب اور حاجی صاحب کو بہت سمجھایا اور مسئلہ بتایاکہ دیوبند کے سب سے بڑے مفتی، شاید ان کا نام مفتی محمود صاحب بتایا تھا،وہ فرماتے تھے کہ مسجد کے باہر کوئی آدمی آیاکہ مجھے مسلمان ہونا ہے، اور آپ اس کو لے کر میرے پاس مسجد ک حجرہ میں آئے کہ مفتی صاحب ذرا اچھی طرح کلمہ پڑھائیں گے، تو جتنی دیرآپ نے کلمہ پڑھوانے میں تاخیر کی، اتنی دیر آپ کفر پر راضی رہے، اور کفر پر راضی رہنا عین کفر ہے، اگر اس حال میں آپ مرگئے تو کفر پر موت ہوگی، حضرت نے امیر صاحب اور حاجی صاحب سے کہا، آپ چار سال سے ان کو ٹلا رہے تھے تو آپ ان کے کفر پر راضی رہے، یعنی یہ زندگی آپ کی کفر پر گزری بہت بہت توبہ کرنی چاہئے۔حضرت نے کھڑے کھڑے ہم کو کلمہ پڑھوایا، اور پوچھا کوئی اسلام نام رکھنا چاہیں گے، میں نے کہا ضرور، تو حضرت نے میرا نام سلمان رکھا، سندرداس کا نام عثمان رکھا، اور بتایا کہ حضرت سلمان فارسی حق کو تلاش کرتے کرتے اسلام تک پہنچے تھے، اور دیر تک حضرت سلمان فارسی کے اسلام کی باتیں ہمیں بتاتے رہے، حضرت نے ہم سے پوچھا آپ نے اسلام کو کچھ پڑھا بھی ہے ،میں نے کہا نہیں، مجھے تو میرے جھوٹے بھگوانوں نے ہی پڑھایاتھا کہ ہماری پوجا دھرم نہیں بلکہ ادھرم ہے، سارا جیون اس حماقت میں گزر گیا کہ ہنومان جی کو بھانڈو اور دھوتے رہوبس اس کے لئے پڑوس کی مسجد گیا، امام صاحب سے معلوم کیا تو پتہ لگا کہ مسلمان صرف ایک اکیلے مالک کو پوجتے ہیں، تو دل میںآیا کہ یہ صلی دھرم ہے، مگر امام صاحب نے بھی صاف منع کردیاکہ اگر آپ کا رادہ ملسمان ہونے کا ہے تو آپ ہمارے پاس مت آیئے، ورنہ مسجد کے ذمہ دار مجھے مسجد سے الگ کردیں گے، فساد ہوجائے گا، حضرت کو بہت افسوس ہوا۔

احمد اوّاہ : پھر اس کے بعد کیا ہوا، آپ نے مندر چھوڑ دیا؟
صوفی صاحب: حضرت نے مشورہ دیا ایک دم مندر سے غائب ہونا ٹھیک نہیں ہے، آپ کسی شاگرد کو مندر کا ذمہ دار بنایئے،  اور دھرم میں آگے بڑھنے کا کہہ کر چلے آئےے، اور جماعت(تبلیغی جماعت)میں وقت لگائےے۔ میں نے حضرت کے مشورہ کے مطابق جماعت میں چالیس دن لگائے، بنگلور میں رمضان اور عیدکے بعد تک کا ہمارا وقت لگا، الحمد للہ ساتھی بہت پڑھے لکھے تھے، انہوں نے بہت خدمت کی اور بہت کچھ سکھایا، الحمد للہ جس شاگرد کو میں نے مندر کا ذمہ دار بنایا تھا،وہ میرا بہت وفادار شاگرد ہے، جماعت سے آکر میں نے اس کو بلاکر سب بتا دیا ہے اور پہلی ملاقات میں اس نے کلمہ بھی پڑھ لیا ہے، میں کافی دنوں کے بعد اپنے گھر بھی گیا ماں نے مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئی، اور بولی بیٹا میں نے کئی بار سپنے میں دیکھا، او ریہی دیکھا کہ تو مسجد میں نماز پڑھا رہا ہے۔

احمد اوّاہ :آپ نے اپنی امی کو دعوت دی؟ 
صوفی صاحب: جی الحمد للہ انہوں نےکلمہ پڑھ لیا ہے، انہوں نے خوابوں کی وجہ سے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔

احمد اوّاہ :اب آپ کا کیا اردہ ہے۔ 
صوفی صاحب: حضرت کے یہاں آیا ہوں جیسا بھی حضرت کہیں گے کروں گا۔ میری اندر کی چاہت یہ ہے کہ میں ہریدوار یا رشی کیش یا کسی بڑے تیرتھ استھان پر جہاں پر میرے جیسے بہت سے لوگ سچ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، ان پر کام کروں، کرنا دعوت کا کام ہی ہے، ظہر(دوپہر کی نماز) کے بعد حضرت نے ملاقات کا وقت دیا ہے۔

احمد اوّاہ :  ماشاء اللہ، اللہ مبارک کرے، بہت شکریہ السلام علیکم
صوفی صاحب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

-
 -

-
5 इस्लाम दुश्मन जो दोस्त बन गए ❤️💚
5 Inspirational Muslim Revert Stories

"islam enemies now friends"

 -
-



-

-

-

-

-
 -

 
 -
 -









indian top class businessman family member New Muslim Asad Umar interview roman Urdu/hindi

ahamad awwah : assalaamu alaikum nav muslim asad umar :vaalaikum assalaam ahamad awwah : asad umar saahib abee ( waalid kaleem saahib ) ne bataaya ki aap delhi aaye hue hain, ittifaaq kee baat hai ki mein bhee ek din ke lie phulat , zila muzaffar nagar se aaya tha, shaayad aapase bhee abee ne bataaya hoga ki hamaare yahaan phulat ( madarasa ) se ek daavatee maigazeen ” aramoogaan “ ke naam se nikalatee hai, is ke liye aapase kuchh baaten karana chaahata hoon
asad umar :jee haan, hazarat ne mujhe bataaya tha, pahale to mera khyaal thaaki mere masail kuchh hal ho jaen to hee mein kuchh baaten karoon, magar hazarat ne faramaaya ki ramazaan ka maheena hai aur is maah mein har nekee ka ajr-o-savaab sattar guna ho jaata hai, aur mere rab ne mujhe hidaayat dee hai, hazarat ne kaha ki intaravyoo shaaye karane ka maqasad logon mein deenee khusoosan daavatee spirit paida karana hota hai, to is maheena mein meree baaten aur kaar-guzaaree padh kar kuchh bandon ko nekee khusoosan daavat( islaam se vaaqif karaana )jo sabase bade nekee hai, karane kee taufeeq hogee to doosare maheenon ke muqaabale mein sattar guna ajr-o-savaab milega, phir ye bhee hai ki maut ka ek lamha itameenaan nahin, na maaloom aainda mujhe ye baaten sunaane kee mohalat bhee milegee ya nahin? aap shauq se jo chaahen mujhase savaal karen


ahamad awwah : doctor raahat aapake saath mumbee se aae hue hain aapaka unase kitane dinon se taalluq hai, aur ye dostee aur taalluq kis tarah hua, mujhe mahasoos ho raha hai bilakul haqeeqee bhaeeyon kee tarah aap ek doosare se baaten karate rahe hain
asad umar : doctor saahib se mera taalluq taqareeban saat saal puraana hai.asal mein daaktar saahib ek sayyad gharaana se taalluq rakhate hain, aur shaayad hazarat ne bataaya bhee hoga ki sahaaranapoor ke rahane vaale hain aur shaayad hazarat se unakee door kee kaee rishtedaareeyaan hain, daaktar saahib ne sahaaranapoor se ek maideekal diploma kors kiya tha un ko apanee khaanadaanee kitaabon se baanjhapan aur amaraaz posheeda ( gupt rog )ke bahut kaamayaab nuskhe haath lag gae hain aur vo in donon beemaareeyon ka eelaaj karate hain, eelaaj ke dauraan unhonne ye bhee mahasoos kiya ki miyaan beevee ke azadavaajee taalluqaat aur baar-baar hamal ke girane mein jaadoo aur jinnaat ka bhee asar hota hai, ki aadamee tandarust hai aur beevee ke paas pahuncha to goya bilakul beemaar hai, aur kisee kaam ka nahin, aisa ho jaata hai, to us ke lie unhonne bahut se aamilon se amaleeyaat seekhe, unako tren mein ek faqeer mila aur usane unako jaadoo aur sahr ke eelaaj ke lie amaleeyaat kee ijaazat dee aur daaktar saahib ne eelaaj shuroo kar diya, hamaaree shaadee ko bhee 1 5 /saal ho gae the, hamaare yahaan maalik ne koee khushee nahin dee,aur mere saath kuchh jaadoo ka bhee muaamala tha, mujhe aur meree beevee ko shak thaaki meree ek bhaabhee jo apanee ek bhateejee se meree shaadee karaana chaahatee thee usane ham par jaadoo kiya tha, mere ek byopaaree dost ne jisaka daaktar raahat saahib ne eelaaj kiya tha, unake haan alahamadu lillaah daaktar saahib ke eelaaj se teen aulaad huee theen, mujhe daaktar saahib se milane ka mashvara diya, daaktar saahib ko dekhakar mera zara dil khataka ki chalo beemaaree ka eelaaj to ye kar sakate hain magar paint boo shart bagair daadhee ke angrez dikhane vaale ye saahib jhaad phoonk ka eelaaj kaise karenge, koee soofee sant hee is ka eelaaj kar sakata hai, magar choonki mere dost ka eelaaj unhonne kiya tha aur faayada hua tha is lie mainne unase eelaaj karaaya, maalik ka karana hua ki ab se paanch saal pahale mere yahaan ek betee aur do saal baad ek beta hua, aur hamaaree daaktar saahib kee dostee ho gaee, aur mein aur meree beevee hee nahin meree sasuraal aur gharavaale daaktar saahib ke ek tarah se gulaam ho gae, aur hamaare ghar mein har kaam daaktar saahib ke mashvara se hone laga, rafta-rafta ye taalluq dostee mein badal gaya, maalik ne mujhe bahut kuchh diya hai, mainne daaktar saahib ko ek flait gipht karane ko kaha to daaktar saahib ne saaf mana kar diya aur bole meree apanee kamaee kee jhompadee mere lie kisee raees kee ehasaanamandee mein haasil kie gae mahal se bada mahal hai, aur shaayad daaktar saahib se hamaaree dostee se zyaada mazaboot yahee belaus taalluq tha, yahaan tak ki daaktar saahib eelaaj ke lie jo dava dete the, unhonne us ke bhee paise talab nahin kie aur na tai kie aur jab mainne dene chaahe to bhee maamoolee raqam jo bahut hee kam hotee thee so do sau lekar vaapis kar diye
Aapki Amanat Aapki Sewa Mein Hindi - Urdu 
(good sound,  micro Lady voice )
https://youtu.be/ZOp2xxs-kMo





ahamad awwah : aap zara apana taaaruf to karaeee asad umar : abhee apana poora taaaruf karaane ke haal mein nahin hoon bas itana kaafee hai ki hindostaan ke sabase bade taajir khaanadaan, jisaka aajakal mulk par raaj chal raha hai usee taajir khaanadaan se taalluq rakhata hoon, maalik ka karam ye hai ki usane dhanda ke lihaaz se khoob se bhee zyaada navaaza hai, asalan ham gujaraatee hain aur malik ke bahut se soobon mein hamaare khaanadaan ka kaarobaar hai ahamad awwah : kya abhee aapake qabool islaam ka logon ko ilam nahin hua, yaanee khaanadaan vaalon ko asad umar : abhee mainne aam ailaan nahin kiya hai, inshaallaah khaanadaan ke kuchh logon par kaam chal raha hai, ab to hazarat ke mashvara se jab kahenge ailaan vagaira sab karenge ahamad avvaah : apane qabool islaam ke baare mein zara bataeee asad umar :shaadee ke das saal aulaad na hone kee vajah se ham donon miyaan beevee bahut pareshaan the, aur mujhase zyaada meree beevee pareshaan thee, khaanadaan vaale sab us ko taana dete the, aulaad kee havas mein, darabadar maare maare phirate the, aur jo koee bataata, daan pune sab kuchh karate the, mandiron, aashramon, gurooduvaaron aur daragaahon mein jaakar maatha tekate aur aasheervaad lene kee koshish karate, mumbee mein haajee alee kee daragaah bahut mashahoor hai, is ke baare mein suna tha. haajee alee ke yahaan se be aulaadon ko aulaad mil jaatee hai, vahaan bhee baar-baar jaate, vahaan bhee kuchh hua nahin, ek-baar ham haajee alee kee daragaah gae to ek baaba ne kaha haajee alee ke naam par teen roze ( barat ) har maheene rakhoo, aulaad mil jaegee,us ke baad daaktar saahib hamaaree mulaaqaat ho gaee, hamane daaktar saahib se kaha ki main aur meree beevee ne haajee alee ke naam ke teen barat maan rakhe hain, ham kya karen, daaktar raahat ne kaha ki haajee alee kee daragaah par agar makkhee prasaad uthaakar le jaatee hai to vo use chheen nahin sakate, ye sab bande hain aulaad dena na dena sirph ek maalik ke qabaze mein hai, jo haajee alee ka bhee khuda hai aur hamaara aur aap ka bhee, agar aapako rakhana hee hai to aap is maalik ke lie aur isee ke naam ka barat rakhoo, aur achchha hai ki agala maheena ramazaan ka hai aap barat ke bajaay teen teen roze donon rakhakar is se aulaad dene kee dua karo, hamen choonki bayopaaree dost ne bataaya tha ki daaktar saahib ke eelaaj ke baad hamaare ghar mein khushee aaee hai, hamane daaktar saahib ke mashvara se ramazaan ke teen roze rakhe, roza rakhane ka tareeqa daaktar saahib se maaloom kiya aur khoob ro ro kar oopar vaale maalik se god bharane kee dua kee, davaon ka eelaaj aur daaktar saahib se jhaad phoonk ka bhee chal raha tha, eed ke baad ledee daaktar se chaik karaaya to unhonne khushee kee ummeed dilaee aur agale maheena aur baat pakkee ho gaee, maalik ka karam hai ki usane ek betee de dee, aur is ke do saal baad ek beta bhee de diya, doosaree baat ye huee ki jab mainne aur meree beevee ne roza rakha to ham donon ko bhookh aur pyaas lagee, tab ham donon e see chalaakar bhookh pyaas kam karane ke lie dopahar baad so gae, ittifaaq kee baat mainne aur meree beevee donon ne khaab dekha ki ham donon makka mein hain,aur donon safaid chaadaron mein kaaba ka chakkar laga rahe hain aur hamen vahaan chakkar lagaane mein ajeeb shaanti aur maza aa raha hai, is ke baad mainne intaranait par harm ke chainal par makka aur madeena ko baar-baar dekha, aur mujhe kaaba dekhane ka behad shauq ho gaya, daaktar raahat se hamaaree dostee ho gaee thee, aur ghar aur kaarobaar ka har kaam mein daaktar saahib ke mashvara se karata tha, is lie main unase baar-baar kahata thaaki mujhe makka jaane ka bahut shauq ho raha hai, aap mujhe maalik ka vo ghar ek baar dikha den, daaktar saahib mujhe ummeed dilaate rahe aur kahate rahe ki main zaroor aapako khud vahaan lekar jaoonga, daaktar saahib kaee deshon mein eelaaj ke lie jaate the aur mujh pata laga ki kaee mulkon ka green kaard unake paas hai, aur vahaan unhonne ghar bhee bana rakha hai, taiph saoodee arab mein bhee daaktar saahib ka ek apana makaan hai jo kisee shekh ke naam daaktar saahib ne apane paise se khareed rakha hai ek saal pahale daaktar saahib ne mujhase kaha ki ramazaan aane vaale hain, ramazaan mein makka madeena jaane ka alag hee maza hai, vahaan badee raunak hotee hai, aapako ramazaan mein lekar chaloonga, ramazaan mein jaana zara mahanga hota hai, mainne daaktar saahib se kaha sasta mahanga aap kyon dekhate hain, maalik ne hamen kisee cheez kee kamee nahin rakhee hai, aapaka aur mera donon ka kharch mere zimma hoga, mujhe bata deejie aapaka bizanas klaas mein tikat banava leta hoon, daaktar saahib ne kaha aapake tikat se bizanas klaas mein jaane ke muqaabala mein mere lie paidal vahaan jaana zyaada khushee kee baat hogee, aap apana tikat banavaayen, main khud apana tikat banava loon ga


ahamad avvaah : daaktar saahib kee badee baat asad umar : asal mein daaktar saahib vaaqee bahut oonche darja ke insaan hain, unake muaamalaat se mujhe laga ki vo bade aala darja ke sayyad hain, laalach aur lubhao unake paas ko bhee nahin phatakata, shaayad unakee is sifat ne hee mujhe muslamaanon aur islaam ka gulaam bana diya ahamad avvaah : jee to phir kiya hua asad umar : daaktar saahib ne kisee ejaint se mera umara ka veeza lagava diya ahamad avvaah : aapaka paasaport to hindoo naam se hoga, umara ( kaaba dekhane ka safar ) ka veeza kaise laga, kya qabool islaam ka koee sarteefiket banavaaya tha asad umar:daaktar saahib ne na mujhase kaha ki vahaan jaane ke lie muslamaan hona zarooree hai, aur na koee sarateefeekat banavaaya, daaktar saahib ne bataaya ki jaanane vaale ejaint the, aur sifaarat khaana mein achchha rasookh tha bas unase hee kah diya ki naam aisa hai, asal mein ye muslamaan hain, jhoot hee daaktar saahib ne kah diya, guzashta saal chauthe roza ko ham log mumbee se jadda pahunche, eyaraport se utarakar daaktar saahib ne kaha aapako kaaba main khud apanee gaadee se lekar chaloonga, unakee gaadee jadda mein khadee thee, jo kisee dost ko fon karake unhonne mangava lee thee, unhonne kaha ki aapako ek naatak karana padega. mainne poochha kya, bole nahaakar aapako eharaam ek chaadar safaid oopar aur safaid lungee pahananee padegee, mainne nahaakar jaise daaktar saahib ne kaha eharaam baandh liya, dopahar ek baje ke aas-paas hamane apanee gaadee kisee paarking mein makka se baahar lagaakar rokee aur bason se harm pahunche, jaise hee mein harm mein daakhil hua, mere hosh kharaab ho gae, mujhe aisa laga ki main kisee andher nagaree se roshan duniya mein aagaya hoon, main vo kaifeeyat na kabhee bhool sakata hoon aur na lafzon mein bata sakata hoon, mainne kaaba ko dekha to na jaane mujhe kya mil gaya, mainne daaktar raahat saahib se kaha kya main maalik ke is ghurako chhoo sakata hoon? dopahar mein roza kee vajah se zara bheed kam thee daaktar saahib ne kaha sab log parda pakad kar dua maang rahe hain aapako kaun rok raha hai, shauq se jaeee, mainne kaaba ko jaise hee haath lagaaya, na jaane mainne kiya pa liya, mujhe rona shuroo ho gaya aur phoot phootakar bachcha kee tarah rone ko dil hua aur der tak rota raha, daaktar saahib mujhe dekha to zamazam lekar aae, asal mein kuchh roz se mujhe dil kee takaleef bhee shuroo ho gaee thee, vo dar gae ki kuchh na ho jaegee, daaktar saahib ne mujhe zamazam pilaaya, mainne unase rote hue kaha, mainne bahut galat kya, mujhe is paak ghar mein aana nahin chaaheee tha, mein to apavitr (naapaak) hoon, daaktar saahib ne kaha apavitr kahaan ho tum, tumane yahaan aakar paak eharaam baandha hai, mainne kaha ye aatma (rooh) to naapaak hai, mujhe vo kalima padhavao jo aatma ko pavitr ( paak ) karata hai, daaktar saahib ne mujhe jaldee jaldee bataaya ki ye kalima hai : ‘‘ashahadu allailaah illallaahu va ashahadu ann muhammadan abduhoo va rasooluhoo’’ ‘‘main gavaahee deta hoon is baat kee ki allaah ke siva koee upaasana yogy nahin (vah akela hai usaka koee saajhee nahin) aur main gavaahee deta hoon ki muhammad allaah ke bande aur usake rasool (doot) hain’’. mainne kaha daaktar saahib aise dil se nahin , mujhe antar aatma( andar dil ) se padhavao, unhonne mujhe kalima padhavaaya, daaktar saahib se kah kar ham logon ne daaraalatoheed jo harm ke baraabar ek phaeev staar bada hotal hai, is ke kaaba vev sveet (jahaan se kaaba dikhaee deta hai ) do roz ke lie buk karaaye, aur ghar fon kar diya ki mujhe kaafee dinon se dil kee takaleef ho rahee thee, yahaan par ek dil ka daaktar mil gaya hai, main eelaaj karaake aaoonga ahamad avvaah : maasha allaah us ke baad aap do roz tak vaheen rahe asad umar :jee, ye do roz kaise guzar gae mein bayaan nahin kar sakata, ramazaan ul-mubaarak kee raunak aur harm kee nooraaniyat aur sukoon shaanti, bas mein namaaz padhane harm jaata( jaisee bhee padh paata ) ، ek tavaaf ( kaaba ka chakkar ) rozaana karata, aur oopar rum mein ja kar baith jaata, saara saara din aur raat ka aksar hissa harm ko dekhata rahata, harm kee alag shaan, mein bayaan nahin kar sakata ki vo shab-o-roz mere kaise guzare ahamad avvaah : is ke baad hindostaan aakar aapane kya mahasoos kiya asad umar : vahaan rah kar daaktar saahib ne mujhe mein ek naujavaan maulaana saahib ka nazam kar diya tha, unhonne mujhe deen kee buniyaadee baaten bataen aur namaaz yaad karaee, aur padhana sikhaee, alahamadu lillaah mein paabandee se paanch vaqt kee namaaz, aur tahajjud kee aath rakaat padh raha hoon ahamad avvaah : aapake ghar vaalon ko namaaz padhane par etaraaz nahin hai asad umar : meree beevee jo daaktar saahib kee bahut fain hai, us ko mainne abhee tak nahin bataaya hai ki main muslamaan ho gaya hoon, is maheena hazarat ne mujhe ek maulaana ka nambar diya hai, unako daaktar saahib ke saath lekar apanee beevee ko kalima padhavaane ka iraada hai, mujhe ummeed hai ki vo mere saath namaaz padhengee aur unhen bhee shaanti mahasoos hogee. inshaallaah vo kalima padhane mein der nahin karengee ahamad avvaah : abee ( kaleem saahib ) bata rahe the ki pahale daaktar saahib khud bhee namaaz roza ke paaband nahin the asad umar : daaktar saahib vaaqee namaaz roza se door the, aur deen se unakee dooree kee is se zyaada aur kya baat ho sakatee hai ki unhonne mujhe harm le jaane ke lie ek baar bhee nahin kaha, ki vahaan jaane ke lie muslamaan hona zarooree hai, chalo oopar se hee kalima to padh loo ( aur vahaan ramazaan mein paanee pila diya ) ، daaktar saahib ka khaanadaanee taalluq sayyad gharaana se hai, vo kairaktar ke lihaaz se bahut oonchee satah ke insaan hain, jab main namaaz padhane laga aur namaaz mein mujhe jo maza aata hai is ko daaktar saahib se mainne sheyar kiya, to allaah ka shukr hai ki vo bhee paanch vaqt kee namaaz aur tahajjud kee paabandee karane lage ahamad avvaah : abee ( kaleem saahib ) bata rahe the ki is ke baad daaktar saahib bhee daavat (islaam se taaaruf,vaaqif karaane ) se lag gae asad umar : mujhe kalima padhavaaya to unhen khyaal hua ki is tarah to bahut se log muslamaan ho sakate hain, us ke baad jo mareez unake paas aata us ko kalima padhavaate the, mere baad daaktar saahib ne kaee logon ko kalima padhavaaya, unamen se kaee log aise muslamaan bane ki unake haalaat dekhakar sahaaba ( rasool ke saathee ) kee yaad taaza hotee hai, phir daaktar saahib ko khyaal hua ki jab yahee kaam karana hai to seekh kar kaam karoon, unake ek saale khataulee, zila muzaffaranagar ke rahane vaale hain,unhonne hazarat ka taaaruf kiraaya, hazarat se vo madeena mein mile, phir mumbee mein ghar aane ko kaha, aur alahamadu lillaah ab daaktar saahib jismaanee, baanjhapan aur posheeda amaraaz ke daaktar hone se zyaada rooh ke daaktar yaanee ful taim daee ( islaam se taaaruf,vaaqif karaane vaale ) ban gae hain. unhonne hazarat se 3 2 / aise logon ko baiat kiraaya jo sab taajir (kaarobaaree ) hain, aur ek saal ke andar allaah ne unako daaktar saahib ke zareeya hidaayat ata faramaee hai

ahamad awwah : ab aapaka aainda qya prograam hai
asad umar :ramazaan ul-mubaarak mein is saal apanee beevee ke saath agar unhonne kalima padh liya to harm mein ramazaan guzaarane ka iraada hai, allaah se pooree ummeed hai vo zaroor unhen hidaayat dega. harm ke ramazaan kee baat hee kuchh aur hai, aisa lagata hai ki jannat is zameen par utar aaee hai, hazarat ne bataaya ki ramazaan hidaayat ke nisaab quraan-e-majeed ke nuzool ka seezan hai, aur hidaayat ke jashn ka maheena hai,aur kaaba ke baare mein quraan ne kaha hai ki vo aalimon ke lie hidaayat hai( hudal lil aalameen ) maulaana ahamad mein apanee baat bataoon makka aakar ramazaan ka maheena kisee aisee jagah aae ki jahaan par kisee ko pata na chale ki ramazaan aae ki nahin, to main bahut tauba tauba karake kah raha hoon ki main gaarantee se ramazaan kee nooraaniyat aur hidaayat ko antar aatma yaanee apanee andaroonee rooh se mahasoos karake bataadoon ga ki ramazaan kee nooraaniyat aur hidaayat ka maheena shuroo ho gaya hai, aur agar meree aankhon par pattee baandh kar mujhe ghoomate ghumaate bagair batae harm shareef mein le jaaya jaaye to mein ek hazaar parasent gaarantee ke saath sau baar tauba tauba karake kahata hoon ki main apane andar kee aankhon se rab ka noor, harm ka noor vahaan ke aalamee hidaayat ke maahaul ko mahasoos karake shart laga kar bata doonga ki mujhe harm mein daakhil kar diya gaya hai main hazarat se bhee kah raha tha ki ramazaan aur harm mein jitana daavat aur hidaayat ke lie maahaul saazagaar hota hai utana doosare dinon aur muqaam par is ka hazaaravaan hissa bhee nahin hota, is lie maah-e-mubaarak mein daavat ke spaishal plaan banaane chaaheee aur harm kee taqaazon ko bhee daavat ke lie khusoosee taur par istimaal karana chaaheee ahamad avvaah :vaaqee aapane bahut aham nukta kee taraf tavajja dilaee, .... quraan-e-majeed ka ek achhoota pahaloo hai, is par aam taur par daee hazaraat bhee tavajja nahin karate aur ham sabhee log ramazaan ul-mubaarak ke hidaayat aur daavat ke seezan mein zyaada islaam kee daavat kee maarketing karane ke bajaay, roza mein kaise ye kaam hoga vo kaam hoga sochate hain. doosaree ibaadaat mein lag jaate hain, aise hee harm ke hudal lil aalameen ke pahaloo se kamaahaqa faayada nahin uthaaya jaata. jaza kam allaah aapane aham pahaloo kee taraf tavajja dilaee asad umar : aapakee muhabbat hai jo aisa samajhate hain varna mein kya hoon ahamad avvaah : qaareen aramoogaan ( maahanaama ) ke lie aap koee paigaam denge asad umar : bas mein to yahee kahoonga ki mein ek khaanadaanee taajir hoon, ham log har cheez ko bayoporee zahaneeyat se dekhate hain, is mubaarak hidaayat aur daavat ke seezan mein islaam kee maarketing aur daavat ko bade paimaana par karana chaaheee ki hidaayat kee raah mein rukaavat paida karane vaale shayaateen bhee qaid karalie jaate hain, aur hidaayat daavat kee mandee aur baazaar harm ( kaaba ) hai. jisake baare mein khud hidaayat dene vaale maalik ne hudal lil aalameen kee khabar dee hai, is baazaar mein thok mein hidaayat lene aur vahaan se aane vaale ritel bayoporiyon ko distareebyootar banaane ke lie ek mazaboot prograam banaana chaaheee ahamad avvaah : maasha allaah bahut khoob, jazaakam allaah bahut bahut shukriya asad umar :shukriya to aapaka ki maah-e-mubaarak mein mujhe is kaar-e-khair mein shareek kiya, aapase aur aramoogaan ke tamaam qaareen se mere saare parivaar aur pooree insaaniyat ke lie khusoosan is maah-e-mubaarak mein dua kee darakhaast kee jaatee hai assalaamu alaikum
----
Nau Muslim shamim bhai (Shyam sundarQ) se ek mulaqat